رمضان المبارک اورافطار کے مسائل!

مقبول احمد سلفی

افطار کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے ۔ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ(صحیح البخاري 1957)

ترجمہ: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ جلدی افطاری کرتے رہیں گے ۔

٭ افطار میں جلدی کرنا چاہیے یعنی سورج ڈوبتے ہی فورا افطار کرنا چاہیے ۔ اوپر والی حدیث اس بات کی دلیل ہے ۔

٭لوگوں میں مشہور افطار کی دعا ” اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ” مرسل ہونے

کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ شیخ البانی نے ابوداؤد کی حدیث کو ضعیف کہا ہے۔

دیکھیں (ضعيف أبي داود:2358)

٭ افطار کرتے وقت بسم اللہ کہیں اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھیں :

ذَهَبَ الظَّمأُ وابتلَّتِ العُروقُ وثبَتَ الأجرُ إن شاءَ اللَّهُ(صحيح أبي داود:2357)

ترجمہ: پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہوگئی ، اوراللہ نے چا ہا تو اجربھی ثابت ہوگیا۔

٭ افطار کرانا بڑے اجر کا کام ہے ۔ حدیث پاک میں ہے نبی پاک ﷺ نے فرمایا:

مَن فطَّرَ صائمًا كانَ لَهُ مثلُ أجرِهِ ، غيرَ أنَّهُ لا ينقُصُ من أجرِ الصَّائمِ شيئًا(صحيح الترمذي:807)

ترجمہ: جس شخص نے کسی روزہ دارکو افطارکروایاتواس شخص کوبھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ثواب روزہ دار کے لیے ہوگا،اورروزہ دارکے اپنے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔

جب کوئی کسی دوسرے کے یہاں افطار کرے تو یہ دعا پڑھے :

أفطرَ عندَكُمُ الصَّائمونَ ، وأكَلَ طعامَكُمُ الأبرارُ ، وصلَّت عليكمُ الملائِكَةُ(صحيح أبي داود:3854)

ترجمہ: تمہارے پاس روزے داروں نے افطاری کی، نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا اور تم پر فرشتوں نے رحمت بھیجی ۔

٭ غلطی سے وقت سے پہلے افطار کرنے والوں کو چاہیے کہ جیسے ہی غلطی کا علم ہو فورا کھانا ترک کردے ، اس پہ کوئی گناہ اور کوئی کفارہ نہیں ہے۔ جیساکہ نبی ﷺ فرمان ہے :

من أكل ناسيًا ، وهو صائمٌ ، فليُتِمَّ صومَه ، فإنما أطعمَه اللهُ وسقاهُ(صحيح البخاري:6669)

ترجمہ: جس شخص نے روزہ کی حالت میں بھول کر کھا لیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا روزہ مکمل کرے ۔ یقینًا اللہ ہی نے اسے کھلایا اور پلایا ہے ۔

لیکن عمدا ایسا کرنے  سے روزہ باطل ہوجائے گا اور ایسے لوگوں کے لیے سخت وعید ہے ۔

٭ غیر مسلم اگر حلال کمائی سے افطار کرائے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے گردینی مصلحت ہو لیکن اگراسلام کے لیے برے ہوں تو بچنا بہترہے ، اسی طرح جو لوگ افطار کو سیاست سے جوڑتے ہیں اور افطار پاڑتی کرتے ہیں اس سے بھی پرہیز بہتر ہےتاکہ عبادت عبادت ہی رہے ۔

٭ ہوائی جہاز میں سفر کرنے والوں کو بھی اس وقت تک افطار نہیں کرنا ہے جب تک سورج نظر آئے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:

إذا أقبل الليلُ من ها هنا، وأدبر النهارُ من ها هنا، وغربتِ الشمسُ، فقد أفطر الصائِمُ(صحيح البخاري:1954)

ترجمہ : جب ادھر رات بڑھ آئے اور ادھر سے دن پیچھے ہٹ جائے اور سورج ڈوب جائے تو اس وقت روزہ دار روزہ افطار کرے۔

 ٭ مسلمانوں کے بعض طبقات میں افطار کے لیے پانچ سے دس منٹ تک کا احتیاط کیاجاتا ہے ، اسی حساب سے یہ لوگ اپنے افطار کا کلینڈر بناتے ہیں ۔ اس لیے میں عام مسلمانوں کو باخبر کرنا چاہتاہوں کہ یہ سنت کی مخالفت ہے بلکہ افطار میں احتیاط کو رواج دینا بدعت کا ارتکاب ہے ۔سورج ڈوبتے ہی ہمیں بغیر احتیاط کئے فورا افطار کرنا چاہیے ۔یہی مسنونومطلوب ہے اور اس میں اہل کتاب کی مخالفت بھی ہے۔

لا يزالُ الدِّينُ ظاهرًا ما عجَّلَ النَّاسُ الفِطرَ لأنَّ اليَهودَ والنَّصارى يؤخِّرونَ(صحيح أبي داود:2353)

ترجمہ: دین اس وقت تک غالب رہے گا، جب تک لوگ افطاری جلد کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ افطاری مؤخر کرتے ہیں ۔

تبصرے بند ہیں۔