اربابِ مدارس کی خدمت میں چند گذارشات

مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری
دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے،  اور تعلیمی سلسلہ کی شروعات بھی عمل میںآچکی ہے مختلف علاقوں،  شہروں اور دیہاتوں کے طلباء حصول علم کے لئے سب کچھ خیر باد کہہ کر مدارس کی چہار دیواری میں اپنے اپنی زندگی کو پروان چڑھانے کے لئے داخل ہو گئے۔   ماں باپ اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کرکے اپنی آخرت کو سنوارناچاہتے ہیں اور اس کے لئے ہر ممکن کوشش بھی کرتے ہیں،  مدارس میں زیر تعلیم طلباء کی اکثریت کے گھرانوں کی حالت مالی اعتبار سے کوئی زیادہ مضبوط نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجودان کے مخلص والدین اپنی محدود آمدنی اور قلیل تنخواہوں کے ساتھ بڑی فکر اور لگن اور شوق و امید سے اپنی اولاد کو دینی علم کے لئے فارغ کرتے ہیں ان کی راحت رسانی کی کوشش کرتے ہیں۔  طلباء بھی آنکھوں میں خواب سجاکر گھر بار کو خیر باد کہتے ہیں،  گھر کے آرا م و راحت کو قربان کرکے مدارس کی چہار دیواری میں اپنے مستقبل کو سنوارنے اور دین و دنیا کے لحاظ سے خوب سے خوب تر بنانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔  اس موقع ذمہ داران مدارس کی خدمت میں چند گذارشات ہیں کہ وہ ان دونوں طلباء اور والدین کے جذبات کاخیال رکھتے ہوئے درج ذیل امور پر توجہ فرمائیں تو انشاء اللہ مدارس میں تعلیم پانے والے طلباء مستقبل کے بہترین رہبر و رہنما بن کر میدان عمل میں آئیں گے، ان کی اور ان کے والدین کی امیدیں بھی پوری ہوں گی۔
مضبوط تعلیم کی ضرورت:
دینی مدارس کا امتیاز ہے کہ یہاں تعلیم نہایت ٹھوس اور مضبوط ہوتی ہے،  انہی مدارس سے تعلیم پاکر اکابرین و علماء نے مختلف میدانوں میں امت کی رہبری انجام دی ہے،  ہمارے مدارس کی تاریخ ہے کہ مدارس کے نصابی کتابوں کوپڑھ کر ہی وہ مضبوط و مستحکم انداز میں خدمات انجام دیتے تھے،  تعلیمی نظام اگر درست ہوگا تو پھر طلباء کی صلاحتیں بھی پروان چڑھے گی،  اورتعلیم کے سلسلہ میں کوتا ہی کی جائے گی تو اس کا خسارہ زبردست ہوگا،  اس لئے مدارس کے نظام تعلیم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،  موجودہ دور میں جو نظام تعلیم میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس سلسلہ میں جو لاپرواہی ہورہی ہے اس کا اظہارشیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں کہ:اس ناقابل انکار حقیقت پر دلائل کرنے کی ضرورت نہیں کہ دینی مدارس کا علمی اور عملی معیار مسلسل انحطاط کا شکار ہے اور ان کی پیداوار اپنی صفات اور کیفیت کے لحاظ سے روز بروز روبہ زوال ہے۔  اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد وہ فرائض خاطر خواہ طور پر انجام دینے سے قاصر رہتی ہے جو بحیثیت عالم دین اس پر عائدہوتی ہیں۔  دوسری طرف جس رفتارسے پوری دنیا میں اچھے استعداد کے حامل علمائے کرام کی ضرورت بڑھ رہی ہے اتنا ہی ہمارے دینی مدارس کے فارغ التحصیل علما ء کا دائرہ اثر و نفوذ سمٹ رہا ہے۔ ( درس نظامی کی کتابیں کیسے پڑھائیں:40)تعلیمی زوال اور عدم استحکام کے نتائج مفتی صاحب نے بہتر انداز میں پیش فرمائے،  بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کل ہمارے مدارس میں تشہیری کام تو بہت ہورہے ہیں،  کانفرنسوں کا انعقاد، جلسوں کا اہتمام،  سیمینار وغیرہ لیکن اس کی وجہ سے تعلیمی نظام پر جو اثرات پڑھ رہے ہیں اس کا ادراک نہیں کیا جارہا ہے یا جانتے بوجھتے اس سے صرف نظر کیا جارہاہے۔  اسی وجہ سے ہمارے اکابر اور علماء کو شکایت ہے کہ کتابو ں کو پڑھانے کے لئے قابل اساتذہ نہیں مل رہے ہیں۔  شعبہ عا لمیت کا حال یہ ہے کہ اکثر اساتذہ ابتدائی سال نہایت سست رفتار کے ساتھ کتابوں کو پڑھاتے ہیں،  اور آخری ایام میں چوں کہ نصاب کو مکمل کرنا ہوتا ہے تو برق رفتاری کے ساتھ اسباق ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں بہت سارے مباحث یوں ہی نکل جاتے ہیں۔  جب کہ اس سلسلہ میں ہمارے اکابرین اور موجودہ علمامیں بعض حضرات کامزاج یہ ہے کہ وہ شروع سے ایک ہی رفتا ر کے ساتھ سبق پڑھاتے ہیں،  یہ طریقہ کار دراصل مضبوط تعلیم کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے،  جس میں تما مباحث بھی کھل کر سامنے آتے ہیں اور علم و تحقیق کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں رہتا،  اور تعلیم پانے والوں میں درک پیدا ہوگا، اسی لئے اس کو اپنانے کی ضرورت ہے،  اور جہاں منظم عا لمیت کا نظم نہ ہو صرف چند طلبہ کو روک کر تعلیم دی جارہی ہو ان کے لئے بہتر ہے ایسے طلبہ کو ان اداروں سے مربوط کردیں جہاں باقاعدہ اس شعبہ کو چلایا جارہا ہو اور قابل اساتذہ کی نگرانی میں یہ سلسلہ چل رہا ہو، ورنہ طلباء کا نقصان ہوگا اور وہ مکمل نظام کے فراہم نہ ہونے کی وجہ سے پوری طرح فیض یاب بھی نہیں ہوسکتے۔  اسی طرح شعبہ حفظ و ناظرہ میں تبدیلی لانے کی بھی ضرورت ہے کہ جو طلباء سالہا سال سے زیر تعلیم ہیں ان پر توجہ دی جائے اور ان کی زندگی کے اوقات کی حفاظت کی فکر کی جائے،  ورنہ کتنے طلبا ء ایسے ہیں کہ جو صرف ناظرہ میں سالہا سال گذاردے رہے ہیں اور انتظامیہ اس جانب فکر نہیں کرتی،  پھر حفظ کا مرحلہ اس میں لمبی مدت گذرجاتی ہے اگر اس سلسلہ میں واقعی کڑی نگرانی ہو تو وہ بچے بھی آگے کی منزلوں کو طے کرسکتے ہیں اس کے لئے تعلیمی سلسلہ میں کسی قسم کی کمی کوتاہی کو ناقابل برداشت بنایا جائے تو انشاء اللہ علمی استعداد کے حاملین افراد تیار ہوں گے جو مطلوبہ امیدوں کو پوری کرنے والے بنیں گے اور تقاضوں کی بھی تکمیل کرنے والے ہوں گے۔
اصلاح وتربیت کی فکر:
دینی مدارس کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ یہاں تعلیم پانے والے طلباء جہاں ظاہری علوم سے فیض یاب ہوتے ہیں،  اور کتابوں سے استفادہ کرکے قابلیت و صلاحیت کو پروان چڑھاتے ہیں وہیں اصلاح و اخلاق کی تربیت کے مرحلے سے بھی گذر کر خودکو صالحیت و تقوی سے مزین کرتے ہیں اور باطن کی اصلاح سے بھی آراستہ ہوتے ہیں۔  مدارس کی ابتدائی تاریخ سے آج تک یہ تسلسل باقی ہے کہ ظاہری علوم کے ساتھ باطنی کیفیات بھی ان مدارس سے طلباء کو ملتی رہیں،  دنیا میں اخلاقی تربیت کرنے اور اصلاح و سدھارکا بے مثال نمونہ پیش کرنے والے صرف مدارس ہیں،  باقی دنیا میں جتنے جامعات اور یونیورسٹیز اور کالجس ہیں یہاں تو صر ف فنون اور ظاہر ی علوم سیکھائے جاتے ہیں تربیت وغیر ہ میں ا ن کا کوئی کارنامہ نہیں،  یہ مدارس کا امتیاز ہے کہ یہاں طلبا ء میں اخلاقی روح بھی پھونکی جاتی ہے،  دعوتی فکر بھی بیدار کی جاتی ہے اور اصلاح پر بھی زور دیا جاتا ہے۔  لیکن اب یہ مبارک فضا مدارس میں ختم ہوتی جارہی ہے،  اصلاح وتربیت کا کوئی باقاعدہ نظام ہی نہیں رہا،  یہی وجہ ہے جو طلباء چار،  پانچ سال پڑھ لیتے ہیں،  اسی طرح حفظ قرآن کی سعادت کرلیتے ہیں لیکن جو تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا تو بے دین ماحول سے پوری طرح متاثر ہورہے، وضع قطع میں فرق آرہاہے،  حلیہ و لباس بھی بدل رہا ہے یہ اسی لئے کہ تربیتی ماحول کا فقدان ہے،  اور اخلاق کی درستگی کی طرف بے توجہی کے اثرات ہے۔ حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندوی ؒ فرماتے ہیں کہ:مدارس میں عام طور سے تربیت کا لحاظ نہیں کیا جاتا،  اساتذہ کرام قرأۃ خلف الامام،  آمین بالجہر،  رفع یدین وغیرہ مسائل پر کئی کئی دن تقریریں کرتے ہیں،  لیکن معائب اور نقائص کی برائیاں اور ان کے دین ودنیا کا خسارہ اور جومحاسن وملکات اہل علم کے اندر ہونے چاہئیں ان کے حاصل کرنے کی ترغیب کے سلسلہ میں زبان تک نہیں ہلائی جاتی۔  ( آداب المعلمین :39)اصلاح وتربیت کے سلسلہ میں درج ذیل امور کا لحاظ کیا جائے :(1)مدرسہ کا نظام ایسا بنایا جائے کہ جس میں طلبہ کے تربیت پہلو کا لحاظ ہو۔  (2)مدرسہ کے قوانین کے علاوہ اساتذہ دوران تدریس کسی بھی مناسبت سے اخلاقی اور تربیت امور پر توجہ دلائیں۔  (3)ہفتہ میں ایک دن کسی بزرگ کا وعظ رکھا جائے،  اصلاحِ نفس،  تزکیہ وتربیت جیسے موضوعات پر بات ہوتی رہے۔  سلف صالحین کے واقعا ت اور ان کے تعلیمی حالات پڑھ سنائے جائے۔ (ملخص :دینی وعصری تعلیم :82ا)
افراد سازی پر توجہ:
ماضی میں ہمارے مدارس میں افراد سازی پربھر پور توجہ دی جاتی تھے،  اور اساتذہ پوری لگن اور فکر سے اپنے شاگردوں کو تیار کرتے تھے اور ان کو قابل و لائق بنانے کی ہر تدبیر اختیار کرتے تھے تاکہ ان کے بعد علم کی شمع برابر جلتی رہے،  تحقیق کا میدان بھی آباد رہے،  اور دین کے مختلف تقاضے پورے ہوتے رہے،  اگر ہم ایک ہلکی نظر دارالعلوم دیوبند کی تاریخ پرڈالیں گے تو معلوم ہوگا کہ ایک شیخ الہند نے کتنے علماء کو تیار کیا جو مسند تدریس کے باکمال اساتذہ بھی تھے،  میدان جہاد کے جواں مرد سپاہی بھی،  تصنیف وتالیف میں شہوار بھی تھے،  اور دعوت و تبلیغ میں سرگراں میں،  یہی سلسلہ چلتا رہا، حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے ان گنت شاگردوں اور رجال کار کو تیار کیا یہ تو ماضی قریب کی تاریخ ہے ورنہ تو پوری اسلامی تاریخ اس پر شاہد ہے اہل علم کے یہاں افراد سازی کی بڑی اہمیت تھی،  اکابرین کو اس ضرورت کا شدید احساس تھا،  قوم کی امانت کو پوری دیانت کے ساتھ واپس کرنے کی فکر تھی اسی لئے وہ تن من لگاکر افراد کو تیا ر کرتے تھے،  او ر آج اس سلسلہ میں ہمارے مدارس میں بڑی سستی برتی جارہی ہے،  بلکہ افراد سازی کا پورے ماحول پر غضب کا سناٹا چھایا ہوا ہے،  ہر سال ہندوستان کے مختلف مدارس سے ہزاروں طلباء سند فراغت حاصل کررہے ہیں اور ایک بڑی کھیپ نکل رہی ہے لیکن نہ معلوم وہ کہاں گم ہورہے ہیں ؟چند افراد اپنی ذاتی کوششوں کی بنیاد پر منظر عام پر دکھائی دیتے ہیں باقی سب” زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے “والا معاملہ کی نظر ہوجاتی ہے۔  ہمیں شکوہ ہے کہ لائق افراد نہیں ملتے اور قابل اساتذہ کی کمی ہے تو یقیناًاس میں ارباب مدارس اور اساتذہ ہی کا قصور ہے کہ جب موجودافراد کو تیار کرنے کے سلسلہ میں بے رغبتی کی جائے اور صرف درس اور سبق تک اپنے تعلق کو محدور رکھا جائے،   طلباء کے مزاج،  ان کے ذوق،  اور ان کی صلاحیتوں کے ادراک کا اندازہ کئے بغیر مشورہ دیا جائے تو کہاں طلباء تیار ہوں گے ؟موجودہ دور میں تو یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ طلباء کو بہتر سے بہتر انداز میں تیا ر کیا جائے کیوں کہ موجودہ دور فتنوں سے بھرا ہوا ہے، دعوتِ دین کی بے شمار راہیں کھل گئی ہیں، عصری ترقی اور اختراعات و ایجادات نے دعوت کے مختلف میدانوں کو آسان بھی کیا اور اضافہ بھی،  الحاد و بے دینی کا طوفان بھی منڈلارہا ہے اور مخالف اسلام ہوائیں بھی تیز وتند جاری ہیں،  اور کئی چیالنچیز درپیش ہیں اگر ان کو تیار کرنے کی فکر کی جائے تو دین و اسلام کا بڑا کام ہوگا،  ورنہ ذمہ داران اور اساتذہ دونوں خدا کی بارگاہ میں جوابدہ ہوں گے کہ انہوں نے ان کی عمروں کو ضائع کیا اور اوقات کو صحیح استعمال نہیں کیا۔
قیام و طعام کا بہتر نظم :
طلبائے مدارس کی نسبت صفہ نبوی کے طلباء سے ملتی ہے،  طلباء مہمانانِ رسولؐ ہیں،  ان کا اکرام کرنا اور ان کا احترام کرنا صرف باہر والوں اور عوام پر ہی ضروری نہیں بلکہ ارباب مدارس پر بھی یہ ذمہ دار ی عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کا احترام کرے،  ان کے قیام و طعام کو بہتر بنائے۔  اللہ تعالی نے اس وقت امت کو بڑی فراخی عطاکی ہے،  ورنہ ایک دور طالبان علوم نبوت پر بڑی تنگ دستی اور کس مپرسی کا گذرا،  اور علم کے ان شیدائیوں نے ہر قربانی دے کر علم کو حاصل کیا،  موجودہ دور میں اسباب و وسائل کی کثرت نے راستوں کو بہت آسان کردیا،  اور اللہ تعالی نے ایسے مخیر اور اصحاب ثروت افراد کو بھی تیار کیا جو ایک آواز پر اہل مدارس کے لئے لٹانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔  طلبائے علوم نبوت کے لئے اچھے قیام و طعام کا انتظام ضروری ہے،  بیشتر مدارس کی صورت حال طعام کے اعتبار سے انتہائی ناگفتہ ہے،  افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے مدارس میں تمام تر سہولیات اور اسباب و وسائل کے باوجود طلباء کوایسا کھاناکھلایا جاتا ہے جس سے ان کے اعضا ء و قوی میں اور کمزوری بڑے،  اور مغزماری کے کام میں سستی پیداہو، عوام طلباء کی راحت رسانی ہی کے لئے تو چندہ دیتے ہے لیکن اس کا بے جا استعما ل ہوتا ہے اور دوسرے مصارف میں خرچ کیا جاتا ہے،  اپنے مہمانوں کی ضیافت میں مختلف انواع و اقسام کے کھانے تیار ہوتے ہیں،  اور رسول اللہ ﷺ کے مہمانوں کے لئے دال کھانا،  کھٹا وغیرہ ہی یہ کیسا غضب ہے کیا ہمارے نزدیک طلبائے مدارس کی اتنی بھی قدر نہیں ہے جتنی ایک عام انسان کی ہے ؟ہم جن اکابر کی عملی خدمات پر رشک کرتے ہیں،  اور ان کی دن بھر علمی مصروفیات کا حوالہ دیتے ہیں اگر ان کے احوال پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ صحت اور قوت بخش غذاؤں کو استعمال کرتے تھے اور ان کے لئے مقوی اشیاء کے استعمال کا اہتما م تھا تبھی تو وہ بے تکان علمی مشغولیات میں اور عبادات وغیرہ میں لگے رہتے تھے اور ہمارے یہاں حوالہ ان کا ہے اور انتظام عامیوں سے بھی بدتر۔ ۔ ۔  اس لئے آمدنی کا غیر ضروری استعمال کے بجائے طلباء کے قیام وطعام پر خرچ کیا جائے تو بہت فائدہ ہوگا،  امت کے مختلف طبقات کے بچے علم دین حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح قیام کے لئے بھی بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جائے مفتی رفیع عثمانی صاحب ( مفتی اعظم پاکستان) فرماتے ہیں کہ:اگر ہمارے دینی مدرسو ں میں اچھے رہایشی انتظامات نہیں ہوگے توبہت سارے مالدارلوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے محروم رکھیں۔  اس لئے ان دونوں چیزوں پر بھی توجہ دینی کی بڑی ضرورت ہے تاکہ زیادہ زیادہ افراد اپنے بچوں کو علم دین کے لئے روانہ کریں۔
مالیہ کے استعمال میں احتیاط:
انسان کے دین دار اور تقوی شعار بننے میں مال کی بنیادی حیثیت ہے اور خاص کرطلباء کے بننے اور بگڑنے میں مال کا بھی بڑا اہم کردار ہے،  نبی کریم ﷺ نے حرام لقمے سے بچنے کی تاکید فرمائی،  اور یہ بھی فرمایا کہ جس شخص کا گوشت حرام سے پروان چڑھتا ہے تو اس کے لئے جہنم ہی مناسب ہے۔  ( المعجم الاوسط للطبرانی:6669)مال کے سلسلہ احتیاط بہت ضروری ہے بالخصوص دینی اداروں کے لئے تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیوں کہ یہاں تو مصلحین اور مربیین کو تیار کیا جاتا ہے اور قوم کو صحیح ڈگر پر چلانے والے افراد کو بنایا جاتا ہے اگر ان ہی کے پیٹ میں مشتبہ مال چلاجائے تو پھر پوری عمارت ہی منہدم ہوجائے گئی،  مدارس میں مختلف مدات میں تعاون وصول ہوتا ہے،  زکوۃ،  صدقات،  عطیات وغیرہ کی شکل میں اور زیادہ زکوۃ کا مال وصول ہوتا ہے اور زکوۃ کے استعمال میں بڑی باریکی ہے۔  طلبا ء کو جہاں تک ہوسکے مشکوک مال اور مشتبہ مال کھلانے سے احتیا ط کی جائے،  تاکہ اچھی غذا جاکر اچھے جذبات کو پیدا کرسکے اور صحیح فکر کو بیدار کرسکے۔  ہمارے اکابرین اس میدان میں بہت ہی پھونک پھونک کر قدم رکھتے تھے۔  اور اگر اس سلسلہ میں کوتا ہی ہوگی مختلف مدکی رقم کو ملاکر جہاں چاہے استعمال کیا جائے گا،  اساتذہ اور طلباء پر خرچ کیا جائے تو پھر روح سے خالی اور سوزِ دل سے محروم افراد پڑھ کر نکلیں گے اور صلاح وتقو ی کے جوہر سے عاری ہوں گے۔
آخری بات:
طلبائے مدارس جو اپنے گھر اور ماحول کی تمام سہولتوں کو قربان کرکے آتے ہیں،  ہر طرح کی نعمتوں کو تج کردیتے ہیں اور علم دین کے حصول کے لئے ہمہ وقت سرگرداں رہتے ہیں، ان کی راحت رسانی کی فکر کرنا بھی اہل مدارس کی ذمہ داری ہے،  تعلیم کے ساتھ تربیت،  قیام و طعام کے ساتھ دیگر ضروریات کی تکمیل بہتر طریقہ پر کی جائے،  اور ذمہ داران مدارس اپنی وسعت اور اپنے دائرہ کے مطابق ہی اگر مدارس کے نظام میں درستگی لائیں گے اور طلباء کا صحیح استعمال کریں گے اور ان کے تقاضوں کو پورا کریں گے،  ایک امانت کا تصور کرتے ہوئے ان کو پروان چڑھایا جائے گا،  حالا ت اور زمانہ کے پیش نظر سہولیات کو فراہم کریں گے تو انشاء اللہ جو طلباء کا رجوع کم ہوتے دکھائی دے رہا ہے اس میں ا ضافہ ہوتا ہے اور جوق در جوق عوام کی توجہ اس جانب بڑھے گی۔ کمیوں اور کوتا ہیوں کی تلافی کی جائے تو رجال کار کا ایک بہترین قافلہ تیار ہوگا،  اور کارواں کا کارواں دینی جذبات سے لیس ہوکر اور فکر و تڑپ سے آراستہ ہوکر میدان عمل میں آئے گا۔

تبصرے بند ہیں۔