ارتداد: یوپی کا ٹارگیٹ مکمل، اب دیگر ریاستوں کی باری

سید فاروق احمدسید علی

محترم قارئین کرام:اس وقت مسلم لڑکیوں کا ہندو لڑکوں کے ساتھ ہورہے ناجائزتعلقات اورارتداد کی باتوں کا کافی تذکرہ چل رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعے مسلم لڑکیو ں کا ہندو لڑکوں کے ساتھ شادی بیاہ کرنا اور غیروں کی جانب سے پھنسائے جانے کے تعلق سےخبریں موصول ہورہی ہے جوکہ کافی تکلیف دہ امر ہے۔ لیکن اچانک ارتداد کا یہ مسئلہ سرخیوں میں کیوں آگیا ہے ہر کوئی اب فکر مند کیوں ہونے لگا ہیں۔ کیونکہ اس طرح کے معاملات اب یوپی اور بہار سے نکل کر ہماری ریاستوں تک آپہنچے ہیں بات اب ہمارے شہروں تک پہنچ گئی ہے۔ اور یہ بات ہم سب کو پتہ ہے کہجب سے ملک میں بھگواداھاریوں نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی ہے تب سے گھر واپسی، لو جہاد، مسلمانوں کا ڈی این اے، ماب لنچنگ، گئو ہتھیا، بچے دو ہی اچھے اور دیگر عنوانات کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنانے کاکام کافی زور وں پر ہورہا ہے۔ اور یہ پوری پلاننگ کے ساتھ انجام بھی دیاجارہا ہے۔ یوپی بہار میں مسلم لڑکیوں کی زندگیاں برباد کرنے کا کام ایک ٹارگیٹ طئے کرکے منظم سازش کے تحت انجام دے دیاگیا ہے اورجو ہدف سنگھیوں نے طئے کئے تھے اب وہ اس اعداد وشمار کے آگے نکل چکے ہیں۔ یعنی کہ ہماری بے حسی اور لاپرواہی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہم بجائے اس ارتداد کی لہر کو روکنے کے مزید اس دلدل میں دھنستے ہی جارہے ہیں۔ اور اب بھی خواب غفلت کا شکار بنے ہوئے ہیں۔

بھولی بھالی ہندو قوم کو سنگھی یہ ذہن نشین کراتے ہیں کہ مسلمان لڑکے بھولی بھالی غیر مسلم لڑکیوں کو اپنے عشق کے جال میں پھنساتے ہیں اور ان سے شادی کے وعدے کرکے انھیں ہندوؤں کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ کہیں کہیں تو شادی بھی کر کے اورہماری بہن بیٹیوں کا ذہنی و جسما نی استحصال کر کے ان سے بچے پیدا کر کے چھوڑدیا جاتا ہے۔ اس طرح ان مسلما نو ں کا مقصد اپنی آبادی میں اضافہ کرکے ہندوستان میں مسلم حکومت قائم کرنا ہے۔ اس طرح سے ہندو ؤں کی زندگی خطرے میں ہے۔ باہر کے لوگ ہم پر چھارہے ہیں اورہم سے ہمارا ملک چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مقصدیہ بھی ہے کہ ہماری بہن بیٹیو ں کو جہاد کی ٹریننگ دے کرہمارے خلاف بڑھکایاجائے۔ اور وہ ہندو بھا ئیوں سے اپیل کرتےہے کہ وہ ایسے کسی بھی خطرے سے ہوشیار رہیں اور اگر کہیں ایسا دیکھیں تو فوراً پولیس کو بتا کر بھارت ماتا کے سچے سپوت ہونے کاثبوت دیں۔

دوستو مختلف قسم کے ویڈیوز بناکر ساتھ ہی کتابچے پمفلٹ، پوسٹر اور اسٹیکروں کے ذریعے بھی مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ہندو مسلم جھگڑوں کو خوب پھیلایا جارہا ہے جسے بڑے پیمانے پر فی الحال یوپی اور دیگر ریاستوں کے شہروں میں چوراہوں فٹ پاتھوں پارکوں اور اسکول کالجز میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ جس میں ہندو بھائیوں او ربہنوں سے اپیل کی گئی ہے کہ۔ ۔ جاگو ہندو جاگو۔ ۔ ۔ لوجہاد سے سودھان۔ ۔ ۔ ۔اور مزید یہ کہا جارہا ہے کہ مسلم لڑکے ہندو نام رکھ کر ہاتھ میں کلاوا باندھ کر و ٹیکا لگا کر ہندو لڑکیوں کو جال میں پھنساتے ہیں۔ ان کا دھر م پر ورتن (بدل)کرکے شادی کر کے بچے پیداکرتے ہیں اورشریرک و مانسک سوشن (یعنی کہ جسمانی و ذہنی استحصال)کر کے انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اور مثالیں یہ دے رہیں کہ سیف علی خان اور عامر خان نے ہندو لڑکیو ں سے شادی کرکے بچے پیدا کرکے انھیں چھوڑدیا ہے لہذااپنے دھر م اور اپنی بہن-بیٹیوں کی رکشا (حفاظت)کے لیے سترک (مستعد ) رہیں ید ی(اگر)آپ کے پاس کچھ ایسا لگے تو ہماری ہیلپ لائن سے سمپر ک (رابطہ) کر یں۔ اس کے بعد، موبائل نمبر، ای میل اور فیس بک ایڈریس لکھا گیاہے۔ اس کے علاوہاب تو ٹی وی کے مخصوص چینلوں پر اشتہارت  کے علاوہ سیریلس اور فلمیں بھی مسلم لڑکی اور ہندو لڑکے کی کہانی بنائی اور بتائی جارہی ہیں۔

ناظرین حال ہی میں ارتداد کے واقعات میں اتنی تیزی اور شدت آئی ہے کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں مسلمانوں کو انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا۔

 دنگائیوں اور بھگواداریوں کی ہمتیں اور حوصلہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ وہ راہ چلتے یا سفر کے دوران مسلم دوشیزائوں کو اغواء کرکے ان کے ساتھ کیا کچھ کیا جاتا ہے یہ سوچ کربھی دل دہل جاتا ہے۔ اچھا ایسا نہیں ہے کہ صرف بھگوادھاری دنگائی ہندو مرد ہی یہ کام کرتے ہیں بلکہ بھگوائی عورتیوں بھی اس میدان میں کافی ڈٹی ہوئی ہیں اور ان کے کارکن کالجز اور مارکیٹ میں گھوم کر مسلم خواتین سے ایک منظم پلان کے تحت دوستی کرتے ہیں اور ایک مقررہ وقت پر اس دوستی کو انجام تک پہنچایا جاتا ہے۔ اور ا سطرح کے کام کرنے پر انہیں لاکھوں کروڑوں کے انعامات سے نوازا بھی جاتا ہے۔

ایک طرف تو یہ کھیل کھیلا جارہا ہے وہیں دوسری طرف ہم او رہمارے سرپرست خواب خرگوش میں ہیں کہ ہماری بچیاں اسکول، کالجز  اور ٹیوشن کلاسیس جارہی ہیں اور غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ہماری بچیوں کی کسی بھی ہندو لڑکی یا لڑکے سے دوستی نہیں ہے۔ اور بچیوں پر اتنا اطمینان اور بھروسہ ہے کہ ہماری بیٹیاں کسی غیر کی محبت میں گرفتار نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ان کے ساتھ بھاگ سکتی ہے۔

میرے عزیزوجیسا کہ میں نے آپ سے کہا کہ ۲۰۱۴ کے بعد سے ہی انھوں نے اعلان کردیاتھا اور ایک ٹارگیٹ طئے کیا تھا کہ ہم یوپی اور بہار میں ایک ہدف کے تحت مسلم لڑکیوں کو نشانہ بنائیں گے اور انہیں اپنے ہندو لڑکوں کی ہوس کا نشانہ بنائیں گے۔ اس سلسلہ  میں میں آپ کو بتادوں کہ وہ حد اور وہ ٹارگیٹ ان کا کب کا پار ہوچکا ہے اور اب یہ کھیل وہ صرف یوپی اور بہار میں نہیں بلکہ بنگال، مہاراشٹر، گجرات، جھارکھنڈ، اور لکھنو میں بھی کھیل رہے ہیں۔ جس سے بڑی تعداد میں مسلم لڑکیاں ارتداد کا شکار ہورہی ہیں۔

میں یہ بات معافی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے بچے اور بچیوں کو مہنگے مہنگے موبائل اور ٹووہیلر دلا کر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہماری بیٹیاں اور بیٹے بہت اعلی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور اس کی آڑمیں کونسا گھنائونا کام انجام دے رہے ہیں خدا جانے یاد رہے کہ یہ بات میں سبھی کے تعلق سے نہیں کہہ رہا ہوں۔  لیکن یہ سچ ہے کہ مسلم لڑکیوں کو ورغلاکربہلا پھسلا کرانہیں عزتوں کو تار تار کیا جارہا ہے۔ لیکن ہم بھی ہوش کے ناخن لینے کے تیار نہیں ہے۔ اور ایک بڑی تعداد مسلم لڑکیوں کی ارتداد کا شکار ہورہی ہے۔ خدا کے لیے اپنی اولادوں کی فکر کیجئے۔ گھروں میں دینداری پیدا کیجئے۔ گھرگھر دین کی تعلیم اور اجتماعات کو فروغ دیجئے۔ سب سے پہلے یہ والدین کی ذمہ داری بنتی ہیں کہ وہ خودنمازوں کی پابندی کے ساتھ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تاکہ جب وہ اپنی اولادوں کو پابند کریں تو ان کے لیے وہ مرحلہ تکلیف دہ نہ ہوں۔ اگر ہم نے جلد از جلد اس ارتداد کی لہر کو قابو میں نہیں کیا تو۔ ۔ ۔ اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے۔ ۔ ۔ ہماری مسلم مائیں بہنیں کافروں کو جنم دیں گی جو آگے چل کر ہمارے ہی خلاف صف آراء ہوں گی اور کفر کا دامن تھامے وہ بچے اسلام اور مسلمانو ں کے لیے ناسور بن جائیں گے۔ اور وہ دن دور نہیں ہوں گے جب ہم یہ سنیں گے کہ فلاں مسلم لڑکی کے بچے نے آج فلاں کی ماب لنچنگ کردی۔ اور فلاں جگہ کسی کو موت کے گھا ٹ اتار دیا۔ ۔ ۔ ناظرین ہمارے پاس اب بھی وقت ہے کہ ہم اس آندھی کو روکنے کی مل کر کوشش کریں۔

اور اس کے ساتھ ہی میرے پیارو۔ ۔ ۔ احتیاط کرو۔ ۔ کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ ۔ یہ فرقہ پرست سنگھی لوگ نت نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ آپ کو کسی نہ کسی طرح گھیرنےکی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لیے کسی بھی لڑکی یا لڑکے کے کال آنے یا فیس بک پر یا واٹس ایپ پر آئی ہوئی فیک آئی ڈیز یا کالس کو نظر انداز کریں۔ ۔ ۔ شیطان آپ کو ضرور بہکائے گا لیکن ان کے بہکاوے میں آنے کا نہیں۔ ۔ ۔ بالکل بھی نہیں۔ ۔ ۔ اگر ایسے کالس آتے ہیں تو اسکی رپورٹ پولس میں کروائیے پھر بھی کوئی کاروائی نہیں ہوتی ہے تو اس نمبر کو اسوشل میڈیا پر اتنا پھیلادو کہ وہ پریشان ہوجائے۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ دوستو حالات مسلمانو ں کے خلاف اتنے زیادہ خطرناک کردیئے جارہے ہیں کہ ہم ادھر ابھی سنبھل بھی نہیں پاتے ہیں کہ دوسرا مسئلہ یا فتنہ ہمارے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔ لہذا۔ ۔ ۔ تمام ہتھکنڈوں سے بچتے رہئے۔ ۔ ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولادیں شادی کی عمر کو پہنچ جائے تو ان کی فوراً شادی کردیں۔ اور اس کے ساتھ ہی میں مسلم بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ شادی کے لیے پہلے وہ مسلم لڑکی کو ہی ترجیح دیں کیونکہ بہت ساری ہماری بہنیں بن بیاہی رشتہ کے انتظار میں بیٹھی ہیں لہذا آپ سے میں  بہنوں اور بھائیوں سے ادبا ً گزارش کرتا ہوں کہ وہ مسلمان کو ہی ترجیح دیں تاکہ آپ کی دنیا بھی بہتر رہے اور آخرت بھی سنور جائے۔

چلیے قارئین کرام اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہماری اور ہماری نسلوں کی ہر سازشی ہتھکنڈوں، فتنوں اور شرارتوں سے حفاظت فرمائے، مائوں بہنوں اور بیٹیوں کوارتداد سے بچائے رکھے۔ اللہ آپ تمام کو مزید جاذب نظر، ہینڈسم، اسمارٹ اور خوبرو بنائے۔ ظاہری بھی اور باطنی بھی اور نظر بد سے آپ تمام کی حفاظت فرماتے ہوئے ہم سب کا خاتم بالخیر کرے اورساتھ ہی اللہ آپ تمام کو اپنی حفظ وامان میں رکھیں۔ ۔ ۔ ۔ چلیے دوستوز۔ ۔ ۔ بولا چالا معاف کرا۔ ۔ ندگی باقی تو بات باقی۔ ۔ ۔ ۔ رہے نام اللہ کا۔ ۔ ۔ ۔ اللہ حافظ۔ ۔ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔