ہندوستانی جمہوریت خطرے میں

محمد ناظم القادری جامعی

 فی الوقت ہندوستانی عوام جن حالات سے دوچارہیں وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ہندوستان کی فضا دن بدن گرد آلود ہوتی جارہی ہے۔ ہر سمت ہاہ ہاہ کار مچاہوا ہے۔ بالخصوص مسلمانوں سے بد سلوکی روزمرہ  کا معمول بن گیا ہے۔ انگریزوں کے چنگل سے آزادی تو مل گئی لیکن ظلم و تشدّد کے پنجے میں ابھی بھی جکڑے ہوئے ہیں۔ آئے دن قتل وخونریزی،ظلم وستم اور عفریت وبربریت کے دلخراش وجگرپاش واقعات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ دیس کے مجاہدین نے اس ملک کو اپنی اپنی جان کی بازی لگا کر انگریزوں کی ناپاک سازشوں سے پاک کیا تھا۔ جس ملک کو”سونے کی چڑیا”گردانا جاتاتھا۔انگریزوں نے نام نہاد ہندوستانیوں کو اپنے تلوے چٹوا کر اس ملک کو قعر مذلت میں گرادیا تھا۔ 15/اگست 1947/میں حُریت کا پروانہ ملا تو دیس کے لیڈروں نے قومی یکجہتی وہم آہنگی کے لیے اس ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی تو یہ طئے کیا کہ ہم اپنے ملک کو ایک ایسا جمہوری ملک بنائیں گے۔ جہاں سبھی مذہب وملت، قوم وبرادری اور ہر رنگ و نسل کے افراد  آزادانہ طور پر زندگی گزار سکیں۔ جہاں کوئی کسی کی نسل، رنگ اور مذہب کا دشمن نہ ہو، جہاں امن و چین اور سکون واطمینان کے ساتھ، اخوت و محبت کے سائے میں زندگی گزار سکیں۔ اور ایک ایسے ملک کی تشکیل کا ارادہ کیا جو گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہو، چنان چہ اس ملک کے جمہوری دستور کی تشکیل کے لیے 73/سال قبل یعنی آزادئ ہند کے بعد 1947ء میں ماہرین قانون اور ہندوستان کے نامور اہل سیاست دانوں کی 12/رکنی  آئین ساز کمیٹی بنائی گئی۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یعنی امبیڈکر کی قیادت میں اس کمیٹی نے 2/سال 11/ماہ، 18/دن کی مدت میں 1949ء26/جنوری کو دستور ہند کا مسودہ تیار کرکے پیش کیا۔ جسے 26/جنوری1950ءمیں پورے ہندوستان میں نافذ کیا گیا، اسی لیے اس کو جمہوری ملک کے اسم سے موسوم کیاجاتاہے۔

 یوم جمہوریہ ہرسال ہمیں ملک کے کو نے کونے میں امن و شانتی، چین وسکون، آپسی محبت و یگانگت اور یکجہتی وبھائی چارگی کا ماحول قائم رکھنے کاپیغام دیتا ہے۔ اسی امن و شانتی کی فضا کے لیے سینکڑوں علما نے اپنی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ ہزاروں مائیں بے سہارا ہوئیں، لاکھوں سہاگن ابھاگن ہوگئیں۔ اسی سرزمین کی فضاکو امن وچین، اور اخوت ومحبت کے خوبصورت جذبوں سے آراستہ وپیراستہ کر نے کے لیے کڑوروں افراد سرکٹا کر بھی یہ صدا بلند کررہے تھے۔

دل سے نکلے گی نہ مرکر بھی وطن کی الفت
 میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفاآئے گی

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اس کی باگ ڈور براہ راست عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ کیوں کہ جمہوریت کی تعریف ہی یہی ہے۔جیساکہ ابراہم لنکن(Abraham lincoln)نے جمہوریت کی وضاحت کی ہے۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں:The statement “Democracy is the government of the people, for the people, by the people” was given by Abraham Lincoln۔ In a democratic form of government, rulers are elected by the people۔یعنی ’’جمہوریت عوام کی حکومت ہے، لوگوں کے لیے، لوگوں ہی سے‘‘ ابراہم لنکن نے دیا تھا۔  جمہوری طرز حکومت میں حکمرانوں کا انتخاب عوام کرتے ہیں۔ایسی طرز حکومت جس میں حاکمیت اعلیٰ اور اقتدار جمہور کے نمائندوں کو حاصل ہو۔

مذکورہ وضاحت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جمہوری ملک میں شہریوں کومختلف قسم کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ مثلا:اظہار رائے کی آزادی، اپنے مذاہب کے مطابق عبادات کرنے کا حق، تعلم و تعلیم کاحق، ووٹ ڈالنے کا حق، اپنےمذاہب کے مطابق شادی بیاہ کرنے کا حق اور اس کے علاوہ بہت سے حقوق جمہوری ملک کا آئین عطا کرتا ہے۔ یہی آئین جمہوری طرز حکومت کو آمریت سے ممتاز کرتا ہے، آئین ہی جمہوریت کی شان وبان ہے، کیوں کہ جمہوریت میں ہر طبقہ، ہر ذات اور ہر مذہب کے لوگوں کا خیال رکھا جا تا ہے۔اسی جمہوری حکومت کی ترویج کے لیے اور اس دیس کو برطانوی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے مسلمانوں نے اپنی جانوں کی بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔ یوں تو ملک کوانگریزوں کے قید سے چھڑانے کے لیے تمام مذاہب کے لوگوں نے حصہ لیا، لیکن  سے جلیل القدر علماکی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ اپنے خون سے ہم شہریوں کے لیے ہندوستان میں آزادی کا پرچم لہرایا۔

  لیکن  افسوس صدافسوس!جس ملک کی آزادی کے لیے دیس کے لیڈروں نے اپنی جان ومال کی بازی لگا کر جمہوریت کا قیام کیا۔ آج اسی جمہوری اقتدار کے محافظین ہی خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں۔ ہرچہار جانب حقوق عامہ کااستحصال کیا جارہاہے۔اس ہندی چمن میں بڑی تیزی سے نفرتوں کا بیج بویا جارہا ہے۔ مذہب وملت اور ذات پات کے نام پرعوام کے مابین جنگ وجدال  کے شعلے بھڑکتے جارہے ہیں۔ہندومسلم کے نام پر امتیازی برتاؤ برتا جارہا ہے۔ کتنے ہی نفوس قدسیہ کواپنے چپیٹ میں لے کر ملک کی جمہوریت کو داغدار کیا جارہا ہے۔ جس چمن کی سینچائی ہمارے پروجوں نے اپنے خون جگر سے کیا ہے تاکہ اس چمن کی بلبلیں آزاد فضا میں پرواز کرسکیں اس کے جمہوری نظام کو بروے کار لایا۔ آج اسی جمہوری نظام کو درہم برہم کیا جارہا ہے۔ غلامی کی زنجیروں سے ازادی کے بعد پھر سے ہندی عوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی ناپاک سازشیں رچائی جارہی ہیں۔ انسانی جان جانوروں سے تصور کیا جارہا ہے۔ مخصوص جانور کے تحفظ کے نام پر ایک خاص طبقے پر تشدد کےپہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ رنگ رسیا حکومت کی وجہ سے پر ملک کا امن وامان خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہاہے۔ ملک کے نامور نیتا دنگا فساد بپا کرنے کے مواقع ڈھونڈ رہے ہیں۔ ملک کے حالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جمہوریت آمریت میں بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک بے رنگ ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی کوشش زوروں پر ہے۔ ہندی مسلم باشندوں کی حیات تنگ سے تنگ کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی مذہبی آزادی چھینی جارہی ہے۔ مساجد شہید کی جارہی ہیں۔ اذان پہ پابندی لگائی جارہی ہے۔تاریخ کے اوراق الٹ پھیر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی آزادی سے قبل ہندوتوا نے ایک تنظیم”بنام آرایس ایس”کی داغ بیل ڈالی۔

 آرایس ایس کیا ہے؟ قدرے وضاحت ملاحظہ کیجیے! یہ بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے۔ یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ کئی دہشت گرد معاملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے۔(اس کی بنیاد27ستمبر1925ءکوناگپور میں ڈالی گئی تھی۔2014ءمیں اس کی رکنیت50 لاکھ سے60لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔)بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا اہم رول رہا ہے۔ 1948ء کو اس تنظیم کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڈسے نے مہاتماگاندھی کو قتل کیا تھا۔ احمد آباد، جمشیدپوراور1992ء کو اس تنظیم کے اراکین(کارسیوک)نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کردیا۔ یہ تنظیم بھارت کو ہندو ملک گردانتی ہے اور یہ اس تنظیم کا اہم مقصد بھی ہے۔ اس کے ہم خیال سنگھ پریوار، وشوہندوپریشد، بھارتیہ جنتا پارٹی وغیرہ کے مقاصد بھی ہندوستان کو ہندوراشٹریہ بنانا ہے۔

اور موجودہ حکومت بھی ہندوراشٹر بنانے میں تابڑ توڑ کوشش کررہی ہے۔ جگہ جگہ پہ دنگے فساد بپاکیے جارہے ہیں۔ موجودہ ارباب اقتدار کو اس کی کوئی فکر لاحق نہیں۔ دن بدن ہندوستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ آج ملک کا کسان پریشان ہے، سرمایہ داروں کو خوش کرنے اور ان کے قارونی خزانے پروان چڑھانے کے لیے نئے نئے قانون لائے جارہے ہیں۔ کبھی تو این آر سی کا قانون لاکر عوام کو پریشان کیا گیا تو کبھی کسانوں سے متعلق قانون لاکر ان کے قرار کو بے قراری میں بدلاگیا، فی الوقت پورا دیس درد والم میں کراہ رہا ہے۔ لیکن حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں، حکومت سونٹھ کی ناس لیے بیٹھی ہے گویا اپنے طرز عمل سے یہ کہہ رہی ہے کہ کب تک مطالبہ کریں گے، ایک دن خاموش ہوکر بیٹھ جائیں گے، ایسی افکار ونظریات کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

 ہندوستان کی جمہوریت تمام تر کمزوریوں کے باوجود پوری دنیا میں ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی تھی، مگر اب لگتا ہے کہ ہندوستان بہت بدل گیا اور یہ اتنی تیزی سے بدل جائے گا کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ ہیومن فریڈم انڈیکس 2020ء کے مطابق ہندوستان میں جمہوریت اور آزادی کا درجہ 2020میں 94سے گرکر 111ہوگیا ہے۔ 2021ءمیں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ہندوستان کو 180ءممالک میں 142ویں درجے پر رکھا ہے۔

فرانسیسی اسکالر کرسٹوف جعفر لوٹ نے اپنی حالیہ کتاب”مودی انڈیا: ہندونیشنلزم اینڈ رائز آف اتھنک ڈیموکریسی”میں نسلی جمہوریت کی پیشن گوئی کی ہے۔” جہاں جمہوری حقوق چند نسلی گروہوں تک محدود ہونگے اور اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہریوں کو بطورِ زندگی گزارنی ہوگی۔ بقول مصنف انتہا پسندی اس حد تک پہنچ جائے گی، جہاں سے لوٹنا ناممکن ہوگا۔

 موجودہ تناظر ميں جعفر لوٹ کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے، احتجاج اور اختلاف کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے۔یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کرنے والے طلبا پر ملک سے غداری کا الزام تھوپا جارہا ہے اور انھیں جیلوں میں قید کردیے جاتے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ جبروتشدد کے معاملہ برتا گیا اور انھیں ملک کا دشمن قرار دیا گیا۔

اسی طرح ہندوستان کے مشہور دانشور پرتاب بھانو مہتا نے 2019 ہی میں پشین گوئی کردی تھی کہ اگر سنہ 2019کے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت میں توازن نہیں ہوگاتو انڈین جمہوریت خطرے میں آجائے گی۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ اگر یہ پانچ برسوں میں بننے والی ثقافت  جارہی تو آپ اپنی آزادی، صداقت، اپنے مذہب اور یہاں تک کہ اپنے ملک کو واپس نہیں لے پائیں گے۔2019کے عام انتخابات کا یہی سب سے بڑا  چیلنج ہے۔اقتدار کی طاقت کے لیے مذہب کا استعمال ہورہاہے۔ اس طرح کے مسائل جمہوریت کو بری طرح زخمی کررہے ہیں۔ ہر اس یقین کو توڑرہی ہے جو انڈیا کی جمہوریت اپنے شہریوں کو ایک دوسرے کے لیے دیتی ہے۔(یہ انڈیا ٹوڈے کانکیو میں پرتاب بھانو مہتا کے خطاب کا ترجمہ ہے)

اس جمہوریت کی تحفظ وبقا کے لیے ہمیں اتحاد کا دامن تھامنا ہوگا۔ ال ہندوستان کی آئین کو بچانا ہر ایک ہندوستانی کی انفرادی ذمہ داری ہے۔ مایوسی کے اس دور کے بیچ معروف مصنف اور صحافی پارسا وینکیشوراوجونیئر کا کہنا ہے کہ ابھی اتنا کچھ برانہیں ہے اور واپسی کی گنجائش ابھی باقی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال جمہوریت کا محض ایک پڑاؤہے۔ جب کانگریس پارٹی 1947سے 20سال تک اقتدار میں تھی، ہر ایک کا خیال تھا کہ کانگریس کا کبھی کوئی متبادل نہیں ہوسکتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ آج لوگ شاید ایک نظریے کے حق میں ہیں۔ یا انھوں نے قوم پرستی کو قبول کرلیا ہے۔ لیکن جس دن متوسط طبقے کو حکومتی پالیسیوں سے تکلیف پہنچے گی تو بغاوت ہوگی اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔

 ہندوستان کی فلاح وبہبود جمہوریت کی شاہراہ پر گامزن ہونے میں پنہاں ہے۔ ورنہ ہندوستان جیسی بڑی آبادی والے ملک جمہوریت سے اعراض اور تعصب پرستی کے خمار مبتلا ہے۔ جس کے برے اثرات مرتب ہورہے ہیں جس کا کوئی متحمل نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


1 تبصرہ
  1. [email protected] کہتے ہیں

    اردو ایک مادری زبان ہے یہ کسی ایک طبقے کی زبان نہیں ہے اور زبان کی مقبولیت میں عوام کا اور بادشاہ فقیروں صوفیوں یو اور درویشوں کے ذریعے اس کو زندگی دے لوگوں نے مل کر اس اردو زبان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہندو مسلم دونوں مل کر اردو زبان کو ترقی دی ہے اور مختلفین اس کی مقبولیت کے لیے قائل رہے یہ کسی ایک ملت کی زبان نہیں ہے یہ ہندو اور مسلمان دونوں کا مشترکہ سرمایہ ہے اردو زبان میں سب سے زیادہ مقبولیت اترپردیش میں ملیں لی افسوس کی بات ہے اتر پردیس میں ہی اس کو سب سے زیادہ مخالفت ہو رہی ہے اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے آج اردو زبان کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ے ہے بھیجا دباؤ کے سبب اس طرح سے بے پرواہی اختیار کر لی ہے آج لوگوں نے مادری زبان کو نظر انداز کر دیا ہے کسی قوم کی ترقی کے لیے اس کی مادری زبان کا سب سے بڑا ہاتھ ہوتا ہے قوم کبھی ترقی نہیں ہو سکتی جب ان کی بہت اہمیت ہے اب ہم میں وہ جذبہ نہیں رہا جو کسی مادری زبان کی ترقی کے لیے ہونا چاہیے ان کی بھی ہو سکتی ہے جب ان سے کہا جائے اور اس پر عمل کیا جائے

تبصرے بند ہیں۔