گاندھی جی، سیاست اور مسلمان!

ندیم احمد انصاری

موہن داس کرم چند گاندھی(2 اکتوبر 1869 تا 30 جنوری 1948ء) ہندوستان کے ہر دل عزیز رہنما اور تحریکِ آزادی کے اہم ترین فرد ہیں، انھوں نے ظلم کے خلاف ستیہ گرہ کو اپنا ہتھیار بنایا، جو عدم تشدد پر مبنی ہے۔ہندوستان میںانھیں ادب و احترام سے مہاتما گاندھی اوربابائے قوم یا باپو جی کہا جاتا ہے،ان کی یوم پیدائش جسے ’گاندھی جینتی‘ کہتے ہیں، قومی تعطیل کا درجہ رکھتی ہے اور دنیا بھر میں اسے یوم عدم تشدد کی طور پر منایا جاتا ہے۔ان کی زندگی کے اہم پہلووؤں پر مختصراً یوں روشنی ڈالی جا سکتی ہے:
٭ جنوبی افریقہ میں وکالت کے دوران، رہائشی ہندوستانی فرقے کے شہری حقوق کی جدوجہد کے لیے انھوں نے ستیہ گرہ کا استعمال پہلی بار کیا۔
٭ ہندوستان واپسی کے بعد1915ء میںکسانوں اور شہری مزدوردں کے ساتھ بے تحاشہ زمین کی چنگی اور تعصب کے خلاف احتجاج کیا۔
٭1921ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالی اور اس کے بعدوہ ملک سے غربت کم کرنے ، خواتین کو ان کے حقوق دلانے، مذہبی اور نسلی خیرسگالی، چھواچھوت کے خاتمے اور معاشی خود انحصاری کا درس دینے میں لگے رہے۔ انھوں نے غیر ملکی تسلّط سے ملک کی آزادی حاصل کرنے کا پختہ عزم کیا اور مشہور عدم تعاون تحریک کی قیادت کی، جو کہ 1930ء میں مارچ سے برطانوی حکومت کی طرف سے عائد نمک چنگی کی مخالفت میں 400 کلومیٹر لمبی دانڈی نمک احتجاج سے شروع ہوئی۔
٭اس کے بعد 1942ء میں انھوں نے ’ہندوستان چھوڑو‘تحریک کا آغاز کر فوری آزادی کا مطالبہ کیا، ان کارروائیوں کے پیش نظر وہ جنوبی افریقہ اور ہندوستان میں کئی سال جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے۔
٭ ناتھو رام گوڈسے نے 30جنوری 1948کو گاندھی جی کا سرِ عام قتل کر دیا۔
گاندھی جی کی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے لیکن جب سے انھوں نے جنگِ آزادی میں شرکت کی تب سے سادہ زندگی گزارنے کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ اس عدم تشدد کے پیشوا نے سچ بولنے کی قسم کھائی تھی اور دوسروں سے بھی ایسا ہی کرنے کی فہمائش کرتے تھے،سادہ زندگی بسر کرتے،سابرمتی آشرم میں رہتے، کپڑے کی طور پر روایتی ہندوستانی دھوتی اور شال کا استعمال کرتے، جسے وہ خود چرخہ چلا کر بنتے تھے۔ سادہ و سبز کھانا پسند تھا اور روحانی پاکیزگی و سماجی احتجاج کے لیے لمبے اُپواس رکھتے تھے۔
گاندھی جی اور عملی سیاست
واضح رہے کہ گاندھی جی کے اُفقِ سیاست پر نمو دار ہونے کی وجہ سے قومی تحریک عوامی جد و جہد میں تبدیل ہو چکی تھی، چناں چہ 1920ء میں کانگریس نے گاندھی جی ہی کی قیادت میں نہ صرف اصلاحات کو یکسر مسترد کر دیا بلکہ اس کے ساتھ عدم تشدّد کی اساس پر عدمِ تعاون کی کُل ہند تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا، ادھر خلافتِ ترکیہ پر انگریزوں نے جو ذلت آمیز شرائط عائد کی تھیں ان سے مسلمان بھی برگشتہ تھے، چناں چہ انھوں نے بطورِ احتجاج ’خلافت تحریک‘ شروع کی، جس کے سر برآوردہ لیڈروں میں مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر انصاری اور حکیم اجمل خاں کے علاوہ علمائے دیوبند شامل تھے۔ گاندھی جی کی رہبری میں جب کانگریس نے خلافت تحریک کی تائید کا اعلان کیا تو مولانا محمد علی اور گاندھی جی ایک پلیٹ فارم پر دکھائی دینے لگے،گاندھی جی اور علی برادران کے تعاون کی وجہ سے ترکِ موالات کی تحریک نے غیر معمولی شدت اخیتار کر لی، اب وہ حقیقی معنوں میں ایک عوامی تحریک بن گئی لیکن آگے چل کر یہ تحریک ناکام ثابت ہوئی تو گاندھی جی اور علی برادران کو نظر بند کر دیے جانے کے بعد ملک کے سیاسی حالات میں انتشار پیدا ہو گیا۔۔۔گاندھی جی نے 1926ء میں رہا ہو نے کے بعد عملی سیاست سے دست کش ہو کر تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ (اردو انسائکلوپیڈیا :1؍475ملخصاً)

گاندھی جی اور مسلمان
گاندھی جی سیکولرزم کے دل دادہ تھے اور مذہبی تعصب کو ناپسند کرتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد جن لوگوں نے اختیاری طور پر ہندستان میں رہنا قبول کیا تھا، ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا تھا اور آج تک ان حالات میں بہتری نہیں آئی ہے۔ ایسے ہی ایک موقع کی روداد بیان کرتے ہوئے مولانا ابو الکلام آزاد لکھتے ہیں کہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ دلی کے زیادہ تر مسلمانوں کو پرانے قلعے میں لا کر رکھا گیا تھا، اب سردیاں سر پر آگئیں تھیں، ہزاروں لوگ جو کھلے آسمان کے نیچے رہتے تھے، انھیں سردی سے سخت تکلیف پہنچتی تھی، ان کے لیے کھانے کا معقول انتظام تھا نہ پانی کا۔ وہاں سے گندگی ہٹانے کا اور تو کوئی انتظام ہی نہ تھا اور جو تھا وہ بھی بالکل نا کافی تھا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے ایمرجنسی بورڈ کے سامنے شہادت دیتے ہوئے، پرانے قلعے میں رہنے والوں کی دل گداز حالت بیان کی، انھوں نے کہا کہ ان غریب مَردوں، عورتوں اور بچوں کو موت کے منہ سے نکال کر زندہ درگور کیا گیا ہے، بورڈ نے مجھے ہدایت کی کہ میں جا کر انتظامات کا معائنہ کروں اور ضروری کارروائیاں تجویز کروں۔ اس کے بعد جلسے میں طے پایا کہ پانی اور صفائی کا فوراً انتظام کیا جائے، ساتھ ہی فوج سے کہا گیا کہ وہ جتنے زیادہ سے زیادہ خیمے دے سکتی ہو فراہم کرے تاکہ لوگوں کو کم سے کم کینوس کے نیچے پناہ مل سکے۔ادھر گاندھی جی کی اذیت روز افزوں تھی، پہلے پوری قوم ان کی ادنیٰ سے ادنیٰ خواہش پوری کرنے پر تیار رہتی تھی لیکن اب یہ عالم تھا کہ وہ منت اور التجا کر رہے تھے اور لوگوں کے کان پر جوں تک نہ رینگتی تھی، بالآخر حالات ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گئے، انھوں نے مجھے بلاکر کہا کہ میرے پاس اب اس کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں رہ گیا ہے کہ اس وقت تک کے لیے برت رکھوں، جب تک دلّی میں پھر سے امن و امان قائم نہ ہو جائے۔ یہ خبر سن کر کہ گاندھی جی دلّی میں امن قائم ہونے تک برت رکھنے والے ہیں، بہت سے لوگ جو اب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے، انھیں ذمّے داری کا احساس ہوا، شرمندہ اور عمل کی طرف مائل ہوئے، سب نے محسوس کیا کہ گاندھی جی کو اس عمر میں اور صحت کی اس حالت میں برت رکھنے سے روکنا چاہیے، ان لوگوں نے گاندھی جی سے اپیل کی کہ وہ اپنا ارادہ ترک کر دیں لیکن گاندھی جی کا فیصلہ اٹل تھا۔(انڈیا ونس فریڈم: 313)
اس واقعے سے گاندھی جی کے سیکولر ذہن کی پوری طرح عکاسی ہوتی ہے، جس کی آج بھی ملک کو ضرورت ہے، تاکہ ہر طرف امن و امان اور شانتی قائم ہو سکے۔

تبصرے بند ہیں۔