اب نوجوانوں کی ماں باپ سے بغاوت ضروری ہے

لوگ بالکل نہیں سمجھ رہے ہیں کہ ان شادیوں کے سسٹم نے معاشرے کو کتنا تباہ کردیا ہے۔

ڈاکٹرعلیم خان فلکی

(صدرسوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد)

نوجوان نسل جتنی زیادہ بِگڑی ہوئی ہے اس سے کہیں زیادہ بگاڑ ماں باپ میں پیدا ہوچکا ہے۔ آج لاکھوں کی تعداد میں ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں، ذہین ہیں اور بہترین مستقبل بنانے کے صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی پہلی ضرورت شادی ہے۔ وہ سنت کے مطابق سادگی سے شادی کرکے ایک پاک زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ماں باپ اور باپ دادا سے چلا آرہا وہ سسٹم ہے جو انہیں غلط راستوں پر جانے پر مجبور کررہا ہے۔ لڑکی کے ماں باپ کو ویل سیٹلڈلڑکا چاہئے جس کا گھر ذاتی ہو، نوکری اچھی ہو اور این آر آئی ہوتو لڑکے کے ماں باپ کو شادی لین دین والی اور معیاری  چاہئے۔ معیار کس کا؟  معیار رسول اللہ ﷺ یا صحابہؓ کا نہیں بلکہ اُن جاہلوں کی شادی کا معیار چاہئے جس معیار کے ساتھ ان کے خاندان، محلّے اور شہر میں لوگ کررہے ہیں۔ نتیجہ۔۔۔؟؟؟

اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان تھا کہ پہلے نکاح بعد میں اعلیٰ تعلیم یا کیریئر۔ لیکن ہر دوطرف کے ماں باپ نے کہا کہ نہیں پہلے کیرئیر بعد میں نکاح۔ اللہ کے نبیﷺ کا فرمان تھا کہ سب سے بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے کم خرچ اور آسان ہو، لیکن ہردوطرف کے ماں باپ نے کہا کہ نہیں جب تک خوب خرچ نہ کیا جائے شادی کا ارمان پورا ہو ہی نہیں ہوسکتا۔ ماں باپ کے پاس دلیل یہ ہے کہ پوری سوسائٹی یہی کررہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ کون سی بداخلاقی، بدکاری اور بد تہذیبی ایسی رہی جو ہمارے معاشرے میں داخل نہیں ہوچکی؟ اور نبی ﷺ کا فرمان رد کرنے کی سزا کے طور پر جو غربت و افلاس کا عذاب نازل ہوا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس کے مکمل ذمہ دار ماں باپ ہیں۔ ماں باپ نے اپنے ماں باپ کو ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا تھا، اور یہ سلسلہ اوپر سے کئی نسلوں سے چلا آرہا ہے۔ اب اگر نوجوان نسل نے بغاوت نہیں کی تو سمجھ لیں کہ آئندہ آنے والی نسلیں اخلاقی اور معاشی طور پر ایک آتش فشاں کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ لفظ بغاوت پر کئی لوگوں کو اعتراض ہوسکتا ہے لیکن اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

قرآن میں جہاں ایک طرف کہا گیا کہ ”ماں باپ کو اُف بھی نہ کہو“  وہیں یہ بھی اسی سورہ عنکبوت میں حکم دیا گیا کہ ”اگر وہ تم کو شرک میں مبتلا کرنے کی کوشش کریں تم ان کی (ماں باپ کی) ہرگز اطاعت مت کرنا“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں حقوق العباد کے معاملے میں ماں باپ کا حکم ماننا فرض ہے وہیں شرک، بدعت، منکرات اور حرام کے معاملے میں ان کی اطاعت ہرگز نہیں کرنا فرض ہے۔اور شادی کے معاملے میں شرک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شادیوں کو معیار بنانے کے بجائے ”لوگ کیا کہیں گے“ کے خوف سے اپنا معیار سنّت سے الگ کرلینا۔

چندسو سال پہلے تک ہندوستان پاکستان بنگلہ دیش کے سارے باشندے مشرک تھے۔ سوائے دوچار فیصد لوگوں کے جو ترک، عرب یا افغانستان سے آگئے تھے۔ اللہ نے ان کروڑوں لوگوں کو کلمہ اور نماز وغیرہ تو عطا کردیا لیکن ان لوگوں کے عقائد، رسم و رواج اور طور طریق وہی رہے جو مشرک سماج کے تھے۔ مشرک سماج میں شادی ماں باپ کی مرضی سے کرنا فرض ہے۔ اگر کوئی اپنی مرضی سے کہیں اور کرلیتے ہیں تو ان کو ”بھگوڑے“ کہتے ہیں۔ ان کی سماج میں کوئی عزت نہیں ہوتی، ان سے ”زناکاروں“ جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہی مشرکانہ عقیدہ یا طریقہ مسلمانوں میں بھی در آیا ہے اسی کو وجہ سے ماں باپ اولاد کی شادیوں کے معاملے میں جیسا چاہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی یہی طریقہ چلاآرہا ہے۔ شادی کے وقت عورت کو جتنا ذلیل کیا جاتا ہے سب جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے شادی کے بعد پھر عورت اس کا بدلہ بھی لیتی ہے۔ لیکن کس سے؟ وہ جنہوں نے جہیز کے لئے اس کو تنگ کیا ان سے بدلہ نہیں لیتی بلکہ بہو اور بہو کے ماں باپ سے لیتی ہے۔ اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا ہے۔ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے۔

لوگ بالکل نہیں سمجھ رہے ہیں کہ ان شادیوں کے سسٹم نے معاشرے کو کتنا تباہ کردیا ہے۔ اگر مسلمان یہ بات نہیں سمجھیں گے تو آئندہ بدترین نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ حیرت ان مولوی حضرات پر ہوتی ہے جو ان شادیوں میں ہونے والی منکرات کو ”خوشی سے“ کا جواز فراہم کرکے نہ صرف انہیں جائز کررہے ہیں بلکہ ان مجرموں کو اسی طرح پروٹیکشن دے رہے ہیں جس طرح BJP  اپنے فسادی غنڈوں کو پروٹیکشن دیتی ہے۔ جہیز بارات وغیرہ کے خلاف تقریریں اور وعظ تو خوب کرتے ہیں لیکن اسلام نے ان کو روکنے کے لئے جو حکم دیا ہے کہ بائیکاٹ کریں (جب تم میں سے کوئی برائی کو دیکھے تو پہلے ہاتھ سے، یا زبان سے روکے یا کم سے کم دل سے نفرت کرے، اس کے بعد ایمان کا کوئی درجہ باقی نہیں رہ جاتا)، کوئی اس کا بائیکاٹ کرنا نہیں چاہتا بلکہ ان کی شادیوں میں شریک ہوتے ہیں، خوب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور لفافے یا کوئی اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کون سی وجہ ہے جس کی وجہ سے یہ کھلے حرام کو حلال کررہے ہیں؟

ہم نوجوان لڑکیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی خودداری اور غیرت کو جگائیں، اور بغاوت کریں۔ بغاوت کا مطلب یہ نہیں کہ گھر سے بھاگ جائیں اور ایک نئی بدکاری کی تہذیب کو رواج دیں۔ بلکہ یہ ہمت کریں کہ اعلان کردیں کہ ہم کسی ایسے بھکاری سے ہرگز شادی نہیں کرینگے جو بیڈ تو دور کی بات ہے بیڈ شیٹ بھی قبول کرے گا۔ نہ خوشی سے دینے لینے کے نام پر، نہ ماں باپ کی خواہش پر اور نہ رسم و رواج کے نام پر۔ اگر آپ ہمت کرکے کے یہ کہہ دیں گی تو آپ کا یہ جملہ پورے خاندان پر ایک بجلی بن کر گرے گا۔ ہوسکتا ہے آپ کی شادی رک جائے، ہوسکتا ہے دو چار سال تک کوئی رشتہ لے کر آپ کے گھر نہ آئے، ہوسکتا ہے لوگ آپ کو بڑزبان، گستاخ، باغی وغیرہ کہیں۔ ہوسکتا ہے اس سے بھی بڑے الزامات اور تہمتیں آپ کے سر باندھ دیں۔ لیکن یاد رکھئے اگر آپ کی شادی دو چار سال رک گئی یا نہیں ہوئی تو کوئی قیامت نہیں آجائیگی۔ اگر آپ کے بچے دو چار سال بعد پیدا ہوں تو کوئی محشر بپا نہیں ہوجائیگا۔ لیکن آپ کا جملہ لوگوں کے دل، دماغ اور ضمیر کو زخمی کردے گا۔ لالچیوں کے منہ بند ہوجائیں گے۔ آپ کی وجہ سے نہ جانے کتنی لڑکیوں کی زندگی بچ جائیگی۔

بغاوت کس طرح کرنی ہے؟ بغاوت شریعت نے جو آپ کو آزادی دی ہے، جو حقوق دیئے ہیں ان کے لئے آواز اٹھا کر بغاوت کرنی ہے۔  اللہ کے نبی ﷺ نے لڑکیوں کو رحمت قرار دیا لیکن آپ کے ماں باپ نے آپ کو ایک بوجھ بنا دیا ہے۔ آپ کے لئے گھر بِکتا ہے، آپ کے لئے ماں باپ کو قرض، بھیک، یا ناجائز کمائی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ آپ کے لئے بھائیوں کو بجائے تجارت جیسے بابرکت کام کے نوکری کی غلامی کرنا پڑتا ہے۔آپ کے شوہر اور سسرال کو خوش رکھنے کے لئے اپنی خودداری بیچنی پڑتی ہے۔ بتایئے آپ بوجھ ہیں یا رحمت؟

لڑکیاں تو غیرت اور خودداری کی نشانی ہوتی ہیں۔ لیکن ماں باپ نے آپ کو بے غیرت بننے پر مجبور کردیا ہے۔ آپ کی شادی کا سودا ایسے کیا جاتا ہے جیسے آپ کوئی معذورہوں، کوئی بدنام ہوں یا کوئی گناہگار ہوں۔ لڑکے کے ماں باپ آپ کی قابلیت، آپ کے کردار، آپ کی سیرت کی تو بات کرنا ہی نہیں چاہتے، وہ تو صرف جہیز، بارات اور نقد رقم کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ آپ سے نہیں بلکہ ان چیزوں سے شادی کررہے ہیں؟ آپ تو اس پوری ڈیلنگ میں محض ایک سوپرمارکٹ کی کامپلی منٹری کے طور پر جارہی ہیں۔ اور اگر آپ کے ماں باپ نے لڑکے کے ماں باپ کے ڈیمانڈ کا انکار کردیا، تو کیا وہ لوگ آپ سے شادی کریں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیا یہ آپ کی غیرت اور خودداری کی توہین نہیں ہے؟ کیا آپ اب بھی ایسے گھر میں شادی کرینگی جہاں آپ کی نہیں بلکہ آپ کے لائے ہوئے جہیز اور ضیافتوں کی قدر ہے؟ آپ کو چاہئے کہ فون اٹھائیں اور جس سے بھی شادی ہورہی ہو، اس کو فون کریں اور بتائیں کہ میں یہ قابلیت رکھتی ہوں، میری یہ سیرت ہے۔ اگر آپ کو مجھ جیسے کردار کی لڑکی چاہئے تو اس لین دین سے انکار کریں ورنہ میں شادی کے لئے تیار نہیں۔ اگر لڑکا سمجھدار ہوگا تو فوری ہاں کہے گا، بے وقوف ہوگا یا لالچی ماں باپ کی اولاد ہوگا تو کہے گا کہ ”امی سے پوچھ کر بتاتا ہوں“۔ یاد رکھئے۔ جس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے اس سے راست بات کرنے اور معاملہ طئے کرنے کا حق اسلام نے دیا ہے۔ حضرت خدیجہ ؓ کی شادی ایک مثال ہے کہ آپ ؓ نے خود پیغام بھیجا اور بات چیت کی۔ لیکن ہمارے ہاں یہ معاملات بزرگوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر لڑکے لڑکیوں کی خریدوفروخت کا سسٹم ایجاد کردیا ہے۔ کیا اس سسٹم کوتوڑنا ضروری نہیں ہے؟

آج آپ کے ذہنوں میں یہ بٹھادیاگیا ہے کہ اگر تعلیم اچھی ہوگی تو اچھے رشتہ آئیں گے۔ دوسری دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ اگر تعلیم ہوگی تو مرد کے اوپر انحصار ہونا نہیں پڑے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کی تعلیم مکمل ہونے تک عمریں تیس سال ہورہی ہیں۔جب لڑکے والے دیکھنے آتے ہیں تو لڑکے کے ماں باپ کو بیس اکیس سال کی لڑکی چاہئے۔ کہاں جائنگے یہ سارے تیس سال کی لڑکیاں جو بڑی ڈگری رکھتے ہوئے بھی اچھی نوکری کرتے ہوئے بھی اس آئیدیل لڑکے سے محروم ہیں جو ان کے مزاج کے مطابق ہو۔ پھر آپ کے ماں باپ آپ کو سمجھوتہ کرنا سکھائیں گے۔ پھر یا  تو عمر والے کا رشتہ آئے گا، یا کسی ایسے کا جس کی بیوی مرگئی ہے یا طلاق ہوچکی ہے۔ یا پھر غیر مسلموں کے علاوہ کوئی نہیں ملے گا کیونکہ مسلم سماج میں اب لڑکیوں کی تعلیم کے میچنگ لڑکے نہیں ملتے۔ بتایئے آپ کیا کریں گی؟ آپ کو مجبور اور بے بس کردینے والے نظام کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی۔

نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق آپ کو گریجویشن کے دوران یا فوری بعد شادی کرنی چاہئے۔ کیونکہ شادی کے بعد جو زندگی کا صحیح لطف اٹھانے کی عمر ہوتی ہے وہ گزر جانے کے بعد اگر شادی ہوتو بے مزہ ہوتی ہے۔ اس میں ایک سمجھوتے کی زندگی ہوتی ہے۔ اگر شادی سادگی سے ہو اور وہی پیسہ شادی کے بعد آپ کی تعلیم پر لگے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ شادی کے فوری ؎بعد اگلے سال ہی بچہ ہو یہ کوئی ضروری نہیں۔ اسلام نے جہاں زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی ہے وہیں بچوں کی پلاننگ کی بھی اجازت دی ہے۔ کوئی قیامت نہیں آجائیگی اگر آپ کے بچے دو چارسال دیر سے ہوں گے۔ آپ کی اعلیٰ تعلیم اور کیرئیر کا خواب توپورا ہوجائیگا۔ آپ دیکھ نہیں رہی ہیں شادیوں میں تاخیر کی وجہ سے ہزاروں لڑکیاں غلط راستوں پر جانے پر مجبور ہیں۔ شادیاں ہورہی ہیں لیکن سابقہ افیرس کی وجہ سے طلاقیں بھی ہورہی ہیں۔

اب میں لاکھوں ان نوجوان لڑکوں سے بھی یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ مرد بنئے۔ قرآن نے  سورہ نسا آیت 34 میں مرد  اسے قرار دیا ہے جو عورت پر خرچ کرتا ہے، لڑکی والوں سے جہیز، بارات کا کھانا اور نقد رقم مانگنے والا مرد ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ ماں باپ ہیں جو آپ کو نامرد بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ آپ کے ماں باپ اور لڑکی کے ماں باپ مل کر آپ کے پیچھے جو سودے بازی کرتے ہیں پہلے وہ بند کریں۔ یہ میچ فکسنگ ہے۔ لڑکے والے کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہئے بعد میں کہتے ہیں ہم نے تومنع کیا تھا لیکن لڑکی والوں نے اصرار کرکے دیا۔ اگر مرد واقعی مرد بن کر اپنا مطالبہ منوائیں تو سماج سے یہ سوشیل بلیک میلنگ ختم ہوجائیگی، اور لڑکی والے اس خوف سے باہر نکل جائیں گے کہ شادی کے بعد لڑکی کو کوئی بے عزت نہ کرے۔ لیکن آپ کو اپنے ماں باپ کو ہر قیمت پر منوانا پڑے گا۔ صورتِ حال یہ ہے کہ ہندوستان سے بت پرستی کو ختم کیا جاسکتا ہے، شراب ختم کی جاسکتی ہے لیکن لڑکے کی ماں، دادی اور نانی کے دماغ سے جہیز اور بارات کے ارمان کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے آپ کو مرد ہی نہیں بہت طاقتور مرد بننا پڑے گا ورنہ یہ ماں باپ جو بچپن سے آپ کو کبھی ختنہ کا دلہا، کبھی بسم اللہ یا روزہ رکھوائی کا دلہا بناتے رہے ہیں، اب شادی کادلہا بنا کرلڑکی والوں سے خوب وصول کرکے آپ کو نامرد بناتے رہیں گے۔آپ کو مرد بننے کے لئے نامرد ی سکھانے والے سسٹم سے بغاوت کرنی ہوگی۔

اس جہیز اور بارات نے آپ کے منہ پر تالے پڑوادیئے ہیں۔ آپ ہی کے نہیں بڑے بڑے مولویوں اور لیڈروں کے بھی منوؤں پر تالے پڑچکے ہیں۔یہ لوگ باہر تقریریں کرسکتے ہیں لیکن گھر والی کے سامنے کچھ نہیں کہہ سکتے ورنہ وہ گھور کر دیکھتی ہے اور پوچھتی ہے کہ ”میرے ماں باپ سے جس وقت وصول کئے تھے اُس وقت اسلام کیوں یاد نہیں آیا تھا۔غور کیجئے کس طرح صحابہؓ ایک جنگ سے واپس آتے تھے اور فوری دوسری جنگ کے لئے نکل پڑتے تھے۔ کیونکہ ان کو نہ بہنوں کی شادی کی فکر تھی اور نہ بیٹیوں کی شادیوں کی۔ لیکن آپ گھر سے نہیں نکل سکتے۔ گجرات میں آپ کی بہنوں کو ننگا کرکے سڑکوں پر نکالا گیا اور عصمت ریزی کی گئی، دہلی میں کیا کیا ہوا یہ سب آپ جان کر بھی سوائے سوشیل میڈیا پر ان چیزوں کو فارورڈ کرنے کے کچھ اور نہیں کرسکتے۔ گھر سے نکلنے کے بات آتے ہی آپ کو خوف آتا ہے کیوں کہ جس سسرال نے آپ کو گاڑی، پیسہ، بارات کا کھانا، فرنیچر وغیرہ دیا ہے اس کے بدلے آپ رہن ہیں۔ آپ ان چیزوں کے چوکیدار ہیں۔ آپ ان کو چھوڑکر نہیں جاسکتے۔ آپ کو اس غلامی سے نکلنے کے لئے بغاوت کی ہمت پیدا کرنی ہوگی۔

اب آپ کوسسٹم سے بغاوت یہ کرنا ہے کہ جو لوگ یہ جہیز اور بارات کے کھانے لے چکے ہیں وہ اس کا پیسہ واپس کریں۔ جو ابھی لینے والے ہیں وہ ہونے والے سسرال کو وارننگ دے دیں کہ اگر وہ بغیر جہیز اور کھانوں کے شادی کے لئے تیار ہیں تو بسم اللہ ورنہ کہیں اور رشتہ ڈھونڈلیں۔ رشتہ کینسل ہونے کے خوف سے لڑکی والے خود ہی آپ کے قدموں میں گِر کر تیار ہوجائینگے۔ لڑکی سے راست کہئے کہ میں فلاں ہوں، میری آمدنی اتنی ہے، میں اتنا نقد مہر ادا کرسکتا ہوں اور اتنے لوگوں کا ولیمہ دے سکتا ہوں، کیا آپ کو منظور ہے؟ اگر لڑکی سمجھدار ہوگی تو فوری ہاں کہے گی، بے وقوف ہوگی تو کہے گی ممی سے پپّا سے پوچھ کر بتاونگی۔ ایسی بزدل لڑکیوں سے شادی کرکے آپ بھی ساری زندگی بزدل ہی بنے رہیں گے۔ اسلام نے عورت اور مرد کو اپنی شادی کی بات چیت کی اجازت دی ہے۔ صحابہؓ کے کئی واقعات ثبوت ہیں۔ جوحق اسلام نے مرد اور عورت کو دیا تھا اس حق کو ماں باپ نے چھین لیا اور شادی کی بات چیت کو ایک سودے بازی بنادیا۔ دونوں طرف سے چچا، ماموں، تایا وغیرہ جاتے ہیں اور بات چیت طئے کرتے ہیں۔ ایک صاحب بارات میں کتنے آدمی ہوں گے یہ طئے کرتے ہیں، تو دوسرے صاحب جہیز میں کیا کیا ہوگا یہ طئے کرتے ہیں۔  یہ سارے آج کے مہذب دلال ہوتے ہیں۔ ان کو یہ خوف بالکل نہیں ہوتا کہ کل نبی ﷺ جب حوضِ کوثر پر یہ سوال کریں گے کہ تم نے وہ چیزیں دین میں کہاں سے لائیں جو دین میں تھیں ہی نہیں تو ان کے پاس کیا جواب ہوگا؟

نوجوانو؛ یہ بتاو کہ آپ کے دادا نے جو کچھ جائدادیں تھیں آپ کی پھوپھؤوں کی شادی کے لئے بیچ ڈالا۔ آپ کے ناناوں نے اپنی جائدادیں آپ کی خالاؤں کی شادی کے لئے بیچ ڈالا۔ جو کچھ تھوڑا بہت بچا تھا آپ کے والد حضرات نے آپ کی بڑی آپا کی شادی کے لئے بیچ ڈالا۔ اب آپ کے پاس کل اپنی اولاد کی شادیوں کے لئے بیچنے کے لئے کیا ہوگا۔ لڑکیوں کی مائیں یہ بتائیں کہ کل آپ کی بیٹیاں اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے لئے پیسہ کہاں سے لائیں گی۔ اگر لاکھوں روپیہ نہیں ہوگا تو کیا وہ اسی طرح کریں گے جو آج کی مجبور لڑکیاں کررہی ہیں؟ان حالات میں جب کہ فرقہ پرستوں نے یوں بھی مسلمانوں کے نوکریوں اور کاروبار کو ہرطرف سے روکا ہوا ہے، لاک ڈاؤن نے لاکھوں کو قرضوں میں مبتلا کردیا ہے۔ سیاسی حالات ایسے نہیں ہیں کہ آپ کی قوم معاشی یا سیاسی طور پر اوپر اٹھے گی اور کچھ پیسہ جمع کرے گی۔ اب جو کچھ بچا ہے اگر اس کو بھی شادیوں کی لعنت میں ختم کردیا تو مسلمانوں کے پاس بھیک یا چوری کے کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔ کیونکہ پیغمبروں کی بات جب جب  رد کی گئی، نبیوں کے طریقے کو چھوڑ کر جب جب اپنی خواہشات کی پیروی کی گئی ان قوموں پر غربت، افلاس، زناکاری، فحاشی اور بالآخر ظالم قوموں کی غلامی کے عذاب آئے ہیں۔ شادیوں میں فضول خرچیاں اب اسی عذابِ الٰہی کی طرف لے جارہی ہیں۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ جو لوگ نبیﷺ کے طریقے پر شادی نہیں کرتے ا ان کی شادی کا دعوت نامہ قبول کرنا شریعت کی توہین ہے۔ ان لوگوں کا دعوت نامہ نہ صرف واپس کیجئے بلکہ ایسے لوگوں کا معاشرے میں ایسے ہی بائیکاٹ کیجئے جیسے کرونا وائرس کے مریضوں کا کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ لوگ کرونا وائرس سے بھی بدتر لوگ ہیں، نہ ان کو مسجدوں میں آنے دیں نہ اپنے قبرستانوں میں۔

تبصرے بند ہیں۔