روزہ اور سائنس: ایک جدید ریسرچ

محمد اعظم قوی

روزے رکھنے سے وزن میں کمی لاکر نہ صرف شوگر ،بلیڈ پریشر ،اور دل کے امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ مسلسل روزہ رکھنے سے ذہنی حالات بہتر ہوتی ہے اور مختلف اقسام کے کینسر سے بچا جا سکتا ہے ، بلاشبہ روزہ ایک مقدّس عبادت ہے اور اسکا اجرو ثواب صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ مگر روزہ رکھنے سے انسان کو ایسے حیرت انگیز طبّی (Medical) فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جنکا ہم تصّور بھی نہیں کر سکتے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ روزہ انسان کی ظاہری خوبصور تی جلد کی تازگی حتٰی کہ ناخنوں کیلیے بھی مفید ہوتا ہے۔

جاپانی سائندان Dr. Yoshinori ohsumi نے باقاعدہ تجربات کرکے روزہ سے کینسر جیسی بڑی بیماری کا علاج دریافت کیا ہے۔ اُنکے اس تجربات پر انہیں ( Nobel prize ) دیا گیا۔ Dr. Yoshinori ohsumi نے اپنے تجربات کو (Autophagy) کا نام دیا جس کا مطلب ہے خود کو کھانا۔

انسانی جسم کے ہر حصے میں کروڑں Cells پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اسی لیے انسان ثابت نظر آتا ہے، یہ cell مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور انکے کام بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جے سے ایک جیسے cells ملکر ایک نسیج (Tissue) بناتے ہیں اور ایک جیسے Tissue ملکر جسم کا ایک پورا حصّہ عضو (Organ) بناتے ہیں مثلاً دل،گردہ،مسلز وغیرہ اور یہ Organ پورا نظام بناتے ہیں جیسے معدہ، چھوٹی آنت،بڑی آنت، نظامِ انہضام (Digestive System) وغیرہ بناتے ہیں انسان انہی چند نظام کا مجموعہ ہے۔ انسانی جسم میں زندہ رہنے کے لیے یہ cells ہمیشہ حرکت کرتے ہیں اور سب اپنے اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔ اور ایک اور Cell جیسے Lysosome کہا جاتا ہے اسکا تعلق روزہ سے ہے۔ جی ہاں! جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو وہ معدہ ہضم کرکے جسم کے باریک سے باریک خون کی نالیوں میں پہنچاتا ہے اسطرح ہر Cell کو یہ کھانا ملتا ہے اسی لیے وه زندہ رہتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کھانے کے ساتھ فضول اشیاء (Non-essential protein) یا ہمارے Cell سے چھوٹے جراثیم (Bacteria)  بھی اندر گھس جاتے ہیں جس سے Cells میں گندا پانی جمعہ ہو جاتا ہے اور ایسا زیادہ ہونے سے اس حصّے کے cell خراب ہو کر مرنا  اور پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں تو جسم کا وہ خاص حصّہ خراب ہو جاتا ہے اور اس خرابی کو Cancer کہتے ہیں۔ مطلب Cancer یہ دراصل لاکھوں کروڑوں Cells ہیں جو جسم کے کسی حصے میں ناکارہ ہو چکے ہیں۔

جب ہم ایک مہینہ سارا دن بنا کھائے پئے گزاریں تو Cell میں موجود Lysosome ایک معدہ کی طرح کام کرنا شروع ہو جاتے ہیں یہ Cell فالتو غذا اور بیکٹیریا کو ہضم کرکے Cells کی توانائی بحال کر دیتے ہیں اور اُن Cells کو دوبارہ نیا کر دیتے ہیں تو وہاں Cancer کا خطرہ نہیں رہتا.

اسکو آسان زبان میں یوں سمجھیں کی جب ہم روزہ کے دوران بھوک کی شدّت میں ہوتیں ہیں تو ہمارے جسم میں Autophagy عمل شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے جسم میں  ناکارہ سڑ ے غلے حصّے کو ہمارا جسم کھانے لگتا ہے  اور Cancer کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔

جب Dr. yoshinori ohsumi اس Autophagy عمل کے بارے میں سائنسدانوں کے بیچ پیش کر رہے تھے تو ان سے پوچھا گیا Cancer کے بیکٹیریا سے لڑنے کیلیے مناسب وقت کتنا ہے؟ Dr. yoshinori ohsumi نے جواب دیا کہ جسم کے Cancer کو مکمّل طور سے ختم کرنے کے لیے دن میں 8 سے 14 گھنٹے اور سال میں 25 سے 28 دن روزے رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس تحیق کے بعد مغرب میں بہت سارے ڈاکٹر بھی اپنے تحیقات کے ساتھ آگے آئے اور مختلف بیماریوں کا روزہ سے علاج کرتے ہیں۔ جیسے ان میں سے ایک   کینیڈا کے ماہرین سرجن  Dr. Jason Fung جو موٹاپے اور شوگر کے مریضوں کا علاج روزے سے کرتے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ روزہ جسم میں شوگر اور انسولین لیول کو بہتر بناتا ہے اور جسم میں فالتو چربی کو بھوکھے رہکر انرجی حاصل کرکے موٹاپے کو کم کیا جا سکتا ہے انہوں نے روزہ اور شوگر (Diabetes) پر کتاب بھی لکھ چکے ہیں۔ یہ تو دنیاوی فوائد ہیں  جو ہمارے خالق نے ہمارے بھلائی کے لیے ہم پر فرض کیا ہے مگر اللہ کی رحمت کا عالم یہ ہے کہ اسکے احکام ماننے سے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سونرتی ہے ۔لیکن آج مسلم سماج میں نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ روزہ کو بوجھ سمجھہ رہا ہے۔ لیکن میرے  نبی کریم ﷺ کی ایک ایک سنت میں  نہ جانے کتنے فوائد چھپے ہیں۔

افسوس کہ یہ ریسرچ کرکے میرے نبی کریم ﷺ نے 1400 پہلے ہمیں بتلایا تھا لیکن ہم دینی تعلیم  سے دور ہو گئے  اور آج ہمارے قوم کے زوال کی سب سے بڑی وجہ  یہ ہے کہ ہم علم سے دور ہو گئے اور ہمارے حصّے کی نوبل پرائز غیر مسلموں کے پاس جا رہیں ہیں۔تعلیم کی موجودہ ابتر حالات کا ذمےدار اُمّت کہ اجتماعی و انفرادی طور پر ہر طبقہ ذمےدار ہے۔ مگر خاص طور پر طلبہ ہے کیونکہ تعلیم کے نظام کو ہمنے دنیاوی اور دینی تعلیم کرکے علاحدہ کر دیاتو اُمّت کی حالات اور ابتر ہوئی۔  دینی تعلیم ہی دنیاوی تعلیم ہے۔ یہ بات ہمیں سمجھ نہیں آئی لیکن اہلِ مغرب نے اسکو  بخوبی سمجھ لیا اسی لیے گذشتہ کئی صدیوں سے غیر مسلم تعلیمی میدان میں ہم سے بہت آگے رہے ہیں اور گذشتہ کئی صدیوں سے بے شمار جدید ایجادات کیلیے ہم غیر مسلم کے مرہون منت ہیں۔

تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔