کون صحیح، کون غلط؟

مدثراحمد

28دسمبر2021 سے کرناٹک میں حجاب کامعاملہ شروع ہوا۔ اس معاملے میں تیزی2022 کے جنوری میں آئی،پھر مزید تیزی فروری میں آئی۔ اس پورے عرصے میں مسلم لڑکیاں اپنی جدوجہد آپ کرتی رہیں،اس میں مقامی تنظیموں واداروں کی تائید بھی رہی۔ یہ معاملہ جنوری کے دوسرے تیسرے ہفتے تک بین الاقوامی معاملہ بن چکاتھا اور میڈیا مسلم لڑکیوں کی بے بسی اور حکومتوں کی لاپرواہی کے تعلق سے دُنیا کوچیخ چیخ کر بتارہاتھاکہ بھارت میں کیاہورہاہے،وہیں بھارت کی مقامی میڈیا کا بڑا حصہ مسلمانوں کے استحصال پر آمادہ ہوچکاتھااور ہرطرف مسلم لڑکیاں ہی اس معاملے میں پریشان ہورہی تھیں۔ مگر افسوسناک پہلویہ رہاہے کہ بھارت کی نمائندہ مسلم تنظیمیں اس پورے معاملے کے بعد بھی کسی بھی طرح بیان دینے سے گریزکرتی رہی۔ لیکن اس تعلق سےجمعیۃ علمائے ہند کی ایک شاخ اُس وقت حرکت میں آئی جب مسکان نامی بچی نے فاشسٹ طاقتوں کے سامنے اللہ اکبر کے نعرے لگاکر اپنے ایمانی جذبے کامظاہرہ کیا،اس بچی نے جیسے ہی اپنے جرت کا مظاہرہ کیاتو جمعیۃ علماء ہند نے پانچ لاکھ روپئے کا اعلان کرتے ہوئے بچی کوانعام سے نوازا،اس کے بعد پہ درپہ انعامات کا سلسلہ شروع ہوا اور ہر کوئی مسکان کی ہمت افزائی کرنے کیلیے اس کے گھر پہنچا۔

دوسری جانب اُڈپی جہاں سے حجاب کی تحریک شروع ہوئی تھی،اُن بچیوں کی ہمت بڑھانے کی بات تو دور اُن کی ہمت بڑھانے کے تعلق سے بھی کسی نے پیش رفت نہیں کی۔ اب یہی بچیاں عدالت میں عرضی گذار بنی ہوئی ہیں۔ سوال یہ اٹھتاہے کہ ہماری ملی ومذہبی تنظیمیں اس قدر لاچارہوچکی ہیں کہ وہ معاملات کوبروقت سلجھانہیں سکتے؟کیا جمعیۃ علماء ہند کی تشکیل صرف انعام دینے کیلیے ہوئی ہے،جب ہم ان تنظیموں پر تنقید یا تبصرہ کرتے ہیں تو ان کے چاہنے والے اور ان میں سے بھی کچھ بھگت قسم کے لوگ سوچے سمجھے بغیر تبصرہ کرنےو الوں کوہی تنقید کانشانہ بنادیتے ہیں اور بعض تو گالی گلوچ بھی کرنے لگتے ہیں اور بعض افراد مبصرین کی ذاتی زندگی پر تبصرہ کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کاکہناہے کہ علماء پر تنقید کرنے والوں کو اردوہی نہیں آتی اور وہ اردومیں لکھ رہے ہیں۔ یہاں اردوانگریزی آتی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے،مگر اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی تنظیمیں جن کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کی قیادت کرنے کیلیے کیوں نہیں حرکت میں نہیں آرہی ہیں۔ قریب پچاس دن کےطویل عرصے کے بعد کرناٹک کے نمائندہ تنظیموں کے سربراہان نےا یک پریس کانفرنس کی اور اس پریس کانفرنس کا خلاصہ یہ رہاہے کہ انہوں نے پُر مذمت کی اور کہاکہ مسلمان ہر گزبھی برداشت نہیں کرینگے کہ کوئی ان کی شریعت پر انگلی اٹھائے،اس کے علاوہ اس پریس کانفرنس میں حجاب اور پردے کی اہمیت وضرورت بیان دیاگیا۔ پورے پچاس دن کےبعد مسلم قائدین نےمشترکہ طو رپرزبان کھولی بھی تو کیا کھولی؟۔ اپناردِ عمل بھی ظاہر کیابھی توکیا ہے؟۔ اپنے آپ کو قائدین کے طورپر پیش کیا بھی کیسے پیش کیا،یہ دیکھ لیں؟۔

اس کے ایک دن بعد مسلمانوں کا سب سے طاقتور ادارہ کہلانےوالاادارہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈنے ایک اخباری بیان جاری کیا،مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم اس مسئلے سےدستبردار نہیں ہوسکتے،تو دوسری طرف مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کیلیے اس معاملے کومدعا بنایاگیاہے،بورڈکی لیگل کمیٹی اور چند اراکین کی خصوصی میٹنگ میں کہاگیاہے کہ اس مسئلے کو سڑک پر لانے کے بجائے قانونی طریقے اور گفت وشنید(ڈائلاگس) کے ذریعے حل کیاجائے۔ مزید کہاہے کہ اگر ضرورت محسوس ہوتو بورڈ براہ راست فریق بنے گا،اگر کرناٹک ہائی کورٹ میں مسئلہ حل نہیں ہوگا تو سپریم کورٹ جائیگا۔ ان حالات میں بورڈ سے وابستہ ارکان یا ذمہ داروں کا احتجاجی ریالیوں میں شریک ہونا اور اس کی قیادت کرنا اور بورڈکی اجازت کے بغیر میڈیامیں بیان دینا،ٹی وی ڈبیٹ میں حصہ لینا مناسب نہیں ہے،ورنہ یہ مسئلہ بابری مسجد کی نوعیت اختیارکرلیگا،اس لیے فی الحال ایسے کسی عمل سے اجتناب کریں،اپنے جذبات کو قابومیں رکھیں اور دعا کا اہتمام کریں،ورنہ اس سے فائدے کی اُمید کم ،نقصان کا خطرہ زیادہ ہے۔ یہ تھا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکےمکتوب کاخلاصہ۔

ان دونوں واقعات کا تبصرہ کرتے ہوئے ہم علماء وقائدین کی تذلیل نہیں کررہے ہیں بلکہ یہ بتارہے ہیں کہ کیسے اب بھی فیصلے لیے جارہے ہیں اور کس طرح سے جہدکار کے حوصلے پست کئے جارہے ہیں،اب بھی نشستیں جاری ہیں،اب بھی تبادلہ خیال ہورہاہے،اب بھی مذمت ہورہی ہے اور اب بھی بابری مسجدکے فیصلوں کی طرح،طلاق ثلاثہ کی طرح،گائوکشی کی طرح ہونے والے فیصلوں اور قوانین کی طرح حجاب کے معاملے کے فیصلے کی بھی اُمیدکی جارہی ہے۔ کسان تحریک کو دیکھیں کہ کیسے انہوں نے اپنی تحریک کو منوایا،انہوں نے نہ تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور نہ ہی گفت شنید کو اہمیت دی۔ ایسے میں جو پُرجوش ،با ہمت او رسلیقے سے کام کرنا چاہ رہے ہیں انہیں ساتھ لیکر کام کرنے کے بجائے میٹنگ اور ایٹنگ سے وقت گذاری کی جارہی ہے،اور اگر کوئی یہ کہتاہے کہ ہم اپنے مضامین کے ذریعے سے مسلمانوں میں تفریقہ پیدا کررہے ہیں تو ہمیں یہ الزام منظورہےلیکن جس طرح سے مختلف تنظیمیں مسلمانوں کو حکمت اور احتیاط کے نام پر بزدل بنارہی ہیں،اُس سے ہمیں اعتراض ہے۔ اگر ملک میں شاہین باغ کے طرزپر احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوا نہ ہوتا تو این آر سی و سی اے اے کی جانب کبھی کے قدم بڑھ چکے ہوتے،اگر کسان سڑکوں پر نہ اترتے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے منتظر ہوتے تو انہیں ان کے قوانین سے چھٹکارانہ ملاہوتا۔ سوچئے سمجھئے، قلم ہمارے پاس بھی ہے عقل آپ کے پاس بھی ہے اور اسی مضمون میں ہم اُن بھگتوں کو کہنا چاہیں گے کہ وہ حالات کا جائزہ لیں اور کون صحیح اور کون غلط ہے اس پر بات کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔