ارتداد کی لہر: ایک لمحہ فکریہ

عبدالرحمن الخبیرقاسمی بستوی

(بنگلور، کرناٹک)

محترم قارئین کرام!

یہ دور فتنوں کا دور ہے، طرح طرح کے فتنوں کا وجود ہورہا ہے، جیسے جیسے ذرائع ابلاغ بڑھتے جارہے ہیں اتنے ہی فتنے بڑھتے جارہے ہیں، ان فتنوں میں ایک فتنہ ارتداد، الحاد سر اٹھا رہا ہے، اس فتنے کے زہریلی اثرات مسلم معاشرہ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں، رات دن مسلم خواتین کو مرتد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ارتداد امت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اپنوں کا دین و اسلام سے پھر جانا اور مرتد ہوجانا بڑے دکھ کی بات ہے، اس وقت سارے عالم میں دینِ اسلام کو مٹانے اور اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسلام دشمن طاقتیں متحد ہو کر پوری طرح زور آزما رہے ہیں کہ اسلام کو کس طرح صفحہ ہستی سے مٹایا جائے یا کم ازکم مسلمانوں کو مسلمانیت باقی نہ رکھی جائے، اور ایک سازش کے تحت دشمنانِ اسلام مسلم لڑکیوں کو ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں، اور نوجوانوں کاایک بڑا طبقہ اسلام سے دوری اختیار کر رہا ہے۔

اس وقت حالات بڑے نازک ہیں، ایک طرف قوانینِ شرعیہ پر حملے کئے جارہے ہیں تو دوسری طرف فرقہ پرست طاقتیں مسلم بچیوں کو ارتداد کے دھانے تک پہنچا رہے ہیں، تیسرے میڈیا کے ذریعہ نئی نسل کا ذہن خراب کررہے ہیں، اور چوتھی ہرطرف اسکولوں اور کالجوں میں بیحیائی کا ماحول بنایا جارہا ہے، نئی نسل عیش وعشرت کے راستہ پر چل رہی ہے، عورتیں بے ہودہ ہوچکی ہیں، اللہ کے احکامات سے بغاوت کررہی ہیں، زنا آسان ہوگیا ہے، کل تک اغیار اپنی اکثریتی علاقوں میں ظلم و ستم کا کھیل کھیلتے تھے، اب وہ اتنے بیلگام ہوگئے ہیں کہ ہماری آبادیوں میں گھس کر ہماری بہن بیٹیوں کی عزت کو پامال کررہے ہیں۔

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

ملک کے مختلف علاقوں سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کررہی ہیں، اور اپنا دین وایمان، ضمیر و حیا، بیچ کر اپنے خاندان اور اپنے سماج اور معاشرہ پر بدنامی کا داغ لگا رہی ہیں، اس طرح کے واقعات پہلے کبھی کبھار اخباروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملتیتھے، لیکن چند دنوں سے باضابطہ پلاننگ کے ساتھ مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنسایا جارہا ہے، اور آئے دن یہ تعداد بہت تیزی کیساتھ بڑھ رہی ہے، ابھی چند دن قبل ہمارے ایک عزیز دوست نے صرف عروس البلاد ممبئی اور تھانہ کی بیس ناموں کی ایک فہرست ارسال فرماتیہوئے کہا کہ صرف ایک مہینے کی فہرست ہے جو اگلے مہینے غیروں سے شادی کے لیے تیار ہیں، اردو، انگریزی اخبارات میں بکثرت ایسے واقعات شائع ہورہے ہیں جس میں مسلم لڑکیاں غیرمسلم لڑکوں کے عشق ومحبت میں گرفتارہوکرنہ صرف اپنے دین وایمان کا سودا کررہی ہیں بلکہ اپنی عفت وعصمت کے قیمتی جوہر کو لٹارہی ہیں۔

آج سے پچیس تیس سال قبل کا مسلم سماج ایسے بے حیائی کے واقعات سے پاک تھا، لیکن مسلم سماج کی دین سے دوری نے الحادوبے دینی کوفروغ دینے میں بڑارول اداکیاہے، الیکٹرانک میڈیا وپرنٹ میڈیاسے اکثریہ بات دہرائی جارہی ہے کہ انتہاء پسند کٹر ہندوتوا کے حامی لیڈرس غیرمسلم لڑکوں کوباضابطہ تربیت دے رہے ہیں کہ وہ مسلم لڑکیوں کواپنے دام فریب میں پھنسائیں، اورایسے غیر مسلم لڑکوں کو انعام واکرام سے نوازاجارہاہے، مسلم لڑکیاں جو مخلوط نظام تعلیم یا مخلوط نظام ملازمت پرمبنی اداروں سے وابستہ ہیں وہ بہت جلدان کے جھانسے میں آجاتی ہیں، ایسے ناخوشگوار کچھ واقعات مسلم وغیرمسلم ملی جلی بستیوں میں رہائش کی بنا پر ہورہے ہیں، کچھ واقعات اپنے گھرسے تعلیمی یا ملازمتی اداروں تک سفرکے دوران اورکچھ واقعات مذکورہ مخلوط اداروں میں تعلیم یا ملازمت کی وجہ سے پیش آرہے ہیں، مسلم سماج کے بعض مذہبی وسماجی رہنماؤں کا مانناہے کہ مسلم سماج میں جہیز، جوڑے، لین دین کا غیر اسلامی چلن بھی اس کی وجہ ہے، کسی نہ کسی درجہ میں یہ بات قابل تسلیم ہے، تاہم اس کوکلی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا، چونکہ جہیز، جوڑے، لین دین اور غیر اسلامی رسوم و رواجات بھی مسلم معاشرہ کی بے دینی کا تسلسل ہیں، اس میں اوربھی بہت سے عوامل ہیں جن سے صرف نظرنہیں کیا جاسکتا، صرف اسی کومسلم لڑکیوں کے ارتدادکی وجہ قراردینا حقائق سے چشم پوشی ہے، ان میں بنیادی وجہ اسلامی احکام سے انحراف ہے اور بروقت وبرمحل نکاح نہ ہونا بھی ایک وجہ ہے، نتیجہ یہ ہے کہ بعض نوجوان لڑکے لڑکیوں کے گناہوں میں مبتلاء ہو نے کے خطرات بڑھ گئے ہیں یا رشتہئ نکاح کے قیام میں جائزوناجائزکی پرواہ کئے بغیرباطل مذاہب کے پیروکاروں سے رشتے استوار ہورہے ہیں۔

مغربی تہذیب کے پروردہ گان کیلیے تویہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، اسلام کے خلاف جدیدتہذیب وثقافت نے ان کے دل ودماغ پرقبضہ جمالیاہے، اس کوذہنی وسعت فکرکا نام دیدیا گیاہے، مسلم گھرانے میں ضرورپیداہوگئے ہیں لیکن اسلام سے ان کا صرف برائے نام تعلق رہ گیاہے، بلوغ کے فوری بعدنکاح کا انتظام جہاں عفت وعصمت کا ضامن ہے وہیں اس سے معاشرہ کی پاکیزگی برقراررہتی ہے، زمانہ جس برق رفتاری کے ساتھ ترقی کی راہ پرگامزن ہے اورخیرالقرون سے دوری بڑھتی جارہی ہے اسی تیزی کے ساتھ اسلامی ماحول، دیندارانہ اوصاف، مذہبی شناخت اورملی تشخص رخصت ہو تے جارہے ہیں، خاندان کیذمہ داران کی دین سے دوری، مغربی تہذیب وکلچرسے لگاؤ اورغیر دیندارانہ حال وماحول نے نسل ِنو کومغربی تہذیب وثقافت کا دلدادہ بنادیاہے، رشتہ نکاح کے سلسلہ میں اب دینداری قابل ترجیح نہیں رہی ہے، اول توہرکوئی حسن وجمال کا متلاشی ہے، حسنِ سیرت پیش نظرنہیں ہے، بقول شاعر

حسن صورت چند روزہ حسن سیرت مستقل
اِس سے خوش ہوتی ہیں لوگ اُس سے خوش ہوتا ہے دل

دینداری، اعلیٰ اخلاق، اسلامی اقدار، امورخانہ داری وغیرہ میں مہارت جیسی باتیں قصہ پارینہ بن گئی ہیں، جہیز، جوڑے، عمدہ وقیمتی سامان، اعلی شادی خانہ کا نظم، لوازمات سے بھرپور طعام کا انتظام، شادی خانہ واسٹیج کی خوبصورت ودیدہ زیب سجاوٹ وغیرہ جیسے مطالبات سامنے آتے ہیں اور لڑکی والے بھی لڑکے اور لڑکے والوں کی مالی پوزیشن و سماجی حیثیت سے مرعوب ہوکران کے ہر مطالبہ کو قبول کرنے تیار ہوجاتے ہیں اور بعض ایسے نادان بھی دیکھے گئے ہیں جوراضی خوشی ان کے مطالبات سے کہیں زیادہ دینے کو سماجی وجاہت سمجھتے ہیں اوریہ سب کچھ نام ونمود، شہرت ودکھاوا، فخر اوراپنی حیثیت وپوزیشن کواونچا دکھانے کی غرض سے ہوتا ہے۔ اللہم الحفظنا

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی فرماتے ہیں۔

”کچھ مدت تک یہ بات ناقابلِ قیاس سمجھی جاتی تھی کہ مسلمان دین حق سے منحرف ہوکر رسم ورواج یا کوئی اور مذہب قبول کرلیں ؛ لیکن جہالت اور پسماندگی، غربت یا غفلت کی وجہ سے اب صورت حال خاصی بدل چکی ہے، بعض کم فہم اور غافل مسلمان ارتداد کی چنگل میں مبتلاء نظر آنے لگے ہیں، اسباب جو بھی ہوں، ان حالات میں دینی تحریکوں جماعتوں تنظیموں اور اداروں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ اس کے سد باب کیلیے باہم سر جوڑ کر بیٹھیں اور مسلمانوں میں شعور پیدا کریں۔ “

اس کی ایک مثال تملنادو کے مشہور شہر ”میل وشارم“ کی ہے، جہاں پر اس طرح ارتداد کے واقعات کثرت سے پائے جاتے تھے لیکن مقامی علماء کرام فوری حرکت میں آکر ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا مقصد یہ تھا کہ چند مستورات کے ذریعے ایسے لڑکیوں تک رسائی کرنا اور ان تک پہنچ کر قرآن وحدیث اور عقائد کوسمجھانا جن کا تعلق غیروں سے ہے، ہمیں بھی اپنی بہن بیٹیوں کو ارتداد کے دہانے سے بچانے کیلیے  اس طرح کے اقدامات کی سخت ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ہر فتنہ سے حفاظت فرمائے، شریعت کا پابند بنائے، اللہ تعالیٰ ایمان پر استقامت اور ایمان پر خاتمہ بالخیر فرمائے….. آمین ثم آمین یا رب العالمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔