شارٹ کٹ کی ضرورت نہیں!

مدثراحمد

یو پی ایس سی کےا متحان میں اس دفعہ مسلم امیدواروں کی نمائندگی میں جو کمی دیکھی گئی ہےوہ افسوس کامقام ہے اورجن نوجوان امیدواروں نے اس امتحان کو اپنی زندگی کامقصد بناکر کامیابی حاصل کی ہے وہ اپنے آپ میں تعریف کے قابل ہے۔مسلم نوجوان یوں تو تعلیم یافتہ ہورہے ہیں،لیکن ان کی زندگیوں میں کوئی خاص مقصد نہ ہونے کی وجہ سے یہ نوجوان کوئی خاص کارنامہ انجام دینے میں ناکام ہورہے ہیں۔بہت کم نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک مقصد لیکر آگے بڑھنے کا عزم کیاہے اور یہی نوجوان مستقبل میں مسلمانوں کیلیے اندھیرے میں اُمیدکی کرن ہیں ۔ہر سال ہزاروں مسلم نوجوان گرایجویشن حاصل کررہے ہیں ،لیکن ان کی یہ تعلیم محض ڈگری تک محدود ہوگئی ہے اور یہ کسی بھی حال میں اپنے مستقبل کو سنوارنا نہیں چاہ رہے ہیں بلکہ بے مقصد ،بےراہ اور بغیرکسی منزل کے اپنی زندگی کو ضائع کررہے ہیں۔اگر ملتِ اسلامیہ کے نوجوانوں میں ذرا برابربھی سنجیدگی آجائے اور اپنے مستقبل کوسنوارنے کیلیے وہ کمربستہ ہوجائیں تو یقیناً مسلمانوں کی جو لاچاری وبے بسی دور ہوسکتی ہے۔اکثر نوجوانوں میں یہ گِلا وشکوہ ہے کہ اِنہیں سرکاری نوکری نہیں مل رہی ہے اور سرکاری نوکری حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے۔کچھ نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری نوکری میں آخر رکھا کیا ہے؟یہی سوچ آج مسلمانوں کو زوال کی طرف لے جارہی ہے۔

نوجوان پہلے تو اس بات کو ہرگزبھی جانتے نہیں ہیں کہ سرکاری نوکری حاصل کی جاسکتی ہے اور ا س میں فائدے کیا ہیں۔خصوصاً یوپی ایس سی کے تعلق سے مسلمانوں میںعدم دلچسپی کی وجہ سے آج مسلمانوں کی نمائندگی نہ کہ برابرہوتی جارہی ہے۔واقعی میں یو پی ایس سی کے عہدوں میں کچھ نہ ہوتا تو کیا موجودہ افسران جن کی تعلیم،میڈیکل،انجینئرنگ اور ایم بی اے جیسے کورسس سے ہوئی ہو،کیا وہ پاگل ہیں جو یوپی ایس سی میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ان عہدوں پر فائز ہوئے ہیں۔مسلم نوجوان اس زمرے میں اس لیے بھی نہیں جانا چاہتے کہ پہلے تو یہاں پر سخت محنت کرنی پڑتی ہے اور دوسری بات اس میں صبرکی ضرورت ہے،مگر مسلمانوں میں تو درہم ،دینا ر اور ریال کا بھوت چڑھا ہواہے جس کی وجہ سے مسلم نوجوان اپنی گرایجویشن کے فوراً بعدیا تو گلف کا رُخ کرتے ہیں یاپھربے روزگاری کارونا روتے ہوئے اپنی زندگی کے بیش قیمتی ایام گنواں بیٹھتے ہیں۔آج ملتِ اسلامیہ کو درہم ،دیناراور ریال کمانے والے نوجوان نہیں بلکہ اپنی قابلیت کو ثابت کرتے ہوئے سرکاری شعبوں میں روزگارحاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ایک دفعہ اگر سرکاری نوکری مل جاتی ہے تو اگلے30-25 سال کیلیے ان کامعاش محفوظ ہوجاتاہے بلکہ وہ30-25 سالوں تک قوم وملت کی خدمت کیلیےمختلف طریقوں سے ہاتھ بڑھاسکتے ہیں۔

دراصل نوجوانوں کو اس سمت میں توجہ دلانے کی ذمہ داری والدین کی بھی ہے جو اپنے بچوں کو شارٹ کٹ میں نوکریاں لیکر جلد از جلد ان گھربسانے کی خواہش کرتے ہیں۔کسی بھی ڈگری کی تکمیل کیلیے تین سے چارسال کا وقفہ درکارہے،اس میں اگر ایک سال مزید بڑھاکر یوپی ایس سی کی تیاری کیلیے اپنے آپ کووقف کرلیاجاتاہے تو ساری زندگی یہ نوجوان محفوظ زندگی گذار سکتے ہیں۔اس سال حیدرآباد سے تعلق رکھنے والےایک نوجوان جن کا نام مصطفیٰ خالد ہاشمی ہے،اُن کی تعلیم ایم بی بی ایس ،ایم ڈی ہے،اس کے علاوہ وہ حافظِ قرآن بھی ہیں،مالدار گھرانے سےتعلق رکھتے ہیں،باوجود اس کے اس نوجوان نے یوپی ایس سی میں رینک حاصل کرتے ہوئےبھارت حکومت میں اعلیٰ عہدے پرفائز ہونے کا موقع حاصل کیاہے۔مصطفیٰ ہاشمی چاہتے تو دوسروں کی طرح اپنی زندگی کو سنوارنے کیلیے وہ بھی امریکہ،آسٹریلیا اور عرب ممالک کارخ کرتے ہوئے لاکھوں روپیوں کی تنخواہ حاصل کرسکتے تھے،لیکن انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کیلیے جو فیصلہ کیاہے وہ قابل ستائش ہے۔

اگر وہ ڈاکٹر بنتے تو صرف چندلوگوں کی خدمت کرتے اور محدود حلقے کیلیے باس بنتے۔لیکن یو پی ایس سی میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ ہزاروں ڈاکٹروں کے اوپرباس بن چکے ہیں اورلاکھوں لوگوں کی خدمت کرنےکا موقع حاصل کئے ہوئے ہیں۔جبکہ عام طور پر نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ کس کا کیا ہورہاہے یہ سوچنے کے بجائے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنائیں تو کافی ہے۔یقین جانئے کہ اللہ نے انسانوں کو خلیفہ بنایاہے اور ان خلیفوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے طور پر خلیفہ بنتے ہوئے اپنے حلقوں میں خدمات انجام دیتے ہیں تو ہی ان کی زندگی کا مقصد پوراہوسکتاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کیلیے شارٹ کٹ راستوں کو اپنانے کے بجائے تھوڑی مزید کوشش کو جاری رکھتے ہوئے انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کروانے کیلیے اپنے آپ کو تیارکریں تو یقیناً اس سے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں،ورنہ ہمیشہ کی طرح مسلمان چلاتے ہی رہے جائینگے اور غیر مسلمانوں پر مسلط ہوتے جائینگے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔