دینی مدارس میں سائنسی علوم کی بنا ڈالنے کی پکار

سید منصورآغا

گزشتہ ہفتہ 27و 28فروری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے’ مرکزفروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند‘ کے تحت ایک دوروزہ مشاورتی کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا، ’دینی مدارس میں سائنس کی تعلیم‘۔ اس کا پس منظریہ ہے کہ بعض اہل مدارس کی طلب پر جناب سید حامد کے دورمیں مسلم یونیورسٹی میں دینی مدارس کے فارغین کے لیے مخصوص کورسز میں داخلے کی گنجائش پیداکردی گئی تھی۔مولانا آزاد یونیورسٹی کا تو قیام ہی اسی لیے ہوا تھا کہ مدارس کے فارغین کے جدید علوم پڑھنے کا موقع ملے۔جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دیگریونیورسٹیوں نے بھی ان پراپنے دروازے کھول دیے اوریہ تجربہ کامیاب رہا۔مسلم یونیورسٹی میں جنرل ضمیرالدین شاہ کے دورمیں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ ڈاکٹرراشد شاز کی سربراہی میں یہ مرکز قائم ہوا اوراس کے تحت فارغین مدارس کے لیے ’برج کورس‘جاری ہوا۔اس کا مقصدان طلباء میں انگریزی زبان، عمرانیات، تاریخ وغیرہ کے اعلیٰ کورسوں میں داخلہ کی اہلیت کو ابھارنا قرار پایا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران اس کی فتوحات اورقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔چنانچہ اب توجہ سائنسی موضوعات میں داخلوں پرجمی ہے۔ یہ مشاورت اسی ضمن میں منعقد ہوئی۔

شرکت کے لیے جن بڑے اداروں کو مدعو کیا گیا تھاان میں سے اکثر کی نمائندگی نہیں ہوسکی۔ البتہ بڑی تعداد میں نوجوان فارغین نے شرکت کی، جس سے اکتشافی علوم میں ان کی دلچسپی کا پتہ چلتا ہے۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مدارس کے طلباء میں بھی ایسی ہی دلچسپی ہوگی۔ ان کے رجحان کو پروان چڑھانے کی تدبیرسے ان کی صلاحتیں نکھرسکتی ہیں اوروہ ملت کا اہم اثاثہ بن سکتے ہیں۔ افتتاحی اجلاس اوردیگراجلاسوں میں مدارس کی بعض ممتاز نمائندہ شخصیات اور جدید علوم کی اہمیت پر نظررکھنے والے اہل فکرونظر کے خیالات سے استفادہ کا موقع اس کالم نویس کو بھی ملا۔افسوس کہ ہماری دیگرمجلسوں کی طرح اس میں بھی دائیں بائیں کی باتیں بہت ہوئیں۔ ان کی اہمیت مُسلّم، مگرخلط مبحث کا نقص اصل موضوع کوغبارآلود کردیتا ہے۔

مدارس کا مقصد:

ایک اجلاس کی صدارت راقم کو بھی تفویض ہوئی۔ بفضل الہٰی جو باتیں کہنے کی توفیق ہوئی ان کی پذیرائی ہوئی۔ بات یہاں سے شروع کی گئی کہ ہر تعلیمی ادارے کا نصاب اس کے مقصد اور موضوع کی مناسبت سے طے ہوتا ہے۔ اس لیے یہ غور کرلینا چاہیے کہ مدارس کا مقصدِ وجود کیا ہے؟ ایک نظریہ ہے کہ ہمارے ملک میں 3 لاکھ سے زیادہ مساجد اورکم وبیش اتنی ہی تعداد میں مکتب اورمدرسے ہیں۔ چھ لاکھ اڑتیس ہزارگاؤوں اورآٹھ ہزار سے زیادہ قصبوں وشہروں میں مسلم آباد ہیں۔ ہمیں مساجدکے لیے امام ومؤذن صاحبان، مدارس کے لیے بڑی تعداد استاذہ اور ہربستی میں ایسے افرادکی ضرورت جو دین کی بنیادی معلومات رکھتے ہوں اور اسلامی اخلاق کی تلقین کرسکیں۔ موت و زندگی، شادی وغمی وغیرہ کے موقعوں پر شریعت کے مطابق مراسم کی ادائیگی کراسکیں۔ کچھ مفتی وغیرہ درکار ہیں۔ مدارس کا نصاب ان ضرورتوں کوپوراکرتا ہے۔ اس میں دیگرمضامین شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمام مدارس کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں ہوتے کہ وہ عصری علوم کو نصاب میں شامل کرلیں اورکورس کی تکمیل کی مدت کو بڑھادیں۔

اس مشاورتی جلسہ کے افتتاحی اجلاس میں مدرسۃ الاصلاح سرائے میر کے فاضل استادمولاناعمراسلم اصلاحی صاحب نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ مدارس کے پیش نظر تین مقاصد ہوتے ہیں۔ اول طلباء میں دین کی معرفت پیدا کرنا جس میں قرآن اورسنت کی معرفت اول ہے۔ دوسرے علم دین کا تحفظ اورتیسرے اس کی اشاعت۔یہ جامع نظریہ ہے۔ہم نے اس کی تو ضیح پر توجہ دلائی اور عرض کیا کہ قرآن کریم میں کوئی چھ ہزارآیات ہیں۔ ان میں ’آیات ا لاحکام‘ کی تعداد تقریباًپانچ سو ہے۔ عبادات، اخلاقیات، معاشرت ومعیشت، وراثت، جرم و سزا، نکاح وطلاق وغیرہ سے متعلق احکام کا استخراج انہی پانچ سوآیات سے ہوتا ہے جن کا مطالعہ مدارس کے نصاب کا اہم جزو ہے۔ان کے علاوہ قرآن میں ان آیات کی تعدادجن میں مظاہر فطرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ان آیات سے دوگنی تقریباً ایک ہزارہے۔ چھ سوآیات میں اللہ کی ان نشانیوں پر غوروفکر کی ہدایت ہے جو ہمارے وجود میں اور گردوپیش میں بکھری ہوئی ہیں۔ ایک بڑی تعداد ان آیات کی ہے جن میں سابقہ اقوا م کے قصّے اور ان کے انجام کا اجمالی ذکر ہے۔ہماری سمجھ یہ ہے کہ قرآن کی معرفت حاصل کرنے کے لیے ’آیات الاحکام‘کے ساتھ ان آیات پر بھی اسی طرح گہرائی سے غوروفکر لازم ہے جن میں مظاہر فطرت کا اور تاریخی قصص کا بیان ہے۔ چہ جائیکہ ان سے اجتناب کو عین تقاضائے دین سمجھ لیا جائے۔

چنانچہ علوم کی جن شاخوں کا موضوع مظاہرفطرت اوران کا نظام ہے، جیسے طب وجراحت، طبیعات، حیاتیات،مختلف مادے اوران کے تغیرات (علم کیمیا)، معاشرت ومعیشت، نفیسات، تمدن و تاریخ، جغرافیہ، فلکیات اور علم ہندسہ وغیرہ کو نصاب میں شامل کیے بغیربکمال قرآن کی معرفت حاصل نہیں کی جاسکتی۔گزارش ہے کہ ارباب مدارس اس پہلوپر غورفرمائیں۔ مدارس کا سارا نظا م اللہ کے توکل پر چلتا ہے۔ اسی توکل پرقدم بڑھائیے، اس کی نصرت آئیگی۔ خاص طورسے جن جامعات کا بجٹ کروڑوں میں ہے، ان کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ اپنے طلباء کو ان علوم سے آگاہی کا نظم فرمائیں۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ طلباء سندفراغت سے پہلے کم از کم ہائی اسکول ؍انٹر کا امتحان پاس کرلیں تاکہ وہ عصری تعلیمی اداروں کے طلباء کے مقابلے بہتر، منظم اورپاپند شریعت افرادی قوت بن سکیں۔ اگران کی مدّت فراغت میں کچھ اضافہ کرنا پڑے توکیا جانا چاہیے۔

بڑی دشواری:

اس راہ میں دشواریو ں کے سدباب کی ضرورت ہوگی۔سب سے بڑی دشواری اس ذہن کی وجہ سے آتی ہے جس نے ان علوم کے حصول کو، جن کو ہم اکتشافی یا جدید علوم کہتے ہیں، خارج ازدین سمجھ لیا۔ اس تقسیم کی ہرگز کوئی دینی بنیاد نہیں۔ اب کیونکہ یہ بات عرصہ سے ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہے، اس لیے صبروتحمل کے ساتھ کونسلنگ کی ضرورت ہے جس کی طرف مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی مدظلہ نے اپنے وقیع خطاب میں توجہ دلائی۔ ان کا یہ مشورہ اہم ہے کہ ارباب مدارس کے ساتھ مشاورت جاری رہنی چاہیے۔جس طرح اس خیال کی شدید مخالفت کی جاتی رہی ہے، بات سمجھ میں آجانے کے باوجود، انقباض دورہونے اورسازگاری پیداہونے میں وقت لگے گا۔حکمت اور دلجمعی کے ساتھ مختلف سطحوں پررابطہ کا سلسلہ جاری رہا تویقین ہے کہ ایک دن نتیجہ خیزثابت ہوگا۔

معیار تعلیم:

توجہ بڑے مدارس کے معیار تعلیم پر بھی دلائی گئی۔ اگرچہ ان کا ذریعہ تعلیم عربی ہے،لیکن فارغین کی اکثریت عربی لکھنے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم رہتی ہے۔ عربی صرف ونحو تو پڑھتے ہیں مگراردو کا املااورقواعدمیں کمزوری پائی جاتی ہے۔معانی پر بھی نظرنہیں ہوتی، الفاظ کابے محل استعمال ہوتا ہے۔مثلا حادثہ اورواردات میں اورعرضی وعرضداشت میں فرق۔ مضمون نویسی (اپنے مافی الضمیر کو ضبط تحریر میں لانے )کی صلاحیت خال خال ہی پیدا ہوپاتی ہے۔حالانکہ اسلام پر اعتراضات اوراُن کے مدلل جوابات سے ذہنوں کو روشن کرنے کے لیے عربی پر دسترس کے ساتھ انگریزی پر بھی گرفت اہم ہے۔ہمارے جو فارغین مدارس یہ صلاحیت پیدا کرلیتے ہیں، ان پر علم ودانش کے ساتھ خدمت علم واسلام اورمعاش کی بہت سی راہیں کھل جاتی ہیں۔

چند تدابیر:

جس طرح عصری تعلیم گاہوں کے سبھی فارغین اپنے مضمون میں کمال حاصل نہیں کرپاتے، اسی طرح مدارس کے سب فارغین بھی مقرر،مصنف، مفسر، محدث، مفتی یافقیہ نہیں بن جاتے۔ مدارس میں اگرجدید علوم کا نظم ہوگیا تویہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ ان میں الخوارزمی، فارابی، البِیرونی،ابن حیان اور ابن رشد جیسی شخصیات کی لائن لگ جائیگی۔البتہ یہ توقع کی جاسکتی کہ وہ بہتر رسرچر اوراسکالر بن سکتے ہیں۔ ابتدا میں مطمح نظر یہ ہونا چاہیے کہ جس طالب کا رجحان ان علوم کی طرف ہے،اورذہانت بھی ساتھ دیتی ہے، وہ دینی علوم سے آراستگی کے ساتھ ادھر آئے۔ اورزندگی کے مختلف شعبوں میں مثال بنے۔ایسے لوگ ہی اپنے کردارسے دین کی دعوت کا حق اداکرسکتے ہیں جو جدیدوقدیم کے اپنے علم سے دوسروں کے ذہنوں کوتشفی فراہم کرسکیں۔ اور یہ مدارس کے ان مقاصد کی تکمیل ہوگی جن کومولانا عمراسلم دام برکاتہ نے’ تحفظ دین‘ اور’اشاعت دین‘ کہاہے۔ اس لیے دوران گفتگویہ تجویز پیش کی گئی کہ منتخب طلباء کے لیے پرسنلٹی ڈیولپمنٹ کے مختصرمدتی کورسزچلائے جائیں، جیسے دہلی میں انڈیا اسلاملک کلچرل سنٹر میں چلائے جاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایجوکیشن سے جڑے ہوئے خوشحال عصری ادارے فارغین مدارس لیے سائنسی موضوعات میں برج کورس کے طرز کے کورسز چلائیں تاکہ وہ یونیورسٹیوں میں جذب ہوسکیں۔ جہاں تک چھوٹے مدارس کا تعلق ہے، جن میں سے بیشتر بس چند افراد کے لیے معاش کا ذریعہ ہوتے ہیں، ان سے اس طرح کی فتوحات کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔ البتہ ملت کے فکرمند افراد ان میں باصلاحیت طلباء کی نشاندہی (talent hunt) کرکے ان کے لیے الگ سے مخصوص کورسز کا اہتمام کریں۔

پایان گفتگو جنا ب سید حامد کا ایک قول نقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرفرد سابقہ نسلوں کا مقروض پیداہوتا ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کچھ نہ کچھ قرض اتارکرجائیں۔ مثلاًہم روشنی کے لیے بلب جلاتے ہیں، مویشی کی پشت کے بجائے ٹرین، کار اورجہازپرسفرکرتے ہیں۔ مواصلات کے لیے فون اورہواکے لیے پنکھے اوراے سی وغیرہ۔یہ سابقہ نسلوں کی محنت کافیض ہے۔ ہمارا فرض ہے اس دنیا سے جائیں تو اسے اس سے بہترچھوڑ کر جائیں جس میں ہم آئے تھے۔ اوریہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم اپنی تمام ترصلاحیتوں کو کام میں لاکر کچھ اچھا کرجائیں۔ اس قرض کی ادائیگی دینی علوم سے آراستہ اورجدید علوم پر دسترس رکھنے والوں سے زیادہ بہتر اورکون کرسکتا ہے!

ناسپاسی ہوگی اگرمادرعلمی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے دیدہ ورارباب حل وعقد کو اس مشاورت کے لیے مبارکباد نہ دی جائے اورشکریہ نہ ادا کیا جائے۔ مشاورت کے روح رواں پروفیسرراشد شاذ کا خطبہ صدارت سنا تو یہ شعریادآیا۔

میں خیال کہنہ کے پیرہن کو ایک نئی تراش خراش دوں
لغت جدید کے ذیل میں کوئی دے تو میری مثال دے

نظم کی کچھ خامیوں کے باوجود مجالس میں خوب گہما گہمی رہی اوراوپن ہاؤس میں نوجوان علماء وعالمات کی حصہ داری بڑی حوصلہ افزا رہی۔ احمد فرازؔ کے الفاظ میں :

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا

تبصرے بند ہیں۔