کرونا اور مہنگائی سے پریشان غریب کہاں جائیں؟

سلمی راضی

 (منڈی پونچھ)

خطرناک اور مہلک کرونا وائرس کی دوسری لہر نے ہندوستان کو جھنجوڑ کررکھ دیا ہے۔ شاید ہی تاریخ میں ایسی کسی غیر محسوس طرح کی وباء نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوگی۔ ہر طرف یہی زور اور شور تھااور آج بھی ہے کہ سرکاری ھدایات پر عمل پیرا ہوں۔چوک چوراہوں اور گلی بازاروں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کا پہرہ دیکھ کریوں لگتاہے کہ بظاہر کوئی جانی دشمن حملہ آور ہونے والا ہے۔ اکیلے یا اجتماع، پیدل ہوں یاسوار، غریب ہو یا امیر، عورت ہویامرد سب کو ایک ہی دوہائی تھی کہ ماسک پہنیں، سماجی دوری رکھیں،بار بار ہاتھ دھوئیں،سینیٹائیزر کا استعمال کریں۔ اب جس وبا کو روکنے کے لیے یہ سب کچھ کیاجارہا ہے، کیازمین پر وہ بھی ڈھنگ سے ہورہاہے؟آخر کیوں لوگ ویکسینیشن اور اپنا کرونا ٹیسٹ کروانے سے بھاگ رہے ہیں؟ کیاانتظامیہ اور طبعی محکمہ نے عوام کی جانکاری کے لیے کوئی جانکاری کیمپ لگاکرانہیں بیدار کیا؟ یاپھر طاقت کے بل بوتے سب کچھ کرگزرنا لکھاہے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے اصول وضوابط بھی ٹھیک سے نہ تو بنا ئے جا رہے ہیں، نہ بتائے جارہے ہیں اورنہ سمجھائے جارہے ہیں۔ نہ ہی ان دیہی عوام کو ویکسینشن اور اپنی جانچ کے فوائد سے آگاہ کیاجارہاہے۔ بس اخبار اور ٹی وی کے ذریعہ اعلان کر دیا جاتا ہے کہ آؤ! ویکسین لگواؤ، ٹیسٹ کرواؤ!مگر کہاں اور کیسے؟اس بارے میں بہت ذیادہ ذکرنہیں ہوتا ہے۔ اگر چہ اس حوالے سے کچھ غیر سرکاری تنظیمیں اور آرمی کی جانب سے جانکاری کیمپ لگا کر آگاہی اور فوائد بتائے گئے ہیں۔ لیکن ابھی طبعی عملہ کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم عوام کی آگاہی کے لیے نہیں اٹھایا گیاہے۔

کچھ ایسا ہی حال جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ کی چار تحصیلوں کا بھی ہے۔جہاں لوگ کرونا وائرس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے مسائل، مصائب اور مشکلات سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ہر طرف سے یہی کوششیں کی جاری ہیں کہ لوگوں کو آسانیاں ہوں۔سرکاری طور پر بھی اور غیر سرکاری تنظیموں اور سیاسی، سماجی لوگوں کی جانب سے بھی عوام کو یہی واعظ ونصیحتیں کی جارہی ہیں۔ حالانکہ کرونا کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات اور مسائل بھی عوام کو درپیش ہیں جس پر سب خاموش ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ مگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھاجائے تو یہاں اس لاک ڈاؤن کے نازک ترین دور میں کمزور عوام کو کالابازاری کرنے والوں نے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رکھاہے۔بازار میں ناقص اشیاء سرعام دوگنی قیمتوں میں فروخت کی جا رہی ہے۔اتنا ہی نہیں مسافر کرایہ بھی من مانے طریقے سے اور کہیں تین گنا اور چوگنا وصولا جا رہاہے۔ غرض مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ ایسے میں غریب جیے یا مرے، یہ فیصلہ کرنے کی سوچ وچار میں مبتلا ہے۔ اس کے علاوہ عوام کے ساتھ کیاگزررہی ہے؟ کن مشکلات سے دوچار ہے؟ یا یہ مسائل اور مشکلات کسی کی ملی بھگت سے عوام پر مسلط کئے گئے ہیں؟ عوام کو جواب مطلوب تھا مگر دے گاکون؟

اس حوالے سے جب گاوں اڑائی کے حاجی نذیر احمد 50 سے بات کی گئی تو ان کا کہناتھاکہ اس وقت ضلع پونچھ کے اطراف واکناف تمام تر دیہی علاقوں میں اکثر غریب لوگ آباد ہیں۔کرونا وائرس کی وباء نے ان لوگوں کی زندگیوں کو مزید مشکل میں ڈال دیاہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ دسوں پریشانیوں کے ہوتے ہوئے انتظامیہ بھی کوئی خاص توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اگر چہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اندرجیت سنگھ عوامی مسائل پر کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن اکیلے ان کے بس میں بھی نہیں ہے کہ وہ سب کچھ کرلیں۔ اس وقت دوسرے مسائل کو الگ چھوڑ دیاجائے۔انہوں نے کہا کہ کرونالاک ڈؤان میں مسافر گاڑیوں کے کرائے میں بے تحاشا اضافہ کردیا گیا ہے۔ منڈی سے لورن، منڈی سے سلونیاں، منڈی سے ساوجیاں،منڈی سے اڑائی اور منڈی سے فتح پور تک ڈرائیوروں نے اپنی مرضی سے کرائے میں اضافہ کرلیاہے۔ جہاں سومو اور ٹاٹا میجک کا بیس روپیہ کرایاتھا،وہاں آج پچاس روپیہ وصول کیا جارہا ہے۔ سواریاں معمول سے دوگنی بٹھائی جاتی ہیں۔ سومو میں جہاں صرف سرکاری حکم نامے کے مطابق پانچ سواریاں بٹھانے کی اجازت ہے لیکن یہاں یہ ڈرائیور بے خوف ہوکر سرعام حکم نامے کی دھجیاں اُڑاتے ہیں۔ جب کوئی اس پر سوال اٹھاتاہے تو بے خوف ہوکرا س کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ ماں بہن کی گالیاں تک دے دیتے ہیں۔

اس سلسلہ میں 29سالہ نوجوان سماجی کارکن شیراز گیلانی جوسرحدی علاقہ ساوجیاں کے گنتڑ سے تعلق رکھتے ہیں،ان کے مطابق اس وقت منڈی سے گنتڑ اسی روپیہ اور ساوجیاں تک سو روپیہ تک کرایا وصولا جارہاہے۔جبکہ لاک ڈاؤن سے پہلے ساوجیاں تک پچاس اور گنتڑ تک تیس روپیہ کرایا لیا جاتاتھا۔ اب دوگناسے بھی زیادہ لیاجارہاہے۔ اوور لوڈنگ کرکے بھی اتنا زیادہ کرایاوصول کرنا انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بسوں میں چند ایک کو چھوڑ کر کرونا وائرس کے سرکاری احکامات کی کھلے عام دھجیاں اُڑائی جارہی ہے۔ وہ بھی جہاں بیس روپیہ وہاں چالیس وصول کررہے ہیں۔

اڈی سلسلے میں محمد اعظم راتھر نے بتایاکہ منڈی سے اڑائی آنے والی دونوں بسوں میں سیٹوں کو برابر کرکے سواریاں کھڑی بھی رہتی ہیں۔پھر بھی چھ کلو میٹر کا چالیس روپیہ وصول کیاجارہا ہے۔ غرض کہ ضلع پونچھ کے چپہ چپہ میں اور تحصیل منڈی کے تمام علاقوں میں چلنے والی ٹاٹا سوموں،ٹاٹا میجک،ایکو،وغیرہ میں دوگنا سے زیادہ کرایاوصول کیاجارہاہے۔ نہ اُؤر لوڈنگ پر پولیس انتظامیہ قابو پاسکی اور نہ ہی کرایا متعین کرنے میں آر،ٹی او، یا محکمہ نقل وحمل ہی کامیاب نظر آرہاہے۔ ایسے میں ڈرائیور غریب عوام کو دنوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔

اوور لوڈنگ کے حوالے سے پولیس آفیسر منڈی اور محکمہ نقل وحمل کے ضلع آفیسر اے،آر،ٹی،او،و ٹریفک پولیس بھی ڈرائیوروں کی من مانی پر قابو نہ پاسکی ہے۔ اس حوالے سے ایس ایچ او منڈی نے بتایاکہ ہماری پولیس ہر وقت ہر جگہ ناکے لگانے میں مصروف ہے۔ہر روز چالان اور گاڑیاں ضبط کرنے کے باوجود بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوپارہاہے۔یہی پر بس نہیں بلکہ دریا سے نکلنے والی ریت بجری پتھر پر بھی من مانی کرایاوصولاجاتاہے۔ عمارتی لکڑی، فرنیچر،اشیاء خوردنی، کپڑے،غرض ہر چیز پر منہ مانگا مول لیا جا رہا ہے۔اور حیرانگی تو اس بات کی ہے آج بازار میں کسی بھی چیز کا کوئی مختص نرخ نہیں ہے۔اور نہ ہی گزشتہ دو سالوں سے کہیں بھی ریٹ لسٹ آویزاں ہے۔یہاں تو تمام جملہ انتظامیہ کے انتظامات جواب دے دیتے ہیں۔ جہاں سیول انتظامیہ تو درکنار پولیس انتظامیہ بھی بے بس لاچار ہو،وہاں اس کرونا کے حساس ترین دور میں بھی امید وفا کس سے ہو۔کوئی تو بتائے کہ یہ غریب عوام کس سے فریاد کرے؟ (چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔