پوچھنے کا حق بھی ہے!

مدثراحمد

ہندی فلم کا ایک مشہور گانا ہے کہ “باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ”۔ گانے، فلمیں، افسانے، کہانیاں یہ تمام زندگی حالات سے کسی نہ کسی طرح سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس لئے انہیں مخصوص شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔ آج ہندوستان بھر کے مختلف ریاستوں میں اوقاف کی املاک اس قدر ہے کہ اگر اس املاک کی آمدنی کا صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو یقینی طور پر ملک میں ہندوستانی مسلمان کسی کی بھیک کے مستحق نہیں رہیں گے، بلکہ ان کے اپنے کالجس بن سکتے ہیں، اپنی یونیورسٹیاں بن سکتے ہیں، ان کے اپنے اسپتال بن سکتے ہیں اور ا سکے علاوہ ان کی ملٹی نیشنل کمپنیوں تک کا قیام ہوسکتا ہے۔ لیکن سیدھی سی بات یہ ہے کہ وقف املاک کی نگرانی کیلئے ایسے لوگوں کاانتخاب کیا جاتا ہے یا جن کو ذمہ داری دی جاتی ہے جن میں اخلاص، ایمان، شفافیت اور نیک دلی کی کمی ہوتی ہے۔

لاکھوں میں ایک شخص ایسا ہوگا کہ وقف کی املاک کووقف مانتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق کام کرنے کاعزم رکھتا ہے، لیکن لاکھوں میں ایک شخص کو کھلے دل سے کام کرنے کیلئے اپنی ہی قوم موقع نہیں دیتی جس کی وجہ سے لاکھوں میں رہنے والا شخص بھی ناپید ہوجاتا ہے۔ ہندوستان بھر کے املاک کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ زمینیں ریلوے کے پاس ہیں، دوسرے نمبر پرفوج ہے اور تیسرے نمبر وقف بورڈ ہے۔ ہندوستان کے مرکزی وقف کائونسل کے پاس موجود2.1 لاکھ کروڑ روپئے کی رقم موجود ہے جبکہ ان کے پاس12 ہزار کروڑ روپیوں کی زمینیں موجود ہیں۔ 2.1 لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی کا اندازہ سال2011 میں لگایا گیا تھا اب سات سال بعد اس وقف بورڈکی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہو اہے۔ مگر اس اضافے کے باوجود آج بھی وقف بورڈ ویسے کا ویسا ہے۔

 یہ حالت صرف مرکزی وقف بورڈکی ہے بلکہ کم وبیش کے ملک کے تمام اوقافی بورڈس کے ہیں۔ اگر وقف بورڈ صحیح راہ پر چلتے ہوئے اوقافی اداروں کا استعمال کرنے لگے تو ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت اس قدر پسماندہ نہیں ہوتی، لیکن دیکھا جارہا ہے کہ ہر لحاظ سے وقف املاک اور وقف آمدنی کا صحیح طریقے سے استعمال نہیں ہورہا ہے۔ آج ہندوستان بھر میں ایسے ہزاروں طلباء موجو دہیں جو اپنے تعلیمی اخراجات کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، کئی لوگ بیماریوں کا شکار ہوکر مناب سہولت نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان تمام حالات کے ذمہ دار کون ہیں یہ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے؟

 وقف ادارہ ہندوستا ن کاآزاد ادارہ ہے اس پر مسلمانوں کی گرفت ہوتی ہے، باوجود ا سکے وقف بورڈ اور وقف اداروں پر جو لوگ براجمان ہیں ان کی نیت صاف نہ ہونے کی وجہ سے آج ہندوستان کا عام مسلمان پریشان ہے۔ جتنی جائیداداور املاک وقف بورڈ کے پاس ہے اس کے قریب قریب املاک سکھوں کے پاس بھی ہے۔ لیکن سکھوں کے پاس ان کی وقف شدہ املاک کا استعمال کرنے کاطریقہ اس قدر بہتر ہے کہ آج ہندوستان کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں تو سکھ بھیک مانگتے ہوئے دکھائی نہیں دینگے، پگڑی باندھے ہوئے لوگ دوسروں کے سامنے ہاتھ پسارتے ہوئے دکھائی نہیں دینگے۔ جبکہ ہندوستان کے ہر کونے میں کوئی نہ کوئی مسلمان بھیک مانگتے ہوئے دکھائی دیگا۔ ہماری قوم کو بھیک مانگنے کیلئے ہم خود ہی مجبور کررہے ہیں۔ وقف آمدنی کا استعمال ضرورتمند، مستحق، مریض، طالب العلم اور مقروض کرسکتے ہیں، لیکن ان تمام مستحقین کی مددکون کریگا؟

 آج کے دورمیں لوگ اپنے دو تین فٹ جگہ کسی کو دینے کیلئے تیارنہیں ہوتے، اپنے گھروں کے کرایوں کو حکومت سے طئے شدہ دس گنا کرایہ وصول کرتے ہیں، اپنے یہاں تعمیر شدہ دکانوں کا کرایہ ہزاروں لاکھوں میں ہوتاہے۔ جب بات وقف املاک کی آتی ہے تو اس کے نگران اس قدر لاپرواہ ہوجاتے ہیں کہ مانو انہیں وقف املاک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ راتو رات زمینوں، قبرستانوں، مسجدوں اور درگاہوں کی زمینوں کودوسروں کو بیچ دیتے ہیں، وقف شدہ دکانوں ومکانوں کا کرایہ ماہانہ دو تین پلیٹ بریانی کی قیمت کے برابر لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں اوقاف کے ذریعے سے لوگ کس طرح سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے۔ دراصل آج اچھے لوگ اچھائی کے میدان میں کرنے سے گریز کررہے ہیں اور برے لوگوں کومسجدوں، درگاہوں، مدرسوں اور اوقاف کے صدروسکریٹری بنا بیٹھے ہیں او ریہی لوگ یہ کہتے ہوئے گھومتے ہیں کہ ہم تو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہیں جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا تھاکہ آخری زمانے میں برے لوگ ہی اونچے عہدے پر فائز ہونگے، مسجدوں کی کنجیاں ان کے ہاتھوں میں ہونگی۔ اب بھلا ایسے لوگوں سے کیا توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کے بجائے نبی کریمﷺ کی پیشن گوئیوں کو سچ ثابت کرنے کیلئے کمر بستہ ہوچکے ہیں۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اوقافی اداروں کو نمائندگی و نگرانی کی ذ مہ داری اخلاص اور ایمانداری رکھنے والے لوگوں کو سونپیں اور اپنی گلی محلے کی مسجد ہو یا قبرستان کی زمینیں، ان کی دیکھ بھالی صحیح ہورہی ہے یا نہیں یہ دیکھا جائے۔ کیونکہ وقف املاک صرف وقف بورڈ کا نہیں ہے بلکہ عام مسلمانوں کا بھی ہے اور عام مسلمانوں کو اس تعلق سے پوچھنے کا بھی حق ہے۔

تبصرے بند ہیں۔