جمہوریہ ہند میں ہادیہ کی شخصی آزادی؟

اسجد عقابی

جمہوریت کے معنی کو اگر لفظ واحد میں بیان کیا جائے تو (شخصی آزادی) بہت مناسب اور بہتر ترجمانی ہے، کیونکہ جمہوریت میں ہر کسی کو اپنے تئیں مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے، علاقہ اور ملک کے اعتبار سے کچھ تفاوت ضرور ہے، مثلا جو جمہوریت امریکہ میں ہے وہ ہمارے ملک میں نہیں ہے، وہاں ہتھیار وغیرہ کی خرید و فروخت غیر قانونی نہیں ہے، جبکہ ہمارے یہاں اس کیلئے باضابطہ لائسنس کی ضرورت پڑتی ہے، بائع کیلئے بھی اور مشتری کیلئے بھی، گرچہ یہ تفاوت معیوب نہیں ہے، علاقہ کی ضرورت کے اعتبار سے یہ ناگزیر ہے، اسی طرح ایک مسئلہ ہے تبدیلی مذہب اور بین مذہبی شادی کا، مغربی ممالک میں تبدیلی مذہب کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، اور مذہب تبدیل کرنے والے کیلئے کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہے، کیوں کہ اس کا تعلق براہ راست انسان کی شخصی آزادی سے ہے، بلکہ اگر افریقی ممالک کو دیکھا جائے تو وہاں یہ بات زیادہ عام ہے، ایک ہی گھر میں ایک بھائی مسلمان ہے دوسرا عیسائی اور تیسرا کسی اور مذہب کا ماننے والا، اور یہ سب باتیں عام کا معمول ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، اسی چیز کو اگر ہمارے ملک ہندوستان میں دیکھیں تو یہاں بھی تبدیلی مذہب اور بین مذہبی شادی کا رواج ہے، یہ رواج کب سے ہے تو اس کا مختصر سا جواب یہ ہوگا کہ جب سے مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ رہنے لگے ہیں، کچھ لوگوں کی نظر میں اسے کچھ معیوب ضرور سمجھا گیا ہے لیکن باضابطہ اس کی مخالفت میں کوئی تحریک یا مظاہرہ وقوع پذیر نہیں ہوا ہے.

گزشتہ چند سالوں کے درمیان چند ایسے واقعات ضرور رونما ہوئے ہیں جو کہیں نہ کہیں شخصی آزادی کیلئے مانع ہے.

گزشتہ کئی مہینوں سے ہادیہ نامی میڈیکل کی طالبہ کا مسئلہ معمہ بنا ہوا ہے، ہادیہ ایک عاقل بالغ آزاد اور خود مختار دوشیزہ ہے، اسے مذہب اسلام میں دلچسپی پیدا ہوئی، چنانچہ اس نے اسلام قبول کرلیا، اور ایک مسلم نوجوان کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئی.

یہ تاریخ ہند کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں کسی نے مذہب تبدیل کرنے کے بعد شادی کرلیا ہو یا کم از کم صرف مذہب تبدیل کیا ہو، ہندوستانی دستور کے معمار بھیم راؤ امبیڈکر نے بھی بدھ مت کو اپنایا تھا، تاریخ ہند کے عظیم بادشاہ اشوکا نے ہندو مت چھوڑ کر بدھ ازم کو اپنایا تھا، لیکن ان باتوں کو کبھی ایشو نہیں بنایا گیا ہے، موجودہ دور میں بھی ایسے بے شمار سیاسی اور غیر سیاسی افراد ہیں جنہوں نے بین مذہبی شادی کو اپنایا ہے، ابھی کچھ دنوں قبل ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی ظہیر خان نے بین مذہبی شادی کو اپنایا ہے. لیکن ان باتوں کو ایشو نہیں بنایا گیا ہے.

ہادیہ نامی دوشیزہ کے معاملہ میں دو باتیں ایسی وقوع میں آئی جو ملک ہندوستان کے مزاج کے بالکل خلاف ہے، (1)غیر ایشو کو ایشو بنایا گیا (2) سپریم کورٹ کے جج کا شوہر کی سرپرستی میں دینے سے انکار.

ہادیہ کے والدین نے ہر طرح کوشش کی کہ کسی طرح ہادیہ دوبارہ ہندو ازم کو اپنا لے، پنڈتوں کے ذریعہ سناتن دھرم کی باتیں ذہن میں بٹھانے کی کوشش کی گئی، الزام لگایا گیا کہ ہادیہ کو ورغلایا گیا ہے، اسے لالچ دی گئی ہے، جس کے نتیجہ میں عدالت نے باضابطہ این آئی اے کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا، احتجاج کئے گئے، غیر معمولی طریقہ پر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی، لو جہاد کی عجیب اصطلاح رائج کی گئی، پورے کیرل میں نہیں بلکہ ملک میں اسے خواہ مخواہ بنایا گیا.

دراصل ہمیں یہ بتانا مقصود ہے کہ ہادیہ کے معاملہ میں عدلیہ کا نظریہ کیا رہا ہے، جب ہادیہ کو سرپرست منتخب کرنے کیلئے کہا گیا تو اس نے اپنے شوہر کو چنا، اور بات فطری ہے، ہر شادی شدہ عورت کی ذمہ داری اس کے شوہر کی بنتی ہے، عورت خود کو شوہر سے زیادہ محفوظ کہیں اور تصور نہیں کرسکتی ہے.

ہمارے ملک ہندوستان میں چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم شادی کے بعد لڑکی مکمل طور پر اپنے شوہر کی ذمہ داری میں چلی جاتی ہے، اور یہ بنیادی وجہ ہے کہ ہمارا پورا ملک جہیز جیسی قبیح شیئ کا شکار ہے، کیونکہ والد کی وراثت سے لڑکیوں کو حصہ نہیں دیا جاتا ہے، بلکہ یہ بات زیادہ عام ہے کہ جو کچھ بھی بیٹی کو دیا جاسکتا ہے وہ شادی کے موقع سے ہی دے دیا جائے، اور اگر کوئی لڑکی بعد میں اپنے حق کا دعوی کرے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اسے لعن و طعن سہنے پڑتے ہیں، مذہب سے قطع نظر یہ رواج ہمارے ملک کی پہچان بن چکا ہے، اگر شادی شدہ عورت بیمار ہوجائے یا اسے کوئی پریشانی ہو تو اس کے علاج اور دیگر ضروریات کیلئے شوہر سے کہا جاتا ہے، شوہر اگر اسے پورا نہ کرے تو پورے سماج کی نظر میں اسے ذلیل اور کمتر سمجھا جاتا ہے، سماج کا کوئی بھی طبقہ عورت کے والدین کو اس کے شوہر کے بالمقابل ذمہ دار نہیں سمجھتا ہے.

یہ تو ہمارے معاشرہ اور ملک کی صورت حال ہے، جہاں تک بات مذہب اسلام کی ہے تو اسلام نے شوہر کو عورت کا ذمہ دار اور سرپرست قرار دیا ہے، شادی کے بعد تمام طرح کی خارجی اور مالی ذمہ داریاں شوہر کے سپرد ہے، اور عورت کو گھر کی ملکہ قرار دیا ہے، چنانچہ اگر کسی فرد میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنی بیوی کو گھر اور نان و نفقہ دے سکے تو اسلام نے ایسے شخص کیلئے حکم دیا ہے کہ وہ کثرت سے روزہ رکھے، شادی نہ کرے، اسلام شادی کی اجازت انہی مرد حضرات کو دیتا ہے جو ذمہ دار بننے کے ساتھ ساتھ اسے نبھانے کی بھی طاقت رکھے، اور یہ اہل اسلام اور علماء اسلام کے نزدیک متفقہ فیصلہ ہے اس میں کسی طرح کی کوئی کمی و زیادتی کی گنجائش نہیں ہے.

اب ہم دوبارہ جج صاحب کی بات کا جائزہ لیتے ہیں، جج صاحب نے کالج کے پرنسپل کو ہادیہ کا ذمہ دار قرار دیا ہے، باوجودیکہ وہ اس بات کیلئے راضی نہیں تھی، وہ بحیثت سرپرست اپنے شوہر کو چاہتی تھی، جب کہ اس کا دعوی بالکل درست تھا، پھر ایسا کیوں نہیں ہوا ؟اور پھر ایک عاقل بالغ آزاد شادی شدہ لڑکی کا سرپرست اس کے شوہر کے علاوہ اور کوئی کیسے ہوسکتا ہے؟ شادی تو جنم جنم کا سنگ ہے، دکھ، درد، تکلیف، آلام و مصائب ہر طرح کی پریشانی میں ساتھ دینے کے عہد کا نام ہے، پھر معلوم نہیں کیسے اور کیوں ہادیہ کی شادی کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی، اسے گیارہ مہینہ سے اپنے شوہر سے دور رکھا گیا ہے، ارباب حکومت ایک جانب مسلم عورتوں کے حقوق کی باتیں کرتی ہیں اور دوسری جانب ایک مسلم دوشیزہ کو اس کے شوہر سے دور کیا جاتا ہے.ایسی صورت میں کم از کم ہمیں یہ پوچھنے کا اختیار تو ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ کہیں نہ کہیں کسی کی شخصی آزادی پر قدغن لگایا جارہا ہے، اس کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر ایسا ہے تو پھر جمہوریت کا معنی کیا رہ جائے گا؟

تبصرے بند ہیں۔