” قومی یا لسانی سیاست “

 شیخ خالد زاہد

پاکستان میں سیاست کم لسانیت زیادہ ہے، مفادات زیادہ ہیں، حق تلفیاں زیادہ ہیں، بہروپئے زیادہ ہیں اور اقراباء پروری زیادہ ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود فہرست کے مطابق 327 سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان میں اپنی سیاسی رنگینیاں بکھیر رہی ہیں۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کا جائزہ لیں، پاکستان پیپلز پارٹی جو مزاجاً سوشلسٹ جماعت ہے 1967 میں وجود میں آئی، جسے پاکستان کی ایک بڑی اور مضبوط جماعت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یہ جماعت سندھ میں پیدا ہوئی اور پھر پورا پاکستان گھوم کر واپس سندھ میں آگئی۔ غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ جماعت بھی زبان کی بنیاد پر منقسم ہو چکی ہے کیونکہ اس کہ بانی سندھی زبان بولنے والے لوگ تھے تو آج بھی جماعت کی اعلی قیادت سندھی زبان بولنے والوں کہ پاس ہی ہے۔ یہ جماعت اب تک چار دفعہ وفاق میں اور اتنی ہی دفعہ صوبہ سندھ میں حکومت بنائی۔

 پاکستان کی ایک اور بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)جو 1985 سے کام کرنا شروع کیا یہ جماعت مذہبی مزاج رکھنےوالی معتدل مزاج جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے، اس جماعت کو لیجئے یہ پنجاب کے وسیع علاقے کی نمائندگی کرنے والی جماعت ہے، ان کی اعلی قیادت کا تعلق پنجاب سے ہے تواہم ترین ذمہداریاں ان کے ہی پاس ہیں۔ یہ جماعت بھی وفاق اور صوبہ پنجاب میں اقتدارپر براجمان رہی ہے۔

خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی جماعت عوامی نیشنل پارٹی پشتون بولنے والوں کی نمائندہ جماعت رہی ہے 1986 میں بنی۔ صوبائی سطح پر بھرپور کامیابیاں بھی حاصل کرتی رہی ہے اس کی اعلی قیادت پر نظر ڈال لیجئے۔ یہ جماعت وفاق میں اقتدار والوں کے ساتھ رہی ہے اور خیبر پختونخواہ میں اپنی حکومت بھی بنا چکی ہے۔ مگر عوامی کی امیدوں پر پورا نا اتر سکی۔

پاکستان تحریکِ انصاف 1996 سے انصاف کی تلاش نکلی یہ جماعت بھی ایک شخص کا احاط کئے ہوئے ہے، یہ عمران خان صاحب کے ساتھ ساتھ گھوم رہی ہے۔ تحریکِ انصاف پاکستان کی سیاست میں وہ پودا ہے جو تھوڑی بہت جہموریت میں پیدا ہوا ہے۔ خان صاحب کو کرکٹ کی شہرت اور شوکت خانم ہسپتال کا فلاحی کام تیزی سے پاکستان کے سیاسی افق پر نمایاں کئے ہوئے ہے۔ خان صاحب کی شخصیت سحرذدہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہ قافلہ ایوانوں تک تو پہنچ گیا مگر ابھی اہم ترین ذمہ داری کی تگ و دو جاری و ساری ہے۔ لگتا یوں ہے کے خان صاحب ملک سے کرپشن ختم کر کے ہی دم لینگے۔ یہ جماعت ابھی تک وفاق میں اکثریت لینے سے قاصر رہی ہے اور خیبر پختونخواہ میں پہلی دفعہ حکومت بنائی ہے۔

پاکستان کی واحد سیاسی اور مذہبی جماعت، جماعتِ اسلامی ہے اور یہ وہ جماعت ہے جو پاکستان بننےسے قبل بن چکی تھی یعنی اس جماعت کی بنیاد 1941 میں رکھی گئی یہ پاکستان کی وہ بڑی اور مضبوط جماعت ہے جو آج تک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنی حکومت نہیں بنا سکی۔ انہوں نے اسلام کی سربلندی کیلئے قربانیاں بھی دیں اور کام بھی کیا مگر سیاسی افق پر کوئی خاطر خواہ کارناماں سرانجام دینے سے قاصر ہیں انہوں نے احتجاجی سیاست کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے سرگردہ ہیں، یہ جماعت بھی پنجاب میں پیدا ہوئی۔

1984 میں پاکستانی سیاست میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی جماعت نے اردو بولنے والوں کے حقوق کا الم اٹھایا اور ملک میں پہلی دفعہ متوسط طبقے کو اپنے مفادات کی آواز اسمبلیوں تک پہچانے کا موقع ملا۔ اس جماعت میں ایسے لوگ بھی تھے جو تعلیم یافتہ تو تھے مگر متوسط یا نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ کرتا پاجامہ پہنے یہ سادہ لوح لوگ اردو زبان بولنے والوں کی نمائندگی کرنے کا عزم لئے اسمبلیوں میں جا پہنچے۔ یہ خدمت کے ایسے جذبے سے سرشار تھے کے اپنے محلوں میں ہی رہتے رہے اور کسی بھی فرد کے کام آنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ پھر اس جماعت پر ایک انتہائی پر خطر دور آیا اور اسے اپنی بقاء کی امید دم توڑتی نظر آئی مگر خدا کچھ اور منظور تھا عوامی طاقت نے اس جماعت کو دوام بخشا۔ ہمارے اداروں کو اس جماعت کی حب الوطنی پر یقین آگیا اور دوبارہ انہیں سیاسی جماعت کے طور پر جگہ دے دی گئی۔ انہوں نے پھر الیکشن میں حصہ لیا پھر بھاری اکثریت سے جیت گئے۔ 1997 میں اس جماعت نے قومی سیاست کا حصہ بننے کیلئے یا لسانیت کا ٹھپہ ہٹانے کیلئے نام بدلا اور لفظ مہاجر کی جگہ متحدہ نے لے لی یوں اس جماعت کا نام متحدہ قومی موومنٹ ہوگیا۔ اب یہ جماعت کراچی سے اور سندھ کے شہروں سے نکل کر پاکستان کے دوسرے شہروں میں اپنے قدم جمانا چاہتی تھی اور اپنے آپ کو قومی دھارے میں شامل کرنا چاہتی تھی۔ ایسا ہوا بھی پنجاب کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے جلسے کئے گئے، ریلیاں نکالی گئیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان سے الیکشن میں اپنے امیدوار بھی کھڑے کئے اور کچھ نا کچھ حاصل بھی کیا۔ مگر یہ جماعت اپنے مرکز یعنی کراچی کو نا سنبھال سکی۔ کراچی کے مسائل روز بروز بڑھتے جارہے تھے۔ ٹارگیٹ کلنگ، بھتہ خوری، چھینا جھپٹی، چوری ڈاکا اور خوف و ہراس روزبروز بڑھتا جا رہا تھا۔ پانی کا مسلئہ حل کرنے والا کوئی نہیں تھا، کراچی کچرے کا ڈھیر بنتا جارہا تھا دیکھنے والا سننے والا کوئی نہیں تھا، کواچی والوں کے سیاسی نمائندے ٹیلیویژن پر ضرور نظر آتے تھے۔ کراچی اور کراچی والے اپنے آپ کو لاوارث سمجھنے لگے تھے۔ مگر کراچی والوں نے متحدہ کے ووٹرز نے کسی حال میں متحدہ قومی موومنٹ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ بائی الیکشن میں نتیجہ نے سب کے منہ بند کردئے۔ کراچی والوں کی اکثریت پاکستان سے محبت کا دم بھرتے نہیں تھکتے۔ پاکستان یا پاکستان کے کسی بھی حصے پر کبھی کوئی برا وقت آیا کراچی والے سب سے آگے تھے۔ بہت کوشش کی گئی کہ کراچی والوں کو بھی لاسانیت کی گھٹی پلادی جائے انہیں ورغلایا جائے۔ مگر ایسا ممکن ہی نہیں، آج کراچی میں گنے چنے لوگ ہونگے جو پاکستان بننے کے چشم دید گواہ ہونگے مگر ہمارے بڑوں نے ہمیں بتایا کہ پاکستان کیسے بنا ہے ہم پاکستانی ہیں اس کے بعد اگر کچھ ہیں تو ہیں۔ پاکستان ہم سے ہے اور ہم پاکستان سے۔ متحدہ قومی موومنٹ کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنا ہوگا اور اپنے ووٹرز کو یقین دلانا ہوگا کے وہ حقیقی معنوں میں ایسے کسی شخص کو اپنی جماعت کا حصہ نہیں بنائینگے اور نا اپنی جماعت کو پاکستان مخالف مقاصد کیلئے استعمال ہونے دینگے۔

کراچی نہیں پورے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا تاکہ پاکستان کی ترقی اور سالمیت کو لاحق خطرات سے دور کیا جاسکے۔ مذکورہ بالا سیاسی جماعتوں اور انکے سیاسی نمائندوں پر طویل مباحثہ بھی کیا جاسکتا ہے اور زیادہ گہرائی میں بھی جایا جا سکتا ہے مگر اس سے حاصل وہی ہوگا جو ہمیں طائرانہ نظر ڈالنے سے مل چکا ہے۔ سندھ کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو تمام سندھ کی سیاسی جماعتیں ایک صفحہ پر آجاتی ہیں اسی طرح دیگر صوبوں کا بھی حال ہے، اس روش کو بدلنا ہوگا لسانیت اور صوبائیت کی سیاست ترک کرنا ہوگی۔ متحدہ ایک بار پھر کراچی میں مئیر شپ اور ڈپٹی مئیر شپ جیت چکی ہے اور آج مئیر وسیم اختر اور ڈپٹی مئیر ارشد عبداللہ وہرہ صاحبان اپنی ذمہ داریوں کا حلف لے چکے ہیں۔ کراچی والے ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ پر اپنے بھروسے کی مہر ثبت کر چکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ یہ لوگ اپنی بقاء کی جنگ عوامی مسائل حل کرکے جیت لیں۔

ہم انتظامی امور میں بہت قدامت پسند ہیں، جو جیسا چل رہا ہے چلنے دو کون وقت کے ساتھ بدلتے حالات کی روح سے ان معاملات کو جانچے اور نئی اصطلاحات پیش کرے۔ سرکاری اداروں میں تو آج بھی بوسیدہ نظام بہت بری طرح سے چل رہا ہے۔ ہم نظاموں پر تو بعد میں بات کرینگے یہاں روئیے بدلنے کی کوشش نہیں کی جارہی۔ پچھلے دنوں این جی اوز کیخلاف کاروائی ہوئی اور پھر ضابطہ اخلاق مرتب دیا گیا، ریجسٹریشن کا نیا نظام متعارف کرایا گیا اور اسطرح سے بہت سارے معاملات کو اندھا دھند چل رہے تھے لگام ڈالی گئی۔ افغان مہاجرین کی ریجسٹریشن کا معاملہ بھی اس وقت قابلِ عمل ہوا جب ملک میں دہشت گردی کے واقعات بڑھنے لگے۔ سن 2005 میں تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا اس زلزلے سے نمٹنے کیلئے کوئی باضابطہ ادارہ نہیں تھا اور پھر نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمٹ کا ادارہ بنایا گیا۔ اگر یوں لکھوں تو شائد غلط نہیں ہوگا کہ ہم حادثے کا انتظار کرتے ہیں کہ ہوجائے پھر سدِباب کرینگے۔ ہم لوگ معاملات کو اس وقت تک سنجیدہ نہیں ہوتے جب تک پانی سر تک نا آجائے شائد یہ کہاوت ہمیں دیکھ کر ہی پیدا ہوئی ہوگی کہ “پانی سر سے گزر گیا”

وزارتِ داخلہ نے جسطرح لاتعداد این جی اوز کا “ضابطہ اخلاق” مرتب کیا ہے بلکل اسی طرح 327 سیاسی جماعتوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ معلوم ہوسکے کون پاکستان کی بقاء کی سیاست کر رہا ہے اور کون کسی دشمن کا الاءکار بن کر ہمارے وطنِ عزیز کو کھوکھلا کرنے میں مصروف۔ پاکستان میں قومی سیاست کو فروغ دینا ہوگا اور لسانی سیاست سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ جو سیاسی جماعتیں اپنا وجود نہیں رکھتیں یا کوئی ان کا والی وارث نہیں انہیں باقاعدہ اعلانیہ طور پر بند کیا جائے۔ انشاء اللہ پاکستان کو افاقہ ہوگا تو ہم سب کو بھی آفاقہ ہوگا اللہ ہمیں صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اللہ ہم سب کا اور ہمارے پاکستان کا حامی و ناصر ہو (آمین)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔