بابری مسجد معاملہ: صرف مقدمہ لڑنا ہی کافی نہیں

ڈاکٹر عابد الرحمن

مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب مسلم پرسنل لاء بورڈ سے معطل کر دئے گئے۔ وہ بابری مسجد کی آراضی سے دستبرداری اور مسجد کو کسی اور جگہ شفٹ کر نے کی وکالت کر رہے تھے۔ وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تھے لیکن انہوں نے اپنی اس رائے کے دلائل بورڈ میں موجود شریعت کے ایکسپرٹ حضرات کے سامنے خفیہ طریقے سے یا حال ہی میں ہوئی میٹنگ میں پیش کر نے کی بجائے بابری مسجد معاملہ میں ثالثی کے لیے آگے بڑھے فریق مخالف ہی کے ایک شخص جو ملک کے ہندوؤں سے زیادہ ہندو ہیں کے سامنے پیش کئے۔ یہ ان کی رائے یا نقطہء نظر ہو سکتا ہے لیکن جب بورڈ کی اکثریت نے ان کی یہ رائے مسترد کر دی تو وہ اس اکثریت ’سواد اعظم ‘ کے احترام کے بجائے اپنی رائے کو لے کر اس کے خلاف ہو گئے اور اسی کے چلتے اس سے پہلے کہ بورڈ ان پر تادیبی کارروائی کرتا انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے بورڈ ہی پر ڈکٹیٹر شپ کا الزام عائد کردیا۔

بورڈ نے انہیں معطل کردیا جو ضروری بھی تھا لیکن اس سے بھی فریق مخالف کا ہی فائدہ ہوتا نظر آ رہا ہے مولانا محترم نے بورڈ کی شبیہ بگاڑ نے کی جو کوشش کی تھی اس میں وہ کامیاب ہو گئے، ان کی معطلی بورڈ کی ڈکٹیٹر شپ کے طور پر ہی دیکھی جا رہی ہے۔ بورڈ کا فیصلہ غلط نہیں ہے لیکن اس سے ہمارے مخالفین کی ایک اور چال کامیاب ہو گئی، ہمارے نمائندہ اداروں کو بدنام کر نے کی اور اسی بنیاد پر ہم میں انتشار پھیلانے کی۔ مولانا مھترم کے معاملے میں دیکھئے ان کی جتنی مکالفت ہو ئی یا ہو رہی ہے اتنی ہی حمایت بھی ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا ان کی مخالفت اور حمایت کو لے کر میدان جنگ بنا ہوا ہے جہاں امت کا پڑھا لکھا اور مذہبی طبقہ باہم دست و گریباں نظر آرہا ہے ہتھیاروں نہیں بلکہ زبانوں سے اور اس میں دونوں فریق حد سے بھی تجاوز کر رہے ہیں ۔ یعنی مولاناکی رائے کو لے کر امت میں جو انتشار ہوا اس نے اب ہمارے نمائندہ ادارے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ کوئی معمولی انتشار نہیں ہے کیونکہ اس میں صرف عوام ہی شامل نہیں بلکہ علماء بھی شامل ہیں ۔

بابری مسجد معاملہ کو ملک کی اکثریت  کے ذہن میں آستھا کا معاملہ بنا کر بٹھا دیا گیا ہے لیکن اس بار اس اکثریت نے جن لوگوں کو اپنا نمائندہ منتخب کر اقتدار تک پہنچا یا ہے یہ معاملہ اس کے لیے آستھا کا بالکل نہیں بلکہ سیاست کا ہے وہ سیاسی فوائد بٹورنے کے لیے اس مسئلہ کو کسی نہ کسی حوالے سے گرماتے رہتے ہیں اور ابھی فی الوقت بھی اس معاملہ میں جو گرمی آئی ہے وہ بھی دراصل سیاسی ضرورت کے لیے ہی آئی ہے، چونکہ اکثریت کے ان نمائندوں کی سرکار اپنے ہر وعدے پر ناکام اور ہر سطح پر پچھڑ تی نظر آرہی ہے اور لوک سبھا انتخابات بھی کچھ زیادہ دن نہیں رہ گئے اس لیے اب اسے ایسے اشوز کی ضرورت ہے جواس کی ساری ناکامیوں کو چھپا لیں اور اس طرح کے اشوز مسلمانوں کے ذریعہ ہی پیدا کئے جا سکتے ہیں ۔اسی لیے طلاق ثلاثہ پر ساری اچھل کود ہو رہی ہے اور اسی لیے رام مندر کی تعمیر کے لیے عدالت کے چکر لگائے جا رہے ہیں اور عدالت سے باہر ثالث مقرر کئے جا رہے ہیں۔

دراصل یہ لوگ جلد از جلد رام مندر کی تعمیر نہیں چاہتے کیونکہ ان کی سیاست کے لیے رام مندر کی تعمیر ضروری نہیں بلکہ رام مندر کی تعمیر کا وعدہ اور اس کے نام پر سیاسی سماجی اور مذہبی جوتم پیزار ضروری ہے اسلیے یہ چاہتے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر میں قانونی رکاوٹیں آتی رہیں اور یہ ان کو ہٹانے کا دکھاوا کرتے رہیں اورانہیں سیاسی فوائد کے حصول کے لیے استعمال کرتے رہیں اس ضمن میں ان کی شدید خواہش یہی ہو سکتی ہے کہ اس طرح کی رکاوٹیں مسلمانوں کی طرف سے آتی رہیں ،لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مسلمانوں نے یہ رکاوٹیں لانی ہی نہیں چاہیے اگر مسلمان یہ سوچیں کہ مسجد کی آراضی سے دستبردار ہوکر یا مسجد شفٹنگ کی منطق لڑا کر ہم اس شو کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں تو ایسا بھی نہیں ہے اس طرح تو قوی امکان ہے کہ یہ لوگ رام مندر کے وعدے کی تکمیل کا شور مچاکر بہت آسانی سے اگلا الیکشن جیت جائیں گے اور پھر ہم پر مسلط ہو کر دوسری مساجد کو بھی بابری مسجد بنانے کی سعی میں جٹ جائیں گے۔

یعنی بابری مسجد کا یہ معاملہ ہمارے لیے ایک مخمصہ ( Dilemma)ہوگیا ہے کہ کریں تو کیا کریں ، جو بھی کریں اس میں مخالفین ہی کا فائدہ ہونے کا امکان ہے۔ ہمارا دوسرا اہم مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں ملکی سیاست میں بے وقعت اور غیر متعلق کر کر کے رکھ دیا ہے۔ اب وہ لوگ بھی ہماری کوئی بات نہیں کرتے جو ان کے مخالف ہیں ، جو ان کی سیاست کی مخالفت کرتے ہیں ، جو سیکولرازم کی باتیں کرتے نہیں تھکتے اور جو عدلیہ کے احترام اور قانون کی بالا دستی کی دہائی دیتے ہیں ۔یعنی اب ہم ایسی دگر گوں حالت میں پہنچ گئے ہیں کہ اسی معاملہ میں کیا بلکہ اکثریت سے تنازعہ کے کسی بھی معاملہ میں ملک کو کوئی بھی سیاسی پارٹی ہمارے ساتھ نہیں آئے گی، کانگریس تو قابل اعتماد ہے ہی نہیں جب کانگریس نے بابری مسجد کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا تو وہ اب ہمارے لیے کچھ کرے گی یہ سوچنا بھی حماقت کے سوا کچھ نہیں ۔ اب تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کانگریس اس معاملہ میں اگر ہمارا ساتھ نہیں دے گی تو کم از کم خاموش رہے گی، کانگریس اب تک خاموشی کے پر دے میں ہندوتوا کی سیاست کرتی تھی لیکن اب تو وہ اس پر کھلم کھلا اتر آئی ہے اور ہندوتوا سیاست کی شروعات ہی بابری مسجد سے ہوتی ہے سو اس ضمن میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کانگریس بہت نپے تلے انداز میں اس بازی کو بی جے پی سے چھیننے کی کوشش کرے۔بابری مسجد معاملہ میں عزت مآب مولانا سید سلمان حسینی صاحب کی بات پختہ نہیں لگتی، یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ ہماری شکست فاش ہے اور بھی بغیر لڑے،اور یہ ایک شکست پوری ملت کو نگل سکتی ہے۔ لیکن اس ضمن میں صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ہم مقدمہ لڑنے کی ہی پختہ پلاننگ کریں اور اسی پر مطمئن فیصلے کا انتظار کرتے رہیں ، اس مقدمہ میں جو بھی فیصلہ آئے گا اس صورت میں ہمارا لائحہء عمل کیا ہوگا اس کی منصوبہ بندی بھی ابھی سے ہو جانی چاہیے۔ اس کیس میں جو بھی فیصلہ آئے گا وہ ہمارے لیے کڑا ہو گا۔

 اگر اس میں ہم جیت جائیں اور عدالت بابری مسجد کی آراضی پر ہمارا حق ملکیت تسلیم کر لے تو کیا ہندوتوا کے علمبردار وہاں ہمیں مسجد بنانے دیں گے ؟ خیر اس صورت میں ہم سے زیادہ ملک کے قانون عدلیہ حکومت اور جمہوریت کی رسوائی ہو گی، لیکن اس کے بعد جو حالات پیدا ہوں گے وہ وہی ہو سکتے ہیں جو بابری مسجد کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے تھے یا ان سے بھی خراب، ان حالات کے لیے ہماری کچھ تیاری ہے؟ اسی طرح خدانخواستہ سو بار خدا نخواستہ اگرفیصلہ ہمارے خلاف آیا تو اس صورت میں ہمارا لائحہء عمل کیا ہوگا اس کی منصوبہ بندی بھی ابھی سے کر رکھنی چاہیے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔