باجماعت نماز پڑھیں، مگر فرقہ پرستوں سے ہوشیار رہ کر

صفوں میں فاصلہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جب سے لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم ہورہا ہے، اسی طرح کورونا کےمریضوں کی تعداد میں یومیہ نودس ہزار مریضوں کااضافہ ہورہا ہے۔

حکیم نازش احتشام اعظمی

باجماعت نمازوں میں صفوں کا اتصال سنتِ مؤکدہ ہے، یہاں یہ بات پہلے ذہن نشین کرلی جائے کہ یہ مسئلہ کوئی حلال حرام یا ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے یا مرتدہوجانے کا نہیں ہے۔ یقیناً احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں صفوں میںاتصال پر کافی زور دیا گیا ہے۔ مگر مسنون اعمال کو ہرجگہ واجب کی حدتک جبراً تھوپنا بھی شریعت اسلامی کے مزاج کے متغایر ہے۔ ہاں ایک بات اور، وہ یہ کہ ہم کسی مسلم مملکت کے شہری بھی نہیں ہیں کہ وقتی نزاکت کے پیش نظرکسی سنت سے احتیاط برتنے کا مشورہ دینے والی حکومت یا انتظامیہ کے خلاف احتجاج کریں، جلسے جلوس اور دھرنا پردرشن کیا جایے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم جمہوری ملک کے باشی ہیں، جہاں یرقانی قوتوں کی ساری توانائی فقط مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف بے بنیاد اور غلط پرپیگنڈے کرنے میں صرف ہورہی ہے۔ ابھی ابھی تبلیغی جماعت کو رڈار پر لے کر آرایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور دیگر فسطائی طاقتوں نے کورونا کے لیے براہ راست مسلمانوں کو ذمے ٹھہرانے میں زمین آسمان ایک کردیا تھا اورہندوتوا کاز کے لیے صحافت کرنے والے میڈیا اداروں نے جو قیامت بپاکی تھی، اس کے سارے زخم ابھی تازہ ہیں۔ لہذا یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ فسطائی قوتوں کی ملی بھگت سے حکومت ہند نے عبادت گاہوں کو کھولنے کی سازش کی ہو، اس لیے کہ انہیں مسلمانوں کی نفسیات کا ہم سے زیادہ علم ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ مسلمان جذباتی قوم ہے ایک بار اگر انہیںمساجد میں جانے اجازت دیدی گئی تو یہ قوم جوق درجوق مسجدوں کی طرف دوڑ پڑے گی۔ اور اسی بہانے فزیکل ڈسٹینسنگ کے قانون کی خلاف ورزی کا سارا الزام مسلمانوں کے سر دھر کر ملک گیر پیمانے پر انہیں مطعون کرنے کا غنیمت موقع مل جائے گا۔ ہمارے لیے دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اس وقت ملک میں سرگرم نیشنل میڈیاہاؤس کا 99 فیصد حصہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کو ہی اپنی صحافت کا محور بنائے ہوا ہے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ میڈیکل سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کورونا کا وائرس عام حالت میں دوگز سے زیادہ فاصلے پر کسی بھی کو متاثر نہیں کرسکتا، جب کہ چھنیک آنے کی صورت میں اس کےدور تک پہنچنے کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ لہذا طبا کی آرا کے مطابق بھی مناسب یہی ہے کہ فزیکل ڈسٹینس کا ہمیشہ خیال رکھا جائے۔ کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کا بس یہی ایک راستہ ہے۔ یہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ جس کے ساتھ مل کر کھڑا ہوا ہے وہ کورونا وائرس سے متاثر ہے یا نہیں، اس لیے کہ ابھی تک اس کی کوئی واضح علامت(symptoms) سامنے نہیں آسکی ہے۔ ان حالا ت میں وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ان احتیاطی تدابیر کوہی بروئے کار لایا جائے جو کورونا وائرس سے بچانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہو۔
شریعت اسلامی میں اگرچہ صفوں میں اتصال پر زور دیا گیا ہے۔ مگر کیا کوئی ازدہے، شیر یا زہریلے سانپ کے بغل میںکھڑاہوکر عبادت کرنے کا حوصلہ کرسکتا ہے۔ میرے خیال سے ایسا ہر گز نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا کورونا وائرس جو ابھی لاعلاج مرض ہے اور جس کی وجہ دنیا بھر میں یومیہ ہزاروں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں، کیا وقت کا کوئی مفتی یہ یقین دلاسکتا ہے کہ صفوں میں مل مل کر کھڑے ہوؤ، تمہیں کورونا نہیں ہوگا، اس کی ذمے داری میں لیتا ہو۔ احادیث مبارکہ میںاس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی آپس میں مل مل کر کھڑے ہوں، کندھے کو کندھے سے ملائیں، ٹخنوں کی سیدھ میں ٹخنہ رکھیں، صفوں کے درمیان خلا نہ چھوڑیں اور دوصفوں کے درمیان اتنا فاصلہ نہ چھوڑیں کہ ایک صف مزید بن سکے، اس کے خلاف کرنا مکروہِ تحریمی ہے، یہ ساری ہدایات عام حالات کے لیے تو یقیناً لازمی ہوسکتی ہیں۔ مگر وبایا طاعون کے زمانے میں اس پرمواظبت خود تعلیمات نبوی سے متصادم ہے۔ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےطاعون یا وباکے زمانے میں حفظ ماتقدم کے طور پر ہر طرح کے احتیاط برتنے کی سختی سے تعلیم فرمائی ہے۔ میں ایک بار پھر اس بات کو دوہرادوں کہ صفوں میں اتصال کی تاکید عام حالات کے دوران ہے۔ وبا ئی امراض پھیلنے کے دوران اسی عام حالات کی تاکید پر ڈٹے رہنا اور وہ بھی ایسے حالات میں جب مسلمانوں کو بدنام کرنے کے نت نئے بہانے تلاش کیے جارہے ہیں اور اس میں بھی شبہ نہیں ہے اس مرض سے بڑی حدتک محفوظ رہنے کا واحد راستہ فزیکل ڈسٹینس ہی ہے۔ کوروناوائرس کی وبا کے دوران یہ خیال بھی رکھنا ہوگا کہ یہ ایک اضطراری صورت حال ہےاور زندگی کو بچانے اور طاعون کے حملے سے محفوظ رہنے کو ہمیں بہر حالت اضطرار ہی تصور کرنا ہوگا۔ انڈو نیشیا، ملیشیا، ترکی، سعودی عرب بشمول پاکستان کے متعدد علما ء نے غالباً اسی بنیاد پر صفوں کے درمیان فاصلہ قائم کرنے کی اجازت دی ہے اور ترکی و سعودی عرب میں تو متواتر اسی پر عمل بھی ہورہا ہے۔
صفوں میں فاصلہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جب سے لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم ہورہا ہے، اسی طرح کورونا کےمریضوں کی تعداد میں یومیہ نودس ہزار مریضوں کااضافہ ہورہا ہے۔ لہذا عبادت گاہوں کا کھولنا حکومت کی کسی گہری سازش کی غمازی کررہا ہے۔ معاشرہ کے ارباب حل وعقد یہ اندیشہ ظاہر کررہے ہیں کہ کہیں اس کے پیچھے مسلمانوں کو دوبارہ بدنام کرنے کی کوشش نہ کی جارہی ہو۔ لہذا ہم مساجد میں باجماعت نمازضرور پڑھیں، لیکن سوشل ڈسٹینس بناکے، اس کی ایک جائز شکل یہ بھی ہے کہ ایک مسجد میں دو تین بارجماعت بنالی جائے، اسی طرح ہرمسجد میں جمعہ ہواور دو دو تین بار جمعہ کی نماز ہو، تاکہ سوشل ڈسٹینس کی خلاف ورزی نہ ہو اور نمازکی ادائیگی بھی ہوجائے۔
امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اگر دوسری جماعت پہلی جماعت کی ہیئت پر نہ ہو، یعنی محرابِ مسجد سے ہٹ کر کسی اور جگہ ادا کی جائے تو مکروہ نہیں ہے۔ کورونا کے موجودہ ماحول میں اگر مسجد میں تمام نمازیوں کے بہ یک وقت نماز ادا کرنے پر پابندی ہو تو تھوڑے تھوڑے وقفے سے کئی جماعتیں بلا کراہت کی جاسکتی ہیں۔ لہذا ہم مسلمانوں کے لیے ان لاک ڈاؤن(Un Lock Down-1)انتہائی آزمائش اور مصلحت پسندی کا مرحلہ ہے۔ یہ کوئی حلال، حرام یا ایمان کے ضائع ہوجانے جیسا مسئلہ نہیں ہے کہ جذبات کی رو میں بہنے کی غلطی کی جائے اور بعد میں حکومت اور فسطائی قوتوں اور پولیس انتظامیہ کے عتاب کا شکار بھی ہمیں ہی بننا پڑے۔ لہذ اس وقت کسی بھی صورت میں مصلحت انگیزی اور حالات کی سنگینی سے لاپرواہی برتنا ہمارے لئے سود مند نہیں ہوگا۔

تبصرے بند ہیں۔