کشمیر: لہو ہمارا بھلا نہ دینا!

افتخاررحمانی

لہو در لہو، آہ در آہ، چیخ در چیخ، اشک در اشک اور حزن در حزن کی المناکیوں کے درمیان کرفیو، بندش، بھوک کے46 یوم گذر چکے ہیں، درست تعداد کے موافق 66  سے زیادہ افراد جام شہادت نوش کرچکے ہیں، ہزاروں وادی کے مختلف اسپتال ایس ایم ایچ ایس، میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، رعناواری اسپتال، چلڈرن اسپتال کے علاوہ شفاخانہ میں موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہیں تو ہزاروں افراد پیلٹ گن کی تباہ کاری کی نذر ہوکر اپنی بینائی سے ابد تک کے لیے محروم ہوگئے۔ کشمیریوں نے تو اپنے غم اور ملال کا چالیسواں بھی گذار لیا ہے، ابد تک اس تاریخی غیر معینہ کرفیو پر ماتم و نوحہ کریں گے اور اس متذکرہ سیاسی جبر کی دماغی دہشت گردی کا یوم الحشر تک مرثیہ پڑھیں گے۔ بھارتی وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر کو اپنے متنازع اور غیر معقول بیان سے مزید پیچیدہ بنادیا ؛ چونکہ فی الوقت کشمیر کرفیو اور فوجی دہشت گردی کا تصفیہ چاہتا ہے، امن و سلامتی نیز سیکوریٹی پر ہمیشہ اعتماد کرتا ہوا آیا ہے اور کل بھی کرے گا ؛ لیکن جوابی ردعمل کے متشددانہ افعال یقینی اور بدیہی طور سے بھارت کی زعفرانی سوچ کو مزید واضح کرتے ہیں کہ آخرش بھارت نہتوں پر بے دریغ گولیاں برسا کر اقوام عالم میں کیا ت?ثر دینا چاہتا ہے ؟  جب بھی کشمیر پر فیصلہ کن اقدامات اور تصفیہ کے لیے مذاکرات کی دعوت دی جاتی ہے کچھ زر خرید افراد حقیقی معنوں میں انسانیت کے دشمن اور منافق ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں کہ جس کے سبب سے مذاکرات ناکام ہوجایا کرتے ہیں، ہمارا اس سوال میں الجھنا بے سود ہوگا کہ بھارت کا نقطہ نظر مسئلہ کشمیر پر کیا ہے؟  خواہ وہ کانگریس کا دوراقتدار ہو یا پھر بھاجپا کا مسئلہ کشمیر پر ایک ہی نقطہ فکر ہے کہ جس کی بنیاد تقسیم کی ہولناکی اور درندگی

پر رکھی گئی تھی۔ بلوچستان کے متعلق اپنے حق ملکیت کا ادعاء￿  خطہ میں ایک نیا تنازع چھیڑنا ہے یقیناً پاکستان اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتا؛ کیوں کہ از خود ماؤنٹ بیٹن کے نظریہ کے بموجب سردار پٹیل، گاندھی جی، جواہر لال وغیرہ؛ بلکہ باستثنیٰ مولانا آزاد تمام کانگریسی اور لیگی لیڈران کے عین منشا کے موافق تقسیم کے رہنما اصول و خطوط کی روشنی میں کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا ہے؛ لیکن مہاراجہ کے لفافہ بند خط کے لحاظ سے کشمیر بھارت کا ہی ایک “انگ” (حصہ)  ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” اور اس کی ذیلی ایجنسیاں جو بیرون ملک بالخصوص بلاداسلامیہ عرب، عراق، لیبیا جیسے طاقت ور ملک کے حفاظتی امور، اقتصادیات، اور داخلی و بیرونی سیاسیات پر ہمیشہ شب خون مارتی ہوئی آئی  ہیں، کے مزعومات پر اعتماد کی بنیاد پر مودی نے بلوچستان کے عوام کی ہمدردی کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس مسئلہ میں بھارتی قیادت کے ساتھ ہیں جب کہ یہ ایک بے نوا تال تھی  حقیقت سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ؛ کیوں کہ سخت گیر بلوچ قوم جس کے رگ و ریشہ میں قومی حمیت پھڑک رہی ہے اس تعشق بیداد  میں پڑ کر اپنے “جنون و سودا” کو رسوا نہیں کرسکتی ہے۔ اپنے عظیم رہنما اکبر بگٹی کی  2006  میں شہادت بھی اسے بداعتقاد نہ بناسکی؛ بلکہ مزاحمت میں شدت آئی اور ناانصافیوں کے خلاف پراشتعال مظاہرے بھی کئے؛ لیکن اس کا تصفیہ جلد ہی کرلیا گیا۔ بھارتی قیادت جسے برہمنیت کا سودا سما چکا ہے اس نے ہمیشہ ملکی و غیر ملکی مسائل پر ابہامات کو ترجیح دی ہے اپنی قطعیت کی کبھی وضاحت نہیں کی اور بلوچستان کے عنوان سے پاکستان پر الزامات عائد کرکے کشمیر اور دیگر مقامات میں بھگوا دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی ننگ کوشش کی جو سراسر فسطائیت کاعندیہ ہے، بلوچستان پاکستان کا داخلہ معاملہ ہے اور کسی ملک کے داخلی معاملات سے سروکار رکھنا ابلہی اور فضول ہے، بھارت کو اولا اپنے شہری کے حقوق اور ان کی اقتصادیات نیز بڑھتی مہنگائی جیسے تشنہ امور پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوامی رجحانات ان کے تئیں مزید منفی شکل اختیار نہ کریں یہی وجہ ہے کہ صحافتی اداروں، زر خرید کالم نویسوں اور ٹی وی اینکروں کی ایک کھیپ ہمیشہ تیار رکھی ہے جو ان کے عیوب و نااہلیت کی ملمع سازی کرتے رہتے ہیں ؛ چونکہ از خود انہیں عوامی احتساب جو آئندہ الیکشن میں ہوں گے، کا خوف ستاتا رہتا ہے، زرخرید صحافیوں میں ارنب گوسوامی کا چہرہ صاف دیکھا جاسکتا ہے اور پھر کشمیر سانحہ نیز برہان وانی کے متعلق جس طرح زعفرانی صحافتی خدمات کا بے دریغ مظاہرہ کیا ہے، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ اگر بدیہی دیکھا جائے تو بھارت کا بلوچستان سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوناچاہیے کجا دعوی ملکیت؟ یہ اصرار خلقی انتہا پسندی اور بھگوائیت کی بدترین علامت ہے۔ کشمیر مسئلہ پر بھی دو قومی نظریہ اور عناد؛ بلکہ ضد چھوڑ کر ریاست کی ترقی، استحکام، عوام کے تئیں اعتماد و تیقن کی خاطر مثبت سوچ رکھنی چاہیے؛ کیوں کہ یہ جنت ارضی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ فضاؤں کو ختن و بوئے  وفا کی مستی سے معمور کیا جائے، آہ و فغاں اور بارود و لاش کے سمیات سے زہر آتشہ بنانا کج فہمی، ذہنی یرغمال اور ابلہی ہے۔

جب برہان وانی (تغمدہ برحمتہ)  نے اپنے بھائی پر مبینہ آرمی کے تشدد سے جنگجوئیت اختیار کی اور اپنے خود ساختہ جنگی مہارت کے باعث حزب المجاہدین کا کمانڈر مقرر ہوا اور پھر انتقام کے جوش میں آکر فوجیوں پر آپریشن کا آغاز کیا حتیٰ کہ فوجیوں کو اس مبینہ حملہ میں کافی نقصانات بھی اٹھانے پڑے جیسا کہ فوج کے اعلیٰ حکام کا اختیار کردہ موقف ہے۔ اسی طرح جب عوام نے برہان وانی کو اپنا ہیرو سمجھ لیا اور اس کی مبینہ شہادت کے بعد جو عقیدت و محبت امنڈ کر آئی وہ ہمیشہ دیدنی ہوگی؛ بلکہ از خود بھارتی سیاست و انتظام نیز فکری بھگوائیت کو اس ذیل میں غور کرنا ہوگا کہ عوامی رجحانات برہانی وانی کے تئیں کیوں کر پیدا ہوکر مضبوط تر ہوگئے؟  اسلحوں کے زور اور آتشیں بندوق سے مزاحم کا گلا گھونٹا تو جاسکتا ہے؛ لیکن   تحریکی نظریات کا سدِباب ہرگز نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت اور عوامی جدوجہد نیز پڑوسی ملک کے درمیان تقریباً 69 سال سے باہم مسابقت ہوتی چلی جا رہی ہے، تاہم کشمیریوں جیسے بے جگرے اور سخت جان  عوام ہیں کہ جنھوں نے  اربوں کی قربانیاں نذر کرکے بھی اس سے دریغ نہ کیا۔ 1947 میں پہلی جنگ، دوسری 1965 میں اور تیسری 1999 میں کارگل جنگ کے نام سے لڑی گئی علاوہ ازیں 2010–2011 میں بھی اس سخت جان قوم نے اپنی قربانیاں دی ہیں، شہری ہلاکتیں بھی بڑی تعداد میں ہوئی ہیں تاہم گذرتے وقت کے ساتھ حالات معمول پر آگئے۔ ابھی کل روزنامہ اڑان اور کشمیر عظمیٰ کی مصدقہ خبروں کے مطابق گذشتہ یعنی  18 اگست کی شب دیر رات جب کھریو کے شار شالی  کے تمام مکین سونے کی تیاری کر رہے تھے تو اس وقت آرمی کے جوان نے محلوں اور گھروں میں گھس کر قیامت صغریٰ برپا کردی، معصوموں، ماؤں اور بہنوں کو زیر چوب زدوکوب کیا گیا، کئی مکانات کے آہنی دروازے اکھاڑ دیئے، کھڑکیوں کے شیشے سنگ باری کرکے چکنا چور کرگئے، اس قیامت صغریٰ کے نتیجے میں 30 سالہ لیکچرار کی موت واقع ہوئی تو 100 افراد شدید زخمی بھی ہوئے اور 30 افراد جبراً بلاجواز گرفتار بھی کرلیے گئے۔ آرمی کا مبینہ الزام تھا کہ شار شالی کے عوام نے فوج پر پتھراؤ کیا تھا؛ لہذا انتقاماً خاطیوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، وہیں کشمیر عظمیٰ کی دوسری یہ خبر بھی ہے کہ اسی بستی سے ایک فرد  شبیر احمد منگو کو اٹھاکر لے جایا گیا اور زیرچوب اس قدر زیادتی کی کہ ان کی موت ہوگئی ان کے ہر عضو سے خون ہی رس رہا تھا۔ اس کے علاوہ جہاں جہاں فوجی دہشت گردی دیکھنے کو ملی ہے وہاں بے دریغ اور بلاجواز بربریت کے تمام ہتھکنڈے استعمال کئے  گئے ہیں ؛ بلکہ عمداً انھیں نشانہ بنایا گیا ہے اور براہِ راست عوام کے  خلاف ہی مورچہ سنبھال لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ صرف کھریو کا ہی نہیں ہے، سوپور، اننت ناگ، پلوامہ، پانڈی پورہ، شوپیان وغیرہ؛ بلکہ پوری وادی کی یہی کہانی ہے۔ یہ کشمکش، آہ و فغاں اور نال? بے نوا کب تلک جاری رہے گی؟  البتہ اس کی وضاحت ضروری ہے کہ مرکزی قیادت کب تک مسئلہ کشمیر اور جاری ہڑتال، کرفیو اور فوجی جبر کے متعلق اپنے مثبت موقف کا واضح اور بین اقرار نامہ پیش کرتی ہے نیز یہ بھی قابل دید ہوگا کہ جو بلاوجہ پیلٹ گن کے شکار ہوکر بینائی سے محروم ہوچکے ہیں اور جو فوجی جبر و زیادتی کے باعث جاں بحق ہوئے ہیں انھیں حکومت کس طرح کا تعاون پیش کرتی ہے۔

تمام حقائق اور واضح بینات کے بعد ہر ذی شعور اور انصاف پسند طبقہ جو جمہوریت اور مساوات پر یقین رکھتا ہوگا یہی موقف اختیار کرے گا کہ جو کچھ بھی کشمیر میں 43 دنوں میں ہوا وہ انسانیت کے نام پر سخت ترین جرم ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق 66 افراد جاں بحق ہوئے، 5000 ہزار افراد مجروح ہوئے، 2000 ہزار کے قریب پیلٹ گن کے شکار ہوئے، اربوں کی مالیت ضائع ہوئی اور 43 دن گذر جانے کے بعد بھی ہر ایک کشمیری کا دل لہو لہو ہے۔ یقیناً انسانیت کی جین پر  یہ 43 دن بدنما داغ ہیں۔ انسانیت کا تقاضہ ہے کہ اسلحوں کی مسابقت، فوجی تشدد، آہ و فغاں، نالہ و نوا اور اشک پیہم روک دیئے جائیں۔ مزاحمتی گروپ جس میں سید علی گیلانی اور  میر واعظ عمر فاروق جیسے افراد رہنما تسلیم کئے جاتے ہیں انھیں بھی وقت کی نزاکت اور شہادتوں پر مصالحت اختیار کرکے خود سپردگی نہیں ؛ بلکہ مفاہمت سے کام لینا چاہیے اور بھارتی قیادت بشمول ریاستی حکومت کو بھی اب انسانیت کے اس رستے ہوئے زخم پر پٹی رکھ دینی چاہیے؛ کیوں کہ جو راستہ اختیار کیا گیا ہے اور جن راستوں کے ذریعہ عوامی ت?ثرات کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے وہ آئینی جرم ہے اور پھر پیلٹ گن کے مقابلے عام گن استعمال کرنے کی جو درخواست دی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے جو پیلٹ گن سے تباہی کا نوٹس لیا ہے، فوج اور مرکزی قیادت کو اسے قریب سے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ جو حقوق انسانی کی  حمایت کرتا آیا ہے بلاتاخیر از خود مسئلہ کشمیر اور شورش وبندش پر نوٹس لیتے ہوئے شافی و کافی حل ڈھونڈے؛ کیونکہ 43 دن سے عوام کے خلاف فوجی تشدد سے یہ آثار قریب تر ہوگئے کہ خطہ میں ہولناک تباہی دستک دے رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور بھارتی قیادت یہی چاہے گا کہ سیکوریٹی اور کشمیر کے نام پر جو ذہنی دہشت گردی جاری ہوئی ہے وہ دم واپسیں تک جاری رہے؟ یقیناً یہ مجرمانہ کوشش ہوگی۔

’’سری نگر کی جامع مسجد مسلسل چھ ہفتے سے سجدہ ہائے نیاز مند و ادائے عشق کی تمام  رعنائیوں سے یکسر محروم ہے، در و دیوار غلغلہ ہائے شوق کی نوائے دلنواز سے عاری ہے، لامکاں کا ’’مکانِ  جلوہ جاں سوز ‘‘ مختلف زاویے سے لہو لہو ہوچکا  ہے، صف بہ صف نماز عشق کی ادائیگی کی دلربا تصویر یک قلم مضمحل ہوگئی، جمعیت اور اجتماعیت جو کہ اسلام کی اولین تعلیم ہے اس پر سیاسی جبر نے شب خون مار دیا، رستخیزِ عشق کی کارفرمائی یوں تو بند کمرے میں بھی ہوسکتی ہے؛ لیکن ہجومِ عاشقاں میں شورشِ دلِ گریہ کی فغانِ عرش رسا تمازتِ عشق کو مزید مہمیز کرتی ہے، وہاں مسلسل لات و منات کے بندے شرارِ نَفسِ اہرمن بن کر اٹھتے ہیں اور “عالم ہو” کو خاکستر بنادیتے ہیں، سینے میں روح محمدی? جلوہ نما ہوکر طمانیت پیدا کرتی ہے، آنکھوں میں سرور اور دل میں اعتقاد کی پختگی نیز صبر و ضبط کی ترغیب دیتی ہے، ان شورش دل ہائے گریہ مند صبر و ضبط پر کار بند ہوتے ہوئے  اپنے اشک و لہو سے اپنا چہرہ بھی دھل لیتے ہیں ؛ لیکن پیش آمدہ خونچکانی ضبط کے بندھن کو یک قلم توڑ دیتی ہے، لالہ و صنوبر کی گیتی بے مثال غلمانِ عدن کے لہو سے سرخ ہوتی جارہی ہے، معصوم بچوں کی کلکاریاں نوائے بے نوا بن کر عرش تک جاتی ہیں اور اسے متزلزل  کردیتی ہیں ؛ لیکن “ال? اجل مسم? ” کا لفظ میثاق سن کر صبر کا حکم لئے واپس آجاتی ہیں۔ 69 سال سے لاکھوں معصوم کی شہادت اور گمنام قبروں کے مکیں جنھوں نے امن طلب کی تھی انھیں امن کا درس یوں دیا کہ شہادت کے جام صہبا نوش کرگئے اور جن کی قبروں پر نہ تو آج تک کوئی فاتحہ پڑھ سکا اور نہ ہی کسی نے ان عاشقان پاکباز کی قبروں پر ’’لباس جنوں ‘‘ چڑھایا  الغرض اتنی قربانیوں کے باوجود امن قائم نہ ہوسکا اس کی وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ شہیدانِ پاکباز کے لہو کا قطرہ قطرہ پکارتا ہے!

سنو اے جبر و تعلی!

’’لہو ہمارا بھلا نہ دینا ‘‘

ہم ہیں خاک و خوں میں غلطاں

قوم ہے ہر وقت ہراساں

نہ ہم نے بزدلی دکھائی

چوٹ سینوں اور دل پہ کھائی

حوصلہ مرا عزم بھلا نہ دینا

ہاں سنو!

’’لہو ہمارا بھلا نہ دینا‘‘

تبصرے بند ہیں۔