جبر و اکراہ اور دعوت اسلام

نخلِ اسلام نمونہ ہے برومندی کا

مولانا عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

                توحید کے متوالے اور رسول اللہ ﷺکے نام لیوا، اس وقت پوری دنیا میں جس آزمائشی صورت حال سے دوچار ہیں، وہ جگ ظاہر اورعیاں را چہ بیاں کی مصداق ہے،گزرتے زمانے کے ساتھ اس کی ایک وجہ تو بلاشبہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے عیش کوشی، دنیا داری اور دولت طلبی میں خود کو اس قدرمصروف کر ڈالا کہ خالق و مالک کے سامنے سر جھکانے اور تعلیمات نبوی پر عمل پیرا ہونے سے غافل ہوگئے۔ بہ ایں ہمہ اس(ابتلا) کا ظاہری سبب ایک اوربھی ہے،جو نیا نہیں ؛بل کہ ساڑھے  چودہ سو سال پرانا ہے اور وہ ہے: اسلام اور اس کی بڑھتی مقبولیت سے حسد و عناد۔

                اسلام سے بغض و عناد کا یہ مکروہ سلسلہ اسی دن سے جاری ہے، جس دن آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کراسلام کا غلغلہ بلند کیا،لوگوں کو دین حق کی طرف بلایا اور بہ صورت دیگر باشندگان ِ مکہ کو آنے والے ایک بہت بڑے خطرے سے آگاہ کیا، تب ہی سے وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کہتے تھے،جان کے دشمن اور خون کے پیاسے ہوگئے؛لیکن جوں جوں اسلام کی محبوبیت میں اضافہ ہوا اوردین حق کی خوشبو مکہ سے نکل کر طائف پھر مدینہ اور ان علاقوں کے اطراف واکناف پھیل گئی اور اسلام قبول کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا،تواِس کے ساتھ ساتھ حاسدین کا حسداور معاندین کا عناد بھی بڑھتا چلا گیا۔ ایک جانب بڑی تعداد میں لوگ حلقہ بہ گوش اسلام ہورہے تھے تو دوسری جانب اسلام دشمنوں خاص طور پر یہود و مشرکین کے دل،حسد کی آگ میں جل رہے تھے۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کی یوں منظر کشی کی ہے: تم سب لوگوں سے زیادہ مسلمانوں کا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤگے۔ (المائدۃ:82)یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مختلف حربے اپنا کر اسلام اور اُس دور کے مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرنے میں مصروف رہے، ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روک دیں گے اور مسلمانوں کی کامیابیوں کے بڑھتے قدموں کے آگے رکاوٹ کھڑی کردیں گے؛ لیکن ایسا قطعاً نہیں ہوا۔ تاریخ شاہد ہے کہ یہود ومشرکین اور دیگر اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کے نتیجے میں اسلام اور تیزی سے پھیلا،پھیل رہاہے اور پھیلتا ہی جائے گا  ؎

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے

نشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

                ماضی کی طرح آج بھی اسلام کے حاسدین موجود ہیں اور عہد نبوی کے بالمقابل بھاری اکثریت کے ساتھ موجود ہیں، نیز اپنے یہودی آبا کی پیروی کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دن رات سازشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں سازشوں کا حصہ ہے کہ کبھی اسلام کو فتنہ وفساد سے جوڑ دیا جاتا ہے، کبھی اسلام کے ماننے والوں کو تبدیلیٔ مذہب اور جے شری رام کہنے پر مجبور کیاجاتا ہے،کبھی مدارس اسلامیہ پر دہشت گردی کا لیبل لگایا جاتا ہے اور کبھی داعیان اسلام کو ناکردہ جرم کی پاداش میں پس دیوار زنداں کیاجاتا ہے۔ غرض اسلامیان ہند پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کی ہرممکن کوشش ہورہی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی؛مگر مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صبر وثبات کے ساتھ دعوت کے کام میں مصروف رہیں اورمضبوط حکمت عملی سے حالات کا مقابلہ کریں۔

                اس وقت(جیساکہ سبھی جانتے ہیں ) بھارت میں داعیان اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور تبدیلی مذہب کے تعلق سے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں، داعیان اسلام کو بدنام کرنے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کو استعمال کیا جا رہا ہے اور میڈیا کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،اس کی تازہ ترین مثال یوپی اے ٹی ایس کے ذریعے جناب عمر گوتم صاحب اور مفتی جہانگیر صاحب کی گرفتاری ہے، ان پر تبدیلی مذہب کے تعلق سے جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں اور میڈیا کے ذریعے ان کی امیج خراب کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؛جب کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ آئین ہند کی تمہید کے مطابق ملک کے ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہے اوراس حق کو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ واضح رہے کہ مذہب اسلام کی تعلیمات و ہدایات کے مطابق کوئی شخص کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا اور زمانہ شاہد ہے کہ اسلام کی دعوت دینے والوں نے کبھی قبول حق کے لیے زور زبردستی نہیں کی،اس اعتبار سے دیکھا جائے توان دونوں حضرات کی گرفتاری ناانصافی پر مبنی اور سراسر ظلم وتعصب سے عبارت ہے۔

                اخباری ذرائع کے مطابق جناب عمر گوتم صاحب خود ایک نومسلم ہیں اور برسوں سے دعوت و تبلیغ کے میدان میں سرگرم عمل ہیں، یہ بہت مخلص داعی اور نو مسلموں کے مسائل حل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ مفتی جہانگیر صاحب ان کے معاون اور شریک کار ہیں۔ یہ لوگ ایک مدت سے میدان دعوت میں سرگرم عمل ہیں، نیز یہ کوئی خفیہ کام نہیں کر رہے ہیں ؛بل کہ کھلے عام اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں، اس کے باوجود منصوبہ بند طریقے سے ان حضرات کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف فرد جرم عائد کیاگیاجویقینا ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔

لااکراہ فی الدین:

                اسلام کو جملہ الہامی وغیر الہامی مذاہب میں اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس نے اپنی ترویج واشاعت کے باقاعدہ اصول بیان کیے ہیں اور کھل کر اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ دین ایسی چیز نہیں جس کو زبردستی کسی پرتھوپا جائے؛ کیوں کہ دینِ اسلام کا اولین جزو ایمان ہے اور ایمان نام ہے یقین کا۔ دنیاکی کوئی طاقت کسی کے دل میں یقین کا ایک ذرہ بھی زبردستی پیدا نہیں کر سکتی۔ اس لیے قرآن کا واضح حکم ہے:’’دین میں زبردستی نہیں ہے،تحقیق کہ ہدایت گمراہی سے الگ ہوچکی ہے‘‘۔ (البقرہ:256)اس آیت کے شان نزول میں مفسرین کرام نے متعدد واقعات نقل فرمائے ہیں ؛جن میں سے دو ایک واقعات درج ذیل ہیں :

1:علامہ عماد الدین ابن کثیرؒ(م 774ھ)اپنی تفسیر’’تفسیر القرآن العظیم ‘‘میں لکھتے ہیں : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مدینہ کی مشرک عورتیں جب انہیں اولاد نہ ہوتی تھی تو نذر مانتی تھیں کہ اگر ہمارے ہاں اولاد ہوئی تو ہم انہیں یہود بنا کر یہودیوں کے سپرد کر دیں گے، اس طرح ان کے بہت سے بچے یہودیوں کے پاس تھے۔ جب یہ لوگ مسلمان ہوئے اور اللہ کے دین کے انصار بنے، یہودیوں سے جنگ ہوئی اور ان کی اندرونی سازشوں اور فریب کاریوں سے نجات پانے کے لیے سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم جاری فرمایا کہ بنی نضیر کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا جائے، اس وقت انصاریوں نے اپنے بچے جو ان کے پاس تھے ان سے طلب کیے؛تاکہ انہیں اپنے اثر سے مسلمان بنا لیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جبر اور زبردستی نہ کرو،دین قبول کرنے میں زبردستی نہیں کی جائے گی۔ (سنن ابوداود:2682)

2:قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ(م 1225ھ) اپنی تفسیر’’تفسیرمظہری‘‘میں لکھتے ہیں :ابن جریر نے بہ وساطت سعید یا عکرمہ حضرت ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے کہ قبیلہ ٔسالم بن عوف کے انصاریوں میں سے ایک آدمی تھا جس کا نام حصین تھا۔ حصین کے دو بیٹے عیسائی تھے؛ لیکن وہ خود مسلمان ہو گئے تھے انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا میرے دونوں بیٹے تو عیسائیت کے سوا کسی دین کو مانتے ہی نہیں، کیا میں جبر کرکے ان کو مسلمان بنا لوں اس پر آیت: لا اکراہ فی الدین نازل ہوئی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایمان دار ہونے میں جبر کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اکراہ (جبر) کا صرف یہ معنی ہے کہ کسی سے بہ زور ایساکام کرایا جائے جس کو وہ اپنی خوشی سے نہ کرنا چاہتا ہو ایسا اکراہ قول و فعل میں تو ممکن ہے، ایمان میں ممکن نہیں۔ ایمان تو صر ف ایک قلبی عقیدہ کا نام ہے اور قلبی عقیدہ اکراہ سے نہیں پیدا ہوتا۔

                اس آیت سے متعلق بعض لوگ یہ اعتراض کرتے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں زبردستی نہیں ہے، حالانکہ اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم اس کے معارض ہے۔ بہ نظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اعتراض صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم لوگوں کو قبول ایمان پر مجبور کرنے کے لیے نہیں ہے، ورنہ جزیہ لے کر کفار کو اپنی ذمہ داری میں رکھنے اور ان کی جان،مال اور آبرو کی حفاظت کرنے کے لیے اسلامی احکام کیسے جاری ہوتے؛ بل کہ دفعِ فساد، ظلم و بربریت کو مٹانے کے لیے حکم ِجہاد آیا ہے؛یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اسلام قبول نہیں کرتے ان سے ایک معمولی رقم جزیہ کے نام پر لی جاتی ہے جس سے ایک غیر مسلم کی جان و مال اور مذہب کی حفاظت اسلامی حکومت کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اسلام میں جزیے کا نظام ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا۔ اسی طرح جنگ کے دوران نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خلفاء راشدین، صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) اور بعد کے فاتحین کا طرز عمل یہ تھا کہ انہوں نے کمزوروں، بیماروں، عورتوں، زخمیوں، مذہبی پیشواؤں اور پر امن شہریوں پر تلوار اٹھانے یا گھر بار، کھیتی باڑی کو جلانے کی کبھی اجازت نہیں دی؛کیونکہ وہ فساد کرنے پر قادر نہیں ہیں ؛اس لیے ان کے ساتھ تعرض کاکیا مطلب؟

                دعوتِ دین کا یہ وہ اسلوب ہے جس کو نہ صرف رسول اللہﷺ نے خود اختیار فرمایا؛بل کہ صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین فرمائی چنانچہ رسول اللہﷺ نے جب عمروؓ بن حزم کوبنو حارث بن کعب کی طرف دعوت وتبلیغ اور صدقات کی وصولی کے لیے روانہ فرمایا تو ان کو ایک تحریر لکھ کردی جس میں یہ ہدایت واضح طور پر درج تھی:’’……….اور جو یہودی یانصرانی اپنی طرف سے مخلصانہ اسلام لے آئے اور دین اسلام کو اپنا دین بنالے، وہ مومنوں میں شمار ہوگا،اس کے وہی حقوق ہوں گے جو مومنوں پرہوں گے اور جو اپنی یہودیت یانصرانیت پر قائم رہے گا اسے اس یہودیت یا نصرایت سے پھیرا نہ جائے گا‘‘۔ (ابن ہشام،اسلام بنی الحارث بن کعب)

الغرض:اسلام کے علاوہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں (تاریخ گواہ ہے کہ)سب کے سب اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے لالچ اور اکراہ دونوں کا استعمال کرتے ہیں ؛ اس لیے کہ جس شخص کو یہ اپنے مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں اور اسے سمجھانا چاہتے ہیں تو سمجھانے کے لیے ان کے پاس صاف ستھری اور پاکیزہ دلیل نہیں ہوتی؛کیوں کہ ان کے مذاہب نہ عقل کے اعتبار سے صحیح ہیں اور نہ ہی روایات کے اعتبار سے۔ اس لیے مجبورا انہیں اپنے باطل مذہب کو پھیلانے کے واسطے دولت و طاقت کا استعمال کرنا پڑتاہے؛اس کے برعکس مذہب اسلام سہل،آسان اور فطری مذہب ہے، لوگ اسے سمجھ کراطمینان حاصل کرنے کے بعد ہی قبول کرتے ہیں اور مخالفت و آزمائش کے باوجود جمے رہتے ہیں۔

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتناکہ دباؤگے:

                دنیا بھر میں موجود اسلام دشمن قوتیں ( یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین) اسلام اور مسلمانوں کو دبانے کی جتنی کوشش کررہے ہیں، اتنا ہی اسلام کے چاہنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یورپ کے بعد روس جہاں پر عرصۂ دراز تک کمیونسٹوں کی حکومتوں نے مسلمانوں پر جینا حرام کیا، مسلمانوں کی عبادات پر پابندی لگائی، مساجد کو سینما ہال، دفاتر، میوزیم، عجائب گھروں میں تبدیل کر دیا،وہاں اسلام کی روشن کرنوں سے ہر سو اجالا نظر آرہاہے،نیز مسلمانوں کی بڑھتی تعداد کے باعث وہاں پر مساجد کی تعداد کم پڑ گئی ہے، دارلحکومت ماسکو میں سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو عید، بقر عید، جمعہ کی نماز پڑھنے کے مناظر انٹرنیٹ اور اخبارات کے ذریعے دیکھے جاسکتے ہیں۔ مساجد کی کمی کو پورا کر نے کے لیے مسلمانوں نے جب کبھی مساجد تعمیر کرنے کی کوشش کی تو روسی حکومت نے انہیں روک دیا جس کا حل وہاں کے مسلمانوں نے موبائل مساجد یا مصلے کے طور پر نکال لیا۔ الغرض جہاں ایک طرف اسلام کی طرف مائل لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں خود مسلمانوں کے اندر بھی اسوہ حسنہ پر چلنے کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔

                امریکی ادارے (Peo) کے مطابق 2030 تک مسلمانون کی تعداد یورپ میں 2 ارب 20 کروڑ تک جا پہنچے گی، جرمنی کی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ 2050 ء تک وہ مسلم اکثریت ملک ہوگا، جب کہ برطانیہ میں کیے گئے سروے کے مطابق برطانیہ اور ویلز میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران مسلمانوں کی آبادی دگنی ہوگئی ہے۔ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد 2017 کے سروے کے مطابق 3.35 ملین ہے اور وہاں اسلام قبول کرنے والوں کی شرح میں اضافہ ہی ہورہاہے۔

                مختصر یہ کہ یہ اسلام کی بڑھتی مقبولیت کا ایک سرسری  خاکہ ہے ورنہ ایک ناقابل فراموش طویل تاریخ ہے؛جس کا احاطہ اس مختصر مضمون میں مشکل ہے۔ اخیر میں گفتگو کو سمیٹتے ہوئے علامہ اقبال مرحوم کے ان اشعار پر بات ختم کرتے ہیں ؎

چشمِ اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری

ہے ابھی محفلِ ہستی کو ضرورت تیری

وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے

نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے

تبصرے بند ہیں۔