ملی اداروں میں موروثیت کا بڑھتا رجحان: لمحۂ فکریہ

 امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی

اسلام نے امانت کی پاسداری پر بہت زور دیا ہے، امانت میں کسی بھی طرح کی خیانت کو ناپسند کیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے *”إن الله يأمركم أن تؤد الأمانات إلى أهلها یعنی اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچایا کرو”* امانت کے معنی میں کافی وسعت ہے، اس کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے؛ بلکہ امانت کا تعلق انسانی زندگی کے تمام شعبہ حیات سے ہے، جیسا کہ آیت میں لفظ ” *أمانات* ” کا جمع آنا، خود مشیر ہے، نیز آیت کے نزول کا پس منظر بھی اس کا مؤید ہے؛ فتح مکہ کے موقع پر اللہ کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے خانہِ کعبہ کی کنجی حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے منگوایا، حضرت عثمان نے یہ کہتے ہوئے آپ کو دیا کہ *”آج یہ امانت آپ کے حوالہ کرتا ہوں”؛* آپ خانہِ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، خانہِ خدا بتوں سے پاک کیا، شکرانہ کی نماز پڑھی، باہر تشریف لائے، حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کی خواہش تھی کہ خانہ کعبہ کی دوسری خدمات کی طرح اس کی کنجی بھی بنی ہاشم کو ملے مگر آقا صل اللہ علیہ و سلم نے ” *إن الله يأمركم….. ألآية* ” تلاوت کرتے ہوئے خانہ کعبہ کی کنجی حضرت عثمان کے حوالہ کر دیا؛ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ آیت مبارکہ *”إن الله يأمركم…… .* ” میں نے پہلی بار سنا تھا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا آیت اسی واقعہ کے ضمن میں نازل ہوا تھا؛ دیکھئے اس واقعہ میں بھی امانت جسے کہا گیا وہ کوئی مالی شئ  نہیں ہے بلکہ غیر مالی شئ "کنجی” ہے؛ (معارف القرآن ج/ص ٤٤٥/٢).

دورِ حاضر میں امانت میں خیانت عام سی بات ہے، خواہ وہ مالی امانت میں ہو یا غیر مالی میں ؛ حالانکہ حدیث شریف میں خیانت پر اتنی سخت وعیدیں ہیں،کہ ایک مومن سے اس کا تصور ناممکن ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوگا کہ آپ نے کوئی خطبہ دیا ہو اور یہ ارشاد نہ فرمایا ہو *”لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له کہ اس شخص کا ایمان کامل نہیں جس میں امانت کی پاسداری نہ ہو اور اس شخص کا دین کامل نہیں جس میں وعدہ کی پاسداری نہ ہو”* مگر کیا کہئے ہماری بے حسی کو کہ اب نہ تو قرآن کے وعدے ہم میں طغیانی برپا کرپاتے ہیں اور نہ حدیث کی وعیدیں ہماری غفلتوں کا پردہ چاک کرپاتی ہیں۔

اسلام میں عہدے، مناصب، ذمہ داریاں بھی امانت کے قبیل سے ہیں؛ اور ان امانت کی باربرداری کے لیے ذاتی قابلیت واہلیت، صلاحیت وصالحیت معیار ہے؛ محض ” *پدرم سلطان بود* ” ، ” *حسب و نسب* ” اور ” *موروثیت و اجارہ داری* ” کی بنیاد پر ان امانت کی سپردگی خیانت ہے؛ جن لوگوں پر عہدے مناصب کی تقسیم یا منتقلی کی ذمہ داری ہے، ان کا فریضہ ہے کہ اہل کو تلاش کر کے اہل کے سپرد کرے، اگر کوئی بھی ایسا نہ ہو جس میں عہدے کی اہلیت اور تمام شرائط پائ جائے تو موجودہ لوگوں میں جو سب سے زیادہ قابل اور اہل ہو اسے ترجیح دی جائے؛ اس سلسلے میں رشتہ، دوستی اور تعلق کا بالکل لحاظ نہ کرے، اگر ایسا کرتا ہے تو حدیث شریف میں اس پر سخت وعید آیا ہے، اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ *”جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو، پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض تعلق و دوستی کی بنیاد پر بغیر اہلیت کے دیدیا ہو، اس پر اللہ کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض مقبول اور نہ اس کا نفل، تا آنکہ جہنم میں داخل ہو جائے؛* (جمع الفوائد، ص٣٢٥).

 پہلے پہل اس غلط روش کا چلن حکومت و ملوکیت میں آیا، قابلیت کے بجائے موروثیت اور اہلیت کے بجائے اپنائیت کی بنیاد پر حکومت و امارت سپرد کیا گیا، بطورِ خاص مسلم ممالک میں بڑے پیمانے پر موروثیت اور اجارہ داری کا نظام برپا کیا گیا، تاریخ شاہد ہے کہ جب سے حکومت و ملوکیت میں موروثیت نے پاؤں پسارے ہیں، امت مسلمہ انتشار و افتراق کا شکار ہے، نظامِ حکومت میں ابتری و لاقانونیت کا دور دورہ ہے، عوامی مفاد کے بجائے مفاد پرستی نے جگہ لے لی ہے، عوام کے حقوق کے تحفظ کے بجائے خودی کے تحفظ نے جنم لے لیا ہے، حرکتِ عمل کے بجائے عیش پرستی کا چلن عام ہے، اپنی امارت و حکومت کی بقاء کے لیے ہر جائز، ناجائز حربے بروئے کار لائے جارہے ہیں؛ *مگر ہائے افسوس اب دینی ادارے بھی اسی روش پر گامزن ہیں، ملی و قومی اداروں ، مدرسوں ، تنظیموں اور خانقاہوں میں بھی عہدے ومناصب کی منتقلی کے معاملے میں خیانت کا بول بالا ہے، موروثیت کا غلبہ ہے، اجارہ داری عام ہے؛ ملکی، صوبائی وضلعی سطح پر جتنی بھی تنظیمیں، ادارے، مدرسے اور خانقاہیں ہیں سوائے ایکاک دو کے، ہر جگہ یہی صورت حال ہے؛ اہلیت و قابلیت، صلاحیت وصالحیت کے بجائے تعلق وتملق کو ترجیح دی جاتی ہے؛ خلوص کے بجائے فلوس کی کارکردگی دیکھی جاتی ہے، قومی وملی اثاثے کو ذاتی و خاندانی ملکیت ووراثت سمجھ کر افرادِ خاندان و وارثین میں بندر بانٹ کر دیا جاتا ہے،سالوں سال سے اپنا تن من دھن لگا کر خدمت کرنے والوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے؛ اگر کوئی آبروئے حق و صداقت کا لاج رکھتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرتا ہے تو دودھ سے مکھی کی طرح نکال باہر کردیا جاتا ہے؛* الغرض اکثر جگہ نااہل لوگ قابض ہیں اور دیمک کی طرح  قومی وملی اداروں کو چاٹ کھائے جارہے ہیں؛ نتیجتاً یہ ادارے دن بدن اپنی اہمیت و افادیت کھوتے جا رہے ہیں، اعتماد و وقار ختم ہوتا جا رہا ہے؛ یاد رکھیں کہ یہ بدچلنی جتنا دنیاوی عہدے و مناصب میں معیوب ہے، دینی معاملات میں بھی اتنا ہی معیوب ہے؛ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ *جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، ہاں تم دین پر اس وقت رونا جب نا اہل لوگ وارث ومالک ہو جائیں گے* (مسندِ احمد ٢٣٩٨٣).

دینی اداروں کی صورت حال پر واقعی رونے کا مقام ہے، مگر کون کسے سمجھائے؟ کسے قرآن وحدیث کی دُہائ دی جائے اور کون دے؟ کل تک جو علماء حکومت و ملوکیت میں وراثت کے خلاف لمبی لمبی تقریریں کرتے تھے، مضامین میں صفحات کے صفحات سیاہ کرڈالتے تھے، تحریکیں چلاتے تھے، آوازیں بلند کرتے تھے، اسی مقدس جماعت کی اکثریت آج ان سیاہ کارناموں میں ملوث ہے؛ شب وروز اسی جوڑ توڑ میں لگی ہے، ہوسِ جاہ نے عقل و دماغ ماؤف کر رکھا ہے؛ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب ان دینی اداروں و تنظیموں سے عوام کو خاطر خواہ فائدہ ہونا تو دور، خود ان سے منسلک حضرات میں بھی دین کی صحیح جھلک نہیں دکھتی سوائے چند ظاہری رکھ رکھاؤ کے؛ اور یہ کوئی الزام و بہتان نہیں ہے بلکہ اس کا مشاہدہ عام ہے، ہر دانا وبینا اس کی گواہی دے سکتا ہے، حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے تو تقریباً سو سال پہلے ہی موروثیت کے مضر اثرات دیکھ کر فرمایا تھا *اب جو خلافت و سجادہ نشینی کا طریق متعارف ہو گیا ہے کہ کبھی شیخ کی حیات میں اور کبھی بعد وفات، سلسلہ کے لوگ جمع ہو کر شیخ کے اقارب یا خدام میں سے جس کو زیادہ اختصاص دیکھا، گو وہ اختصاص دنیوی ہی ہو اور گو اس میں اس کی اہلیت نہ ہو، دستار بندی کر دیتے ہیں، یہ بالکل طریقہ کا إفساد و طالبين کی رہزنی اور عوام کی اضاعتِ دنیا ودین ہے*( شریعت و طریقت، ص ٤٢٣ مطبوعہ مسعود پبلشنگ ہاؤس دیوبند)

یاد رکھیں کہ ہمیں یعنی اربابِ حکومت اور ملی اداروں کے سربراہان کو اپنے رویے پر جلد از جلد نظر ثانی کرنے اور بدلنے کی ضرورت ہے؛ قرآن وحدیث کو اسوہ بناکر حکومت و اداروں میں اہل افراد کو لانے کی ضرورت ہے، خاندان پرستی چھوڑ کر اہلیت پرستی اپنانے کی ضرورت ہے،موروثیت کے بجائے صلاحیت کو فوقیت دینے کی ضرورت ہے،اجارہ داری کے بجائے قابلیت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، مفاد پرستی سے اوپر اٹھ کر عوامی و قومی مفادات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے، اور اگر ایسا نہیں کرتے ہیں تو بس قیامت کا انتظار کیجئے، قیامت آیا ہی چاہتا ہے، اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا *إذا وسد ألأمر إلي غير أهله، فانتظر الساعة یعنی جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کے سپرد کر دیا جائے جو اس کام کے اہل اور قابل نہ ہو تو قیامت کا انتظار کرو* (صحیح البخاری، کتاب العلم)؛

اللہ ہمیں نیک سمجھ اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین یارب العالمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


2 تبصرے
  1. سید فضل اللہ قاسمی کہتے ہیں

    ماشاءاللہ بہت عمدہ تحریر ہے اور اس وقت کی اہم ضرورت ہے
    اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ دے آپ بہت ہی اہم عنوان پر قلم اٹھایا ہے ۔
    اے کاش امت مسلمہ اس بات کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کرے

    1. امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی کہتے ہیں

      شکریہ، جزاک اللہ خیرا الجزا

      محتاج دعاء وطالب دعاء

تبصرے بند ہیں۔