ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی

سراج الدین ندویؔ

 مشہور صحافی اور کالم نگار جناب ظفر آغا صاحب نے ۱۷؍ اپریل کے اپنے کالم میں ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں ہندوستانی مسلمانوں کو دو مشورے دیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کناڈا یا کسی دوسرے ملک ہجرت کرجائیں۔ دوسرا یہ کہ وہ تعلیم حاصل کریں اور اپنے اندر کوئی اسکل پیدا کریں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ آزاد ہندوستان میں مسلمانوں پر آج سے زیادہ برے حالات کبھی نہیں آئے۔ موصوف کی رائے ہے کہ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ نے بھی مدینہ ہجرت کی تھی۔ یہودیوں نے بھی یہی دو طریقے اختیار کیے تھے۔ موصوف نے کھرگون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ’’کھرگون میں آپ جانتے ہیں کیا ہوا۔ وہاں رام نومی کا جلوس پولیس کی اجازت کے بغیر گھنی مسلم بستی میں در آیا۔ آخر پولیس نے ایک مقام پر جلوس کو روکا تو وہاں رک گیا۔ لیکن وہاں جلوس والوں نے کھڑے ہو کر مسلمانوں کو مغلظات گالیوں کے نعرے لگانے شروع کیے۔ بس پھر بلوا شروع ہوا اور آپ جانتے ہی ہیں کہ پھر ان کے مکانوں پر بلڈوزر دوڑا دیئے گئے۔ صرف اتنا ہی نہیں، سڑکوں کے کناروں پر جو ان کی دکانیں تھیں وہ بھی ضبط کر لی گئیں۔ ہمارے ایک صحافی دوست کا کہنا ہے کہ دراصل اب مسلمانوں کے خلاف ’معاشی جہاد‘ شروع ہو گیا ہے۔ یعنی مسلمان کو نوکری تو میسر ہے نہیں، وہ سڑکوں کے کنارے پٹری پر چھوٹی موٹی دکان لگا کر اپنی زندگی چلانے کا انتظام کرتا ہے۔ دن رات، گرمی ٹھنڈ اور برسات جھیل کر پیسہ کماتا ہے۔ اب اس کی ریڑھی پٹری کی دکانوں پر بھی آفت ہے۔ ایسی خبریں محض کھرگون سے ہی نہیں بلکہ اور کئی شہروں سے مل رہی ہیں۔ یعنی جان کا خطرہ تو تھا ہی، اب اس کی دکان اور مکان بھی محفوظ نہیں۔ اسی لیے تو پوچھا آخر اس ملک کا مسلمان جائے تو جائے کہاں اور کرے تو کرے کیا!‘‘ اس کے آگے موصوف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس سوال کا جواب نہ تو میرے پاس ہے اور نہ شاید کسی اور کسی کے پاس ہے۔

وہ دانشور ہیں۔ صحافی ہیں۔ ان کی حالات پر نظر ہے۔ شاید یہ کالم لکھتے وقت ان کی نظر تاریخ پر نہیں رہی۔ ورنہ وہ ہجرت کا مشورہ بالکل نہ دیتے۔ ان کے قلم سے مایوسی کی یہ باتیں اور ہجرت کا بزدلانہ مشورہ کچھ مناسب نہیں لگا۔ موصوف کا اسلام کا مطالعہ کتنا ہے یہ میں نہیں جانتا مگر نبی ﷺ کی ہجرت کا حوالہ بھی کسی طرح درست نہیں ہے۔ ہندوستانی مسلمان ہوں یا کسی اور ملک کے مسلمان وہ تاریخ کے ہر دور میں اس سے بھی برے حالات سے گزرے ہیں۔ میری رائے میں مسلمانوں پر موجودہ مصیبت سابقہ مصیبتوں کے مقابلے کچھ بھی نہیں۔ ذرا تاریخ کے اوراق پلٹیے اور وہ منظر یاد کیجیے جب حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مانعین زکاۃ اور جھوٹے مدعیان نبوت نے مسائل پیدا کردیے تھے۔ ایک طرف روم اور ایران کی سلطنتیں اسلام کو مٹانے کے درپے تھیں دوسری طرف مسلمانوں کے ایک گروہ نے زکاۃ نہ دینے کا اعلان کرکے جنگ کا ماحول پیدا کردیا تھا اور مسلمان حضور ﷺ کے وصال کے غم میں نڈھال تھے۔ الگ الگ مقامات پر چار جھوٹے نبی پیدا ہوگئے تھے۔ ان حالات کی سنگینی کا آج کے حالات سے کیا موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ چند مٹھی بھر مسلمان اور ہر طرف سے فتنے اٹھنے لگے۔ لیکن ان دشوار گزار مراحل سے اللہ نے ان کے عزم و حوصلہ اور ایمان پر قائم رہنے کی وجہ سے نکال دیا۔

اس کے بعد تاریخ کا وہ ورق بھی دیکھیے۔ جب تاتاریوں نے اسلامی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ مولانا علی میاں ؒ کے بقول تاتاریوں کے قتل عام کی وجہ سے دریائے فرات کا پانی لال ہوگیا تھا۔ جب مسلمانوں کی لائبریریوں، کتب خانوں اور علمی ذخائر کے نذر آتش کردیے جانے سے دریا کا پانی ہفتوں تک کالا ہوکر بہہ رہا تھا۔ مسلمانوں کی بے بسی کا وہ عالم تھا کہ ایک تاتاری کسی مسلمان کو حکم دیتا کہ یہیں کھڑے رہو میں گھر سے تلوار لاتاہوں اور تمہارا سرقلم کروں گا اور اس مسلمان کی ہمت نہ تھی کہ وہ اس حکم کی سر مو بھی خلاف ورزی کرے۔ لیکن وہ اللہ ہی ہے جس نے صنم خانوں سے ہی کعبے کے پاسبان پیدا کیے اور وہی چنگیز کی اولاد پورے برصغیر میں اسلام کاعلم لہرانے کی باعث بنی۔ اس کے بعد ہندوستان کے حالات دیکھیے۔ یہاں کتنی بار دلی اجڑی اور بسی کس کو نہیں معلوم؟کون سی صدی ایسی ہے جس میں ایک نہ ایک بار ہندوستانی مسلمانوں کے اوپر غم و اندوہ کے بادل نہ منڈرائے ہوں ؟بغداد میں سقوط خلافت اورہند میں مسلم سلطنت کا زوال کیا کم بڑا سانحہ ہے؟

آپ فرماتے ہیں آزاد ہندوستان میں آج سے زیادہ برے حالات نہیں آئے۔ کیا آزادی کی خونریز صبح آپ کو یاد نہیں رہی؟تقسیم ملک کے زخم کے ساتھ ساتھ عزیز و اقارب کی تقسیم آپ بھول گئے۔ پاکستان جانے والی ٹرینوں میں ہزاروں انسان کی لاشیں، مکانوں سے اٹھتا ہوا دھواں، دکھیاروں کی چینخ و پکار کیا حشر کے منظر سے کم تھا؟پھر بقول آپ کے’’ فسادات تو برسہا برس سے اس کی قسمت تھی ہی‘‘تو آپ کیوں بھول گئے کہ کھرگون سے زیادہ بھیانک فسادات اور نقصانات آپ جھیل چکے ہیں۔ نیلی،بھاگلپور،مرادآباد،میرٹھ، ہاشم پورہ اور ملیانہ کیا ہمارے خون سے رنگین نہیں ہوئے؟اگر آپ کو یہ سب یاد رہتا تومحض بی جے پی کے آٹھ سالہ دور اقتدار کے مصائب سے تنگ آکر ملک سے چلے جانے کی بات نہ کرتے۔

آپ کیوں جائیں گے ؟یہ ملک کیا آپ کا نہیں ؟کیا اس کی تعمیر وترقی میں آپ کا کردار نہیں ؟کیا کوئی آئینی دشواری ہے اس ملک میں رہنے کے لیے ؟ اورکہاں جائیں گے ؟ کیا جہاں آپ تقسیم وطن کے موقع پر گئے تھے وہاں مطمئن ہیں ؟مہاجرین کو وہاں جو تکلیفیں پہنچیں اور ان کے ساتھ جو سلوک ہواا سے آپ کیسے فراموش کرسکتے ہیں۔ کیا کناڈا یا آسٹریلیا یا کوئی بھی مغربی ملک ہندوستان سے زیادہ محفوظ اور آزاد ہے ؟اور کیا گارنٹی ہے کہ وہاں کی موجودہ فراخ دلی باقی رہے گی ؟ آپ ملک میں حجاب،اذان،گوشت اور سڑک پرنماز کی پابندی کا رونا روتے ہیں تو فرانس میں اسلامی شعائر اختیار کرنے پر پابندی آسٹریلیامیں توہین رسالت کے واقعات،ڈنمارک میں حضرت محمد ﷺ کے کارٹون، نیوزی لینڈ میں نمازیوں کا قتل عام آپ کو یاد نہیں۔ پھر یہ بھی بتائیے کہ چالیس کروڑ کی آبادی کو کون پناہ دے گا؟ اورکیوں دے گا؟جب آپ اپنے ملک کے لیے مفید نہیں تو دوسرے ملک کو کیا فائدہ پہنچائیں گے۔ اگر چند ہزار تعلیم یافتہ اور مالدار مسلمان ہجرت کربھی جائیں تو باقی مسلمانوں کو کس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جائیں گے؟ ایک بابری مسجد کے جانے پر کتنا غم ہوا؟ شاید اس کا اندازہ نہیں آپ کو، جو لاکھوں مساجد،مدارس، خانقاہیں، کالج، اسکول اور درجنوں یونیورسٹیاں غیر مسلموں کے حوالے کرکے کناڈا جارہے ہیں۔

محترم!نبی ﷺ کی مقدس ہجرت کاموازنہ بزدلانہ فرار سے مت کیجیے۔ اللہ کے رسولؐ نے خدا کے حکم سے ہجرت کی تھی۔ اللہ کے لیے کی تھی۔ اسلام کی بقاکے لیے کی تھی۔ اہل مدینہ نے آپ کو اسلامی نظام کے قیام کی دعوت دی تھی۔ آپ کس کے لیے کریں گے ؟کیا ہندوستان میں اسلامی نام رکھنے، نماز پڑھنے، روزہ رکھنے، حج و عمرہ کرنے، زکاۃ دینے،اسلامی تعلیم کا نظم کرنے پر کوئی قانونی پابندی لگادی گئی ہے؟ جو آپ ایسے ملک جانا چاہتے ہیں جہاں اللہ کی بندگی کی آزادی میسر ہو۔ کیا مغربی ممالک اسلام کے قیام کے لیے آپ کو مدعوکررہے ہیں ؟نہیں۔ معاف کیجیے یہ فرار ہے ہجرت نہیں ہے۔ ہاں، آپ کا دوسرا مشورہ سر آنکھوں پر ہے۔ جس میں آپ نے تعلیم حاصل کرنے کی اور صلاحیتیں پیدا کرنے کی بات کہی ہے۔ آپ کے اس مشورے پر ہندوستانی مسلمانوں کو عمل کرنا چاہیے۔

ملک کے حالات اس قدر مایوس کن نہیں ہیں جتنے آپ سمجھ رہے ہیں، نہ مسلمانوں نے یہاں حوصلہ ہارا ہے۔ ٹھیک ہے آپ کی نظرمیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے تو آپ کو کس نے روکا ہے ان کے آنسو پوچھنے سے ؟اگرکوئی سیاسی پارٹی نہیں جو آپ کے لیے آواز اٹھائے تو آپ کو کس نے منع کیا ہے سیاسی پارٹی بنانے اور مسلمانوں کی آواز بننے سے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ جیسے دانشور جمع ہوں اور بھارت کے مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام مظلوموں اور پسماندہ طبقات کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنائیں۔ ہر بستی میں ان کے تعلیمی ادارے ہوں، ہسپتال ہوں، جن سے خلق خدا فیضیاب ہو۔ آپ کے معاملات اچھے ہوں، آپ کی زبان سچ بولے،آپ کی ذات سے لوگوں کو نقصان نہ پہنچے،آپ کے وعدے سچے ہوں۔ آپ کے اندر ایک دوسرے کی معاونت کا جذبہ ہو۔ آپ کا معاشرہ پاک و صاف ہو۔ پھر آپ دیکھیے گایہی ملک آپ کو سر آنکھوں پر بیٹھائے گا۔ یہی فرقہ پرست آپ کی قدر کریں گے۔ اگر آپ خلق خدا کو نفع پہنچائیں گے تو اللہ آپ کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔

اب کے جو فیصلہ ہو گا وہ یہیں پہ ہو گا

ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔