روزہ اور تراویح کے آداب

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی

شریعت مطہرہ نے رمضان کے مہینے میں ہر عاقل وبالغ مقیم مسلمان مرد وعورت پردن کوروزہ رکھنے کو فرض قراردیاہے، اور رات میں تراویح کی نماز پڑھنے کو سنت مؤکدہ قراردیاہے۔ قرآن وحدیث میں اس کی بہت ساری فضیلتیں وارد ہوئیں ہیں، نیز اس کے بہت سارے جسمانی فائدے بھی ہیں، لیکن دنیاوی اوراخروی فائد ےاس وقت حاصل ہوں گے، جب روزےاس کے مکمل حقوق اورآداب کے ساتھ رکھے جائیں،اور تراویح اس کی سنتوں اورمستحبات کی رعایت کرتے ہوئے پڑھی جائیں۔ لہذا چندحقوق وآداب کے یہاں ذکر کرتے ہیں۔

(١)روزہ صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کےلیےرکھاجائے۔ (٢)اللہ تعالیٰ کاحکم سمجھ کرروزہ رکھاجائے(٣) ثواب کی امید کے ساتھ رکھاجائے۔ (٤)خوشدلی سے اللہ تعالیٰ کاانعام اورتحفہ سمجھ کر رکھاجائے(٥)بادلِ نخواستہ اورناگواری کے ساتھ روزہ نہ رکھاجائے(۶)روزہ رکھ کرجھوٹ نہ بولیں(۷)کسی کی بھی غیبت نہ کریں(۸)کسی کو بھی دھوکہ نہ دیں۔ (۹)کسی بھی غیر محرم کو شہوت کی نگاہ سے نہ دیکھیں(١۰)گانااورفحش اشعار نہ سنیں(١١)ٹی وی کی سیریل وغیرہ نہ دیکھیں(١٢)کسی پر بھی غصہ نہ کریں، (١٣)شام کے وقت پیٹ خالی ہونے کی وجہ سے عام طورپرلوگوں کو غصہ آنے لگتاہے، ایسی صورت میں غصہ کو کنٹرول کریں۔ (١٤) کسی کو بھی گالی نہ دیں، حتیٰ کہ جانوروغیرہ کو بھی نہیں(١٥)اگر آپ کی ماتحتی میں کچھ لو گ کام کرتے ہیں توان کے ساتھ نرمی برتیں(١۶)اپنے کام کاج کے اوقات کم کردیں(١۷)دن میں تھوڑی دیرآرام بھی کریں(١۸)سحری میں ضرورت سے زیادہ نہیں کھاناچاہیے(١۹)افطار میں بھی بالکل پیٹ نہیں بھرلیناچاہیے، کیوں کہ ایسی صورت میں روزہ کامقصد حاصل نہیں ہوگا۔ (٢۰)خالص حلال اورطیب آمدنی سے سحری و افطارکریں(٢١) ضرورت سےزیادہ پھل فروٹ، پکوڑے، بھجیا وغیرہ نہ خریدیں(٢٢)کھانے کے بعد بچ جائے تو آئندہ کے لیے رکھ لیں(٢٣)اگر گزشتہ سامان موجود ہوں اورکھانے کے لائق ہوں،تو نیانہ خریدیں(٢٤)ضرورت مندوں کابھی خیال رکھیں۔ (٢٥)کولڈڈرنک میں اسرائیلی کمپنیوں کا ہرگزاستعمال نہ کریں۔ (٢۶)بہتر ہے کہ گھر ہی میں شربت بنائیں،لیموں سنترہ کے شربت کو ترجیح دیں۔ (٢۷)تلی ہوئی چیزوں کے استعمال سے حتیٰ الامکان بچیں۔ (٢۸)استطاعت ہو اپنے رشتہ داراورغریبوں کی دعوت بھی کریں(٢۹)سیاسی افطارپارٹی یا ایسی دعوت قبول نہ کریں جس کی آمدنی مشکوک ہو(٣۰)قرآن کریم کی تلاوت پابندی سے کریں(٣١)روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ ضرورکریں(٣٢)اگر آپ پر زکاۃ واجب ہے تو ضرورنکالیں(٣٣)تہجد ، اشراق، چاشت اوابین اوردیگر نوافل کا اہتمام کریں(٣٤)درود شریف،استغفار،اورتسبیحات کا بھی اہتمام کریں۔ (٣٥)چوبیس گھنٹے میں کسی وقت اللہ تعالیٰ سے رو رو کرضرور دعاء مانگیں۔

ہدایات برائے ائمہ وحفاظ کرام :

آپ صرف اپنی نمازنہیں پڑھ رہے ہیں، بلکہ دوسروں کی امامت کررہے ہیں، لہذاان کی رعایت کرنا بھی ضروری ہے(٣۶) رکعت کو نہ بہت زیادہ لمبی کریں کہ لوگ اکتاجائیں اور دوچاردن ہی میں تروایح میں آناچھوڑدیں، اورنہ اتنامختصرکریں کہ کسی دن بہت زیادہ کھینچناپڑے۔ (٣۷)رکعت کی مقدار روزانہ مناسب رکھیں۔ عام طورپرحفاظ کرام شروع بہت زیادہ لمبی رکعتیں پڑھاتے ہیں جو مناسب نہیں ہے، کیوں کہ ایک سال کے بعد اتنی لمبی رکعت پڑھاہر کس وناکس کے دشوارہوگا۔ ہاں جب چنددنوں کی عادت ہوجائے تو کسی قدر لمبی ہوجائے تو قابل تحمل ہوگا۔ (٣۸) نمازتراویح سنن ومستحبات کے مطابق پڑھائیں۔ (٣۹)تلاوت اتنی جلدی جلدی نہ کریں کہ الفاط سمجھ میں نہ آئیں(٤۰) ٹھہر ٹھہر کر اور صاف صاف پڑھیں(٤١)تکبیرتحریمہ کے بعد ثناء ضرورپڑھیں۔ بعض حفاظ ثناء نہیں پڑھتے ہیں ، یہ درست نہیں ہے(٤٢) رکوع اورسجدہ میں کم از کم پانچ مرتبہ تسبیح پڑھیں،تاکہ لوگ تین مرتبہ پڑھ سکیں، رکوع ،سجدہ کو مختصرنہ کریں۔ (٤٣)رکوع کے بعد مکمل طورپرکھڑے ہوں،پھر سجدہ میں جائیں،(٤٤)دوسجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھیں پھر دوسراسجدہ کریں۔ (٤٥)التحیات ، درود شریف اوردعاء ماثورہ اطمینا ن سے پڑھیں۔ بعض حفاظ اتنی جلدی سلام پھیردیتے ہیں کہ مقتدیوں کاالتحیات بھی پورانہیں ہوتاہے،اس لیے ایسانہ کریں۔ یہ شرعا بھی درست نہیں ہے۔ (٤۶) ہررکن اورعمل کو اطمینان سے اداکریں،کیوں کہ تعدیل ارکان واجب ہے، جس کے چھوڑنے پر گناہ ہوگا۔ (٤۷)ترویحہ یعنی چاررکعت پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر آرام کرنا مستحب ہے(٤۸)چار رکعتیں جتنی دیر میں پڑھی گئیں اتنی دیر بیٹھنا چاہیے یا کم سے کم دو منٹ تو ضرور بیٹھیں تاکہ لوگ سستالیں، بعض حضرات صرف دس ،بیس سکنڈ ہی بیٹھتے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔

نوٹ: اگر کوئی مقتدی یا مسجد کا متولی اوپر مذکور امور کے خلاف کرنے کے لیے کہے مثلا نماز جلدی جلدی پڑھانے کے لیے یا ترویحہ مختصر ترین کرنے کے لیے کہے تو ان کی بات نہ مانیں، بلکہ انھیں پیار سے سمجھادیں کہ یہ سنت کے خلاف ہے۔

تراویح کےآداب برائےعوام :

تراویح کی نماز کوشدلی سے پڑھیں(٤۹)اما م کی تلاوت کو کان لگاکر سنیں،(٥۰)امام کی تکبیر اولیٰ کے ساتھ ہی نمازشروع کردیں،بیٹھے نہ رہیں(٥١)جب امام رکوع میں جانے کے قریب ہوں تو اٹھ کر فوراً تکبیر تحریمہ کہہ کررکوع میں نہ جائیں۔ (٥٢)اگر قرات لمبی ہوجائے تو برداشت کریں،زیادہ ثواب کی امید رکھیں(٥٣)امام صاحب کی عزت واحترام کریں(٥٤)اگر تراویح کے بعد بیان ، تفسیر وغیرہ کا انتظام ہے تو ضرورشرکت کریں(٥٥)تراویح کے علاوہ چند رکعت نوافل بھی ضرورپڑھیں۔ (٥۶)اگرآپ کا ختم قرآن ہوگیاہے تو بھی جماعت کے ساتھ تراویح پڑھیں۔

ہدایت بابت ہدیہ وتحفہ:

(57)تراویح کی نماز پڑھنایاپڑھانا چوں کہ عبادت ہے، اورعبادت صرف اللہ کے لیے کی جاتی ہے، اوروہی ثواب دیتاہے، اس کی اجرت بندوں سے لینایا اجرت دینا درست نہیں،ناجائز ہے۔ (58)ہدیہ دینا کار ثواب ہے بالخصوص علماءحفاظ اور ائمہ وموذنین کو ہدیہ دینے کا رواج بھی ہے،اس لیے ہدیہ دینے لینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن چوں کہ اس کے اجرت ہونے کاشبہ ہے اور فقہاء کرام نے احتیاطاً اس سے بھی منع کیاہے۔ اس لیے اس کی امید نہ رکھی جائے اور دینے والا دیتے وقت ہدیہ کی صراحت کرکے دے تو کوئی حرج نہیں۔ (59)

ہدیہ اللہ کی خوشنودی کے لیے دیں(60)کوئی ضروری نہیں کہ جس دن قرآن ختم ہویا عید کی رات ہی ہدیہ دیں؛بلکہ پہلے دینابہتر ہے، کیوں کہ یہ شبہ اجرت سے پاک ہوگا۔ (61) رمضان میں ہدیہ دینےکی وجہ سے ثواب بھی زیادہ ملے گا، برخلاف عید کی رات یاعید کے دن کے، رمضان کو اس وقت جاچکاہوتاہے۔ (62)ان کے علاوہ خدام مساجد، اوردیگر علماء کرام ومفتیان کو بھی ہدیہ وغیرہ دیناچاہیے۔ فقط

تبصرے بند ہیں۔