شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے

موت تو کورونا سے ہی بھی آنی ہے تو کیوں حق کی لڑائی لڑ کر موت کی تمنا نہیں کررہے ہیں؟

مدثراحمد

پچھلے دنوں امریکہ میں جارج فلیڈ نامی شخص کو وہاں کی پولیس نے نسلی تعصب کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتاردیاتھا، جس کے بعد امریکہ بھرمیں احتجاجی سلسلہ شروع ہوااور حکومت کو کمزور کرنے کیلئے جس حدتک احتجاج کرناتھا اُس میں بڑی کامیابی کالے لوگوں کو حاصل ہوئی، امریکہ میں مختلف مقامات پر پُر تشدد احتجاجات ہوئے، اس کی تائیدمیں دنیا بھرکے لوگوںنے بھی احتجاج کیا۔

امریکہ حکومت کے سربراہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ابتداءمیں احتجاجیوں کے مطالبات ماننے سے انکارکردیا، بعدمیں تمام اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئےقانون کو سراز نو تشکیل دینے یا ترمیم کرنے کا وعدہ کیاہے۔ یہ بات تو امریکہ کی ہوئی لیکن ہمارے ہندوستان میں مسلسل اقلیتوں پرظلم ڈھایاجارہاہے، کشمیر سے لیکر کنیاکماری، بنگال سے لیکر گجرات تک کہ مسلمان پریشان حال ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے خاص طور پر این آرسی، سی اےاے اور این پی آر کے خلاف آواز اٹھانے والے جہدکار، نوجوان لیڈران زندگی اور موت کی لڑائی لڑرہے ہیں، کیونکہ ان کے خلاف دہلی ودیگر علاقوں میں مقدمے عائد کرتے ہوئے انہیں جیلوں میں ٹھونسا جارہاہے۔ لیکن ان نوجوانوں کے حق میں آواز اٹھانے کیلئے شائدہی کہیں سرِعام بات کی جارہی ہے۔

ہندوستان کے مقابلے میں امریکہ میں کورونا سے ہلاک ہونے والے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہندوستان سے کئی گنا زیادہ حالات امریکہ میں خراب ہیں، لیکن وہاں پر جارج فلیڈ کیلئے جس طرح سے کورونا بیماری کو نظراندازکیاگیاوہ اپنی مثال آپ ہے۔ جبکہ ہندوستان میں کوروناکے خطرات یقینی ہیں، لیکن فرقہ پرستی کا وائرس جو ملک میں اقلیتوں کو ختم کررہاہے وہ کورونا سے زیادہ خطرناک ہے، ایسے میں مسلم لیڈروں، قائدین، علماء اور مسلم تنظیموں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس معاملے کو لیکر ایوانِ اقتدار پہنچتے اوراپنے حق کیلئے آواز اٹھانے والے جہدکاروںو سماجی رضاکاروں کی رہائی کیلئے حکمرانوں سے بات کرتے۔ مگر ایسا محسوس ہورہاہے کہ ملک میں این آرسی اور سی اےاے کی راتیں گئیں اور باتیں بھی گئیں۔ کل تک جو مسلم لیڈران مسلمانوں کیلئے حق کیلئے اپنے آپ کو قرباں کرنا چاہتے تھے، شہیدوں کامرتبہ حاصل کرنا چاہتے تھے، وہی مسلمان آج کوروناکے ڈر سےگھروں میں دبکے ہوئے ہیں یا پھر اپنے اہل وعیال کے معاش کیلئے دن رات ایک کررہے ہیں، اگر مسلمانوں نے اسی طریقہ کارکو اپنی زندگی کا لائحہ عمل قرار کرلیا ہے تو یہ اُن کی سب سے بڑی بد نصیبی ہوگی اور اس سے بڑھ کر بزدلی کی مثال کچھ نہیں ہوگی۔ اگر مسلمان اب بھی نہ جاگیں تو جارج فلیڈکوجیسے موت کےگھاٹ اتاراگیا، اسی طرح مسلمانوں کو ہرگلی کوچے میں موت کے گھاٹ اتاراجائیگا۔

آج جس طرح سے کورونا کی وجہ سے مرنے والے لوگوںکی لاشیں دور کھڑے ہوکر دیکھے جارہے ہیں، اُسی طرح سے کل گروہی تشدد کا شکار ہونے والے مسلمانوں کی لاشوں کو بھی پھینکا جانےلگے گا۔ اُس وقت ہم ان لاشوں کیلئے سوشیل میڈیامیں مغفرت کی دُعا مانگنے کے بجائے کچھ نہیں کرینگے ساتھ میں کچھ لوگ معاوضے کیلئے چندہ جمع کرینگے تو کچھ لوگ قرآن خوانی کرینگے۔ آج سڑکوں پراترکر یا پھر وفد کی شکل میں ایوان اقتدار جا کر این آر سی اور سی اےاے کے جہد کاروں کے حق میں آواز بلند کرنے کے بجائے آن لائن آن لائن احتجاجات کا جو شیوا کیاجارہاہے وہ ناقابل قبول  ہے۔ ذرا بتائیے کہ کون بے وقوف حکمران ہمارے فیس بک پیج کو دیکھے گا، ہمارے ٹوئیٹر اکائونٹ ٹوئٹ کریگا اور انسٹا گرام اور ٹک ٹاک پر بھیجے جانے والے ویڈیوز کو لائک اینڈ شئیر کریگا۔ جب تک شیروں کی طرح گرج سنائی نہیں دیگی، اُس وقت تک ایوان اقتدارکی نظرمیں ہم گیڈرہی رہیں گے۔

سوال یہ بھی ہے کہ آخر ہم کیوں ڈر رہے ہیں؟موت تو کورونا سے ہی بھی آنی ہے تو کیوں حق کی لڑائی لڑ کر موت کی تمنا نہیں کررہے ہیں؟۔ ٹیپوسلطان کا قول ہے کہ گیڈرکی سو سالہ زندگی سے بہتر شیرکی ایک دن کی زندگی بہترہے۔ اگر ہمارا یہی یقین ہے تو ہم کیوں شیروں کی طرح آواز نہیں اٹھا رہے ہیں؟۔ ہمارا شوق تو شہیدوں کی موت کا ہے، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا شہادت دسترخوان پر آئیگی، نہیں اس لئے ہمیں میدانِ کارمیں آنا ہوگا۔

تبصرے بند ہیں۔