ڈیموکریسی یا موبو کریسی

ڈاکٹرعابد الرحمن

 ہماری ڈیموکریسی(جمہوریت) نے ۶۸ سال مکمل کر لئے۔ ہمیں فخر ہے کہ جیسی بھی یہ جمہوریت ہے اس نے وطن عزیز ہندوستان جنت نشان کو ایسا قانون دیا ہے جو اسے سوشلسٹ، سیکولر اور عوامی جمہوریہ قرار دیتا ہے۔ یہ قانون ملک کے شہریوں کے لئے انصاف، مساوات اور آزادی کو یقینی بناتا ہے اور شہریوں کے درمیان بھائی چارگی کو بڑھا وا دیتا ہے۔ ہمارا یہ قان شہریوں میں مذہب زبان ذات پات اور علاقائیت کی بنیاد پر فرق نہیں کرتااس قانون کی نظر میں اکثریت اقلیت، ہندو مسلم، قبائلی اور دلت وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ۔ یہ ملک میں رہنے والے تمام شہریوں کو ہندوستانی قرار دیتا ہے اور حکومت کو اس بات کا پابند بنا تا ہے کہ وہ شہریوں کی اس ہندوستانیت پر کوئی آنچ نہ آنے دے۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج یعنی آزادی کے ۷۰اور اس قانون کے نفاذ کے۶۸ سال بعدتک بھی ہم اس قانون کو اس کی اصل بنیادوں پر اور اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ نہیں کر سکے۔ بلکہ ان تمام سالوں میں قانون کی حالت مزید خراب ہوئی ہے آج حالات وہ بھی نہیں ہیں جو آزادی کے وقت تھے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید پختگی اور استحکام آتا اور یہ اپنے وضع کردہ قوانین اور اصولوں کی ہر خلاف ورزی کے مقابل پوری قوت سے ڈٹ کر کھڑے ہونے اور ایسا کر نے والوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کر نے کی حالت میں آجاتی لیکن ہوا اس کے الٹ۔ جمہوری اقدار اور اس کے قوانین دھیرے دھیرے پامال کئے جاتے رہے ملک میں نفرت کا کاروبار بتدریج بڑھایا جاتا رہا لوگوں میں ایکدوسرے کے تئیں نفرت اور بھید بھاؤ کو بڑھاوا دیا جاتا رہا اور جمہوریت کی پیٹھ پر بیٹھے حکمرانوں نے اسے بچانے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی بلکہ جہاں جہاں اپنا مفاد نظر آیا وہاں وہاں جمہوریت کی عصمت دری کھلے عام ہونے دی جس کی وجہ سے آج حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ پورا ملک اپنے ہر ہر شعبہ کے ساتھ خطرناک حد تک متعصب ہو گیا ہے کہیں مسلمانوں کے تئیں کہیں عیسائیوں کے تئیں کہیں دلتوں کے تئیں تو کہیں مختلف علاقے ایکدوسرے کے تئیں ، سماج اور سوسائٹی تو چھوڑئے اب تو خود جمہوری ادارے بھی متعصب ہو گئے ہیں اور اس پر بھی طرہ یہ کہ وہی ادارہ اس تعصب میں سب سے زیادہ آ گے نظر آتا ہے جس کے ذمہ اس جمہوریت کے قانون کی حفاظت ہے اب تو حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ اس جمہوریت کا ایک اہم اور انتہائی حساس اورذمہ دار ستون عدلیہ کے حالات بھی بگڑتے نظر آ رہے ہیں ۔

پچھلے تین چار سالوں میں اس خرابیء حالات میں انتہائی شدید خرابی آئی ہے۔ ملک میں جابجا لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر زدو کوب کیا جارہا ہے، مارا جا رہا ہے، قتل کیا جا رہا ہے، چلتی گاڑیوں سے پھینک دیا جا رہا ہے۔ حالات وہیں پہنچ گئے ہیں جہاں زائد از سو سال پہلے تھے، جہاں سے گاندھی جی نے اصلاح کی اور اس کے بعد آزادیء وطن کی اور جمہوریت کے قیام کی کوششیں شروع کی تھیں جب افریقہ میں ٹرین کے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ میں ایک سفید فام افریقی نے صرف اس بنیاد پر انہیں تھرڈ کلاس میں چلے جانے کا حکم دیا تھاکہ وہ سفید فام نہیں ہیں اور جب انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کردیا تو انہیں چلتی گاڑی سے پھینک دیا گیا تھا۔ اسی واقعہ کے بعد انہوں نے افریقہ سے اپنے مشن کا آغاز کیاتھا اورانتھک محنت اور ربانیوں کے ذریعہ اسے افریقہ میں بھی اور وطن عزیز میں بھی کامیابی سے ہم کنار کیا۔ پچھلے دنوں مودی جی بھی افریقہ گئے تھے اور وہاں انہوں نے اس اسٹیشن تک ٹرین کی سواری بھی کی جہاں گاندھی جی کے ساتھ وہ واقعہ پیش آیا تھا۔ لیکن اپنے گھر میں مودی جی کا عمل بالکل الٹ ہے۔ یہاں روز مسلسل گاندھی جی کے نظریات سے کھلواڑ ہورہا ہے ان کی محنت اور قربانی کو ہوا میں اڑا دیا جا رہا ہے اور مودی جی کے ذریعہ اسے روکنے کی کوئی خاص کوشش نظر نہیں آرہی۔ ابھی ڈاووس ورلڈ اکونومک فورم میں تقریر کرتے ہوئے مودی جی نے انسانوں کو جوڑ نے کی بات کی، اور انسانوں میں کسی بھی بنیاد پر الگاؤ پیدا کرنے انہیں تقسیم کر نے یا بانٹنے کی نفی کی لیکن وطن عزیز میں ان کے راج میں انسانوں کو مذہب اورذات پات کی بنیاد پر بانٹنے کی کوششیں بڑھی ہیں بلکہ اس نے تشدد کی صورت بھی اختیار کر لی ہے۔

 ایسا لگتا ہے کہ اب تو ملک میں جمہوریت ( ڈیموکریسی )کی بجائے بھیڑ کی حکمرانی ( موبو کریسی ) جیسی حالت ہو گئی ہے۔ مختلف لوگ اپنے مطالبات کے لئے یا اپنے کسی پسندیدہ لیڈر یا روحانی پیشوا کے خلاف قانونی کارروائی کے خلاف منظم اور پر تشدد طریقے سے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور بے تحاشا جانی ومالی نقصان کا سبب بنتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آئے دن کسی نہ کسی واردات کی خبر آجاتی ہے جس میں بھیڑ انتہائی منظم طور پر کسی مسلمان کو یا کسی دلت کو پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کردیتی ہے یا قتل کردیتی ہے یا کسی چلتی ٹرین سے پھینک دیتی ہے اور اس کا الزام بھی الٹ مظلومین پر ہی رکھ دیتی ہے اور پولس بھی مجرمین پر کارروائی کر نے سے پہلے مظلومین ہی کی تحقیقات میں لگ جاتی ہے انہی پر مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور انہی کو گرفتار کر نے کی پہل کی جاتی ہے اور ان واقعات پر مودی جی کا ردعمل اول تو خاموشی رہا بلکہ لمبی خاموشی! وہ ان واقعات پر بولے بھی بلکہ انتہائی سخت لہجے میں اور جذباتی ہوکر بھی بولے تو صرف بولے، ان کے بولنے کا موبو کریسی کے کسی کردار پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیا وہ اور ان کے بول بھی سخت عملی کارروائی تک نہیں پہنچے جس کی وجہ سے موبو کریسی کی وارداتیں ہیں کہ وقفہ وقفہ سے کسی نہ کسی تناظر میں برابر ہورہی ہیں بلکہ ہر واردات پہلے کے مقابلہ شدید تر ہوتی جارہی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ اسے نظر انداز کر کے خوب پھلنے پھولنے کا موقع دیا جارہا ہے، دراصل اب موبوکریسی کو سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا لیا گیاہے، اسی لئے حکومت و انتظامیہ اس کے خلاف کوئی خاص کارروائی نہیں کرتی بلکہ اپنی کارروائی کے ذریعہ اکثر اسکی حمایت ہی کرتی ہے جیسا کہ پہلو خان اور حافظ جنید کے قتل کے معاملہ میں خبریں آئی تھیں ۔ اس موبوکریسی کی تازہ مثال فلم پدماوت کی رلیز کے خلاف چل رہا احتجاج ہے۔

موبو کریسی کی یہ واردات تو پچھلی تمام وارداتوں سے زیادہ خطرناک ہے جمہوریت پر جس کے دور رس منفی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں ۔ فلم پدماوت کی رلیز کے خلاف یہ پر تشدد احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت معزز سپریم کورٹ اس کی رلیز کا فرمان جاری کر چکی ہے اور اس پر روک لگانے کے لئے کی گئی ہر ایک اپیل خارج کر چکی ہے۔ ایسے میں اس کی رلیز کے خلاف احتجاج کو جمہوریت اور قانون و انصاف سے انکار کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا اوریہ بھی جمہوریت کے لئے انتہائی شرم کی بات ہے کہ اس کے ایک اعلیٰ اہم اور رہبر ادارے کی بے عزتی کو روکنے کے لئے اسکا کوئی دوسراادارا حرکت میں نہیں آیا۔ نہ قانون نافذ کر نے اور جمہوریت کی حفاظت کر نے کے ذمہ دار اداروں نے قانونی طاقت کا کوئی استعمال کیا پیلیٹ گن تو چھوڑئے یہاں تو لاٹھی چارج کی بھی خبر نہیں ہے۔ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کی اس بے عزتی کے خلاف کوئی سخت بیان جاری نہیں کیا بلکہ الٹ حکومت کے وزیر مملکت برائے خارجہ جنرل وی کے سنگھ نے تو احتجاج کر نے والوں کی حمایت کر دی کہ ’ اگر کوئی چیز اتفاق رائے (consensus ) سے نہیں کی جاتی تو احتجاج ناگزیر ہے۔ ‘ تو کیا وزیر موصوف سپریم کورٹ کو سبق پڑھا رہے ہیں کہ اب انصاف بھی قانون کی بجائے اتفاق رائے کی بنیاد پر کیا جائے ؟

کسی جمہوریت کے لئے اس سے زیادہ شرم کی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ اس کے اہم ادارے کی عزت پامال ہو اور حکومت اسکی حفاظت کے بجائے عزت پامال کر نے والوں کا ساتھ دے۔ جنرل وی کے سنگھ فوج کے سربراہ رہ چکے ہیں اور انہیں پرتشدد احتجاجات کنٹرول کر نے کا اچھا خاصہ تجربہ ہے، انہیں آنسو گیس کے گولے معلوم ہیں انہیں لاٹھی چارج بھی پتہ ہے انہیں پیلیٹ گن کا استعمال بھی بہت اچھی طرح معلوم ہے لیکن صاحب ان کے لئے اور حکومت کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ یہ احتجاج مسلمان نہیں کر رہے ہیں ۔ بلکہ یہ احتجاج خود مسلم مخالفت پر مبنی ہے۔ اگر مسلمان اس طرح کا احتجاج کرتے تو ان کے خلاف پیلیٹ گن کا استعمال تو دوربلیٹ گن سے ان کی لاشیں بچھا دی جاتیں ، ان کے جوانوں کی بڑی تعداد گرفتار کر لی جاتی اور ان پر دیش دروہ تک کے مقدمات ٹھونک دئے جاتے۔ دراصل موبو کریسی کی یہ تازہ واردات بھی سیاسی فوائد کے حصول کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ اور انتہائی شرم کی بات ہے کہ یہ بھی ایسے وقت کیا جارہا ہے جبکہ ہم بڑی شان و شوکت سے جشن جمہوریت منارہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔