گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

رفیع الدین حنیف قاسمی

پتھر اسی درخت پر پھینکے جاتے ہیں، جس پر پھل ہوتے ہیں، اسلام کا پودا وہ شجر ثمر باآور ہے ، جس کو مٹانا یہ خیال خام ہے ، دشمنان اسلام نے اسلام اور صاحب اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میںگستاخی کی بے انتہا کوشش کی ہے ، لیکن ہمیشہ انہیںمنہ کی کھانی پڑی ہے ، مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے ، لیکن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی ، حماقت کو وہ ہر گز برداشت نہیں کرسکتا، ساری دنیا اس بات کو جانتی بھی ہے مانتی بھی ہے ، اس وقت بھی خصوصا پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے دنیا کی سب سے عظیم ہستی جس کی عظمت کا سب کو اقرار ہے ، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں سب سے مقدس ، محترم ، معتبر شخصیت کا درجہ ان دنیا والوں نے ہی دیا ہے ، ویسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایک مومن اور مسلمان کا جزو ایمان ہے ، حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر تکمیل ایمان واحسان ممکن ہی نہیںہے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ساری دنیا کے لیے بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے اسوہ اور نمونہ ہے ، زندگی کے ہر گوشہ ایمانیات، عبادات ، مالیات، معاشرت میں آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں اسوہ اور نمونہ مل جاتا ہے ، صحیح طور پر نہ صرف مسلمان بلکہ ساری انسانیت پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات اور اسوہ ونمونہ کو زندگی کے ہر گوشہ میں اپنائے تو پھر دنیا سے فتنہ وفساد، بگاڑ وخراب، دھوکہ دہی ، جعل سازی ، ناانصافی کا خاتمہ ہوجائے ، ساری دنیا امن وآشتی کا نمونہ بن جائے ، دراصل ان پے درپے گستاخیوں کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے صاف وشفاف چہرہ ، اس کی کامل ومکمل اسلامی تعلیمات کسی کو نہیں بھاتی، خصوصا یورپین ممالک میں اسلام دشمنی ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت ،اسلامی اور ایمانی آثار سے چڑ کا عندیہ ہے ، لیکن ہوتا یہ ہے ہر دفعہ جب بھی پیغمبر اسلام کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف جہاں کہیں بھی اس قسم کی عالمی پیمانے پر دہشت گردی کا ثبوت دیا جاتا ہے ، تو لوگوں کو مزید سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جاننے اور پڑھنے کا موقع ملتا ہے ، دخول اسلام کی راہیں مزید کھلتی نظر آتی ہیں، توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخانہ کارٹونس کی اشاعت کا یہ سلسلہ اس سے قبل بھی اس فرانس شہر سے ہوا تھا، جب کہ فرانس کے میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ نے2006ء میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی تھی ، جس پر دنیا بھر میں زبردست مظاہروں کاسامنا کرنا پڑا تھا، تاہم اس کے باوجود 2011ء میں مذکورہ میگزین نے مزید گستاخانہ خاکے شائع کئے اوراس کے بعد بھی وقفہ وقفہ سے یہ سلسلہ جاری رکھا، جس پر 7؍جنوری 2015ء کو اس میگزین کے دفتر پر حملہ کر کے دو بھائیوں نے اس کے ایڈیٹر اور پانچ کارٹونسٹ سمیت 12افراد کو ہلاک کردیا ، اس واقعہ کے بعد مذکورہ بدبخت میگزین نے گستاخانہ کارٹونس اور خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ بند کردیا، لیکن سال گذشتہ سے ایک بار پھر اس میگزین نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت شروع کی ، صورتحال اس وقت بھیانک ہوگئی جب 17؍ اکتوبر فرانس کے دار الحکومت پیرس میں جب ایک ٹیچر نے اپنے اسکول میں ’’چارلی ہیبڈو‘‘ میں شائع کردہ خاکوں کو کلاس میں دکھایا، ایک 15گ، 16مسلم طالب علم نے اس ٹیچر کا سر قلم کردیا، جس کے بعد ساری دنیا میں ہنگامہ بپا ہوگیا، ایسا کیوں کر نہ ہوتا، کسی بھی مذہبی شخصیت کے سلسلہ میں خاص طور پر پیغمبر اسلام کے حوالے سے اس قسم کی گستاخی جن پر اربوں مسلمان اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہـتے ہیں، اس کو اظہار رائے کی آزادی کہہ کر کسی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ ایک قسم کی بد تہذیبی ، دل آزاری اور شر انگیزی ہے ، مسلمان تمام مذہبی شخصیتوں کا احترام کرتے ہیں، کبھی مسلمان کسی بھی مذہبی شخصیت کی بے احترامی نہیں کرتے ، عیسائیو ں اور یہودیوں کی جانب سے ہونی والی ہزاروں جنگوں کے باوجودکبھی حضرت عیسی اور موسی علیہما السلام کے خلاف کوئی ناشائستہ بات نہیں کہی گئی (ویسے تو مسلمان ان کو پیغمبر برحق مانتے ہیں، ان پر ایمان بھی اسلام کا جزء لا ینفک ہے )آج کی نام ونہاد مہذب دنیا کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ آزادی کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے ، کسی بھی عام شخص خصوصا کسی محترم ہستی کے سلسلہ میں دشنام طرازی کی جائے ، کسی کو گالی دی جائے ، کسی کی دل آزاری کی جائے ، آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ ہوتا ہے اس رائے کے ذریعہ سے سماج اور معاشرے میں امن وامان او ر بقاء باہمی اتحاد واتفاق کو فروغ ملے ، نہ کہ دنیا میں انتشار وافتراق کی کیفیت کو بڑھاوا دیا جائے ۔خود انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے فیصلہ دیا ہیہک ہمارے نبی ﷺ کی ذات اقدس سے متعلق گفتگو آزادی اظہار رائے کے زمرے میں نہیں آتی ، آزادی کے اصول کو نفرت کے فروغ کا جواز نہیں بنایا جاسکتا، مسلمان قانون آزادی کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ ان آزادیوں کو مادی فوائد کے حصول کا ذریعہ بنانے نہیں دیاجاسکتا، اس کی وجہ سے دستوری آزادیاں بے وقعت ہوجاتی ہیں، اس کی وجہ سے نفرت اور نسلی امتیاز وتفریق لازم آتی ہے ۔اب اس وقت پھر اظہار آزادی رائے کے جھوٹے دعویداروں کے اسلاموبیا مکمل ظاہر وآشکارا ہوچکا ہے ، مغرب کی در اصل یہ ماڈرن جہالت کا یہ ایک جامع ترین نمونہ ہے ، اس قسم کی نیچی اور حقیر وپست حرکات در اصل اس قسم کی ذہیت کے حامل لوگوں کے زوال اور دم توڑتی اقدار وروایات کی عکاس ہیں، اس سے بڑھ کر فرانس کے صدر ایمانیول میکرون کا بدترین حماقت کہ اس نے مقتول استاذ کی تعزیت میں منعقدۃ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم خاکے بنانا ترک نہیں کریںگے‘‘ اس نے مزید یہ بھی کہا کہ : ’’ وہ (استاذ ) کا قتل اس لیے کیا گیا کہ کیوں اسلامسٹ ہمارا مستقبل چھینا چاہتے ہیں‘‘ اس نے مزید یہ کہا کہ ’’ وہ مسلمانوں کو ایسا کرنے نہیں دیںگے ‘‘ اس واقعہ کے بعد تو سارے عالم انسانیت میں مذاہب کے احترام کے حوالے سے ایک بحث چھڑ گئی، ساری مسلمان اور خصوصا مسلم دنیا سراپا احتجاج بن گئی ، عراق ، تیونس میں فرانسیسی سفارت خانوں کے سامنے مظاہرے ہوئے ایران اور پاکستان میںفرانسیسی سفیر کی طلبی ہوئی، دنیا بھر میں فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا، ترک صدر نے فرانسیسی صدر کے دماغ کے علاج کا مشورہ دے دیا، فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ، سعودی عرب نے بھی سخت مذمتی بیان جاری کیا،خلیجی ممالک خصوصا کویت بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا، کویت ، الجزائر اور فلسطین سمیت کئی ایک ممالک میں مارکٹس اور سوپر اسٹورس سے فرانسیسی پراڈکٹس ہٹادی گئیں، سب سے بڑا احتجاج بنگلہ دیش کے دار الحکومت ڈھاکہ میں کیا گیا ، برصغیر ہند میں بھی احتجاج ہوئے، ترک پارلیمنٹ نے تو ماکرون کو معلون قراردیا، شیخ جامعہ الازہر نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ مسلم مخالف اقدامات کو فوجداری جرم قرار دیا جائے ۔ملائشیا نے بھی کہا کہ شان اقدس میں گستاخی آزادی اظہار رائے کے حدود سے باہر ہے، اس نے بھی اپنے فرانسیسی سفیر کو بطور احتجاج طلب کرلیا، چیچینیا کے صدر رمضان قدیروف نے بھی فرانسیسی صدر اور گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کی بلکہ انہوں نے کہا فرانس کے صدر خود بھی دہشت گرد نظر آتے ہیں، بلکہ اشتعال انگیزی کے جذبات کو ابھار کر خود بھی پس پردہ مسلمانوں کو اس قسم کے جرائم پر اکسا رہے ہیں، کیوں ماکرون کے موقف نے دنیا کے تقریبا دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

 ایسے میں مسلمانوں کے فرائض میں یہ بات داخل ہے :

۱۔فرانس کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، جس سے فرانس کے اس گستاخی کا مثبت انداز میں بہترین جواب دیا جاسکتا ہے ، صرف دو دن کے مصنوعات کے بائیکاٹ نے فرانسیسی حکومت کی چولیں ہلادی ہیں، جس کی وجہ سے فرانسیسی حکومت مصنوعات کے بائیکاٹ نہ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں، یہ سب سے پہلا اور مثبت قد م ہے ، جس کے ذریعہ ا س گستاخی کابا آسانی جواب دیا جاسکتا ہے ، سوشل میڈیا پر مصنوعات کی فہرست موجود ہے ، سارے مسلمانوں کا اپنی ہر مذہبی شخص کا یہ فریضہ بنتا ہے جو بھی کسی بھی مذہبی شخصیت کے خلاف ردیدہ دہنی کرے ان کابائیکاٹ ضرور کیا جائے ۔

۲۔پرامن طریقے پر اپنا احتجاج درج کریں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گستاخی پر مشتمل خاکوں کی اشاعت کے ضمن میں اپنی جذبات کا اظہار کر کے اس گستاخی اور بد تمیزی کا جواب دیں، اپنے پیمانے پر پرامن احتجاج درج کریں، تحریری ، تقریری اور دیگر ذرائع وابلاغ کا استعمال کر کے اپنے غم وغصہ کا اظہار ضرور کریں۔

۳۔پرامن اور سفارتی ذرائع سے حکومت فرانس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں اپنے جذبات واحساسات کو پہنچائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اسلام ومسلمانوں کے لیے وہ مقدس ومحترم شخصیت ہے ، جس کی ادنی گستاخی بھی کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا، اظہار رائے کی آزادی بھی اتنی نہ ہو کہ اس کا استعمال غلط طور پر ہونے لگے ، خصوصا انسانی جذبات سے اس کے پس پردہ نہ کھیلا جائے ، کسی جذبات کو ٹھیس پہنچا کر اس کے اشتعال انگیزی پر مجبور نہ کیا جائے ، اس لیے مسلمانوں کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پرامن احتجاج درج کر کے سفارتی ذرائع سے حکومت فرانس تک اپنے مجروح جذبات واحساسات کا احساس ضرور دلائیں

۴۔عالم اسلام کو خصوصا سرکاری سطح پر اس اقدام کی مذمت کرنی چاہیے اور فرانس سے قطع تعلق کرنا چاہیے یا تعلقات کو محدود کرنا چاہیے۔جیساکہ بہت سارے ممالک نے اس طرح کے اقدام کئے ہیں

۵۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت وعقیدت کے اظہار کے لیے دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کثرت سے درود شریف کا نذرانہ اور تحفہ بھیجیں، ذکر رسول اور یاد رسول کے ذریعہ اورخصوصا بکثرت درود شریف کے ہدیہ ونذرانہ بارگاہِ رسالت میں پیش کر کے اپنی محبت وعقیدت کا اظہار بہت اچھے طریقے سے کرسکتے ہیں

۶۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے اس دور میں سیرت نبوی کی انسانیت وشرافت ومکارم اخلاق پر مشتمل پیغام کو نہایت موثر اور پر اثر انداز میں پیش کریں ، تحریری، تقریری، چھوٹے چھوٹے کلپس وغیرہ کی شکل میں خصوصا اخلاق ومکارم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف زبانوں میں پیش کریں، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرامن اور قابل احترام شخصیت کے قابل اقتداء پہلو ونمونے اجاگر ہوں ، اس طرح اس موقع ککو خصوصا سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عام وتام کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

۷۔ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں خراج عقیدت اس مخالف ماحول میں یہ ہے کہ سنت رسول ﷺ کواپنانے کااہتمام وعزم مسلمان عالم کرلیں، اس طرح نہ صرف ہماری اسلامی وابستگی مضبوط ہوگی ، بلکہ عبادات واخلاق ، معاملات ومعاشرت میں اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا کر حقیقی مسلمان کے کردار کو پیش کر کے اس گستاخی کا بخوبی جواب دیا جاسکتا ہے

1 تبصرہ
  1. اتوبار در پونک کہتے ہیں

    سلام میشه لینک داخل مطلبو چک
    کنید.برای من مشکل داشت.ممنون

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا