معاوضہ کی نہیں، مطالبے کی ضرورت ہے!

مدثراحمد

پانچ ریاستوں میں بی جے پی کی کراری ہارکے بعد جہاں کانگریس سمیت بی جے پی کی حریف سیاسی جماعتیں خوشی کی لہر میں ڈوبے ہوئے ہیں، اسی خوشی میں مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد خوش ہے کہ آخرکار بی جے پی کو اپنے غرور کا خمیازہ اٹھانا پڑا ہے، نہ صرف ان پانچ ریاستوں کے مسلمان خوش نظرآرہے ہیں بلکہ ملک کے مختلف مقامات پر بھی اسی طرح کا ماحول دیکھا جارہا ہے۔

انتخابات ہو یا کرکٹ میچ اس میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، مگر جس طرح سے کرکٹ میچ میں کسی کی ہار جیت سے صرف شائقین کو کچھ وقت کیلئے خوشی یا غم ملتا ہے اسی طرح سے انتخابات کے نتائج بھی بظاہر کچھ سالوں تک خوشی کرنے یا غم کرنے کاموقع دیتے ہیں۔ لیکن حقیقی طو رپر مسلمان اُن خوشیوں سے محروم ہیں جو انہیں ملنی چاہیے تھی۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد سے مسلسل مسلمان ظلم و تشدد کا شکار ہورہے ہیں، اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہورہے ہیں، تعلیم، معاشیات، روزگار اور سماجی حقوق سے یہ پوری طرح سے محروم ہوئے ہیں۔

یہ دلیل ہم اور آپ جیسے عام لوگ پیش نہیں کررہے ہیں بلکہ حکومتوں کی جانب سے ہی تشکیل شدہ کمیٹیوں نے حکومتوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ مگر اس کا حاصل کیا ہے یہ آپ اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، اس جمہوری ملک میں تمام کو یکساں حقوق دئیے گئے ہیں، اس کے علاوہ اسی جمہوری نظام میں شیڈولڈ کیاسٹ، شیڈولڈ ٹرائب، مائناریٹیس اور اوی بی سی کیلئے علیحدہ حقوق دینے کی بات کہی گئی ہے۔ ایس سی ایس ٹی کو خصوصی ریزرویشن دینے کیلئے دستور میں محض 10 سال کی میعاددی گئی تھی، لیکن اس مختصر سی میعادمیں دلتوں کی بازآباد کاری نہ ہونے کے سبب پھر سے انہیں دس سال کی میعاددی گئی۔ اس طرح سے ہردس سال بعد انہیں ریزرویشن و دیگر سہولیات کیلئے قانون بنایا جارہا ہے۔

لیکن ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مانے جانے والے مسلم قوم کیلئےجسٹس سچر کمیٹی کی سفارشات کے باوجودآج تک مسلمانوں کو ان کے بنیادی حقوق نہیں دئیے گئے ہیں۔ حکومت مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہے کہ انہیں حقوق دئیے جاچکے ہیں، لیکن اس گمراہی کا پردہ فاش کرنے کیلئے ہماری کسی بھی تنظیم نے آج تک پیش رفت نہیں کی ہے، مسلمانوں کا استحصال ہونے کے باوجود خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں۔ کاڑا، پوٹا، مککوکا جیسے ظالمانہ قوانین کے عمل میں آنے کے بعد یو اے پی اے جیسے قوانین کومسلمانوں کے خلاف ہتھیار بنا کر استعمال کیا جارہا ہے۔ ان قوانین سے متاثرہونے والے متاثرین کی رہائی اور بازآبادکاری کیلئے ہماری تنظیمیں کام تو کررہی ہیں لیکن قوانین کے خاتمے کیلئے جو کوششیں ہونی چاہیے تھیں وہ نہیں ہورہی ہیں۔ ہمارے پاس جو تنظیمیں ہیں وہ مسلمانوں پر آفت گذرنے کے بعد مددکیلئے آنے والی بن چکی ہیں۔ سیلا ب آئے یا طوفان یاپھر مسلمانوں کا قتل عام ہماری تنظیمیں بعد میں مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کو معاوضہ دینے کیلئے آگے بڑھتے ہیں۔

کیا یہ اچھا ہوتا کہ ہماری تنظیمیں ان خطرناک و خوفزدہ حالات سے نمٹنے، مسلمانوں پر تشددکیلئے بنائے گئے قوانین کے خاتمے کیلئے پہلے سے ہی حکومتوں پر دبائو ڈالنے لگتے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جسٹس سچر کمیٹی، جسٹس رنگناتھ مشرا کمیٹی کی جو سفارشات ہیں ان سفارشات کو منظم طریقے سے رائج کروانے کیلئے گلیوں، پنچایتوں، ایوانوں میں آواز گونجتی۔ مگر ہمارے یہاں تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ الیکشن کے وقت امیدواروں کے ان ضروری اور بنیادی مسائل کو حل کرنے کے مطالبے کرنے کے بجائے ہم قبرستانوں کیلئے زمینیں مانگتے ہیں، درگاہوں کی حفاظت کیلئے احاطہ بندی کروانے کامطالبہ کرتے ہیں۔ جو قوم لاکھوں کروڑوں روپئے مالیت سے مسجدوں کوتعمیر کرسکتی ہے کیا وہ قوم مرنے والوں کیلئے قبرستانوں کا انتظام نہیں کرسکتی؟

جو قوم ہزاروں لاکھوں روپئے کے خرچ سے جلسہ، اجتماع و عرس اور پروگرام کرسکتی ہے کیا وہ قوم اپنے قبرستانوں کیلئے زمینیں خرید نہیں سکتی؟آج ہم مسلمانوں کیلئےجن بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے، اُن سہولتوں کیلئے آوازاٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مطالبے تعلیم، روزگار، سماجی انصاف اور سماجی تحفظ کیلئے ہونے چاہیے، نہ کہ قبرستانوں کیلئے۔

تبصرے بند ہیں۔