کیا حجاب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟

تحریر حافظ عبدالسلام ندوی

 (مظفرپور،بہار)

کرناٹک کے اڈوپی میں حجاب کے  تنازعہ نے جب سے سر اٹھایا ہے تب سے پوری دنیا میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا خواتین کے لیے حجاب یا پردہ مذہب اسلام میں فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے یا پھر اس کی حد محض مباح اور مستحب تک ہے،لیکن اس بیچ لبرلز کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو حجاب اور پردہ کو خواتین کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دے رہا ہے اور اسے قدامت پرستی اور پسماندگی کی ایک علامت بتا رہاہے،ان نام نہاد لبرل دانشوروں کی جماعت مسلم اور غیر مسلم دونوں افراد پر مشتمل ہے، لیکن اس دعوی میں کس قدر صداقت ہے اس کا اندازہ ہم ذیل کی سطروں میں لگانے کی کوشش کریں گے.

اسلام نے خواتین کی تعلیم و ترقی کی راہ میں کسی طرح رکاوٹ ڈالی ہے نہ ان پر علم کے دروازے بند رکھے ہیں بلکہ حجاب اور پردے کا مکمل خیال کرتے ہوئییہ حکم دیا گیا ہیکہ وہ مسجدوں،تعلیم گاہوں اور دینی درس گاہوں کا رخ کریں اور اپنے علم کی پیاس بجھائیں، یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ میں مخدرات اسلام نے بے شمار علمی کارنامے انجام دئیاور سب سیزیادہ مہتم بالشان اور رفیع القدر علم،علم حدیث کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،ان محدثات کی مکمل فہرست اور سوانح حیات سے واقفیت حاصل کرنی ہو تو عالمی شہرت یافتہ عالمِ دین ڈاکٹر اکرم ندوی کی 43 جلدوں پر مشتمل تالیف”الوفاء بأسماء النساء”کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے،جس میں دس ہزار سے زائد محدثات کا تذکرہ جمیل جمع کیا گیا ہے، ان میں سے بیشتر محدثات نے علم حدیث کی تحصیل کے پیش نظر دور دراز علاقوں کا سفر بھی کیا اور حدیث کے موضوع پر تصنیف و تالیف کا کام بھی انجام دیا،کتب حدیث کی شرح بھی لکھیں اور حدیث کی تعلیم کے ادارے بھی قائم کیے،اور یہ تمام امور مکمل اسلامی حجاب کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیئے گئے،اور یہ سلسلہ صرف عہد اوائل اسلام اور قرون مشھود لھا بالخیر تک ہی محدود نہ رہا بلکہ تاہنوز جاری ہے،دور جدید میں بھی ایسی بے شمار مسلم خواتین ہیں جنہوں نے حجاب میں رہتے ہوئیترقی کے اعلی منازل طے کئے اور اکیسویں صدی میں بھی حجاب کی مکمل رعایت کرتے ہوئے وہ بے شمار کارہائینمایاں انجام دے رہی ہیں، ذیل میں ہم ان ہی میں سے چند باکمال باحجاب خواتین کا مختصر تفصیل کے ساتھ تذکرہ کرتے ہیں۔

اس فہرست میں سب سے پہلا نام حلیمہ یعقوب کا ہے،جو آزاد ملک سنگاپور کی پہلی خاتون صدر ہیں،حلیمہ یعقوب نسلی طور پر بھارتی مسلمان ہیں،2017ء میں صدارت کی کرسی پر براجمان ہونے سے قبل وہ رکن پارلیمان بھی رہ چکی ہیں،حلیمہ یعقوب نے سیاست کے اس طویل اور پر خار سفر میں کبھی اپنے آپ کو بے پردہ نہیں رکھا اور ہمیشہ حجاب کو اوڑھے رہیں وہ آج بھی حجاب پہنتی ہیں اور ملک کا نظم و نسق بھی اسی حالت میں سنبھالتی ہیں،سوال یہ ہے کہ اگر حجاب محض انتہا پسندی اور پسماندگی کی علامت ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ ایشیا پیسیفک خطے کے 39ممالک میں اول درجہ حاصل کرنے والے ملک کی صدارت کے عہدیپر ایک باحجاب خاتون فائز ہوتیں؟

اس فہرست میں دوسرا نام مشہور امریکی سیاستدان الہان عبداللہ عمر کا ہے،جو 2019 عیسوی میں امریکی ریاست مینیسوٹا سے منتخب ہونے والی مسلمان رکن کانگریس ہیں،الہان اصلا صومالیہ سے علاقہ رکھتی ہیں، انہوں نے ابتدا ہی سیحجاب اور مکمل پردے میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور سیاست کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد بھی اپنے لیے حجاب کو باعث فخر سمجھا، اس وقت وہ محض 37 سال کی ہیں لیکن پوری دنیا ان کی علمی و تخلیقی صلاحیتوں کا قائل ہے،اگر حجاب قدامت پرستی کی علامت ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ایوان میں ایک باحجاب مسلم خاتون الہان عمر منتخب ہو کر آتیں؟

 تیسرا نام طاہرہ شیریں رحمان کا ہے جو 2018 عیسوی میں امریکی مقامی ٹیلی وژن میڈیا میں پہلی حجاب پہننے والی آن ایئر رپورٹر بنی ہیں،طاہرہ رحمان رپورٹر بننے سے قبل پروڈیوسر بھی رہ چکی ہیں،انہوں نے ایک انٹرویو میں اپنی زندگی کے تلخ تجربات کو بیان کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ حجاب پہننے کے سبب ہمیشہ میری حوصلہ شکنی کی گئی، مجھیقدامت پسند اور بنیاد پرست کہا گیا لیکن میرے عزائم متزلزل نہیں ہوئے اور میں نے حجاب کے ساتھ ہی ترقی کے تمام مدارج طے کرنے کا عہد کیا،میں بقیہ مسلم خواتین کو بھی یہ نصیحت کرتی ہوں کہ وہ حجاب کو اپنے لیے فخر کا باعث سمجھیں اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں اسے رکاوٹ نہ باور کریں۔

اس ضمن میں چوتھا نام  ویرونا کلیکشن نامی مشہور امریکی برانڈ کی شریک بانی لیزا ووگل کا ہے، لیزا ووگل نے2010 عیسوی میں اسلام مذہب قبول کیا اور پھر حجاب پہننے لگیں،لیکن انہیں شدید طور پر اس بات کی کمی محسوس ہوئی کہ مسلم خواتین کے لیے مارکیٹ میں ایسے حجاب معدوم ہیں جو اسلامی تقاضوں کو پورا کرتے ہوں،چنانچہ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے انہوں نے ویرونا کلیکشن کا آغاز کیا اور وہ آج امریکہ کے بڑے تاجروں میں سے ایک شمار ہوتی ہیں۔

مذکورہ چاروں خواتین کے علاوہ بے شمار ایسے نام اس فہرست میں درج کیے جاسکتے ہیں جو حجاب میں رہتے ہوئے بھی عالمی سطح پرخدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن اس عجالہ نافعہ میں اس کی گنجائش نہیں،خلاصۃ المقال یہ کہ حجاب خواتین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ  محافظ ہے، یہ قدامت پرستی کی علامت نہیں بلکہ عصمت و عفت کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔