مسلم منہ بھرائی کی سیاست ، افسانہ یا حقیقت؟

غوث سیوانی، نئی دہلی

GhAuS pIc

 

بھارت میں مسلمانوں کی خوشامد کی جاتی ہے؟ انھیں ان کے حق سے زیادہ دیا جاتا ہے؟جن چیزوں پر ان کا حق نہیں وہ بھی انھیں دے دی جاتی ہیں؟ کیا واقعی ملک کے وسائل پر اقلتوں کا اولین حق ہے اور انھیں یہ حق دیا بھی جاتا ہے؟کیا یہ خوشامد ان کے ووٹ کے لیے کی جاتی ہے؟ کیا مسلمان اسی چاپلوسی کے سبب کچھ سیاسی پارٹیوں کو اپنے ووٹ دیتے ہیں؟ آخر مسلم تشٹی کرن کی حقیقت کیا ہے؟ کیا اس دعوے میں کچھ سچائی بھی ہے کہ مسلمانوں کی جھوٹی خوشامد ووٹ کے لیے کی جاتی ہے؟یا اس دعوے کے پیچھے اکثریتی ہندوووٹ کو گمراہ کرنا مقصود ہے؟ کہیں یہ مسلم تشٹی کرن ہندتو وادیوں اور میڈیا کی اپج تو نہیں ہے؟ اس سلسلے میں سرکار، سیاسی پارٹیاں اور سنگھی ذہنیت خواہ جو دعوے کریں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام سوال بے بنیاد ہیں اور ان کی حیثیت ایک ہوّا سے زیادہ نہیں ہے۔ اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اس ملک میں دلت تشٹی کرن تو ہے، او بی سی تشٹی کرن تو ہے، غریب تشٹی کرن تو ہوتا ہے مگر مسلم چاپلوسی کا کوئی وجود وعدوں سے زیادہ نہیں ہے۔

کانگریس کی پالیسی اور مسلم خوشامد کا سچ:

ملک کی آزادی کو ستر سال ہونے کو آئے اور اس دوران مسلمانوں نے بہت کچھ گنوایا ہے۔ اگر مسلم تشٹی کرن واقعی اس ملک میں ہوتا تو مسلمانوں کے یہ تمام مسائل منہ کھولے ان کے سامنے نی کھڑے ہوتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں صرف زبانی خوشامد پر یقین رکھتی ہیں اور جہاں تک مسلمانوں کو دینے کی بات ہے تو کسی نے کچھ نہیں دیا ہے۔ کانگریس اس ملک کی سب سے پرانی پارٹی ہے اور کم و بیش ہر خطے میں اس کی تنظیم موجود ہے۔ ملک آزاد ہوا تو اسی کے ہاتھ میں اقتدار آیا اور اسی نے سب سے زیادہ حکومت بھی کیا۔ صوبوں سے مرکز تک ہر جگہ اسی کی طوطی بولتی تھی۔ کانگریس نے اپنے ہر الیکشن مینی فیسٹو میں مسلمانوں کے ساتھ خوشنما وعدے کئے۔ کبھی کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پایا جائے گا،تو کبھی کہا کہ مسلمانوں پر زیادتی کا سلسلہ بند کیا جائے گا۔کبھی وزیر اعظم کا پندرہ نکاتی فارمولہ لاکر مسلمانوں کو بیوقوف بنایا تو کبھی سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرنے کا جھوٹا وعدہ کیا گیا۔حد تو تب ہوگئی جب ایک بار سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر اولین حق اقلیتوں کا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب زبانی جمع خرچ کی باتیں ہیں ان باتوں اور وعدوں پر کبھی بھی سرکار نے عمل نہیں کیا۔ الیکشن مینی فسٹو میں کئے گئے وعدے کبھی کانگریس نے پورے نہیں کئے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ وہ مسلمانوں کی خوشامد کرتی ہے سراسر جھوٹ اور بے بنیاد بات ہے۔ آج تک مسلمانوں کو ان کا جائز حق نہیں دیا گیا چہ جائیکہ انھیں حق سے زیادہ دیا جائے۔ انھیں آج تک ملک کے وسائل پر آخری حق نہیں دیا گیا اور بات کی جاتی ہے کہ ان کا اولین حق ہے۔ اگر مسلمانوں کو ان کا جائز حق بھی دیا جاتا تو ہر سو آئی اے ایس افسران میں چودہ مسلمان ہوتے، ہر سو پروفیسران میں چودہ مسلمان ہوتے ، ہر سو پولس والوں میں چودہ مسلمان ہوتے ، ہر سو ممبران پارلیمنٹ میں چودہ مسلمان ہوتے، ہر سو ججوں میں چودہ مسلمان ہوتے، ہر سو سرکاری ملازمیں میں چودہ مسلمان ہوتے مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔ خود سرکار کی جائزہ کمیٹی سچر کمیشن نے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان کہیں ڈیڑھ فیصد ہیں تو کہیں دو فیصد، کہیں تین فیصد ہیں تو کہیں ساڑھے تین فیصد۔ ہاں ایک جگہ وہ اکثریت میں ہیں اور وہ ہیں ملک کی جیلیں۔ یہ مثالیں بتانے کے لیے کافی ہیں کہ مسلمانوں کی چاپلوسی صرف جھوٹے وعدوں تک ہی کی گئی ہے اور اس کے آگے کچھ نہیں ہوا ہے۔

ہندووں کو خوفزدہ کرنے کے لیے پروپیگنڈہ

مسلم تشٹی کرن کا وجود حقیقت میں نہیں ہے مگر سیاسی پارٹیاں اور نیتا الیکشن کے وقت جو جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور پھر ان کا پرچار کرتے ہیں اس سے یہ بھرم پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو گویا ملک کے وسائل کا بڑا حصہ دے دیا گیا جس کے سبب ملک کی اکثریت کو نقصان ہو اہے۔ بی جے پی بھی انھیں باتوں کا خوب پرچار کرتی ہے اور ہندووں کو بھرم میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ تمہارا حق تو مسلمانوں کو دے دیا گیا اب تم کیا پاﺅ گے؟یو پی اے کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے تمام صوبوں کو ایک خط لکھ کر کہاتھا کہ بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر پریشان نہ کیا جائے۔ اس خط کو بی جے پی اور اس کے لیڈران نے ایک اہم ایشو بناکر سرکار کو گھیرنے کی کوشش کی۔خود نریندرمودی نے اسے بہانہ بناکر کانگریس اور یو پی اے سرکار پر حملے کئے تھے۔اس سے ہندووں میں یہ پیغام گیا کہ مسلمانوں کو قانون سے بالاتر کوئی سہولت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ کا یہ بیان عین عام الیکشن سے قبل سامنے آیا تھا اور واقعی وہ مسلمانوں کو زبانی طور پر خوش کرنا چاہتے تھے ورنہ مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کی کو ششیں سب سے زیادہ کانگریس نے ہی کی ہیں۔ ملک میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات کانگریس کے دور میں ہوئے اور دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو دہشت زدہ سب سے زیادہ کانگریس نے کیا۔ کانگریس کے مہاراشٹر میں جتنے بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر گرفتار کیا گہا اتنا مودی کے گجرات میں نہیں کیا گیا۔ کیا بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر کے وقت دلی میں بی جے پی کی حکومت تھی؟ اصل میں کانگریس ہی سب سے زیادہ مسلمانوں پر مظالم ڈھاتی رہی ہے اور اسی نے سب سے زیادہ جھوٹے وعدے کئے ہیں۔

اس کی ایک مثال وہ اشتہارات ہےں جو اکثر وبیشتر مختلف سرکاروں کی وزارت برائے اقلیتی امور کی طرف سے جاری کئے جاتے ہیں۔ ان اشتہارات میں سینکروں کام گنوائے جاتے ہیں جو وزارت برائے اقلیتی امیور نے اقلیتوں کے لیے کئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ تمام کام کاغذوں سے باہر کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ اگر اقلیتوں کی فلاح کی کچھ اسکیمیں سامنے آتی بھی ہیں تو ان سے مسلمان کم اوردیگر اقلیتیں زیادہ مستفید ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت نے واقعی کوئی کام کیا ہے اور اس سے کچھ مسلمانوں کو فائدہ پہنچا ہے تو انھیں بتانے کی ضرورت کیا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ سرکار صرف کاغذی طور پر مسلمانوں کے لیے کام کرتی ہے اور پھر اس کا ڈھنڈورا پیٹتی پھرتی ہے۔جسے بی جے پی ایک ایشو بناکر ہندووں کے اندر مسلمانوں کے تعلق سے غلط فہمیاں اور خوف پیدا کرکے ان کے ووٹ پانے کی کوشش کرتی ہے۔ آخر یہ کیسی خوشامد ہے کہ مسلمانوں کو ان کا جائز حق بھی نہ دیا جائے۔

نام نہاد سیکولرپارٹیاں کانگریس کے راستے پر:

زبانی جمع خرچ کرنا اور مسلمانوں کو کچھ نہ دینا یہ کانگریس کی دیرینہ پالیسی کا حصہ ہے اور اسی پر دیگر نام نہاد سیکولر پارٹیاں بھی عمل پیرا ہیں۔ بی جے پی ان باتوں کو اچھی طرح جانتی ہے اور وہ اس بات کا زور و شور سے پرچار کرتی ہے کہ یہ سب پارٹیاں مل کر پورا ملک مسلمانوں کو دیتی جارہی ہیں۔ اس کی ایک مثال اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کی موجودہ سرکار ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ اگر اقتدار میں آئی تو مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں او ر تعلیمی اداروں میں اٹھارہ فیصد ریزرویشن دے گی، نیز جو بے قصور مسلمان جیلوں میں دہشت گردی کے الزام میں قید ہیں انھیں رہا کیا جائے گا۔ ان دونوں معاملات کو لے کر وہ جب سے اقتدار میں آئی ہے سیاست جاری ہے۔ وہ زبانی جمع خرچ کرتی ہے اور پھر اسے بہانہ بناکر بی جے پی ہندووں کو بھرم میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ نہ تو آج تک مسلمانوں کو ریزرویشن ملا اور نہ ہی ملنے والاہے، نہ تو بے قصور مسلمانوں کی جیلوں سے رہائی ہوئی اور نہ ہوگی مگر فرقہ پرستوں کو یہ کہنے کا موقع ضرور مل جاتا ہے کہ مسلمانوں کی خوشامد ہورہی ہے۔ بلکہ الٹا اس حکومت نے ایک بڑا مسلم مخالف کا م یہ کیا کہ اس کی بدانتظامی کے سبب پوری ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ۔ مظفر نگر سمیت پوری ریاست میں جگہ جگہ مسلمانوں کا قتل ہوا،ان کی املاک تباہ ہوئیں اور وہی بے گھر بھی ہوئے۔ معاوضہ کے نام پر خوب سیاست ہوئی اور حکومت نے ایک طرف مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف ہندو مجرموں کو بھی بچانا جاری رکھا مگر بات صرف مسلمانوں کی چاپلوسی کی سامنے آئی۔سماج وادی پارٹی کئی بار اقتدار میں آئی اور مسلمانوں کے ووٹوں سے آئی مگر اس نے مسلمانوں کا ایک بھی بڑا مسئلہ حل نہیں کیا۔ وہ مرکز میں بھی حکومت میں شامل رہی مگر یہاں بھی مسلمانوں کا کوئی کام نہیں کیا۔ بلکہ ملائم سنگھ یادو کے وزیردفاع رہتے ہوئے سب سے بڑے دشمن اسلام اسرائیل سے ہمارے ملک کی قربت بڑھی اور کئی دفاعی سودے ہوئے۔

جو کام اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے کیا وہی کام دوسری ریاستوں میں دوسری سیاسی پارٹیوں نے بھی کیا ۔ بہار میں ایک مدت تک لالو پرساد یادو برسرِ اقتدار رہے۔ مسلمانوں کے ووٹ سے انھوں نے پندرہ سال تک بہار پر راج کیا اور مرکز میں بھی اہم وزارتیں پاتے رہے مگر کبھی مسلمانوں کا کام نہیں ہوا۔ ان کے پندرہ سالہ دور اقتدار کی سب سے بڑی حصولیابی یہی رہی کہ فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے۔ انھوں نے نہ تو ریاست میں مسلمانوں کو روزگار دیا اور نہ ہی ریلوے میں مسلمانوں کی بحالی ہوئی۔ اردو زبان جسے جگن ناتھ مشرا نے دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلایا تھا لالو کے دور میں بہار سے سرکاری طور پر ختم ہوتی رہی اور اب نتیش کمار اقتدار میں آئے ہیں تو یہی سب کچھ ہو رہا ہے مگر اسی کے ساتھ مسلم تشٹی کرن کے الزام کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بنگال میں مسلمانوں کے ووٹ سے ایک طویل مدت تک کمیونسٹوں نے راج کیا اور ترنمول کانگریس حکومت کر رہی ہے مگر اعدادوشمار کہتے ہیں کہ بنگال کے مسلمان باقی ملک کے مسلمانوں کے مقابلے زیادہ پسماندہ ہیں۔

آئینی حق سے محروم کرنے کے لیے:

اصل میں مسلم چاپلوسی کا الزام آزاد بھارت میں مسلمانوں کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کے لیے کیا جاتا رہ ہے اور آج بھی کیا جارہا ہے۔ جب بھی کوئی فیصلہ ایسا آتا ہے جس سے مسلمانوں کو معمولی فائدہ بھی پہنچنے کا امکان ہوتو مسلم خوشامد کا شور مچایا جاتا ہے۔ جاٹوں کو ریزرویشن دیا گیا تو کبھی جاٹ تشٹی کرن کی بات نہیں کی گئی۔ جب او بی سی کو ریزرویشن دیا گیا تو اوبی سی خوشامد کی بات نہیں کی گئی۔ دلتوں کو کئی طرح کی سہولیات اس ملک کا قانون دیتا ہے اس وقت دلت چاپلوسی کی بات نہیں کی جاتی مگر مسلمانوں کے ساتھ جھوٹے وعدے بھی ہوتے ہیں تو مسلم خوشامد کا شور مچایا جاتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔