یہ شر انگیزی ناقابل برداشت ہے!

l                    منصور قاسمی   ریاض سعودی عرب

    آزادیء اظہار رائے ، حقوق انسانی ،امن و سلامتی اور ان جیسے خوبصورت  اوردلکش جملے آپ نے سنیں ہوں گے، ان جملوں کی تعریف مغربی ممالک نے اپنے لیے الگ متعین کر رکھے ہیں جبکہ مشرقی ممالک خصوصامسلمانوں کے لیے الگ ۔اقوام متحدہ نے اظہارء رائے کی آزادی کا کوئی حد متعین نہیں کیا ہے ؛لیکن آزادی اظہارء رائے کے نام پرجس قدر طوفان بدتمیزی اور گستاخیاں مغربی ممالک کررہے ہیں ،حقوق انسانی کے نام پر جس طرح انسانیت سوزعمل اور استحصال کررہے ہیں ،امن و سلامتی کے نام پر معصوموں کا بے دریغ خون بہا رہے ہیں ، تاریخ نے کبھی اس سے قبل نہیں دیکھا ہے۔مغربی ممالک میں اظہار رائے کی آزادی کا مطلب ہے مشرقی ممالک کے لوگ ان کے صدور، ان کے وزاراء اعظم بلکہ ان کے منسٹرپربھی اف تک نہ کریں ؛کیونکہ یہ توہین و تذلیل اور ذاتیات پر حملہ ہے لیکن وہ مشرقی ممالک کے صدور اور  وزراء اعظم کو نوک پر رکھ سکتے ہیں، شاہ دو جہاں ﷺ کے خلاف بدگوئی کر سکتے ہیں؛ کیونکہ یہ ان کے لیے آزادیء اظہار رائے ہے ۔

    گزشتہ دنوں فرانس میں ایک تازہ ترین واقعہ پیش آیا ؛ ایک ۱۸ سالہ طالب علم نے اپنی معلمہ کو اس لیے حملہ کر کے ہلاک کر ڈالا کہ وہ باربار بنی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکے دکھا رہی تھی ، الزام ہے کہ برہنہ تصویر دکھا کر ان کو بنی ﷺ کہہ رہی تھی ، یقینا طالب علم کو قتل جیسا اقدام نہیںکرنا چاہیے تھا ؛لیکن ایک معلمہ جس کے اوپربچوں کے مستقبل سنوارنے کی ذمہ داری ہوتی ہے ،جس کو محبت و الفت کا درس دینا فرض ہوتاہے، وہ بار بار نفرت انگیز حرکت کیوں کررہی تھی ،وہ تعصب کیوں پھیلا رہی تھی ؟ ایک نو عمر اور جذباتی بچہ نے غلط کام کیا تو نام و نہاد مہذب دنیا اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون ’’ اسلامی دہشت گرد ،،کہہ کر واویلا مچارہے ہیں لیکن دماغی دہشت گرد اور ذہنی قاتلہ پر کوئی انگشت نمائی نہیں کررہا ہے ،آخر یہ دوغلا پن کیوں ؟اگر وہ طالب علم ٹیچر کے قتل پر مجرم ہے تو ٹیچر بھی ذہنی قتل کی مجرمہ ہے !!ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس واقعہ کو فرانسیسی صدر سنجیدگی سے لیتے ، تمام کمیونٹی کے لوگوں کو یکجا کرتے ؛اتحاد کی باتیں کرتے مگر انہوں نے سرکاری عمارتوں اور شاہراؤں پر حضور پاک علیہ الصلاۃ والتسلیم کے گستاخانہ خاکے لگانے کا حکم صادر کر کے جلتی آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ۔تاریخ شاہد ہے کہ سرکار دوجہاں ﷺر نے جب کوہ صفا پر چڑھ کر کہا کہ ’’اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ،،،، تو اپنے اور بیگانے سب ہی دشمن بن گئے ،چچا ابو لہب نے مارنے  کے لیے پتھر اٹھایا اور بد تمیزی کی ، اپنوں نے راہیں الگ کر لیں ، پھر وہ وقت آیا کہ جان سے مارنے کی سازشیں ہونے لگیں ،کفار مکہ توہین و تذلیل کرتے رہتے مگر ’’ خدا جسے رکھے اسے کون چکھے،،آج نبی ﷺ کے ماننے اور ان پر جان دینے والے ڈیڑھ ارب سے بھی زیادہ عاشقان ہیں ۔ یوں تو ابتداء اسلام سے ہی بنی کے خلاف گستاخیوں کا سلسلہ چلا آرہا ہے تاہم نائن الیون کے بعد اس میںشدت آ گئی ہے اور مغربی دنیا اس میں سر فہرست ہے ۔ آیئے توہین رسالت کے کچھ واقعات پر نظر ڈالتے ہیں!

    (۱)امریکی چینل فاکس نیوز ۱۸ میں بیٹھ کر ایک جنونی نام نہاد مذہبی رہنما جیری فال فویل  نے نہ صرف اسلام کے متعلق انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی بلکہ رحمت للعالمینﷺ کو دہشت گرد تک کہا (۲)دسمبر ۲۰۰۲ میں نائیجیریا کے ایک اخبار ’’دس ڈے،،نے مقابلہ ء حسن کے حوالے سے ایک ایسے مضمون کو شائع کیاجس میں نبی اکرم کے خلاف ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے گئے تھے ، اس مضمون کی وجہ سے نائیجیریا میں بھیانک فساد پھوٹ پڑاتھا ، پر تشدد مظاہرے ہوئے تھے جس کی وجہ سے دو سو سے زائد جانیںچلی گئی تھیں (۳)۲۰۰۴ میں ہالینڈ کے فلمساز تھیون وان گو نے دس منٹ کی ایک دستاویزی فلم بنائی جس میں نبی کی ذات مقدس اور اسلام کے نظام عفت و عصمت پرتنقید کی (۴)ستمبر ۲۰۰۵ میں ڈنمارک کے ایک اخبار ’’جیلنڈر پوسٹن،، نے نبیء طاہر و مطہر کے ایک درجن توہین آمیز خاکے شائع کئے، یہ خاکے ڈینیل پائیس نامی متعصب امریکی شرپسند یہودی کی اختراع تھے (۵)فروری ۲۰۰۸ میں معروف ویب سائٹ وکی پیڈیا نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرگستاخانہ  خاکے شائع کئے ، دنیا نے احتجاج کیا مگر ویب سائٹ انتظامیہ نے ہٹانے سے انکار کردیا ۔(۶)نومبر ۲۰۱۰ میں فرانس کے  ہفت روزہ میگزین ’’چارلی ہیبدو،،نے نبی رحمت کے گستاخانہ کارٹون پر مشتمل خصوصی ایڈیشن شائع کرنے کا اعلان کیا اور ٹائٹل کو انٹرنیٹ پر شیئربھی کردیا جس کی وجہ سے میگزین کے دفتر پر حملہ ہوا تھا (۷)ستمبر ۲۰۱۲ میں اسرائیلی نژاد ہالی ووڈ ڈائریکٹر نیکولا بیسلی نیکولا نے حضور ﷺ پر توہین آمیز فلم ریلیز کردی، اس فلم کو بنانے کے لیے امیر یہودیوں نے دل کھول کر چندے دیئے تھے، اس ڈائریکٹر کی پشت پناہی بدنام زمانہ پادری ٹیری جونز کررہا تھا ، ٹیری جونز وہی پادری ہے جس نے نائن الیون کی برسی پر فلوریڈا کے ایک چرچ میں قرآن کریم نذر آتش کرنے کا اعلان کیا تھا؛ حالانکہ ۲۰۱۰ میں وہ یہ بد فعلی تونہ کرسکا مگر ۲۰۱۱ میں اس نے اپنے اعلان پر عمل کر ڈالا (۸) ہندوستان میں بھی واصل جہنم ہو چکا کملیش تیواری جیسا ایک شرپسند گروہ ہے ،جو گا ہے گاہے اسلام ، مسلمان اور نبی پر بھونکتارہتا ہے،یہی گروہ ’’میں فرانس کے ساتھ ہوں ،،ہیش ٹیگ ٹیوٹر پر چلا رہا تھا ، یہ گروہ ہمیشہ اس تاک میں رہتاہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی موقع مل جائے خواہ کسی بھی ملک میںہو، یہ بھونکنا شروع کر دیتا ہے۔یہ تو بس وہ چند نمونے ہیں جو یا تو ذاتی ہیں یا کسی جریدہ اور رسالہ کے ؛لیکن کچھ ملکوں نے بھی خاتم النبیین کی غلط شبیہ پیش کرنے اور اسلام سے قریب ہو رہے لوگوں کو دور کرنے کے لیے بدتمیزیاں کی ہیں ۔ ۱۹۳۵ میں امریکہ کی سپریم کورٹ بلڈنگ میں رسولﷺ کی ایک خیالی تصویر لگائی گئی جس کے ایک ہاتھ میں قرآن ہے تو دوسرے ہاتھ میں تلوار ۔۱۹۹۷ میں نیو یارک کی ایک عدالت میں بنی ﷺ کا خیالی مجسمہ بنا کر نصب کردیا گیا تھا ۔مغربی ممالک کے کالے کارنامے یہ بھی ہیںکہ جو شخص اسلام مسلمان اور نبی پر حملہ کرتا ہے اس کو وہ ہیرو بنا دیتے ہیں ، دولت سے مالا مال کردیتے ہیں ، اپنے ملکوں میں پناہ دیتے ہیں، ملعون سلمان رشدی اور ملعونہ تسلیمہ نسرین کی مثال سامنے ہے ۔

   گوکہ اسلام ، مسلمان ، قرآن اور حضور ﷺ کے خلاف ہرزہ گوئی ، مضامین نگاری اور توہین آمیز خاکے کا یہ لا متناہی سلسلہ رک نہیں رہا ہے اور مستقبل قریب میں رکنے کا امکان بھی کم ہی نظر آرہا ہے؛ تاہم یہ بھی سچائی ہے کہ مخالفت سے اسلام مزید پھل پھول رہا ہے ، نبی کی محبت  دلوں میں اور بڑھ رہی ہے ،ناموس رسالت پر مر مٹنے کو عاشق تیار ہورہے ہیں ۔ فرانس کے صدر اور مغربی ممالک کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایک صاحب ایمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر توہین رسالت برداشت نہیں کرسکتا۔ قربان جاؤں ترکی کے صدر طیب اردگان پر؛ انہوں نے برملا فرانسیسی صدر کو اپنے دماغ کا علاج کرنے کا مشورہ دے ڈالا اور اتنی سی بات کو فرانس برداشت نہ کر سکا؛چنانچہ فرانس نے اپنے سفیر کو ترکی سے واپس بلا لیا۔ایران کے ایک اخبار ’’وطن امروز،، نے فرانسیسی صدر کا کارٹون بنا کر ’’ابلیس پیرس،، لکھ دیا تو نام نہاد آزادیء اظہار رائے کے وکلاء چراغ پا ہو گئے ، پاکستان نے بھی زور دار انداز میں احتجاج کیا ہے ، کئی ممالک نے فرانس کے مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے ؛لیکن افسوس نبی کی حرمت و عصمت پر اسلامی ممالک یکجا نہیں ہو پا رہے ہیں ، فرانس سے تعلقات ختم کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں،شایدہر کسی کو کرسی کا خوف ستا رہا ہے ۔فرانسیسی صدر کوجان لینا چاہیے کہ ان کا یہ عمل گستاخی ، بدتہذیبی، بد تمیزی،شرانگیزی اور دل آزاری ہے اور یہ مسلمانوںکے لیے ناقابل برداشت ہے ۔مسلم ممالک کے بڑے مناصب پر براجمان افراد  تو کجا ایک عام مسلمان بھی کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، اورحضرت مریم علیہ السلام کی شان میںادنیٰ گستاخی نہیں کر سکتا اور نہ ان کی تھوڑی سی توہین برداشت کر سکتا ہے، پھر اسلام مسلمان اور نبی کی شان میں کیوںمسلسل بدتمیزیاں اور گستاخیاں کی جا رہی ہیں ؟اقوام متحدہ کو چاہیے کہ اس پر بلا تاخیرپابندی لگائے تاکہ پھر کوئی طالب علم ہتھیار نہ اٹھائے اور کسی ٹیچر کا قتل نہ ہو ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا