روزہ: اظہار عبدیت کا بہترین ذریعہ

ساجد حسین ندوی

(نیوکالج،چنئی)

یوں تو اللہ بتارک وتعالیٰ نے امت مسلمہ پر نماز روزہ، حج، زکوٰۃ، وغیرہ جیسی بہت سی عبادتیں عطافرمائی ہیں، جن کے ذریعہ بندہ اپنے رب کی بڑائی بیان کرتاہے، اپنی نیاز خم کرکے عبدیت کا اظہارکرتاہے، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے یا اللہ توہی میرارب ہے میں تیرا بندہ ہوں۔ الغرض عبادت کی جتنی شکلیں اللہ تعالیٰ نے سکھلائی ہیں ان کو اختیار کرکے بندہ حق بندگی ادا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتاہے۔ کیوں کہ اللہ نے اس کوپیدااسی مقصد کے لیے کیاہے۔ جیسا خود اللہ نے اس کی وضاحت کی ”وماخلقت الانس والجن الا لیعبدون“  میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیاہے۔(الذاریات:۶۵)۔

بندگی کیاہے؟  اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی بندگی کے لیے پیدا کیاہے،اس کا کیامطلب؟ کیا اس کا مطلب صرف یہ ہیکہ بندہ دن میں پانچ  وقت کی نماز اداکرلیا، رمضان کے مہینے میں تیس دن روزے رکھ لیا اوراگر اللہ نے دولت سے نوازا ہے تو سال میں زکوٰۃ اداکردی اسی طرح زندگی میں ایک مرتبہ حج کرلیاتو کیااس سے حق بندگی ادا ہوگئی؟ اور اب انسان اس کے بعد آزاد ہوگیا ہے؟ جو چاہے کرے؟ بندگی کا مقصدیہ نہیں ہے۔بلکہ بندگی کا مقصد یہ ہے کہ ان عبادتوں کے ذریعہ انسان کی تربیت ہواور اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے، خواہ جس کی حالت میں ہو، اسے ہروقت یہ بات ذہن میں رہے کہ اس کا مالک اسے دیکھ رہاہے، اور مالک کے حکموں کے بنازندگی گزارنااپنے کو ہلاکت میں ڈالناہے۔

مذکورہ بالامیں عبادت کی جتنی شکلیں بیان کی گئی ہیں ان تمام شکلوں میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا حال خدااور بندے کے سوا کوئی نہیں جانتاہے، شاید اسی لیے حدیث قدسی میں روزہ کے انعام کے سلسلے میں حضور اکرم  ﷺ نے فرمایا ”آدمی کا ہرعمل خداکے یہاں کچھ نہ کچھ بڑھتاہے ایک نیکی دس گنی سے سات سو گنی تک پھلتی پھولتی ہے۔ مگراللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ اس سے مستثنی ہے۔ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں اس کاجتنا چاہتاہوں بدلہ دیتاہوں“۔ (مسلم:۱۵۱۱)

اسی طرح نبی کریم ﷺ کا ارشادہے ”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہاجاتاہے، روزہ دار قیامت کے دن اسی سے جنت میں داخل ہونگے، کوئی اور ان کے ساتھ داخل نہ ہوسکے گا، پوچھاجائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟ پھر اس سے داخل ہونگے اور جب آخری شخص داخل ہوجائے گا تواسے بند کردیاجائے گا اور پھر کوئی اس دروازہ سے داخل نہ ہوسکے گا “(مسلم: ۰۱۷۲)

اس کے علاوہ جتنی عبادتیں ہیں کوئی عبادت کسی سے مخفی اور ڈھکی چھپی نہیں ہے، نماز کو عماد الدین کہاگیاہے، لیکن دل کی حضوری کے ساتھ جسم کے ایسے اعمال واظہار پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے جماعت ہی میں نہیں گھر کی چہار دیواری میں بھی اداکی جانے والی نماز کسی سے مخفی نہیں، ہر شخص اس کی عبادت سے واقف ہوتاہے۔

اسی طرح حج میں بندہ ایک لمبا سفر کرتاہے ہزاروں لاکھوں کے ساتھ ہوتاہے، گاؤں اور محلہ کا ہرشخص واقف ہوتاہے کہ فلاں صاحب حج کو تشریف لے جارہاہے اورجب فریضہ ئ حج اداکرکے اپنے وطن واپس آتاہے تو ہر خاص وعام اسے ’حاجی صاحب‘ نام سے جانتے ہیں۔ گویا یہ عبادت چھپانے سے بھی نہیں چھپ سکتی۔

اسی طرح صاحب نصاب مالدار اپنی زکوٰۃ کو کتناہی چھپا کراداکرے کم از کم لینے والا تو جانتاہے کہ فلاں شخص نے دیاہے چنانچہ یہ سب عبادتیں ایسی ہے کہ چھپائے بھی چھپ نہیں سکتی اگر آپ اداکرتے ہیں پھربھی لوگوں کو معلوم ہوجائے گا اور ادانہ کریں تب بھی لوگوں کوخبر ہوہی جائے گی۔اس کے برخلاف روزہ ہے جس کا گواہ صرف اللہ تبارک وتعالیٰ ہوتاہے اس کے سوا کسی کے سامنے اس کی حقیقت نہیں کھل سکتی۔ ایک شخص سب کے ساتھ مل بیٹھکر سحری کھاتاہے اور افطارتک ظاہر ی طور پر کچھ نہ کھائے مگر چھپ چھپا کر پانی پی لے، یا کچھ کھا لے تو اللہ کے سوا کسی کو اسکی خبر نہیں ہوسکتی، سارے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ فلاں صاحب روزہ سے ہے، لیکن حقیقت میں وہ روزہ سے نہیں ہوتا۔ روزہ دارکو اللہ پر اور آخرت پر اس قدر یقین ہوتاہے کہ سخت گرمی میں بھی جب حلق خشک ہو جاتاہے، پیاس کی شدت اسے بے چین کرتی ہے، بھوک سے وہ تڑپتاہے اسی حالت میں اس کے سامنے انواع و اقسام کی چیزیں ہوتی ہیں اگر کھابھی لے تو کون اسے دیکھ رہاہے؟ لیکن اس کے باوجود وہ ان کو ہاتھ نہیں لگاتااور دل میں یہ کہتاہے کہ اگر مجھے اس بندکوٹھری میں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے، ہم اوروں کی نظروں سے اوجھل ہوسکتے ہیں لیکن اس کی نظروں سے کیسے بچ پائیں گے جو باریک بیں ہے، جس کی نگاہیں ہرچیز کو گھیرے ہوئی ہیں،اسی یقین کی بنیادپر اللہ کی حکموں کو بجالاتاہے سحرسے لیکر سورج کے ڈوبنے تک کھانے پینے اور خواہشات سے اپنے آپ کو روکتاہے صرف اس بنیاد پرکہ اس کا رب اس سے یہی چاہتاہے۔

روزہ کا مقصد تقوی کی صفت سے اپنے آپ کو آراستہ کرناہے اور اللہ کا بندہ بننے او ر اس کی رضاوخوشنودی حاصل کرنے لیے بھوک وپیاس کی شدت کو برداشت کرنا،جائز خواہشات سے اجتناب کرناانسان کوتقویٰ کی نعمت سے مالامال کرتاہے، جو دنیا اورآخرت کی بھلائی کا ذریعہ ہے اور انسان کے اندراس کے ذریعہ ایسی صلاحتیں پیداہوتی ہیں جو انسان کو ہدایت سے فیض یاب ہونے میں معاون ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے سب سے پہلی شرط جو بیان کی ہے وہ تقویٰ ہے۔ ارشاد ربانی ہے ”ھدی للمتقین“ ہدایت متقیوں کے لیے ہے (البقرہ:۲) اور روزہ انسان کے اندروہ تقوی پیداکرتاہے جو ہدایت ربانی کے لیے مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہیکہ اللہ تعالیٰ نے روزہ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ”لعلکم تتقون“ تم پر روزہ فرض کیاگیا تاکہ تم متقی وپرہیز گار بن جاؤ(البقرہ:۳۸۱)۔

چنانچہ جو روزہ کے مقصدکو سمجھے گا اور اس کے ذریعہ سے اصل مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تووہ تھوڑا یا بہت متقی ضرور بن جائے گا۔ لیکن جو مقصد کو نہ سمجھے اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے اس کے لیے بھوک پیاس رہنے کے سواکچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔

لہذاہمیں چاہیے کہ روزہ کے مقاصد کوسامنے رکھتے ہوئے روزہ رکھیں،اللہ سے قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں، روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنے، غیبت اور چغل خوری سے اجتناب کریں، نیکیوں میں کثرت کریں نوافل اور قرآن کریم کی تلاوت کواپنامعمول بنائیں۔

اللہ ہمیں رمضان سے صحیح طور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطافرمائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔