مولانا عمر گوتم  کی گرفتاری کے سیاسی اسباب و عوامل

ڈاکٹر سلیم خان

مولانا عمر گوتم اور مفتی جہانگیر عالم کی گرفتاری کو پولس حراست سے جیل بھیجنے کے بعدریاست اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے  دو مشتبہ عسکریت پسندوں کولکھنؤ سے گرفتار کرکے 14 دن کے لیے پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔یہ سارے بے قصور  ایک سیاسی سازش کا شکار ہورہے ہیں ۔ اترپردیش انتخاب کے حوالے سے برسرِ اقتدار جماعت جس طرح کے سنگین داخلی اور خارجی صورتحال سے دوچار ہے۔  ہندوستان کی سب بڑی اور اہم ترین ریاست کا  انتخاب بالکل سر پر آلگا ہے۔ بی جے پی کے پاس اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی خاطر اب صرف  دو راستے رہ گئے  ہیں۔ اول تو ہندو عوام کے ذہن میں ایک جعلی  عدم تحفظ  کا احساس  پیدا کرکے یوگی کو ان کا نجات دہندہ  بناکر پیش کرنا تاکہ وہ اس کی ساری کوتاہیوں کو نظر انداز  کردیں۔ دوسرے مسلمانوں  سے نفرت کی آگ اس قدر بھڑکانا کہ  ہندو عوام کا دماغ ماوف ہوجائے اور یوگی جیسے دشمن کو  وہ دوست سمجھ کر ووٹ دے دیں۔ مولانا عمر، مفتی جہانگیر، مسیر الدین اور منہاج احمدکی  گرفتاری اس دوہری سازش کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعہ ہندو عوام سے کہا جارہا ہے تمہارا دین اور دیش دونوں  خطرے میں ہیں  اور یوگی دھرم یدھ لڑ رہے ہیں اس لیے ان کی حمایت کی جائے۔

مولانا عمر کا  معاملہ ڈاسنا  میں واقع دیوی مندر کے پجاری سوامی یتی نرسمہا نند سرسوتی سے شروع ہوا۔ ناگپور کے نومسلم  وپل وجے ورگیہ اپنے سالے کاشف کے ساتھ سوامی کو سمجھا  بجھا کر اسلام کو برا بھلا  کہنے سے منع کرنے کے لیےاس سے ملاقات کی۔ وپل نے فرید آباد میں  مولانا عمر کے ایک پروگرام میں شرکت کرچکا  تھا۔ اس کے علاوہ اس کا عمر گوتم کا کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن یتی کی شکایت پر یوپی پولیس سرگرم ہوگئی۔ وپل اور کاشف کوکئی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن الہ باد ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق دوماہ کی پیرول مل گئی۔ مولانا عمر  اور مفتی جہانگیر عالم کو    ابتدا میں تفتیش  کے بہانے مسوری پولیس اسٹیشن بلایا گیا اور دیر رات موبائل جمع کر کےچھوڑ دیا گیا۔ بعد میں پاسپورٹ، اکاؤنٹ کی تفصیلات و پاس بک منگائی گئی  اوران  کو بغیر اطلاع کہ  لکھنؤ لے جایا گیا۔ ان دونوں کی چارج شیٹ شروع میں بالکل  وپل اور کاشف جیسی تھی مگر بعد اس کے اندر این ایس اے نتھی کردیا گیا۔ ورنہ مولانا اور مفتی صاحبان بھی پیرول پر رہا ہوکر آچکے ہوتے۔

 20 سال کی عمر میں ساڑھے تین دہائی قبل مشرف بہ اسلام ہونے والے عمر گوتم  کے گاؤں فتح پور میںان کے بچپن میں  نہ  کسی مسلم کا گھر تھا اور نہ ہی کوئی مسجدتھی۔ابتدائی تعلیم کی تکمیل  کے بعدانٹرمیڈیٹ کرنےکے لیے وہ  الہ آباد چلے گئے۔ اس کے بعد بی ایس سی ایگریکلچر کی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر نیتی تال میں داخلہ لیا اور کالج کے ہاسٹل میں رہنے لگے۔ بی ایس سی کے فائنل ایئر میں ان کے پیر میں چوٹ لگ گئی۔ ہاسٹل کے ساتھی  ناصر خاں نے ان کی خدمت کی اور اسلامی کتب پڑھنے کے لیے دیں۔ تقریباً  دو سال کے عرصے میں  قرآن پڑھنے  کے بعد عمر گوتم نے اسلام کی آغوش ِ رحمت میں  پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا اور  جامعہ نگر علاقے میں اسلامک دعوہ سینٹر چلا نے لگے۔ وہ اس سینٹر کے ذریعہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام کرتے تھے۔ ویسے تو یہ ہر انسان کا بنیادی حق اور مسلمان کا فرض منصبی ہے اس کے ساتھ یہ ادارہ نومسلمین کے قانونی دستاویز بنانے میں تعاون کرتاہے۔ میڈیا میں گونگے بہرے لوگوں اور خواتین  کو دعوت دینے کو اچھالا جارہا ہے حالانکہ اپنی پسند کا دین قبول کرنا ان کا بھی حق ہے۔ ڈرانے دھمکانے اور لالچ سے تبدیلیٔ مذہب کا الزام اس لیے بے بنیاد ہے کیونکہ اس طرح مذہب کی تبدیلی ناممکن ہے۔ یہ تو تبدیلیٔ مذہب سے روکنے کی خاطر استعمال کیے جانے والے حربے ہیں  اور مولانا عمر اور مفتی جہانگیر عالم کے ساتھ یہی ہورہا ہے۔

فی الحال اتر پردیش میں اپنی ڈولتی ناو کو پار لگانے کی خاطر یوگی سرکار نے ایک جعلی مدعا کھڑا کے مولانا عمر کی بیجا گرفتاری کی  ہے۔ عام ہندو وو ٹر کے ذہن کو  اس کے ذریعہ کیسے  مسموم کیا جارہا ہے اس کا اندازہ ہندی روزنامہ دینک جاگرن کی ایک سرخی سے کیا جاسکتا ہے۔ اس میں لکھا تھا ’’بہرے گونگے بچوں کو انسانی بم بناکر ملک میں دھماکوں کی تھی سازش‘‘نیز  یہ اضافہ بھی کہ پاکستان اور سعودی عرب کی  فنڈنگ سے  آئی ایس آئی سازش  وغیرہ۔ یوگی کا یہ طریقۂ کار خاصہ گھس پٹ چکا ہے۔ پچھلے سال ہاتھرس  میں ایکدلت دوشیزہ کی عصمت ریزی نے  یوگی سرکار کا اصلی چہرہ بے نقاب کردیا  تھا۔ یوگی کے سفاک انتظامیہ نے اپنے آقا کی خوشنودی کے لیے اس بیچاری کی کوئی مدد نہیں کی۔ اس پر ہونے والے مظالم کا انکار کیا۔ اس کی کردار کشی کی۔ اہل خانہ کو ڈرایا دھمکایا اور بالآخر گھروالوں کی مرضی کے خلاف راتوں رات مٹی کا تیل ڈال کر اس بیچاری کی لاش کو نذر آتش کردیا۔

  اس مجرمانہ کوتاہی سے  ہونے والی عالمی سطح پر بدنامی کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطر صدیق کپن اور ان کے چار ساتھیوں کو گرفتار کرکے ان   پریواے پی اے سمیت کئی دیگر دفعات کے تحت  الزامات لگا دیئے گئے لیکن  یوگی انتظامیہ ۸ ماہ بعد بھی  فرد جرم داخل کر نے میں ناکام رہا اور فاضل جج نے انہیں بری کردیا۔ ان پر این ایس اے  نہیں لگایا جاتا تو وہ آزاد ہوتے۔۔یہی مولانا عمر اور مفتی جہانگیر کے ساتھ  بھی ہوگا۔ اترپردیش پولس کو پتہ ہے کہ دعوت و تنلیغ  کا کام اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے نہیں رکے گا لیکن اگر  اس کے بہانے ایودھیا بدعنوانی پر پردہ پڑ جائے۔ لوگ اسے بھول بھال کر پھر سے انتخاب میں ووٹ دے دیں تو بی جے پی کا کام ہوجائے گا اور یہ سارے لوگ ڈاکٹر کفیل احمد کی طرح باعزت بری ہوجائیں گے۔ دعوت دین کا کام ہر سرد و گرم میں چلتا رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ نہ کوئی پہلے ڈرا ہے اور نہ آگے کوئی ڈرے گا۔ بعید نہیں کہ مشیت الٰہی اس سے تشنگانِ اسلام کے لیے دعوت کی راہ مزید آسان کردے۔ اس طرح کے واقعات ماضی میں رونما ہوتے رہے ہیں لیکن ابھی حال میں اس کا نطارہ ہوچکا ہے۔

ڈاسنا  کے  جس بدنامِ زمانہ مندر سے اس بار تنازع کا آغاز ہوا وہیں آصف نامی نوجوان بلکہ بچہ کو  پانی پی کر لوٹتے ہوئےشرنگی نندن یادو  نامی بدمعاش نے نام پوچھ کر بری طرح زدوکوب کرکے  ویڈیو بنوا ئی   اور اسے بے حیائی کے ساتھ  پھیلادیا۔تین ماہ قبل  اس ویڈیو  میں نظر آنے والے شرنگی نندن  اور بنانے والے شیوانند کو یقین تھا کہ  سرکار بچا لے گی   لیکن  ویڈیو وائرل  ہونے کے بعد بدنامی سے بچنے کی خاطر  مقامی پولیس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ایک مقدمہ درج کیا اوردونوں کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے  اس طرح پیش کیا کہ   فوراً ضمانت مل گئی اور وہ رہا ہوگئے۔ یہی نرمی  فسطائیت کی حوصلہ افزائی کرتی  ہے۔ بھوپال سے سِویل  انجینئرنگ میں بی ٹیک کرنے والے  ہندو احیاء پرست شرنگی نندن  بیروزگارنےیہ  نیا کاروبار شروع کررکھا  ہے جس  میں  بغیر محنت کے دولت اور شہرت کے ساتھ ساتھ سرکاری تحفظ بھی میسر آجاتا ہے۔ اسی لیےیتی نرسنگھانند سرسوتی کی ’ہندوسوابھیمان‘  نامی تنظیممیں یہ  مسلح  غنڈے شامل ہوجاتے ہیں۔ سرسوتی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اشتعال انگیز ویڈیوز  جاری کے اپنے سیاسی آقاوں کی خوشنودی حاصل کرتا ہے۔ دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات میں وہ سرگرم تھا  لیکن مرکزی اور صوبائی سرکاروں کی پناہ کے سبب ہنوز  محفوظ و مامون  ہے۔

آصف اور اس کی والدہ نے جب  انٹرویو   میں کہا کہ وہ ناخواندہ ہے، اگر تعلیم یافتہ ہوتا تو مندر کا بورڈ  پڑھ کر اندر پانی پینے کے لیے نہیں جاتا تو  اَلٹ نیوز نامی ویب سائیٹ  کے ایک بانی نےاس کی تعلیم  کا اہتمام کرنےکے لیے عوامی چندہ  جمع کرنے کی مہم  شروع کردی۔ اس مہم میں 648 لوگوں نے حصہ لے کر  دو دنوں میں تقریباً 10 لاکھ روپے جمع  کردئیے۔ آصف کے لیے ہونے والی یہ  کراؤڈ فنڈنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ زعفرانی طاقتیں ہنوز اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں اور جس بچے   کو جسمانی  نقصان پہنچاکر انہوں نے اپنا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی بالآخر اسے  معاشی سہارا مل گیا   حالانکہ اس مسئلہ کا اصل حل تو یہی ہے کہ شرنگی اور شیوا   کے ساتھ بھی سرِ عام وہی سلوک کرکے اس کی ویڈیو  کو عام کیا جا ئےتاکہ دوبارہ کوئی ایسی درندگی کرنے کی جرأت نہ کرے ۔

آصف کے والد نے اپنے بیٹے کے ساتھ بدسلوکی   کے بعد کہا تھا  کہ ‘پانی پینے کے لیے میرے بیٹے کو اتنی بے رحمی سے مارا گیا اور ذلیل کیا گیا۔ کیا پانی کا بھی کوئی مذہب ہوتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایسا بھی کوئی مذہب ہے جو کسی پیاسے کو پانی دینے سے انکار کر دے۔‘  ایک ناخواندہ مزدور کی جانب سے  فرقہ پرستوں کے چہرے پر ایک زور دار طمانچہ تھا۔ الٹ نیوز کے ذریعہ ملنے والی  مدد کے بعد  آصف کے والد نے اسلام کی دعوت کا وہ اہتمام کردیا جو اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اس رقم کے ملنے پر انہوں نے  کہا کہ میں اس سے پانی کاسبیل  بناوں گا تاکہ کسی پیاسے کو اپنی تشنگی مٹانے کی خاطر  مند ر نہ جانا پڑے اور اس کے ساتھ  ویسی  بدسلوکی نہ ہو جیسی کے ان کے بیٹے کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ فسطا ئیوں  کے گھناونے چہرے کو بے نقاب کرنے والا ایک دانشمندانہ   بیان ہے۔ آج  ساری دنیا یہ دیکھ رہی ہے ایک طرف  پاکھنڈی  دھرم گرو پانی پینے سے جن مسلمانوں کو روک رہا ہے ہیں وہی مسلمان ساری بلا تفریق مذہب و ملتسب   کو پانی پلا نے کا اہتمام کر رہاہے ۔

 بظاہر  معمولی سی نظر آنے والی یہ  بات ایمان اورطغیان  کے درمیان  کا فرق واضح کر تی  ہے۔ وہ تمام لوگ جو  آصف کے چشم دید گواہ تھے  یا جنہوں نے  ویڈیو دیکھی جب اس سبیل کو دیکھیں گے تو اس کی آنکھ نم ہوجائیں گی۔ ان کا دل گواہی دے گا کہ آصف اور اس کے والد دین حق کے پیروکار ہیں  ان پر ظلم توڑنے والے انسانیت کے اورخدا کے دشمن ہیں۔ یوگی جی ممکن ہے اس طرح کے واقعات سے اپنے رائے دہندگان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انتخاب جیت کر سرکار بنالیں لیکن سچ تو یہ آصف کے والد نے اپنے عمل سے فسطائیت کے خلاف زبردست شمع روشن کردی ہے۔اللہ تعالیٰ  عمر اور جہانگیر کی شمع کو روشن و تابندہ رکھےاورمسیر الدین  منہاج احمد جیسے بے قصور نوجوانوں کی جبر و استبداد سے حفاظت فرمائے کیونکہ وہی  حقیقی  کارسازہے۔ امت کی ذمہ داری ہے کہ عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے مظلوم بھائیوں کو ظالموں کے چنگل سے نکالنے کی حتی المقدور کوشش کرے اور ظالموں کو ان کے کیے کی سزا دلوانے کی سعی کرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔