نظمِ قرآن پر اصرار : ایک جائزہ

مولانا ذکی الرحمن غازی مدنی

(جامعۃ الفلاح، اعظم گڑھ)

 [میں سرے سے نظمِ قرآن کا منکر نہیں ہوں۔ البتہ کوئی شخص جس نظمِ قرآن کا اپنے فہم سے استنباط کرے اور اسے کاوشِ فکر وخیال سمجھنے کے بجائے قطعی اور حتمی کہنے لگے اور فہمِ قرآن کی شاہ کلید قرار دے اور اس پر ہدایتِ قرآنی موقوف بتائے،تو مجھے نظم قرآن کی اس حیثیت سے انکار اور اعلانِ برأت ہے۔ ]

                تمہید

                تاریخِ تفسیر میں ہمیں قرآنِ کریم کی تفسیر کے مختلف مناہج اور اسالیب ملتے ہیں۔ ان اسالیب کے وجود پذیر ہونے کے اپنے تاریخی اور علمی اسباب ہیں۔ اس تاریخی تناظر میں بیسویں صدی انفجارِ علم -Knowledge Explosion- کا ایک ایسا عہد ہے جس نے قرآنی علوم اور تفسیر کے باب میں بھی نمایاں اضافے کیے اور نتیجے میں مختلف اسالیبِ تفسیر سامنے آئے جن میں ایک اسلوب قرآنِ کریم کی تفسیر تصورِ نظم ومناسبت سے کرنا بھی ہے۔ اس علم کی بنیاد قرآن مجید کی ترتیب کے توقیفی ہونے پر رکھی گئی ہے حالانکہ یہ خود ایک مختلف فیہ امر ہے۔ راجح یہ ہے کہ پورے قرآن کی ترتیب توقیفی ہے سوائے سورۂ توبہ کے مقام کی تعیین کے۔ (دیکھیں مناہل العرفان فی علوم القرآن، عبدالعظیم الزرقانیؒ، المبحث التاسع:فی ترتیب آیات القرآن وسورہ، ترتیب السور)

                نظریۂ نظم

                نظمِ قرآن کے سلسلے میں جدید وقدیم لٹریچر میں بہت سے نظریات ملتے ہیں۔ ان نظریات سے قطعِ نظر نظم کے لغوی معنی باہم ملانا،ترتیب دینا اور منسلک کرنا ہوتے ہیں۔ (القاموس الوحید، کیرانوی:ص۱۶۶۹) نظم کی اصطلاحی تعریف یہ کی گئی ہے کہ کسی ایک آیت میں یا جملہ آیات یا سورتوں کا باہمی ربط،نظمِ قرآن یا مناسبتِ قرآن کہلاتا ہے۔ (مباحث فی علوم القرآن، مناع قطاع:ص۹۷)

                مفسرینِ کرام کی ایک جماعت نے اس علم کے خالصتاً عقلی ہونے کی وجہ سے اس سے ذرّہ برابر اعتناء نہیں کیا۔ دوسرا گروہ قرآن میں نظم ومناسبت کو اہمیت تو دیتا ہے،لیکن ہر جگہ اسے تسلیم نہیں کرتا اور نہ فہمِ قرآن کے لیے اسے لازم قرار دیتا ہے۔ تیسرا مکتبۂ فکر وہ ہے جو کُل قرآن کو منظم ومربوط قرار دیتا ہے۔

                بنیادی طور پر نظمِ قرآن کی دو شکلیں ہیں۔ ایک وحدتِ موضوعی یعنی موضوع اور مرکزی نقطۂ نظر کی وحدت، اور دوسری قسم آیتوں کے مابین ربط ومناسبت۔ اس کی دیگر انواع الفاظ کا الفاظ سے ربط، اجزائے آیات کا نظم،آیات اور سورتوں کی باہمی مناسبت وغیرہ ہیں۔ پورے قرآن میں موضوعی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا ایک ہی عنوان ہو اور اس کے تحت تمام سورتوں اور آیات کو درج کیا جائے۔ قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے سے اس طرح مرتبط ومعقود ہوں گویا وہ ایک ہی کلمہ یا خطاب ہے۔ وحدتِ موضوع ہی میں یہ دوسرا پہلو بھی ہے کہ ہرسورت ماسبق سورت کے کسی اہم پہلو کی وضاحت کرے۔ مثال کے طور پر سورۂ حجرات ہے جو سورۂ فتح کی آخری آیت کی تفسیر ہے جیسا کہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ کہتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن:۷/۴۷۹)

                قرآنی آیات کے درمیان ارتباط ومناسبت کے اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ مختلف ومتنوع اغراض ومقاصد کے باوجود ہر سورت ایک عام مقصد کے تحت متعین موضوعی وحدت سے مربوط ہوتی ہے۔ آیاتِ قرآنی کی ترتیب کے باب میں تو اتفاق ہے کہ وہ توقیفی ہے اور سورتوں کے باب میں بھی -باوجود اختلاف کے- قائلینِ نظم کے نزدیک یہی راجح ہے کہ وہ بھی توقیفی ہے۔ متقدمین ومتاخرین مفسرین کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ تفسیر القرآن بالقرآن سب سے زیادہ معتبر اور صحیح ترین طریقۂ تفسیر ہے کیونکہ قرآن شریف میں جو بات ایک جگہ مجمل بیان ہوئی ہے،دوسری جگہ اس کی توضیح اللہ نے خود فرما دی ہے، اور جو بات ایک جگہ مختصر بیان ہوئی ہے دوسری جگہ اس کی تفصیل پیش کر دی ہے۔ (دیکھیں مقدمہ فی اصول التفسیر،ابن تیمیہؒ:۱/۳۹۔ دلائل النظام، مولانا فراہیؒ: ص۱۷)

                آیاتِ قرآنی میں نظم ومناسبت کی دو بڑی قسمیں ہیں :نظمِ ظاہر اور نظمِ غامض۔ نظمِ ظاہر یہ ہے کہ دوسری آیت پہلی آیت کا بدل ہو جیسا کہ سورۂ فاتحہ میں ’’اہدنا الصراط المستقیم٭ صراط الذین أنعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘‘ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب کہ نظمِ غامض آیات کے مابین ایسے ربط اورتعلق کو کہتے ہیں جو نہ تو ظاہروباہر ہو اور نہ ہی لفظوں سے کھل کر واضح ہو رہا ہو،بلکہ معنوی اور تعبیری طور پر اس کا استنباط کیا جائے۔ یہ بہرحال انسانی عقل وفہم کا میدان ہے اور اس نظم کی دریافت میں خوب خوب اختلافِ رائے واقع ہوا ہے۔

                فراہی مکتبۂ فکر

                قدیم زمانے سے نظمِ قرآن کا اعتراف کیا جاتا رہا ہے اور جن اصحابِ بصیرت کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی، انہوں نے قرآنِ کریم کی آیتوں اور سورتوں میں کئی کئی مناسبتیں نکال کر دکھائی بھی ہیں۔ امت نے ان کی کوششوں کی قدر بھی کی۔ مگر دورِ جدید میں (مولانا حمید الدین فراہیؒ کے متوسلین پر مشتمل)فراہی مکتبۂ فکر نے اس پر مفرطانہ اور مبالغہ آمیز طریقے سے زور دینا شروع کیا اور فہمِ قرآن کے لیے نظمِ قرآن کی تفہیم کو شرطِ اولیں کے طور پر متعارف کرایا۔ بات اس حد تک بڑھ گئی کہ اب نظم کے حوالے سے باقاعدہ شرعی احکام کا استنباط واستخراج کیا جاتاہے۔ اپنی ناپختہ عقل سے طے پانے والے نظمِ قرآن کا حوالہ دے کر صدیوں سے چلے آرہے امت کے عملی اور اعتقادی تواتر کو غلط باور کرایاجارہا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اصرار بے جا، غیر معقول اورایک بڑے انحراف اوربگاڑ کی تمہید یا اس کی ابتداء ہے۔

                نہ مانیں تو نقصان کیا؟

                یقینا نظمِ قرآن کی اہمیت برِ صغیر ہندوپاک میں سب سے پہلے مولانا فراہیؒ نے اجاگر کی۔ وہ ایک بالغ نظر اور ممتاز مفسرِ قرآن تھے۔ ان کا خاص موضوع نظمِ قرآن تھا۔ ان کے دور میں رائج الوقت خیال تھا کہ قرآن میں کوئی نظم وترتیب نہیں ہے۔ ایک سورت میں متعدد موضوعات بغیر کسی ترتیب کے آجاتے ہیں یا ایک سورت کا اپنی ماقبل ومابعد سورت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مولانا فراہیؒ اس عام خیال سے متفق نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس خیال کی تردید میں صرف کیا۔ انہوں نے اپنے رشحاتِ قلم سے اس خیال کی تردید وتکذیب میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور اپنے پیچھے شاگردوں اور معتقدوں کی ایک ایسی جماعت چھوڑ گئے جو اس کام میں منہمک رہی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مولانا فراہیؒ کا بنیادی کارنامہ تفہیمِ قرآن میں بلاشبہہ ان کا نظمِ قرآن پر اصرار ہے، اگرچہ اس بارے میں بعض اہلِ علم کا احساس ہے کہ یہ اتنا بڑا کارنامہ نہیں ہے جتنا بڑا اسے دکھایا اور بتایا جاتا ہے۔ مان لیجئے کہ قرآن مجید کی آیات میں نظم نہیں ہے تب بھی اس سے تعلیماتِ قرآنی میں کیا کمی واقع ہوتی ہے؟ بعض لوگوں کی شاید یہ بھی رائے ہے کہ مولانا فراہی اپنی اس کوشش میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے۔ تاہم مولانا علیہ الرحمہ نے اس سلسلے میں جو بھی سعی وکاوش فرمائی ہے وہ یقینا مفسرین میں انہیں اونچا مقام عطا کرتی ہے، اگرچہ یہ کہنا دشوار ہے کہ وہ مقام کتنا اونچا ہے۔ کہا نہیں جاسکتا کہ صرف ہندوستان کے انیسویں اور بیسویں صدی کے کئی مفسرین جن کے کارنامے گوناگوں ہیں، کیا مولانا فراہیؒ ان سے بلند تر مقام پر فائز ہیں۔

                یک چشمی

                مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر،اعظم گڑھ) مولانا فراہیؒ کی تصنیفی اور تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز بنا تھا۔ اس لیے اس مدرسے کے فارغین فکرِ فراہی سے خاص طور پر متاثر ہوئے، بلکہ اس تعلق سے تعصب اور غلو سے کام لیتے ہیں۔ چونکہ اس مدرسے کا اختصاص تعلیم وتفہیمِ قرآن ہے، اس لیے اصلاحی حضرات کی علمی کاوشوں کا بیشتر محور قرآن ہی ہے جس سے بڑھ کر یقینا کوئی دوسرا محور ہو بھی نہیں سکتا۔ تاہم بسا اوقات اس طرح کی کاوشیں یک رخی اور متعصبانہ ہوگئی ہیں۔ اس میں بلا شبہ مستثنیات ہیں، مگر آٹے میں نمک سے بھی کم۔ ہمارے نزدیک اس جانب دارانہ رویے کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ حدیث شریف کو اسلامی نظامِ فکر وعمل میں جو اہمیت حاصل ہے اس کی طرف اس رویے کے حاملین خاطر خواہ توجہ مبذول نہیں کر پاتے ہیں۔ کوئی کتنا ہی بڑا علّامۃ الدہر یا قرآن فہمی کا مدعی ہو،حدیث سے کما حقہ استفادہ کیے بغیر قرآن فہمی کا حق ادا ہو ہی نہیں سکتا۔ افسوس کہ لوگ خود مفسر بننا چاہتے ہیں، مگر جس ذاتِ عالیﷺ پر قرآن نازل ہوا اسے یہ حق دینے میں ہچکچاتے ہیں۔

                ذوقی مأخذ

                نظمِ قرآن پر بے جا اصرار کے ساتھ تفسیر کرنے میں کچھ خامیاں ہیں۔ سب سے بڑی خامی تو یہ ہے کہ نظمِ قرآن ایک ذوقی اور موضوعی چیز ہے،اسے معروضی وخارجی اصول یا ضابطے کی شکل نہیں دی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ خود اللہ کے رسولﷺ نے اور آپ کے جاں نثار صحابہؓ نے اس تعلق سے نہ خود زیادہ کھوج بین کی اور نہ امت کو کھوج کرید پر اُبھارا۔ ہمیں اٹک اٹک کر ناظرہ قرآن پڑھنے پر اجرو ثواب کے تعلق سے تو متعدد حدیثیں مل جاتی ہیں، مگر نظمِ قرآن کی تلاش میں وقت لگانے کی فضیلت پر ایک کمزور یا موضوع حدیث بھی تلاشِ بسیار کے بعد نہیں ملتی۔ جواباً کہا جاسکتا ہے کہ نظم تو تدبر میں شامل ہے اور قرآن پر غور وفکر کی فضیلت میں جتنی آیات واحادیث اور آثارِ صحابہؓ آئے ہیں، ان میں ضمناً یہ بھی شامل ہے۔ اگر یہ کہہ دیا جائے تو بالکل درست ہے،مگر ساتھ ہی یہ اس بات کا ضمنی اعتراف بھی مانا جائے گا کہ نظمِ قرآن فی نفسہ کوئی قطعی اور فیصلہ کن چیز نہیں ہے، خالص جس کی بنیاد پر صحیح یا غلط کا محاکمہ کیا جائے اور اسے ایک مصدرِ تشریع بنادیا جائے۔ تدبر وتفکر ایک موضوعی (Subjective)خاصہ ہے جو ہر شخص کے تناظر میں مختلف رنگ وآہنگ اختیار کر سکتا ہے۔ اس طرزِ فکر کے خطرات کی وضاحت چنداں ضروری نہیں۔ چونکہ موضوعی منطق ہر فرد کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے،اس لیے عین ممکن ہے کہ میں کسی چیز کو قرآن میں نظم کا نام دوں اور دلیل یہ دوں کہ میں ایسا محسوس کرتا ہوں تو جواب یہ ملے کہ آپ محسوس کرتے ہوں گے،ہم تو محسوس نہیں کرتے۔ یہاں کچھ دیر کے لیے قرآنِ کریم کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ اردو شاعری کی مثالوں کے ذریعے بات کی ترسیل انشاء اللہ ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر میں یہ کہوں کہ غالب کا یہ شعر:

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال

ہیں ورق گردانی نیرنگ یک بت خانہ ہم

                اس لیے خوبصورت ہے یا شاعری ہے کہ اس کا نظم وآہنگ بہت دل فریب ہے، تو جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم تو اس کے نظم وآہنگ میں کوئی دل فریبی نہیں دیکھتے۔ آپ دکھائیے کہاں ہے؟ اگر میں جواب میں کہوں کہ اس شعر میں جو خیال نظم ہوا ہے اس کو اس کا انتہائی مناسب آہنگ مل گیا ہے اوریہی اس کا حسن ہے۔ تو جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں تو یہ آہنگ اس خیال کے لیے قطعاً نامناسب معلوم ہوتا ہے اور اگر بہ فرضِ محال ایسا ہو بھی، تو یہ آہنگ مندرجہ ذیل شعر میں اتنا مناسب کیوں نہیں ہے جب کہ بحر ایک ہی ہے،بلکہ ردیف وقافیہ بھی ایک ہے:

ہم گئے شہر دلّی، ہم کو ایک لڑکی ملی

دیکھتے ہی اس کو فوراً ہوگئے دیوانہ ہم

                اب اگر میں کہوں کہ بحر اور ردیف وقافیہ تو ایک ہے،لیکن اس شعر میں جو خیال نظم کیا گیا ہے وہ مضحک ہے،اس وجہ سے آہنگ مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ تو آپ جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ اولاً تو ہمیں یہ خیال مضحک نہیں معلوم ہوتا،لیکن اگر مضحک خیال کے لیے یہ آہنگ ناموزوں ہے تو پھر اس شعر کے بارے میں جناب کا کیا خیال ہے:

اپنی غفلت کی یہی حالت اگر قائم رہی

آئیں گے غسال کابل سے، کفن جاپان سے

                یہاں آہنگ متناسب کیوں محسوس ہوتا ہے؟اب میں جواب میں کہہ سکتا ہوں کہ مجھے تو نہیں محسوس ہوتا۔ اس طرح یہ جھگڑا تا قیامت چلتا رہے گا،کبھی کوئی فیصلہ نہ ہوپائے گا۔ (اشعار شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ’’شعر، غیرِ شعر اور نثر’’ سے مأخوذ ہیں۔ )کچھ یہی صورت نظمِ قرآن کی ہے۔ وہ محض ایک موضوعی اور ذوقی چیز ہے۔ اسی لیے نظمِ قرآن کے بڑے علم بردار مولانا فراہیؒ سے ان کے شاگردِ ارشد مولانا امین احسنؒ نے متعدد جگہوں پر اختلاف کیا ہے، اور اس مکتبۂ فکر کے دیگر فضلاء ومجتہدین نے ان دونوں بزرگوں سے اختلاف کیا ہے۔ اگر نظمِ قرآن کوئی معروضی اور قطعی چیز ہوتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ اس میں اس درجہ شدید اختلافات پیدا ہوتے۔

                یہ لوگ جسے قرآن کا نظم اور سیاق وسباق کہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس کی حیثیت ان کے ذاتی فہم اور ذوقی استنباط سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتی۔ توضیحی مثال کے طور پر آیتِ جلباب کے تئیں ان کاآپسی اختلاف دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے{یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاء  الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْْہِنَّ مِن جَلَابِیْبِہِنَّ ذَلِکَ أَدْنَی أَن یُعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْْنَ وَکَانَ اللَّہُ غَفُوراً رَّحِیْماً}(احزاب،۵۹)’’اے نبی، اپنی بیویوں، بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکالیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔ ‘‘

                فی الوقت اس مکتبِ فکر کے نمائندے اور سرخیل جناب جاوید احمد غامدی اس آیت کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس آیت کا سیاق وسباق اور نظمِ کلام اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں مذکورچہرے کے پردے کا حکم ایک عارضی حکم تھا جو کہ صرف زمانۂ نبوت کی عورتوں کے لیے مخصوص تھا۔ چنانچہ غامدی صاحب لکھتے ہیں :’’ان آیتوں میں {أن یعرفن فلا یؤذین} کے الفاظ اور ان کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہ کوئی پردے کا حکم نہ تھا، بلکہ مسلمان عورتوں کے لیے الگ شناخت قائم کر دینے کی ایک وقتی تدبیر تھی جو اوباشوں اور تہمت تراشنے والوں کے شر سے مسلمان عورتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی۔ ‘‘(میزان،غامدی: ص۴۶۸) جب کہ انہی غامدی صاحب کے استاد اور امام،جناب امین احسن اصلاحیؒ اسی آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :’’{ذلک أدنیٰ أن یعرفن فلا یؤذین} اس ٹکڑے سے کسی کویہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ایک وقتی تدبیر تھی جو اشرار کے شر سے مسلمان خواتین کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی اور اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اول تو احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں سب محرکات کے تحت نازل ہوئے ہیں، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہوجائیں گے۔ ‘‘ (تدبرِ قرآن:۶/۲۷۰)

                اب غور کریں کہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ جنھوں نے بہ قول غامدی صاحب، ان کو قرآن کے سیاق وسباق اور نظمِ قرآن کی تعلیم دی تھی، وہ {ذلک أدنیٰ أن یعرفن فلا یؤذین} یعنی قرآن کے سیاق وسباق کو بنیاد بناکر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کو عارضی اور تدبیری حکم سمجھنا غلط ہے اور اس کے لیے دلیل کے طور پر انھوں نے ایک اصول بیان کیا جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے غامدی صاحب نے اپنے ایک درس کے دوران اپنے استاد امام کی شان میں یہ کلمات ارشاد فرمائے کہ ان سے بھی اس مسئلے میں غلطی ہوگئی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں، وہ محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہوجائیں گے۔ یہاں استاد امام نے اپنے تلمیذِ رشید جاوید احمد غامدی صاحب کو جو اصول سمجھانا چاہتے ہیں اسے علمائے اصول ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ قرآن وسنت کی تشریح وتفسیر کرتے وقت اصل اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوگا، نہ کہ خاص سببِ نزول کا۔ ’’ العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب‘‘۔

                اسی طرح غامدی صاحب کے امام کے امام یعنی مولانا حمید الدین فراہیؒ نے بھی یہ لکھا ہے کہ قرآن کے سیاق وسباق ور نظم سے چہرے کا پردہ ثابت ہوتا ہے۔ مولانا فراہی فرماتے ہیں :’’حجاب کے مسئلے میں تفاسیر اور فقہ میں پوری توضیح موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔ میری رائے میں نظمِ قرآن پر توجہ نہ کرنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔ ایسی قدیم غلطیوں کا کیا علاج کیا جائے! کون سنتا ہے کہانی میری، اور پھر وہ بھی زبانی میری۔ فقہاء اور مفسرین کا گروہ ہم زبان ہے، مگر صحابہؓ اور تابعینؒ زیادہ واقف تھے۔ انھوں نے ٹھیک سمجھا ہے، مگر متاخرین حضرات نے ان کا کلام بھی نہیں سمجھا۔ بہرحال ’’الحق أحق أن یتبع‘‘۔ میں اس مسئلے پر مطمئن ہوں اور میرے نزدیک اجنبی سے پورا پردہ کرنا واجب ہے اور قرآن نے یہی حجاب واجب کیا ہے جو شرفاء میں مروّج ہے، بلکہ اس سے قدرے زائد۔ ذرا مجھے طاقت آئے تو مفصل مضمون آپ کی خدمت میں بھیجوں۔ ‘‘(بہ حوالہ ماہنامہ اشراق،مئی ۱۹۹۲ء،ص۶۰)

                اب ایک طرف غامدی صاحب کے دو استاد امام ہیں جن کے بہ قول عصرِ حاضر کی خواتین کے لیے بھی چہرے کا پردہ نصِ قرآنی اور نظمِ قرآنی سے ثابت ہے اور یہ کوئی عارضی یا تدبیری حکم نہیں تھا۔ ان کے خلاف غامدی صاحب کا دعویٰ ہے کہ نظمِ قرآن اور سیاق وسباق کے مطابق چہرے کا پردہ کرنا ایک عارضی اور تدبیری حکم تھا۔ اب یہ دو متضاد بیانات ہیں۔ اگر واقعتا قرآن کا سیاق وسباق اور نظمِ آیات اس کے قطعی مفہوم کو متعین کرتا ہے تو ایک ہی جیسے اصولِ تفسیر یعنی نظمِ قرآن اورسیاق وسباق کو ایک ہی نص پر منطبق کرنے کے نتیجے میں دو متضاد آراء کیسے حاصل ہوگئیں ؟اگر غامدی صاحب کے کوئی بھکت کہیں ان کے دونوں امام غلطی پر تھے تو پھر قرآن کا نظم قطعی نہیں ہوگا کیونکہ جو نظمِ قرآن عصرِ حاضر کے دو اماموں اور استادوں کے لیے بھی قطعی الدلالہ نہیں ہوسکتا وہ عامۃ المسلمین کے لیے کیسے قطعی اور یقینی ہوسکتا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ نظمِ قرآنی ہو یا قرآن کا سیاق وسباق، عرفِ قرآنی ہو یا عربیِ معلّیٰ؛ یہ سب قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر کے اصول ہیں۔ قرآن کا سیاق وسباق، اس کا عرف، اس کا نظم اور عربیِ معلی؛ یہ سب غیرِ قرآن ہیں اور ان میں سے پہلے تین تو مفسر کا ذاتی فہم اورذوقی استنباط ہیں۔ اس کا جواب غامدی صاحب یہ دیتے ہیں کہ مفسر کو نظمِ قرآن کے ذریعے قرآن کے قطعی مفہوم تک پہنچنے میں غلطی ہو سکتی ہے۔ ان کی یہ بات درست ہے،مگر اصل سوال پھر بھی اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ ایک مسلمان یا عالمِ دین کو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ فلاں مفسر کو قرآن کے قطعی مفہوم تک پہنچنے میں غلطی ہوئی ہے اور خود ایک مفسر کے لیے وہ کونسا معیار ہے جس کی روشنی میں وہ یہ طے کر سکے کہ اس کی تفسیر وہی ہے جو اللہ کی مراد تھی اور باقی مفسرین نے قرآن کے الفاظ کے قطعی مفہوم تک پہنچنے میں غلطی کھائی ہے؟اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک یہ معیار شارحِ قرآن یعنی نبیِ کریمﷺ کے اقوال یعنی احادیث، قرآن کے اولین مخاطبوں یعنی صحابۂ کرام کے لغتِ قرآن کے بیان میں وارد اقوال اور قرآن کی نص کے فہم میں صحابہ اور زمانۂ مابعد کے علمائے امت کا اجماعی موقف اور اہلِ سنت کے متفق علیہ اصولِ تفسیر اور منہجِ فہمِ قرآن ہیں۔ اس کے برخلاف نظمِ قرآن کے پرجوش داعیوں کا موقف اس بارے میں یہ ہے کہ ان کے نزدیک کسی مفسر کی غلطی پہچاننے کا معیار ان کے مزعومہ اصولِ تفسیر ہیں جن کو وہ کبھی عرفِ قرآن کا نام دیتے ہیں، اور کبھی نظمِ قرآن کہتے ہیں، کبھی عربیِ معلی بتاتے ہیں اور کبھی زبان کی ابانت۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں فکرِ غامدی ایک تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ:ص۱۲۲-۱۲۴)

                قرآنی آفاقیت

                 علاوہ ازیں نظمِ قرآن کے جوش میں تفسیر کرنے والاشخص نادانستہ قرآن کی آفاقیت مجروح کر ڈالتا ہے۔ ’’والعصر إن الإنسان لفی خسر‘‘، ’’إن الإنسان خلق ہلوعا‘‘، ’’فإذا مس الإنسان ضر دعانا‘‘ اور ’’فأما الإنسان إذا ماابتلاہ ربہ فأکرمہ ونعمہ فیقول ربی أکرمن‘‘ جیسی درجنوں قرآنی آیات ہیں جن میں انسانی مزاج اور سرشت کے حوالے سے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا گیا ہے۔ ہر شخص ان آیات کو پڑھتے ہوئے وجدانی سطح پر محسوس کیے بنا نہیں رہتا ہے کہ یہاں اس کا اپناتذکرہ ہے اور خاص اس کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ مگر مکتبۂ فراہی کی نمائند تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ اٹھا کر ایسی تمام آیات کی تفسیر ایک مرتبہ دیکھ جائیے۔ آپ پائیں گے کہ نظمِ قرآن بنانے کے پھیر میں ہر جگہ ان آیات میں انسان سے کفار ومشرکین اور وہ بھی قبیلۂ قریش کے کفار ومشرکین کو مراد بتا دیا گیا ہے۔ یہ قرآنی آفاقیت کو محدود کرنے والا اور اس کی عالم گیری کو نقصان پہنچانے والا رویہ ہے جس کی بنیادی وجہ نظمِ قرآن پر اصرار اور اس کی ضد ہے۔

                صحیح حدیثوں کا انکار

                نظمِ قرآن بنانے ہی کی وجہ سے بلا مبالغہ سیکڑوں صحیح اور بالمعنی متواترحدیثوں کا انکار اس مکتبِ فکر کے متبعین اور نام نہاد مجتہدین نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں کر دیا ہے۔ زبانی طور سے یہ مکتبۂ فکر حدیثوں کی حجیت اور ان سے استفادے کا قائل اور مؤید ہے۔ مثلاً مولانا امین احسن اصلاحیؒ ’’مبادیِ تدبرِ حدیث‘‘ نامی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ’’تفسیر کے ظنی مأخذوں میں سب سے اشرف اور سب سے زیادہ پاکیزہ چیز احادیث وآثارِ صحابہ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ احادیث کا سرے سے انکار کر دیتے ہیں وہ اس روشنی سے محروم ہوجاتے ہیں جو قرآن مجید کے بہت سے اجمالات کے کھولنے میں سب سے زیادہ مددگار ہو سکتی ہے۔ اعتدال کی راہ اس معاملے میں یہ ہے کہ قرآن مجید کے اجمالات جس حد تک صحیح احادیث کی روشنی میں کھلتے ہوں، اس حد تک ان صحیح احادیث کی رہنمائی سے پورا فائدہ اٹھایا جائے اور ان کے بالمقابل ہرگز کسی دوسری چیز کو ترجیح نہ دی جائے۔ ‘‘ (مبادیِ تدبرِ حدیث:ص۲۱۸-۲۱۹) کتنی پیاری بات ہے اور کتنے اونچے خیالات ہیں۔ مولانا کے اس اقتباس سے تین باتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ نمبر ایک احادیث وآثارِ صحابہؓ تفسیر کا سب سے پاکیزہ مأخذ ہیں۔ نمبر دو احادیث بہت سے قرآنی اجمالات کھولنے میں سب سے زیادہ مددگار ہیں۔ نمبر تین مجملاتِ قرآنی کے کھولنے کے لیے صحیح احادیث کے مقابلے میں کسی بھی دوسری چیز کو ترجیح نہ دی جائے۔ احادیث کی اس اہمیت وافادیت کے اعتراف کے باوجود جب ہم مولانا اصلاحی کا ذاتی طرزِ عمل دیکھتے ہیں جو تدبرِ قرآن لکھتے ہوئے انھوں نے اختیار کیا تھا تو بات بالکل الٹ نظر آتی ہے۔ کُل پانچ ہزار آٹھ سو چوالیس[۵۸۴۴] صفحات پر مشتمل اس تفسیر میں صرف اسّی[۸۰] احادیث جگہ پا سکی ہیں۔ ان میں بھی تقریباً آدھی تعداد ان حدیثوں کی ہے جو بہ طورِ استدلال واستشہاد بیان نہیں ہوئیں، بلکہ ان کا تذکرہ محض ان کی تردید وانکار یا استخفاف وتضحیک کے لیے کیاگیا ہے۔

                اس کے مقابلے میں اس تفسیر کے اکثر صفحات میں جاہلی ادب اور لغت کی طرف رجحان صاف جھلکتا نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ قدیم کتبِ سماوی کے طویل اقتباسات بھی محل بے محل ٹانکے گئے ہیں۔ یہ بات ان کے اس قول کی عملی تردید کرتی ہے کہ ’’قرآن مجید کے اجمالات جس حد تک صحیح احادیث کی روشنی میں کھلتے ہوں اس حد تک ان صحیح احادیث کی رہنمائی سے پورا فائدہ اٹھایا جائے اور ان کے بالمقابل ہرگز کسی دوسری چیز کو ترجیح نہ دی جائے۔ ‘‘ اس بحث سے قطعِ نظر کہ احادیث تفسیر کا قطعی مأخذ ہیں یا ظنی، یہ سوال اپنی جگہ بڑا اہم ہے کہ جب خود مولانااصلاحیؒ نے قدیم صحفِ سماوی کو ظنی مأخذ میں احادیث کے کافی بعد رکھا ہے تو عملاً ایسا کیوں ہوا کہ تدبرِ قرآن میں قدیم کتب کے اقتباسات کی بھرمار نظر آتی ہے،مگر احادیثِ صحیحہ ڈھونڈے سے نہیں ملتیں ؟ کیا یہ ان کے اپنے اختیار کردہ موقف کی خود تردید نہیں ہے۔ یہ تضاد اور دو رُخاپن اس وقت زیادہ کھٹکتا ہے جب مولانااصلاحیؒ اپنے مقدمۂ تفسیر میں یہ لکھتے نظر آتے ہیں کہ ’’میں احادیث کو تمام تر قرآن سے ہی مأخوذ ومستنبط سمجھتا ہوں۔ اس وجہ سے میں نے صرف انہی احادیث تک استفادے کو محدود نہیں رکھا جو قرآن کی کسی آیت کے تعلق میں صراحت کے ساتھ وارد ہوئی ہیں، بلکہ پورے ذخیرۂ احادیث سے اپنے امکان کی حد تک فائدہ اٹھایا ہے۔ ‘‘(تدبرِ قرآن:۱/۳۰) مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کے ’’امکان کی حد‘‘ میں صرف اسّی احادیث سے استفادہ ہی پورے قرآن کی تفسیر میں کفایت کرجاتا ہے؟یہ بات ان مواقع پر بالخصوص زیادہ بھدّی لگتی ہے جہاں بعض آیات کی تشریح میں مولانا اصلاحیؒ کے اختیار کردہ موقف کی تائید صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے یا وہاں حدیث کی روشنی میں وضاحت کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے،مگر وہاں بھی مولانا اصلاحیؒ نے حدیثوں سے اعراض وتغافل برتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ من مانی تفسیر کرنے والے ہر منکرِ حدیث کا معاملہ یہ ہے کہ تبیینِ قرآن کا منصب وہ اللہ کے رسولﷺ کے لیے تسلیم نہیں کرے گا، مگر خود اچک کر اس پر ضرور بیٹھنا چاہے گا۔ نہ جانے بعض لوگ کیسے مفسرِ قرآن ہیں جو اللہ کے متعین کردہ اولین مفسرؐ کی تفسیر قبول نہیں کرتے؟ایسے میں کیوں کر ان کو حدیث کے ماننے کے دعوے میں سچا باور کیا جاسکتا ہے جب کہ ان کی تفسیر احادیث کے خلاف یا ان کے انکار پر مبنی ہو؟

                اسی طرح اصلاحی حضرات بہت سی صحیح حدیثوں کو خلافِ قرآن یا عقل کے خلاف باور کراتے ہیں اور انھیں رد کر دیتے ہیں جب کہ امتِ مسلمہ کے علماء اور ائمۂ حدیث، ہر اس حدیث کو صحیح اور قابلِ حجت سمجھتے ہیں جو محدثین کے بنائے ہوئے نقد وتحقیقِ حدیث کے اصول وضوابط اور جرح وتعدیل کی روشنی میں صحیح قرار پاتی ہے یا قرار پائی ہے۔ اور جو اس کے برعکس ہے وہ ضعیف، منکر یا موضوع روایات ہیں اور ناقابلِ حجت واستناد ہیں۔ علاوہ ازیں علمائے امت اور ائمۂ حدیث کے نزدیک کوئی بھی صحیح حدیث نہ قرآن کے خلاف ہے اور نہ صریح عقل کے خلاف۔ صحیح حدیث کو خلافِ قرآن یا خلافِ عقل قرار دینا ہر باطل پرست گروہ کا شیوہ رہا ہے کیونکہ اس کے بغیر ان کے باطل نظریات کا اثبات ورواج ممکن نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر حدِ رجم کی احادیث ہیں، یہ متواتر بھی ہیں کہ تین درجن صحابہؓ سے مروی ہیں اور ان کی صحت پر پوری امت کا اجماع واتفاق بھی ہے۔ لیکن مکتبۂ فراہی کے نمائندہ مفسر مولانا اصلاحیؒ اپنے خود ساختہ نظریۂ رجم کے اثبات کے لیے ان حدیثوں کو خلافِ قرآن باور کرتے ہیں اور رد کردیتے ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ مولانا فراہیؒ کے مخالفِ جمہورِ امت افکار ونظریات کا وظیفہ سن سن کر ان کے تلامذہ ومسترشدین کی شکل میں انکارِ حدیث کی جو گندی بدرو چلی ہے، وہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ سے ہوتے ہوئے آج فتنۂ غامدیت کے بانی مبانی جناب جاوید احمد غامدی کی شکل میں اپنے اسلاف کے نامۂ سیاہ میں خوب خوب اضافے کر رہی ہے۔

                درپردہ انکارِ حدیث کا جو سلسلہ مولانا فراہیؒ کی تحریروں سے شروع ہوا تھا وہ ان کے جانشین مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی تحریروں اور تفسیروں میں اپنی پوری فتنہ سامانی کے ساتھ ظاہر ہوا۔ اس طرح حدیثِ پاک باطل نظریات کے حامل اِس گروہ کے ہاں تختۂ مشقِ ستم بنی ہوئی ہے اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو حدیث کا حمایتی اور حدیث کا ماننے والا باور کراتے ہیں، لیکن حدیث کو رد کرنے کے لیے حدیث کی ایسی انوکھی تعریف کرتے ہیں جس سے حدیث از خود مردود قرار پاجائے۔ مثلاً مولانا اصلاحیؒ فرماتے ہیں : ’’حدیث اور سنت دو الگ چیزیں ہیں، سنت تو امت کا وہ تواترِ عملی ہے جس کی رو سے نماز وغیرہ عبادات کے طریقے مسلمہ چلے آرہے ہیں او ریہ قرآن کی طرح حجت ہیں، اور حدیث کا مطلب ہے رسول اللہﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات۔ لیکن احادیث چونکہ ظنی(یعنی مشکوک) ہیں اس لیے یہ غیر محفوظ اور ناقابلِ اعتبار ہیں۔ ‘‘(مبادیٔ تدبرِ حدیث اور مقدمہ تفسیر تدبرِ قرآن) یوں سنت وحدیث کی الگ الگ تعریف کرکے سارے ذخیرۂ احادیث کو رد کر دیا گیا۔ اس لیے اصلاحیؒ صاحب نے صحیحین کی بیسیوں متفق علیہ حدیثوں کو اپنی کتابوں میں مردود قرار دیا ہے۔ ان کے شاگرد جاوید احمد غامدی صاحب نے اس فساد میں یہ اضافہ فرمایا کہ ’’سنت دینِ ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبیﷺ نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ ‘‘(میزان، جاوید غامدی:ص۱۴) اور چند سطروں بعد ان سنتوں کی تعداد بھی انھوں نے متعین فرمادی کہ وہ صرف ستائیس ہیں اور ساتھ ہی فرمادیا کہ سنت بس یہی ہے۔ ان کے علاوہ(یعنی قرآن اور ستائیس سنتوں کے علاوہ) کوئی چیز دین ہے، نہ اسے دین قرار دیا جاسکتا ہے۔ (حوالۂ مذکور)

                کیسا ادعائی انداز ہے اور کتنا غرور بھرادعویٰ ہے کہ دین صرف ستائیس سنتوں پر مشتمل ہے۔ اس جسارتِ بے جا کا حوصلہ غامدی صاحب کے اندر کس نے پیدا کیا؟ صرف سنت کی اپنی گھڑی ہوئی تعریف نے۔ اسی طرح ان کے پیش رو جنہیں یہ استاذ امام کہتے ہیں، یعنی مولانا امین احسن اصلاحیؒ(اگرچہ مولانا کا مدرسۃ الاصلاح سے فارغ التحصیل ہونا محققین کے نزدیک مشکوک ہے)نے حدیث اور سنت کو الگ الگ کرکے سارے ذخیرۂ احادیث کو غیر محفوظ اور ایک دفترِ بے معنی قرار دے دیا۔ ان کی اس جسارت کی وجہ ان کا علمی پندار اور زعمِ ہمہ دانی تھا۔ نیز حدیث وسنت کے درمیان ناروا تفریق پر عمل کرناتھا۔ اس کے برخلاف محدثین کے نزدیک حدیث اور سنت کے دونوں لفظ مترادف المعنی ہیں اور دونوں سے مراد اقوال وافعال اور تقریراتِ رسول ﷺ ہی ہیں۔ درپردہ منکرینِ حدیث کا یہ گروہ اور اس طرح کے دیگر فرقے جو قرآن کو حدیث کی روشنی میں سمجھنے کے قائل نہیں، بلکہ لغت یا اپنے خود ساختہ نظریات -مثلاً نظم-کی روشنی میں قرآن کی من مانی تفسیر کرنے کے قائل ہیں، یہ سارے گروہ حدیث کے بارے میں ذہنی تحفظات رکھتے ہیں۔ اس لیے بالکلیہ حدیث رد نہیں کرتے،بلکہ اپنے مزعومات کے مطابق حدیث کو مانتے یا رد کرتے ہیں۔ ردّ وقبولِ حدیث کے اُن مسلمہ اصولوں کو نہیں مانتے جو محدثین نے وضع کیے ہیں اور پوری امت جن کی روشنی میں کسی حدیث کو قبول یا ردّ کرتی آئی ہے۔

                مولانا اصلاحیؒ کے حوالے سے فکرِ فراہی کی بابت یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں نے نظمِ قرآن کے زیرِعنوان جو رویہ اختیار کیا ہے اس میں غلو بھی ہے اور اس کی بنیاد پر انہوں نے قرآن میں متعدد جگہ تحریفِ معنوی بھی کر ڈالی ہے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف غلط باتوں کا انتساب بھی کیا ہے۔ ورنہ قرآنِ کریم کی تفسیرمیں تحریفِ معنوی کی کیا ضرورت؟حدیثوں کی حجیت کا اعتراف کرنے کے باوجود تفسیرتدبرِ قرآن میں جگہ جگہ بے اعتدالی اور افراط وتفریط ہوئی ہے۔ مثلاً

                -بیسیوں صحیح اور متفق علیہ احادیث کا انکار کیا ہے۔

                -متعدد منکر اور ضعیف روایات سے اپنے حق میں استدلال کیا ہے۔

                -محدثین کے وضع کردہ تحقیقِ حدیث کے اصولوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے نئے اصول وضع کیے ہیں تاکہ جس صحیح حدیث کو رد کرنا چاہیں کر دیں اور جس منکر اور ضعیف روایت کو مدارِ استدلال بنانا چاہیں بنالیں۔ یہ دونوں کام امین احسن اصلاحیؒ صاحب نے ڈنکے کی چوٹ پر کیے ہیں۔

                -صحیح احادیث کو رد کرنے کے لیے مفروضے گھڑے تاکہ صحیح احادیث کو بھیانک روپ میں پیش کیا جاسکے۔ (دیکھیں سورۂ احزاب کی من گھڑت تفسیر)

                -اپنی بات کی ضد میں محدثین کی طرف جھوٹاانتساب کرنے سے بھی نہیں چوکے۔ (دیکھیں سورۂ دخان آیت نمبر ۱۰ کی تفسیر) اسی طرح حدِ رجم کو فقہ کی طرف منسوب کرکے فقہاء کی ایجاد قرار دے دیا۔ (دیکھیں تفسیر سورۂ نور)

                -بے سروپا روایات کی بنیاد پر تمام مفسرین کو بے نقط سنائی ہے جب کہ محقق مفسرین نے انھیں اپنی تفسیروں میں ذکر ہی نہیں کیا۔ (مثلاً سورۂ نمل آیت ۸۲، اور سورہ حج آیت ۵۲ کی تفسیر)

                -شانِ نزول کی صحیح بلکہ متفق علیہ حدیث کو لایعنی قرار دیا۔ (تدبرِ قرآن:۴/۵۶)

                -مفسرین کی تفسیر کو گھپلا قرار دیا۔ (تدبرِ قرآن:۵/۳۲۰۔ تفسیر سورۂ انبیاء)

                -معجزات کا انکار یا ان کی عجیب وغریب توجیہ وتاویل کی تاکہ ان کی معجزانہ حیثیت باقی نہ رہے۔ (سابقہ انبیاء کے معجزات پر مشتمل آیات کی تفسیر دیکھیں )

                -اسلامی مسلّمات کا انکارجیسے معراج کا انکار، نزولِ عیسیٰ اور ان کے رفعِ آسمانی کا انکار، دجال کا انکار اور اس سے ڈراوے پر مشتمل احادیث کا استہزاء واستخفاف وغیرہ۔

                -اجماعِ امت کا انکار،حدِ رجم کا انکار جس پر صحابۂ کرامؓ سمیت پوری امت کا اجماع ہے۔

                -خانۂ ساز نظریۂ رجم کے اثبات کے لیے صحابہ وصحابیات جیسی مقدس ہستیوں کو غنڈہ، عادی اور پیشہ ور زانی اور چکلہ چلانے والا باور کرادیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی اور تفسیری نظریات کی روشنی میں، حافظ صلاح الدین یوسف علیہ الرحمہ)

                نظم اور اقتباس

                علمِ بلاغت کی اصطلاح میں ’’اقتباس‘‘ کا مطلب ہے کسی قرآنی آیت یا حدیث کے الفاظ کو اپنی گفتگو میں اپنی بات بنا کر پیش کر دینا۔ (دیکھیں کتبِ بلاغت مثلاً جواہر البلاغہ، البلاغۃ الواضحۃ وغیرہ)مثلاً لین دین کے کسی معاملے کے اختتام پر کہا جائے کہ اللہ ہمارے عہد وپیمان کا ذمے دار ہے۔ ’’واللّٰہ علی مانقول وکیل۔ ‘‘ یا کوئی استاد یحییٰ نام کے اپنے شاگرد کو کتاب اٹھانے کا حکم دے تو یوں مخاطب ہو: ’’یا یحییٰ خذ الکتاب بقوۃ‘‘۔ ہر زمانے میں علمائے بلاغت نے اپنی کتابوں میں اقتباس کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی مثالیں دی ہیں۔ غورکیا جائے تو یہ طرزِ عمل تمام تر نظمِ قرآن کی ضد ہے۔ اس کے ذریعے سے غیر شعوری طور پریہ سبق ملتا ہے کہ قرآن نظم وترتیب سے خالی ہے۔ اگر فی الواقع نظمِ قرآن کی حیثیت فہمِ دین میں کلیدی اور حتمی ہوتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ مسلمان بلاغت کے اس اسلوب ’’اقتباس‘‘کی پُرزور مخالفت نہ کرتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس ہم پاتے ہیں کہ خود اللہ کے رسولﷺ نے بسااوقات نظم سے کاٹ کر آیاتِ قرآنیہ سے استدلال کیا ہے۔ اس کی متعدد مثالیں صحاح ستہ میں (بالخصوص ابواب التفسیرکے اندر)دیکھی جاسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں ہر زمانے میں فقہائے شریعت نے بھی قرآنی آیات کے سیاق وسباق کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے قرآنی الفاظ وآیات سے احکامِ شرعیہ کا استنباط واستخراج کیا ہے اور آج تک کر رہے ہیں۔ کتبِ فقہ پر نظر رکھنے والے اس حقیقت سے بہ خوبی آگاہ ہیں۔ اب کیا ہم یہ مانیں کہ تمام فقہائے امت آج تک غلط کرتے آئے ہیں ؟

                سائنسی اعجاز

                 ایک اور پہلو سے بھی غور کریں۔ قرآن نے آفاق وانفس کے حقائق بھی جستہ جستہ بیان کیے ہیں۔ ڈاکٹر موریس بوکائیے کی کتاب ’’قرآن، بائبل اور سائنس‘‘ اس سلسلے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآنی اعجاز کا یہ پہلو اس کے حق ہونے کی ایسی روشن دلیل ہے جس کا انکار یا جس کا معارضہ بڑے سے بڑا دشمنِ دین بھی علمی سطح پر نہیں کر پاتا ہے۔ مستشرقینِ مغرب کی قینچی نما زبانیں بھی یہاں آکر گنگ ہوجاتی ہیں۔ آپ ذرا ڈاکٹر بوکائیے کی کتاب اٹھائیے اور وہ تمام آیات جو انہوں نے درج کی ہیں اور جن کی روشنی میں بائبل اور سائنس کے اوپر قرآن کا تفوق اور امتیاز ثابت کیا ہے،پھر ان آیات کی تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ میں دیکھ لیجیے۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ ہر جگہ تفسیر میں دیدہ ودانستہ قرآن کے علمی اعجاز سے اغماض برتا گیا ہے اور نظم بنانے کی فراق میں آیات کی تفسیر اس انداز سے کر دی گئی ہے کہ ان کے اندر چھپا علمی اورسائنسی اعجاز تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ گویا اسلام کا وہ ہتھیار جس کے آگے بڑے بڑے دشمنانِ دین بے بس ہو جاتے تھے اور اس کا توڑ نہ کر پاتے تھے، ہمارے تفسیری مہارتھیوں نے از خود یہ ہتھیار توڑ کر دشمن کے قدموں میں ڈال دیا۔ یہ نادان دوستی ظاہر ہے کہ صرف اور صرف نظمِ قرآن کے التزام کی وجہ سے ہوئی۔

                احتسابِ خویش

                علاوہ ازیں نظمِ قرآن کی جستجو میں جب قرآن پڑھا جاتا ہے تواس کی روشنی میں اپنی ذات کا جائزہ لینے کے بجائے اسے دوسروں سے متعلق کتاب سمجھ لیاجاتا ہے۔ مثلاً جہاں اہلِ نفاق کی قبیح عادات وخصائل اور صفات وعلامات بیان کرنے والی آیات آتی ہیں وہاں ان کی روشنی میں اپنا جائزہ لینے کے بجائے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ صفات یہودیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ذکر کی گئی ہیں۔ گویا ہم مسلمانوں کا براہِ راست ان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، اس لیے ان کی روشنی میں اپنی سیرت وکردار کی چھان پھٹک ضروری نہیں۔ سورۂ بقرہ میں مخاطب یہود مان لیے گئے ہیں اور سورۂ آلِ عمران میں نصاریٰ، اس لیے ہر آیت کو خاص ان قوموں کے تناظر میں پڑھا اور سمجھا جانا چاہیے۔ تفسیر تدبرِ قرآن میں اس طرح کی نکتہ آفرینیاں آپ کو جگہ جگہ ملیں گی۔ اس حد تک بات قابلِ برداشت ہو سکتی تھی، مگر اب جاوید احمد غامدی صاحب نے علی الاعلان کہنا شروع کر دیا ہے کہ سورۂ توبہ کا تعلق صرف عہدِ نبوی سے تھا، قرنِ اول کے بعد اب سورۂ توبہ بہ غرضِ تلاوت تو باقی رہے گی،مگر اس کے مندرجات کی بنیاد پر کوئی شرعی حکم استنباط نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بہ قول سورۂ توبہ دینونتِ صغریٰ ہے جو روزِ محشر واقع ہونے والی دینونتِ کبریٰ کی اس دنیا میں تصغیر وتمثیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ نبوی اور تاریخِ صحابہؓ کے دل کو تڑپادینے والے واقعات ان حضرات کی تحریروں اور تفسیروں میں بار نہیں پاتے۔ روحانیات واخلاقیات کا پہلو تو بالکل دب کر رہ گیا ہے۔ یہ سب بالواسطہ نقصانات وانحرافات ہیں جو نظمِ قرآن پر اصرار کرتے ہوئے اسی کی روشنی میں قرآن کی تفسیر کرنے سے پیدا ہوئے۔

                کلمۂ فصل

                ذاتی طور سے ہمارا ماننا ہے کہ ربط ومناسبت کا علم لطائف کے قسم کی ایک چیز ہے جس سے اعجازِ قرآن کے گوناگوں پہلو واضح ہوتے ہیں اور قرآن کے معانی ومفاہیم کی حکمت مزید نکھر کر سامنے آتی ہے۔ لیکن اس علم کی حیثیت فہمِ قرآن میں شاہ کلید کی نہیں ہے جس کے بغیر قرآن کے علوم اور اس کی روح تک بالکلیہ رسائی نہ ہو سکتی ہو۔ نظم اور مناسبت کو فہمِ قرآن کے لیے کلید ماننے کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ عام مسلمان ہدایتِ ربانی سے محروم ہوجائے گا کیونکہ ربط ومناسبت تک رسائی ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے وسیع علم، عمیق تدبر اور مسلسل ریاضت ومجاہدہ درکار ہے۔ پھر اگر واقعی فہمِ قرآن میں اس علم کا کردار کلیدی اور جوہری ہوتا تو اس کی اہمیت اللہ کے رسولﷺ اور صحابۂ کرامؓ نے ضرور واضح فرمائی ہوتی۔ بالخصوص صحابۂ کرامؓ کے زمانے میں جب کہ عجمی اقوام بہ کثرت دائرۂ اسلام میں داخل ہو رہی تھیں اور قرآن کو غلط پڑھنے کی وجہ سے روز بہ روز نئے نئے فتنے سراٹھا رہے تھے،اس وقت پورے زور وشور سے نظمِ قرآن کی تائید میں ایک باقاعدہ تحریک چلائی جانی چاہیے تھی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ اس تعلق سے یکسر خاموش ہے۔

                اصل یہی ہے کہ قرآن میں ربط ومناسبت کا علم اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہوتا ہے جو وہ چیدہ بندوں کو ان کی استعداد اور اجتہاد کے مطابق عطا فرماتا ہے۔ مگر اس پر قرآنی ہدایت سے استفادے کو موقوف یا مشروط یا منحصر نہیں کیا گیا۔ فی زمانہ جس نظمِ قرآن کا ڈھنڈورا منکرینِ حدیث کے درپردہ گروہ نے پیٹ رکھا ہے وہ یہ ہے کہ نظم ثابت کرنے کے چکر میں صحیح وصریح سیکڑوں حدیثوں کا انکار کر دیا جائے، امتِ مسلمہ کے چودہ سو سالہ تعامل وتواتر کا مذاق اڑایا جائے، اسلامی عقائد وایمانیات کی نویلی تشریح کی جائے، قرآن کی آیتیں جن میں درج سائنٹفک حقائق کے بالمقابل دشمنانِ دین لاجواب تھے،ان کے مضمون کو یکسر دوسرا رُخ دے دیا جائے اور قرآن کی آفاقی وہمہ گیر تعلیمات کو خاص علاقے اور متعین زمانے کے تنگ دائرے میں محصور کر دیا جائے۔ ایسے مزعومہ نظم اور اس کے دعوے داروں سے ہم ہزار بار اظہارِ معذرت کرتے ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں قرآنِ کریم میں نظم ومناسبت، عبیداللہ فہد فلاحی:ص۴۰-۴۳)

                دوروایتیں

                اب تک ہمارے یہاں بزرگوں کے سلسلے میں دو روایتیں رائج رہی ہیں۔ پہلی روایت ہے ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطاست‘‘ اور دوسری یہ کہ حق وصداقت کی خاطر بزرگوں کی غلطیوں اور خامیوں کی نشان دہی خطا نہیں ہے۔ یہ دونوں روایتیں ایک حد تک سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک حد تک اس لیے کہ ہم دوسری روایت کے قائل ہیں۔ ہمارے نزدیک معصوم عن الخطا صرف رسول اللہﷺ کی ذات ہے اور وہ اس لیے کہ اُن پر وحی نازل ہوتی ہے۔ البتہ بزرگوں کی غلطیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کرنے میں یہ شرط ضروری ہے کہ ادب اور تمیز کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ حدِ اعتدال سے تجاوز نہ کیا جائے اور کسی ایک یا چند خامیوں کی بنا پر اُن کی مجموعی خوبیوں اور کارناموں سے انکار نہ کیا جائے۔ لیکن دشواری یہ ہے کہ ہمارے یہاں اب ایک تیسری روایت بھی رائج ہوگئی ہے جو عقل وفہم سے بعید ترہے۔ اس روایت کا سرا دینی اداروں، مذہبی یا سیاسی نظریات اور گروہ بندی سے جڑا ہوا ہے۔ وہ روایت یہ ہے کہ کچھ بزرگ ماورائے تنقید مان لیے گئے ہیں اور کچھ پیدا ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ انہیں تنقید،بلکہ تنقیص کا ہدف بنایا جائے۔ جن بزرگوں کی پشت پر کوئی ادارہ، مقبولِ عام مذہبی یا سیاسی تحریک یا کوئی گروہ ہوتا ہے،ادب واحترام کے سارے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھی خود ان کی یا ان کے کسی نظریے یا تصنیف کی کسی کمی کی طرف محض اشارہ کردینا،چاہے اس کے پیچھے کیسے ہی مضبوط دلائل ہوں، ناقابلِ معافی جرم قرار پاتا ہے۔ اسی فہرست میں ذاتی مراسم کوبھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بر خلاف جو رہ نما،مصنف، یا صاحبِِ علم اس قسم کی پشت پناہی سے محروم ہوتا ہے اس کی خوبیوں کی کوبھی خامی بنا کر پیش کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا، بلکہ یار لوگ اُلٹا اِس سے محظوظ ومسرور ہی ہوتے ہیں۔

                میرا ماننا ہے کہ ایک خاص ذہنی سطح اور دماغی سانچے اور فکری مزاج کے لوگ ہیں جو آج نظمِ قرآن کی آڑ میں امت کو دین کے حقیقی سرچشموں، بالخصوص حدیث، سیرتِ پاک اور سیرتِ صحابہؓ سے دور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ذاتی طور پر میرا احساس ہے کہ ان میں سے ہر ایک اسلافِ امت پر خردہ گیری کرنے اور ان کی معمولی غلطیوں کی بنا پر زبانِ طعن دراز کرنے میں خود کو حق بہ جانب سمجھتا ہے، مگر خود اس کے کسی بڑے بزرگ کے بارے میں کوئی شخص ایک حرف زبان سے نکال دے، یہ اسے برداشت نہیں ہوتا، اور فی الفور ہاتھی اور چیونٹی کے موازنے کی جاہلانہ اور احمقانہ بات ان کے اچھے خاصے پڑھے لکھوں کی زبان پر آجاتی ہے۔

                مولانا فراہیؒ ہوں کہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ؛ بہرحال وہ غیر معصوم عن الخطا انسان تھے اور دیگر انسانوں کی طرح محدود عقلی سطح اور علمی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان سے بھی نہ صرف یہ کہ غلطیاں ہوئی ہیں، بلکہ دانستہ یا نادانستہ تفسیر کے باب میں ان سے ایک بڑے انحراف اور بگاڑ کا راستہ کھل گیا ہے۔ چونکہ ان بزرگوں کے نام لیوائوں کے اندر میں نے جس درجے میں حمیتِ جاہلیہ کا تجربہ کیا ہے،اسے دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ ان کے اندھے معتقدین کو میری یہ تحریر ایک آنکھ نہ بھائے گی، اور حقیقت یہ ہے کہ میں نے یہ سب ان حضرات کو سامنے رکھ کر لکھا بھی نہیں ہے۔ میرے پیشِ نظر صرف وہ لوگ ہیں جو حق کو حق کی ترازو میں دیکھتے اور تولتے ہیں۔ باقی رہے اندھے بہرے نیاز مند وعقیدت کیش،تو نہ وہ میرے مخاطب ہیں اور نہ اس تحریر سے انہیں کوئی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ اکابر پرستی شرک کی ایک شکل ہے،اور یہ ہرجگہ اور ہر حال میں بری ہوتی ہے۔ پھر چاہے یہ جاہل عوام میں ہو،یا نام نہاد مدعیانِ فہمِ قرآن میں ہو۔

                حرفِ آخر

                اوپر کئی بار یہ بات آئی ہے کہ فلاں بزرگ ایک عالم فاضل شخصیت تھے۔ ان کی تصانیف کی تعداد ایک درجن سے زائد ہے۔ تقریباً پچاس ساٹھ سال تک قرآن کے درس ومطالعے کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ ایک ایسا شخص جو اتنی مدت سے قرآن پڑھ اور پڑھا رہا ہو اور اس کی بلاغی واسلوبی باریکیوں پر عبوررکھتا ہو،کیا وہ گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب قرآنِ کریم یہ دیتا ہے کہ ہاں ایسا ممکن ہے۔ ارشادِ باری ہے:{ أَفَرَأَیْْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَہَہُ ہَوَاہُ وَأَضَلَّہُ اللَّہُ عَلَی عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَی سَمْعِہِ وَقَلْبِہِ وَجَعَلَ عَلَی بَصَرِہِ غِشَاوَۃً فَمَن یَہْدِیْہِ مِن بَعْدِ اللَّہِ أَفَلَا تَذَکَّرُونَ }(جاثیہ،۲۳)’’پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنالیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے؟کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟‘‘

                اس آیتِ کریمہ سے تین باتیں پتہ چلتی ہیں :

                ۱-علم اور چیز ہے اور ہدایت کچھ اور۔ عام ضابطۂ الٰہی یہی ہے کہ علم کی روشنی انسان کی زندگی سنوارنے اور گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کا سبب بنتی ہے، مگر کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ علم ہی گمراہی کا سبب بن جاتا ہے، اور یوں بھی ہو سکتا ہے کہ انسان رشید یعنی ہدایت یافتہ اور نیک چال چلن والا ہو،مگر عالم نہ ہو۔

                ۲-علم کے باوجود گمراہی کا سبب عموماً کسی خواہشِ نفس کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ خواہش عز وجاہ اور مال ومنال کی بھی ہو سکتی ہے اور نئی تحقیق پیش کرنے کے نام پر کسی باطل نظریے کو ثابت کرنے کی بھی۔ کسی باطل نظریے کو پہلے سے ذہن میں رکھ کر اگر ایک عالم قرآن پر غور کرنا شروع کرے گا تو اسے بھی قرآن سے کچھ نہ کچھ مل ہی جائے گا۔ چنانچہ کسی بزرگ صوفی -جو خود تناسخِ ارواح کے قائل تھے- کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں قرآن کے ہر صفحے سے مسئلۂ تناسخ ثابت کر سکتا ہوں، حالانکہ یہ عقیدہ خالصتاً اسلامی عقیدے کے منافی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:{ یُضِلُّ بِہِ کَثِیْراً وَیَہْدِیْ بِہِ کَثِیْراً وَمَا یُضِلُّ بِہِ إِلاَّ الْفَاسِقِیْنَ} (بقرہ،۲۶)’’اس طرح اللہ اس کے ذریعے سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔ اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں۔ ‘‘ غور فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ سب گمراہ فرقوں کے لیڈران ومؤسسین عموماً بڑے ذہین وفطین اور مشاق ودقّاق لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ لہٰذا محض عالم ہونا ہدایت کے لیے مستلزم نہیں ہے۔

                ۳-ایسا انسان جو اپنی کسی باطل خواہش یا نظریے کو الٰہ کا درجہ دے دیتا ہے،یعنی بہ زعمِ خود اس کے لیے مستقل مزاج بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کسی لومۂ لائم کا خوف نہیں، اور عام زبان میں ہٹ دھرم اور ’’میں نہ مانوں ‘‘ کا مصداق بن جاتا ہے،تو اس وقت اس پر ہدایت کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ اس کے دل اور کانوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ پھر اللہ ہی ہے جو اسے ہدایت دے دے،مگر عام ضابطۂ الٰہی کے مطابق اس کی ہدایت مشکل ہوتی ہے۔

                میر اس بات سے کوئی صاحب یہ نکتہ سنجی نہ فرمائیں کہ میں مولانا فراہی یا مولانا اصلاحی کو گمراہ باور کررہا ہوں۔ میرا مدعا بس یہ ثابت کرنا ہے کہ علم وتبحر سے متصف ہونا اس بات کی گارنٹی نہیں کہ آدمی ہدایت واستقامت پر بھی ہو۔ عین ممکن ہے کہ اس کے نظریات وافکار میں انحراف اور کجی پائی جائے۔

                اماں جان حضرت عائشہ کی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:یقینا قیامت کے روز اللہ کے نزدیک بدترین حیثیت رکھنے والا وہ ہوگا جسے لوگوں نے اس کے شر سے بچنے کے لیے اس کے حال پر چھوڑ دیا ہو۔ [إن شرالناس عنداللّٰہ منزلۃ یوم القیامۃ من ترکہ الناس اتقاء شرہ](صحیح بخاریؒ:۶۰۳۲۔ صحیح مسلمؒ:۲۵۹۱۔ مؤطا مالکؒ:۲۶۲۸۔ سنن ابوداؤدؒ:۴۷۹۱۔ سنن ترمذیؒ:۱۹۹۶۔ مسند احمدؒ:۲۴۱۰۶)میں سمجھتا ہوں کہ یہ حدیث جس طرح شرپسند اور بدطینت افراد کے حق میں ایک تازیانۂ عبرت ہے، اسی طرح ہر ایسے گروہ اور مکتبۂ فکر کے لیے بھی اس کے اندر غور وفکر کا وافر سامان موجود ہے جس کی اپنے اکابر کے تئیں عقیدت ومحبت غلو کی حدوں میں داخل ہوگئی ہو اور صورتِ حال یہ بن گئی ہو کہ ان کے انحرافات کے بارے میں اہلِ علم بولنے سے اس لیے ڈرنے لگیں کہ یہ ناہنجار اور دریدہ دہن لوگ چیل کووں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے اور ہر اخلاقی وغیر اخلاقی ہتھکنڈا آزمائیں گے اور نقد کرنے والے کی تذلیل وتحقیر کے لیے درپردہ سازشوں اور علانیہ دشنام طرازیوں سے بھی پرہیز نہیں کریں گے۔ اگر یہ غیر اسلامی، غیر اخلاقی، بلکہ غیر انسانی رویہ کسی مکتبۂ فکر کے لوگوں میں پایا جاتا ہے تو جس شخص پر اس پہلو سے ظلم ڈھایا جائے، وہ اگر بد بختوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اور ان پر اور ان کے طرزِ فکر وعمل پر لعنت بھیجتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ شاید وہ حق بہ جانب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا