اذان، لاؤڈ اسپیکر اور مسلمان

جاویدجمال الدین

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہوش سنبھالنے کے ساتھ اذان، لاوڈاسپیکر،مسلمان،اے ایم یو اور اردوزبان کی بقاء کے مسائل اچھلتے نظرآئے تھے،یہ وہ دور تھا جب راج ٹھاکرے کے آنجہانی چچامحترم بالا صاحب ٹھاکرےنے گجراتیوں اور جنوبی ہند کے باشندوں کو چھوڑ کرنئی نویلی  بی جے پی سے ہاتھ ملالیااورخودساختہ ہندوہردیہ اسمارٹ ٹھاکرے نے چولابدلنے کے بعد  اقلیتی فرقے کو ٹارگٹ کرناشروع کردیاتھا،اورسب سے پہلے سڑکوں پر نمازجمعہ اور لاؤڈاسپیکر پراذان دینے کے مسئلہ کو۱۹۸۰ ء کے عشرے میں اورپھر ۱۹۹۰ء کے بعد شدت اٹھانا شروع کیا،۱۹۹۲ میں بابری مسجد کی شہادت کے نتیجے میں ہونے والے دور کے فسادات میں جمعہ کو مسجد کے باہر نمازکی ادائیگی کو بہانہ بنا کر مہاآرتی کی گئی، اور جنوری ۱۹۹۳ء کادوسرا فساد اسی کا نتیجہ تھا، عجیب اتفاق یہ رہا کہ ۱۹۹۵ء میں برسر اقتدار آنے پر شیوسینا کی منوہر جوشی حکومت ہی اقلیتی فرقے کا دفاع کرتی نظرآئی تھی،یہی حال اب ہے،جب ادھوٹھاکرے کی مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) حکومت دفاع کررہی ہے۔ اس دور میں اذان تنازع کی اُس وقت کے ریاستی وزیر اورمہاراشٹرپردیش  کانگریس کمیٹی (ایم پی سی سی )کے صدر اثیر صاحب بلی چڑھ گئے تھے، جنہوں   لاؤڈاسپیکر پر اذان کی مخالفت کی تھی اورپھر ان کا سیاسی زوال شروع ہوااوراحمد نگر سے کبھی کامیابی نہی حاصل کرسکے۔ یہی بات ان کے سیاسی زوال کی وجہ بن گئی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ لڑکپن کے زمانے میں جنوبی ممبئی کے فورٹ علاقہ میں واقع جس  پالکھی والا نامی عمارت میں ہم رہائش پذیرتھے،اس کا ایک حصہ منہدم ہوگیا،ہمیں پانچویں منزل کا مکان خالی کرواکے حکومت کے ذریعہ دیئے گئے عارضی کالونی یعنی  ٹرانزٹ کیمپ میں منتقل کیاگیا، میرا خیال ہے کہ غالباً ۱۹۸۴-۱۹۸۳ کی بات ہے،مذکورہ ٹرانزٹ کیمپ میں چھوٹی چھوٹی ایک منزلہ بیس عمارتیں تھیں، جن میں ظاہر ہے، اکثریت برادران وطن کی تھی،آٹھ دس عمارتوں میں مسلمان رہائش پذیر تھے،ان میں سے ایک بلڈنگ کا کمرہ مسجد کے لیے وقف کردیاگیا تھا،ماہ رمضان سے ایک ہفتہ ہم لوگوں نے گراؤنڈ فلور پر واقع کمرے کے عقبی حصہ میں ایک شامیانہ بنالیاتاکہ ماہ رمضان میں نمازیوں کے اضافہ پر دشواری نہ پیش آئے،کی لاوڈاسپیکرنصب کر نے کا بھی فیصلہ کیا گیا،جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیاہے کہ ٹرانزٹ کیمپ میں برادران وطن کی اکثریت تھی، اور وہ بھی کوہلی برادری یعنی ماہی گیرتھے،ہم مسلم نوجوانوں نے ان کی پنچایت کے سربراہ سے ایک دن ملاقات کی اور ماہ رمضان کی آمد پرسحری کے وقت صبح چارسواچار بجے چند اعلان اورفجرکی اذان دینے کے لیے لاوڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت طلب کی، مچھیروں کے سربراہ نے ہماری باتیں غور سے سنیں اور پھر کہاکہ”آپ لوگ تو ایک مہینہ ہمارے لیے الارم کا کام کریں گے،شاید آپ کے علم میں یہ بات  ہو گی کہ ہم  مچھیرے تو صبح سویرے چار بجے اٹھ جاتے ہیں، کیونکہ علی الصباح سمندر میں مچھلی پکڑنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔

مہاراشٹر میں بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے گزشتہ ایک مہینے سے مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کو ہٹانے کامطالبہ کرتے ہوئے ادھم مچایا ہوا ہے،اس کے پس پشت سیاسی مقصد کارفرما ہے اور دراصل راج ٹھاکرے نے اپنے چچا کے زمانے میں اُس وقت شیوسینا سے علیحدگی اختیارکی جب ادھوٹھاکرے کو پارٹی کی باگ  ڈور سونپی گئی،اور انہیں ایکزیکٹیو صدر مقرر کیا گیا،اس کے نتیجہ میں راج نے اپنی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا کی بنیاد ڈالی تھی،پارٹی کے ابتدائی اجلاسکے موقعہ پر انہوں نے پارٹی کے سیکولر ہونے کی درپردہ باتیں کیں، مودی کو چاہنے والے اور گجرات میں مودی کے وزیراعلی ہونے کے دوران وی آئی پی دورہ کرنے والے راج انہیں اور بی جے پی والوں کو نشانہ بنانے لگے۔ انہیں ابتدائی دور میں اسمبلی الیکشن میں ایک حد تک کامیابی ضرور ملی، لیکن پھر ان کی دال زیادہ نہیں گلی اورادھو کی قیادت میں شیوسینا نے جیت کے پرچم لہرایا ہے،راج ٹھاکرے اپنے بیٹے کولانچ کر کے ہیں اور حال میں ان کا ایک بیان فرقہ وارانہ رہا ہے۔

دراصل شیوسینا کی شکل میں ایک علاقائی پارٹی موجود ہے تو دوسری پارٹی کو عوام یعنی مراٹھی مانس کیسے برداشت کریں گے، اس لیے انہوں نے شمالی ہند کے باشندوں کو چھوڑ کر  اب بی جے پی کے اشارے پر ہندوتوا کا مدعا اٹھا لیاہے،لیکن ادھو ٹھاکرے کو ٹکر نہیں دے سکی ہے، اس لیے راج ٹھاکرے کو مہرے کے طور پر استعمال کیا جارہاہے۔ کیونکہ جس روز راج نے لاؤڈاسپیکر پراذان کا معاملہ اٹھایا،ایک مرکزی وزیر نے ان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا۔

حکومت،انتظامیہ اور پولیس کی حکمت عملی نے مہاراشٹرمیں نظم ونقص کو برقرار رکھا ہے۔ ورنہ دہلی، راجستھان،مدھیہ پردیش بنائے جانے میں کوئی کیسر نہیں چھوڑی گئی تھی۔ پھر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ اذان تنازع ایک خاندانی جھگڑے کا نتیجہ اورہندوستان کی تہذیب وتمدن کونقصان پہنچانے والی "طالبانی تڑپ” کوتارتار کرناہوگا،لیکن اس کا کیا کیاجائے  کہ عام شہری اور حکومت کے عہدیداران کا عام خیال ہے کہ پورے قضیہ کے پیچھے بی جے پی کی مقامی لیڈرشپ کارفرما ہے،نقوی کی کو اس جانب بھی توجہ دینا ہوگا۔ ویسے آغاز میں جو شعر میں لکھا ہے،اس کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ سال دوسال میں اس شعر کے مصداق

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا