ارتداد کی زد میں بنت حوا اور ہماری ذمہ داریاں

ذوالقرنین احمد

موجودہ حالات  جومیں کچھ مسلم معاشرے میں ہورہا ہے مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں  کے ساتھ کورٹ میرج کرنا یا بھاگ جانا، سمجھانے کے باوجود لڑکی کا کسی طور پر والدین کی بات نا ماننا بہت ہی تکلیف دہ اور بڑے افسوس کی بات ہے، میں اس موضوع پر لکھنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کے زمینی سطح پر کام ہونا چاہیے، صرف حالات کا رونا رونے سے حالات تبدیل نہیں ہوسکتے ہیں۔ بات صحیح ہے لیکن صحافت کی بھی اپنی ایک ذمہ داری ہے کہ جو معاشرے میں ہورہا ہے اسکی حقیقت کو سامنے لانا ضروری ہے۔ کیونکہ جب تک مرض کا پتہ نہیں چلتا  ڈاکٹر علاج شروع نہیں کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین کو اور معاشرے کے باشعور ذمہ دار افراد تک یہ باتیں پہچائی جائے۔ کہ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں کس قدر مذہب بیزار ہوچکے ہہیں سوشل میڈیا کے ذریعے مغربی تہذیب کا زہر کس قدر انکے داخل ہوچکا ہے۔ اور ہم اس بات سے واقف ہی نہیں ہے۔

پہلے یہ سمجھ لیجے ارتداد کسے کہتے ہیں ارتداد مذہب اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیار کرلینا ارتداد کہلاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں دن بہ دن جو مسلم لڑکیوں کا غیروں کے ساتھ بھاگ کر شادی کرنا اور اپنے مذہب کو جھوٹی محبت کیلیے چھوڑ دینا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ آئے دن سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہے۔ کہ فلاح مسلم لڑکی اسکول کالج کے نام پر کسی پارک میں اپنے عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے دیکھائی دی تو کہی مسلم لڑکی اسکوٹر بائیک پر غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ لانگ ڈرائیو پر دیکھی گئیں، تو کہی کسی ہاٹل میں پکڑی گئی۔ تو کہی کوئی لڑکی کسی غیر مسلم کے ساتھ بھاگ گئی ، ایسی خبریں والدین پر بدلی بن کر گرتی ہے۔ معاشرے میں بے عزتی اور پھر لڑکیاکا مرتد ہوجانا کسی عزاب سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ ایسی حرکت کی وجہ سے چھوٹی بہنوں کو رشتے نہیں آتے ہیں۔ زندگیاں تباہ ہوجاتی ہے

آج کل والدین بچوں اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں موبائل دے کر سمجھتے ہیں کہ بچہ پڑھائی کر رہا ہے اور اسی  خوش فہمی میں مبتلا ہوکر کبھی بچے کے موبائل کو چیک نہیں کرتے ہیں۔

 نوجوان لڑکے لڑکیوں کے موبائل فون پر پاسورڈ کیونکر ہے یہ بات سوچنا چاہیے سوال کرنا چاہیے ہفتے مہینے میں اتفاقاً موبائل فون چیک کرنا چاہیے کتنے سیم کارڈ بچوں کے پاس سے ہیں اسکی خبر ہونی چاہیے۔ ریچارج کہاں سے آرہا ہے۔ لڑکی لڑکیاں کالج کے نام پر کہاں جارہے ہیں۔

کالجوں میں نوٹس، پروجیکٹ، اکسپریمنٹ، حاصل کرنے کیلیے غیر مسلم نوجوانوں اور غیر محرم لڑکوں سے نمبر لیے جاتے ہیں ۔ دھیرے دھیرے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ لڑکوں سے کام لیے جاتے ہیں۔ اور پھر ساتھ میں برتھ ڈے منانے، گفٹ کا لین دین، کالج کے ٹورس، کلچرل پروگرام مختلف دنوں میں ساتھ میں رہنا یہ سب ایسے کیسز کا سبب بنتے ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے جب لڑکا مہنگے گفٹ، دے رہا ہو، کھانے گھمانے کا خرچ اٹھارہا ہےتو وہ ایسے تھوڑی چھوڑنے والا ہے۔ صرف مسلم لڑکیاں ہی نہیں مسلم لڑکے بھی غیر مسلم لڑکیوں کے ساتھ کئی کئی افئر چلاتے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کے ذریعے غیر مسلم لڑکیوں۔ کے نمبرز حاصل کرتے ہیں۔

کالجز میں بیچ گارڈین الگ الگ بیچ بناتے ہیں۔ پھر انکے وہاٹس ایپ گروپ بنتے ہیں جہاں سے غیر مسلم لڑکوں کو مسلم لڑکیوں کے نمبرز حاصل ہوجاتے ہیں۔ اور پھر بات شروع ہوتی ہے۔ اتنا ہی نہیں کالج کے خالی وقت میں ایک ساتھ بیٹھ کر گپے مارتے ہیں چھٹی کے دن پارٹیوں کے پروگرام بنتے ہیں ۔ اور سب ماں باپ کو بیوقوف بناکر کیا جاتا ہے یا پھر جھوٹ بول کر۔

جب تک والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر نہیں رکھے گے یہ سب ہوتا رہے گا۔ اور ایک بات اس میں غور کرنے کی یہ بھی ہے کہ جب ایسے افئیر نظروں کے سامنے ہو، اور لڑکی جان پہچان کی ہو تب ایک ڈر سا یہ ہوتا ہے کہ اگر لڑکی کے گھر والوں کو بتائیں گے تو وہ الٹا بتانے والے پر غصہ ہوجاتے ہیں۔ کہ ہمارے گھر کی عزت کو بدنام کر رہا ہے۔ اسی طرح ایسے افئیر بھی نظروں میں ہوتے ہیں جس میں لڑکا لڑکی دونوں مسلم ہوتے ہیں۔ لیکن گھر والوں کو بتا نہیں سکتے کیونکہ وہ الٹا بتانے والے کو دشمن بنا لیتے ہے۔ ایسے کیسز میں تو ہونا یہ چاہیے کہ جب لڑکا لڑکی مسلم ہے اور ایک دوسرے کو پسند کرتےہیں تو باعزت طریقے سے شادی کروا دینی چاہیے۔

ایسے حالات میں بنت حوا کے تحفظ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہے جو شرمناک معاملات ہمارے سامنے روزانہ آرہے ہے۔ اس میں ایک بات غور کرنے کی ہے کہ  غیر مسلم لڑکے کو شادی کیلیے اسکے دوست کیسے سپورٹ کر رہے ہیں انکی کمیونٹی، آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں انکی مدد کر رہی ہے۔ پیسے گھر خرچ ہر طرح سپورٹ کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ایسے معاملات ہونے سے قبل ہی اگر نوجوان مسلم لڑکے لڑکیوں کی بالغ ہونے پر سب نے مل کر مدد کرکے شادی کروا دی تو بہت اچھا کام ہوسکتا ہے۔ برا بھلا کہنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا عملی اقدامات کرنے ضروری ہے۔

سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی یہ ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں انکے اندر دین اسلام کی حقانیت کو اس قدر داخل کردے کہ وہ آگ میں جلنا پسند کریں لیکن دین کو چھوڑنے کا خیال بھی انکے دل و دماغ میں نا آنے پائے۔ گھروں میں قرآن و حدیث کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ بچوں کو اخلاقی اقدار اور معاشرتی زندگی کے اچھے برے معاملات سے واقف کرایا جائے۔ وقتی فائدہ اور حقیقت کیا ہوتی ہے سمجھایا جائے۔ جذبات کیا ہوتے ہیں اسکا اثر آنے والے زندگی پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، اپنے ساتھ پیش آنے والے تجربات کے ذریعے انکی ذہن سازی کریں۔ زندگی کے فیصلے لینے کے بارے میں انکی رہنمائی کرتے رہے۔ ہر معاملے میں مشورہ کرنے کی عادت ڈالے، دل کی باتیں دل میں رکھنے کےکےبجائے آپس میں شیئر کرنے کی تعلیم دیں۔ بچوں کی تنہائی کا ساتھی بنیے۔

والدین کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اپنے بچوں کو روزانہ وقت دیں۔ انہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی جھوٹی دوستی اور عشق و محبت کے جال میں پھنسانے کیلیے تنہا مت چھوڑیے، بچوں پر غیر محسوس طریقے سے گہری نظر رکھنی چاہیے، سوشل میڈیا پر کیا کر رہے ہیں ۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا بے حیائی کا اڈہ بن چکا ہے۔ رات کے وقت بچوں سے موبائل چھین کر اپنے پاس رکھیے۔ جہاں تک ہوسکے لڑکیوں کیلے گرلز اسکول اور کالج میں تعلیم کا نظم کیجئے۔ روزانہ چھوڑنے اور لانے کیلیے جائے۔ ٹیوشن اور کوچنگ کے ٹائم کا خیال رکھے۔ کوچنگ اور ٹیوشن والے کوئی فرشتہ صفت لوگ نہیں ہے۔ اکثر بڑی کوچنگ کلاسس غیر مسلموں کی ہے۔ جو غیر مسلم علاقوں اور شہر کی آبادی سے ہٹ کر واقع ہوتی ہے۔ اسکے آس پاس کیفے اور ریسٹورانٹ ہوتے ہیں ۔ جہاں پر کپل یعنی لڑکے لڑکیاں عیاشیاں کرتے ہیں۔ ایسے ریسٹورانٹ بھی ہے جہاں اگر آپ اکیلے جاتے ہیں تو آپ کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ کپل لڑکے لڑکیوں کو پوری سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ اس لیے ان تمام باتوں پر دھیان رکھنا ضروری ہے۔

آپ کی لڑکی یا لڑکا کتنا ہی شریف ہو ماحول کا اثر ہر ایک پر پڑتا ہے۔ جس ماحول میں رہ رہے ہیں اسکی اچھائی اور برائی دونوں چیزیں اثر کرتی ہے۔ لیکن شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ برائی پر بہت جلد ابھارتا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کا معاشرہ ایک طرح لبرل سیکولر، اور دین بیزار ہوگیا ہے۔ دیگر قوموں سے ہمیں کوئی مطلب نہیں ہے لیکن ہمارا مذہب سچا اور حق ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی قوم کے نوجوانوں کو لبرل سیکولر سوچ سے بچانا بے حد ضروری ہے۔ آج ذرا دیکھے کس طرح سے ہمارے بچوں سے لے کر نوجوان اور بوڑھے کس طرح سے دین بیزاری کا ثبوت پیش کر ہیں۔ جو اعمال سے ظاہر ہوتا ہے۔ کسی کو نماز کیلیے چلنے کے لیے کہاں جائے تو کہتا ہے تو چل میں آیا۔ یا پھر بے شرم کی طرح مسکراتا ہے۔ ایسی ہے بچوں کو نماز کیلیے کہاں جائے تو کل سے شروع کروں گا کہتے ہیں۔ کسی کی میت ہوجائے اور نماز جنازہ میں شرکت کیلیے کہاں جائے تو ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔

خواتین کا حال تو بہت بورا ہے۔ مرد تو ایک دو وقت کی نماز ادا کرلیتا ہےلیکن خواتین کو گھر کی مصروفیات کا بہانا بناکر پوری نمازیں چھوڑ دیتی ہے۔ جب خواتین کا حال یہ ہے تو بچے کہاں سے نیک اور دیندار بنیں گے۔ سب سے اہم چیز نماز ہے جو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ڈر و خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے بچپن سے ہی بچوں کو نماز کی پابندی کرنے والا بنائے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں دین میں زبردستی نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کیلیے ہے جو اسلام نہیں لائے جو پہلے سے مسلمان ہے ان کے لیے دین پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر بچہ بالغ ہونے پر نماز نہیں پڑھتا تو اسے مار کر نماز پڑھانے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے بچوں کو بچپن سے ہی دین اسلام پر چلنے والا بنائیے ہر معاملے ہر عمل اور فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سمجھائیے کہ اس بارے میں اللہ اور نبی کریم ﷺ کا فرمان کیا ہے۔ حرام حلال کی تمیز سیکھائے۔ اور سب سے اہم بات بچوں کی پرورش حلال رزق سے کیجیے۔ حرام رزق سے پرورش پانے والا جسم نیک اعمال پر کیسے ابھار سکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔