مغربی بنگال کو بھی گائے کے پجاری گجرات بنانا چاہتے ہیں

عبدالعزیز    

        پورے ملک میں گائے پالن اور پوجن کے نام پر جو نفرت اور شر انگیزی فرقہ پرستوں کے ذریعہ پھیلائی جارہی ہے اس سے ملک بھر کی فضا مسموم اور زہر آلود بنتی جارہی ہے۔ گائے جیسے جانور سے گائے کی پرستش کرنے والے نہ صرف کھلواڑ کر رہے ہیں بلکہ بے گناہ اوربے قصور لوگوں پر جب اور جس وقت چاہتے ہیں دھاوا بول دیتے ہیں۔ اس طرح قانون ہاتھ میں لے کر جارحیت کا کھلم کھلا مظاہرہ کرنا ریاستی حکومتوں کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جہاں گائے کے پجاریوں کی حکومتیں ہیں وہاں تو قانون یا پولس اور عدلیہ کو وہ کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ جہاں غیر فرقہ پرستوں کی حکومتیں ہیں وہاں بھی انھیں قانون شکنی میں کوئی ڈر اور خوف نہیں معلوم ہورہا ہے۔ اتر پردیش میں جو کچھ گائے کے پجاریوں نے کیا وہ جگ ظاہر ہے۔

        اب ان کا نشانہ مغربی بنگال معلوم ہوتا ہے۔ یہاں بھی انھوں نے گائے ڈیولپمنٹ، گائے سیل جیسے بیہودہ قسم کے ادارے قائم کرکے گائے شماری کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ شرپسند مقصد بتا رہے ہیں کہ وہ گائے کے گوشت کھانے سے زیادہ گائے کے دودھ کو استعمال کرنے کی تعلیم و تلقین کریں گے، ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سرحدوں پر گائے کی آمد و رفت پر بھی نظر رکھیں گے۔ اس کیلئے ان کے پاس 6000 رضاکاروں کی ٹیم ہے جس کے کپتان سبرتو گپتا ہیں۔ لا اینڈ آرڈر کے معاملے میں حکومت ذمہ دار ہوتی ہے اور اسی کا حق ہوتا ہے کہ وہ ریاست کا نظام کسی حال میں درہم برہم نہ ہونے دے۔ یہ کہہ کر کہ شرپسند سرحدوں پر بھی نظر رکھیں گے۔ حکومت کو سراسر چیلنج کر رہے ہیں کہ وہ گائے کے تحفظ کے معاملے میں ناکام ہے، لہٰذا وہ اس کار خیر کو انجام دیں گے۔ محترمہ ممتا بنرجی نے اپنی تقریروں میں یقینا شرپسندوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے کہ ان کا یہ کام نہیں ہے کہ کوئی کیا کھائے اور کس چیز کو نہ کھائے۔ کیا پسند کرے اور کیا ناپسند کرے۔ اس کو وہ ڈکٹیٹ (Dictate) کریں۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ اگر اس طرح کی بات ریاست مغربی بنگال میں کسی نے کرنے کی جرأت کی تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

        محترمہ ممتا بنرجی کی وارننگ کے باوجود شرپسندوں کی ہمت اور حوصلہ میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ ان کا حوصلہ بڑا ہوا ہے۔ وہ کھلم کھلا ریاستی حکومت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ حکومت کے اندر حکومت قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ محترمہ ممتا بنرجی محض تقریروں اور بیانات سے ان کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کریں گی تو یہ کام ممکن نہیں ہوگا۔ اتر پردیش کو شرپسندوں نے گجرات بناکر ہی دم لیا۔ وہاں کی حکومت کو بھی رام کرلیا ہے۔ ڈھائی سو سے زائد فسادات وہاں ہوچکے ہیں۔ دادری جیسا سانحہ بھی ہوا ہے۔ الہ آباد میں مسلم عورتوں پر گائے کے نام پر مظالم بھی ہوئے۔ کرانا میں نقل مکانی کابھی شوشہ چھوڑا۔ وزیر اعظم اور ان کے پسندیدہ امیت شاہ نے فرقہ وارانہ تقریریں کیں جس سے فضا اور بھی خراب ہوگئی۔

        مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی اچھی خاصی ہے۔ اگر شرپسند اپنی حرکت سے باز نہیں آئے اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی تو رد عمل کا بھی خدشہ ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسٹر سبرتو گپتا کو پولس بلاکر پوچھ تاچھ کرے اور ان کے چھ ہزار رضاکاروں کے ناموںکی لسٹ اور پتے کے ساتھ طلب کرے۔ مغربی بنگال گائے کے پالنے اور تحفظ فراہم کرنے کا ڈھکوسلہ زیادہ مارواڑی فرقہ کے لوگ کرتے ہیں اور پیسے دے کر ایسے لوگوں اور کمیٹیوں کو شرپسندی کیلئے آمادہ کرتے ہیں تاکہ ریاست کا امن و امان خراب ہو۔ مغربی بنگال کی حکومت ایسے مارواڑیوں پر نظر رکھے جو شرپسندوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور مالی تعاون دے کر ان کے فتنہ و فساد کو بڑھا وا دیتے ہیں۔

        گائے کے پجاری کسانوں کی فلاح و بہبود کی بات بھی کر رہے ہیں جو بالکل گمراہ کن بات ہے جو لوگ انسانوں کے خون کے پیاسے ہیں وہ بھلا کسانوں کی بھلائی کس دل سے کرسکتے ہیں۔ گائے کے تحفظ کی بات بھی منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ زندہ رہتی ہے تو اس کے گوبر اور پیشاب تک کو استعمال کرتے ہیں مگر جب وہ مرجاتی ہے تو اس کو چھونا اور دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ گجرات کے دلتوں نے گائے کے پجاریوں کی منافقت کا پردہ فاش کیا ہے۔ سڑکوں پر مری گائے پڑی رہتی ہے مگر گائے کے پجاری اس طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ مغربی بنگال میں دلتوں اور مسلمانوں کا مظاہرہ ہونا چاہئے اور مل جل کر شرپسندوں کی ہمت شکنی کا پورا منصوبہ تیار کرنا چاہئے اور حکومت کے کام میں ہاتھ بٹانا چاہئے تاکہ ریاست کے امن و امان کو گائے کے پجاری بگاڑ نہ سکیں۔

تبصرے بند ہیں۔