صدقۃ الفطر کے چند فضائل و مسائل

حافظ عبدالسلام ندوی

انفاق فی سبیل اللہ کے فضائل قرآن وحدیث میں مختلف مقامات پر وارد ہوئے ہیں،یہ بعض صورتوں میں وجوب کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ بعض میں مستحب ونفل،لیکن بہر صورت ایزد متعال کی جانب سے اس محبوب عمل کی ادائیگی پر بے شمار دنیوی و اخروی فوائد حاصل ہوتے ہیں،قرآن میں اللہ تبارک وتعالی نے مختلف مقامات پر انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر فرمایا اور اسکے فوائد کو مثالوں کے ذریعہ سمجھایا ہے،اسی طرح احادیث صحیحہ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مقامات پر اسکی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالی ہے،ان میں سے چند وہ فضائل جو عموماً عوام الناس کی نظروں سے اوجھل ہیں ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں،

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں جسے امام ابن خزیمہ نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے ارشاد فرمایا کہ "جب مسلمان بندہ صدقہ کرتا ہے تو وہ اسکے ذریعہ ستر شیطانوں کے جبڑے توڑ ڈالتا ہے”

یہی وجہ ہے کہ شیطان شب و روز اس کوشش میں مصروف رہتا ہے کہ مسلمانوں کو کنجوسی اور بخیلی جیسی گھٹیا صفات میں جکڑ دیا جائے،تاکہ صدقات و خیرات کے ذریعہ اسے جو گزند پہنچتی ہے اس سے وہ محفوظ ومصئون ہوجائے،اسی طرح معجم طبرانی کی ایک روایت میں فرمان نبوی ہے کہ”صدقہ،صدقہ کرنے والوں کی قبروں سے حرارت کو بجھا دیتا ہے اور مومن ہی ہے جو روز قیامت اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا”،

انفاق فی سبیل اللہ کی جو صورتیں فرض کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں صدقۃ الفطر یا زکوٰۃ الفطر بھی ہے،اس سے مراد وہ زکوٰۃ ہے جو ماہ رمضان کے اختتام پر ہر مسلمان کی طرف سے نماز عید سے پہلے ادا کی جاتی ہے، فطر‌ کے معنی روزہ کھولنا یاروزہ نہ رکھنا ہے،جبکہ زکوٰۃ کا معنی پاکیزگی اور طہارت ہے،یہ مسلمانوں کے ہر آزاد و غلام مرد و عورت اور چھوٹے بڑے پر فرض ہے،حتی کہ عید سے پہلے جو بچہ پیدا ہو اس کی طرف سے بھی فرض ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں مذکور ہے کہ "ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع زکاۃ فطر مسلمانوں میں سے ہر غلام وآزاد،مرد و عورت اور چھوٹے بڑے پر فرض فرمایااور اسے لوگوں کے نماز عید کی طرف نکلنے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا، عبداللہ بن عمر نے فرمایا پھر لوگوں نے گندم کے دو مد اس کے برابر سمجھ لیے(بخاري ١٥٠٣)

ایک اور حدیث میں اسکی حکمت کو بیان کرتے ہوئے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر فرض فرمائی جو روزہ دار کے لیے لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے اور مساکین کو کھلانے کا ذریعہ ہے،جو شخص اسے نماز عید سے پہلے ادا کردے وہ مقبول زکوۃ ہے،اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے وہ عام صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے”(ابو داؤد:١٦٠٩/ابن ماجہ ١٨٢٧)

مذکورہ دونوں احادیث صدقہ فطر کے تمام مشمولات کو واشگاف طور بیان کردیتی ہیں،متاخر الذکر حدیث میں اسکی حکمت کی تصریح بھی کی گئی ہے کہ روزہ کی حالت میں انسان سے جو خطائیں اور تسامحات سرزد ہوجاتی ہیں ان کے ازالہ کے لیے اس کو مشروع کیا گیا ہے،اسی لیے امام المحدثین وکیع بن جراح رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کے زکوٰۃ الفطر کی وہی حیثیت ہے جو نماز میں سجدہ سہو کی ہے،یعنی جسطرح نماز میں جو خلل اور نقصان واقع ہوتا ہے اس کو دفع کرنے کے لیے سجدہ سہو ادا کیا جاتا ہے اسی طرح روزہ کی حالت میں جو لغزشیں سرزدہوجاتی ہیں انکی تلافی اس صدقہ کے ذریعہ کیجاتی ہے،اس حدیث میں صدقہ الفطر کی مشروعیت کی ایک اور حکمت بیان کی گئی ہے،وہ یہ کہ صدقۃ الفطر کے ذریعہ مساکین کے کھانے پینے اور ضرورتوں کا انتظام ہو جائے تاکہ وہ بھی عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں اور کم ازکم عید کے دن انہیں کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے،یہی وجہ ہے کہ اس کی ادائیگی کا وقت عید کی نماز کے لیے جانے سے قبل رکھا گیا ہے،اس تعلق سے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سورہ اعلی کی آیت ١٤ اور ١٥ کی تفسیر میں یہ اثر نقل کیا ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ لوگوں کو صدقۃ الفطر ادا کرنے کا حکم دیتے اور اس موقع پر اس آیت کریمہ کی تلاوت فرماتے: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (١٤) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى}،

یہاں ایک اور اہم مسئلہ کی وضاحت از بس ضروری ہے اور وہ یہ کہ عموماً لوگ صدقہ فطر کو انفرادی طور پر فقراء ومساکین کے مابین تقسیم کردیتے ہیں جبکہ عہد اوائل اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طریقہ یہ تھا کہ صدقۃ الفطر مسجد میں جمع ہوتا تھا اور مستحق میں تقسیم کر دیا جاتا تھا،جیسا کہ بخاری (٢٣١١) میں مذکور ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زکوۃ رمضان کی حفاظت پر مقرر فرمایا تو میرے پاس ایک شخص آیا اور غلہ بھرنے لگا،میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ کہ میں تجھے رسول اللہ سلم کے سامنے پیش کروں گا (آگے طویل واقعہ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ شیطان تھا جو تین راتوں تک آتا رہا اور آخری مرتبہ اس نے آیت الکرسی کی فضیلت بیان کرکے جان کی رہائی حاصل کی)،

ابھی اس اہم امر کو انجام دیناحکومت اسلامیہ کا فریضہ ہے اگر یہ نعمت میسر نہ ہو تو اجتماعیت کی جو صورت بھی ممکن ہو اختیار کرنی چاہیے،اور محلہ کی مسجد میں جمع کرکے عید سے پہلے پہلے صدقہ تقسیم کر دینا چاہیے، اگر یہ صورت پیدا نہ ہوسکے تو آخر میں صدقہ فطر خود ہی مساکین کو دے دے،

اب جہاں تک سوال ہے اسکی مقدار کا تو اس سلسلہ میں مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ دیگر کئی احادیث میں اسکی تصریح ملتی ہے کہ صدقہ فطر گندم،کھجور،جو یا دیگر اشیاء خوردونوش میں سے ایک صاع یعنی ہندوستان میں رائج الوقت اوزان کے اعتبار سے سوا دو سیر ادا کئے جائینگے،

تبصرے بند ہیں۔