5/ اگست 2019 سے اب تک

رشید پروین ؔسوپور

وقت اپنی رفتار کبھی نہیں بدلتا اور نہ ہی کہیں تھم جاتا ہے اس لیے 5 اگست ۲۰۱۹ سے اب تک ہمارے کلینڈر کے حساب سے دوسال مکمل ہوچکے ہیں۔ یعنی ۵ اگست اپنے پیچھے دو برسوں کے نقش پا ماضی کے حوالے کر چکا ہے اور یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ۵ اگست ۲۰۱۹ کے روز ہی ریاست جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹریوں میں نہ صرف تقسیم کیا گیا تھا بلکہ ریاست کے مخصوص دفعات ۳۷۰ اور ۳۵اے وغیرہ کو بھی ماضی کے دھندلکوں کی نذر کیا گیا تھا اور بلکل اس کے لیے جو دلیل اور منطق  دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ایوان میں دی گئی تھی۔ وہ خوشنما، دلکش اور دلفریب ضرور تھی، اور ہمارے ملک سے باہر کے عوام شاید ان دلائل سے قائل بھی ہوئے، یا نہیں، اب یہ مسلہ نہیں۔ ان دو برسوں کے دوران قومی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں جس طرح سے اس عمل کے حق میں اور جتنابھی دکھایا اور کہا گیا ہے اس حساب سے جموں و کشمیر کے تمام باغات کے کلہم درختوں پر سونے کی چڑیاں بسیرا کر چکی ہیں۔ ڈال ڈال اور پات پات  کے علاوہ یہ خوبصورت سونے کے پرندے گھر گھر میں پرویش کر چکے ہیں۔ جو بد قستی سے ہماری آنکھوں کو اپنی کجروی کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتےاور ہمارے کانوں  کے  بہرے پن کی وجہ سے ان کے رسیلے اور مدھر گیت سنائی نہیں دیتے۔ اس لیے یہاں، کوئی بھوکا نہیں، ننگا نہیں، بیروز گار نہیں اور نوکریاں بھی اسقدر وافر مقدار میں موجود ہیں کہ  کشمیر میں پشتنی باشندے ان اسامیوں کے لیے وافر مقدار میں میسر  نہیں۔ اس لیے ہر ڈیپارٹمنٹ کو یہ ہیومن رسورسز باہر سے منگانے پڑ رہے ہیں۔

یہ توسماجی اور اقتصادی سطح پہ مختصر بات رہی اور سیاسی لحاظ سے تو عوام اسقدراطمینان، سکون اور بلا خوف و خطر کے جی رہے ہیں کہ سارے کشمیر میں کہیں،کسی کونے سے بھی کسی آہ، کی آواز نہیں سنائی دے رہی۔ رونے اور بلکنے کا تو کوئی معاملہ ہی نہیں، ، یہ قبرستانوں جیسی خاموشیاں اور شمشان گھاٹوں جیسی ویرانیاں، ، اس بات کی غماز ہیں کہ لوگ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ اپنا ماضی، حال سے بے خبر اور مستقبل سے بے نیاز کھانے پینے اور موج مستی کی حد تک ہی ہماری  منزل سمٹ چکی ہے۔ ہماری ریاست کا ایک حصہ اس کامیابی پر نازاں ہی نہیں بلکہ جشن منارہا  ہے، کہ اس سرکار نے یہ کار، عظیم تو کیا ہے کہ کسی شخص کے پاس کہنے کے لیے کچھ چھوڈا ہی نہیں اور یہ بہت بڑی بات ہے۔ دوسرا حصہ وہ جو ان سب ’’خرافات ‘‘ سے ہی جان چھڑا کر زندگی کے دن کسی طرح کھا پی کر گذارنے کی سعی ناتمام کر رہا ہے اور مختلف ایجنسیوں کے چھاپوں،پولیس کی پکڑ دھکڑ،سینکڑوں نئے قوانین کی زد سے بچنے کے لیے محفوظ کمین گاہوں میں پناہ لینے کا خواہش مند نظر آتا ہے۔ لیکن ان سب طبقوں میں ابھی تک وہ طبقہ اپنی روائتی اور پرانی روش پر نہ صرف بر قرار اور مستقل مزاج ہے بلکہ آسمان کے پر خچے اڈنے ا ور زمین کا جوالا مکھی میں  تبدیل ہونے کے باوجود اپنے لیے آرام گاہیں اور اقتدار کی حویلیاں تلاش کرنے میں نہ صرف محو ہیں، بلکہ اپنے سارے ستر برس کے تجربات اور فریب کاریوں کو نئی جہت اور نئے خوبصور ت  پیرہنوں میں ملبوس کرکے اپنی دکانوں کا سرمایہ بنارہے ہیں۔

 الحاق ہند سے اب تک کے وزیر اعظموں اور پھر چیف منسٹروں کا ایک مختصر سا جائزہ یہ بات ثابت کرتا ہے کہ یہاں کبھی عوامی سطح  پر مقبول ہونے کے باوجود اقتدار کے لیے حتمی اور آخری شرط مرکز کی عنایت اور نظر کرم شرط رہی ہے، ۱۹۴۷ سے ہی کشمیر کے مسلم حکمراں وقت کی اس دھارا میں ماڈرن جوکروں سے زیادہ کی شان اور اہمیت کے حامل کبھی نہیں رہے ہیں، شیخ محمد عبداللہ جیسا ہند نواز اور سیکولر، پہلا پرائم منسٹر ۱۹۵۳ میں ہی دلی کی ایما پر قید خانوں کامہماں بن گیا اور دلی کی نظر کرم بخشی غلام محمد پر آپڑی، مرکز نے اس سے جب تک چاہا استعمال کیا اور انہیں لگا کہ اب ان تلوں میں تیل نہیں تو ایک اور کشمیر ی سیکولر مسلم غلام محمد صادق کو گدی نشین کر دیا۔ اس کے بعد میر قاسم اور میر قاسم کو ۱۹۷۵ میں پھر ایک بار اپنی ہائی کمانڈ کے فرمان پر کرسی چھوڈ کر شیخ عبداللہ کے لیے خالی کرنی پڑی، ، فاروق عبداللہ کو سبق سکھانے کے لیے ۱۹۸۴ میں اپنے بہنوئی غلام محمد شاہ سے پٹوادیا، اور بڑی جلدہی شاہ کو بھی اندرا گاندھی کے فرزند نے اقتدار سے محروم کردیا، اور اس وقت کے گورنر بی کے نہرو نے اس عمل کے لیے مکھن لال فوطیدار کو ذمہ دار ٹہھرایا تھا جو ان دنوں وزیر اعظم ہند کے بہت قریب تھے، وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کو اقتدار تک لانے اور بٹھانے میں یکسر طور پر مرکزی سرکاروں کا ہاتھ رہا ہے ۔

پولٹیکل انالسٹ ہپی مون جیکب کے الفاظ میں یہ سلسلہ یوں چلتا رہا ہے۔ ’’مرکز کی تمام سرکاروں نے جموں و کشمیر کے انتخابات میں بہت بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڈ کرکے ہمیشہ ہی نتائج اپنے حق میں کرنے کے کامیابب تجربے کئے، ، اور اس طرح بار بار کٹھ پتلی حکمرانوں کو مسند اقتدار تک پہنچا کر اپنی منزل  پا تے رہے، ایسے نتائج حاصل کرنے کے لیے مرکز اور سٹیٹ کی تمام مشینری بشمول خفیہ ادارے کام کرتے رہے‘‘۔ کشمیر انتخابات کے بارے میں اس طرح  کے تاریخی شواہد اور بھی ہیں اور عوام جانتے ہیں کہ کشمیر نشین اتحادی جماعتوں نے ہمیشہ ہی اور ہر ڈگر اور راستے پر مرکز کا ساتھ دیا ہے تاکہ کسی طرح اقتدار کی نیلم پری ان کے محلات اور محفلوں کی زینت رہے۔

 اب ۵ اگست کے بعد کے تناظر میں پچھلے دو برس کے دوران کا ریکارڈ دیکھ لیجئے تو مفصل طور پر ایک بات کا مشاہدہ مسلسل ہوتا ہے کہ کشمیر نشین یہ سیاست داں ہر حال میں انتخابات چاہتے ہیں، اس سوچ و فکر کے بغیر کہ سٹیٹ یا ریاست جموں و کشمیر کا مستقبل اور اس کے نئے تقاضے کیا ہونے چاہئیں ؟

 جموں کے سیاسی  لوگ بھی انتخابات کی بات کرتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ کشمیری مینسٹریم پہلے انتخابات اور جموں نشین پہلے مکمل حد بندی کی بات کرتے ہیں، ان دونوں باتوں میں  سیاسی طور پر واضح فرق ہے ۔ ایک طریق کار میں تمام اختیارات واضح طور پر لیفٹننٹ گورنر کے پاس رہینگے اور سٹیٹ ہڈ کی صورت میں منتخب حکومت کے پاس بھی چپراسی وغیرہ کو ٹرانسفر کرنے، عوام کو دھونس دباو اور ڈراکیو لین ایکٹس سے ڈارانے کے اختیارات ضرور رہینگے۔ جب  مکمل ایک ریاست ہونے کے ناطے، جس سے سپیشل کیڈر بھی حاصل تھا اور جہاں عوام کی ضمانتیں ۳۷۰ اور ۳۵اے وغیرہ  کے لیے قلعے اور اونچے در و دیوار بھی موجود تھے  پھر بھی اب تک کوئی بھی شخص عوامی سطح پر عوام کی مرضی کے مطابق یہاں منتخب ہی نہیں ہوا ہے تو اب اس  پسِ منظر میںیہ لوگ یہاں چیف منسٹرس بن کر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ سینکڑوں نئے قوانین نے تو ایسے چیف منسٹروں کو خود بھی ایک طرح کے عقوبت خانوں میں ڈالا ہے، پھر بھی اقتدار کی اس بوتل میں کیا اورکتنی نشیلی خوراک باقی ہے؟

 پرائم منسٹر مودی کی حالیہ کل جماعتی کانفرنس جو دلی میں منعقد ہوئی جس میں ہمارے کشمیر کے سبھی چھوٹے بڑے مینسٹریم پارٹیوں کے سر براہاں ایک دوسرے پر گرتے پڑتے پہنچ گئے اور سنگ جاناں پر سجدہ ریز ہوئے، عوام  اس معرکے کا انجام جانتے تھے کیونکہ  جب سے مودی سرکار آئی ہے انہوں  نے کشمیر کی دو بڑی پرانی اور اولین پارٹیوں این سی، اور پی ڈی پی، کو قطعی اور یکسر نظر انداز کرنے کی حکمت عملی پر عمل کیا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ ان دونوں پارٹیوں کی شبیہہ اور شکل و صورت کومسخ کرنے میں، انہیں خاندانی، راج قائم کرنے اور کبھی کبھی ان کے بیانات کو پاکستانی زباں میں بات کرنے کا الزام بھی لگایا، پھر بھی یہ لوگ یہ جان فزا مژدہ سننے کے لیے دلی پہنچ ہی گئے کہ ’’ انتخابات ‘‘کی تیاری کرو۔ انتخابات میں یہ لوگ ویسے بھی حصہ لے ہی لیتے پھر پرائم منسٹر سے یہ بات سننے کا شوق  کیا کہلائے گا؟ یہی کہ اب کی بار مسند اقتدار پر کس سے بٹھایا جائے گا، لیکن موجودہ سرکار نے ہمیشہ اس طرح کے پلان مخفی رکھے ہیں اور آگے بھی ان کا اعلان ڈرامائی طور ہی ہوگا۔

 بہر حال کشمیری عوام ایک اندازے کے مطابق حد بندی پہلے یا انتخابات پہلے کے مخمصے میں نہیں، کیونکہ یہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے ان کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کی وجوہات جہاں ستر برس کی تاریخ میں پوشیدہ ہیں بلکہ یہی وہ لیڈراں اور پارٹیاں ہیں جن کی تیسری نسل بھی  اپنے اسی راستے پر مظبوطی سے آگے بڑھ رہی ہے جو مسلہ کشمیر کو جنم دینے  میں اتنے ہی ذمہ دار تھے جتنے کہ لارڈ مونٹ اور پنڈت جی تھے بلکہ شاید ان دونوں سے زیادہ  ہی ہمارے اپنے رہبر تھے جنہیں کشمیر ی عوام نے برگزیدہ اور اللہ کے کامل بندوں کی فہرست میں ڈال رکھا تھا جو حضرت بل میں بار بار وعدہ کرتے رہے اور ہر بار اس وعدے کو توڈ کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے۔ آہستہ آہستہ یہ ساری ریاست ان سیاسی گدھوں نے نوچ کھائی اور یہ جملہ امیت شاہ کا حقیقت کا عکاس ہے کہ ۳۷۰ میں رہا کیا تھا جو ہم نے ختم کیا، اس وقت ریاست جموں و کشمیر کہیں موجود نہیں بلکہ دو یونین ٹریٹریوں میںضم ایک عجب طرح کی سر زمین ہے، جہاں لوگ بظاہر زندہ ہیں لیکن لاشوں کی مانند چلتے پھرتے، کھاتے پیتے اور سوتے جاگتے ہیں، لیکن ان میں زندگی کی کوئی رمق نہیں اور اگر تاریخ کا طالب علم ماضی کا مطالعہ کرے گا تو وہ اس منظر میں اپنے آپ کو ۱۳ جولائی ۱۹۳۱  سے پہلے کے دور میں پائے گا،اور دوسری بات یہ کہ ایک اندازے کے مطابق لوگ ان فریبیوں کے جال میں آنے سے، ان کے ساتھ چلنے سے اور ان کے ہاتھوں اور بھی گھاؤ کھانے سے بہتر یہی سمجھتے ہیں کہ ’’حال اچھا ہے۔ ‘‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔