حفاظ کے نام ایک پیغام!

عبد الرحمن الخبیرقاسمی بستوی

(رکن شوریٰ مرکز تحفظ اسلام ہند)

قارئین کرام!

                 الحمداللہ رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا ہے ملک بھر میں سینکڑوں جگہ حفاظ کرام قرآن کریم کو تراویح میں سنارہے ہیں اور ملک بھر میں سینکڑوں ایسے مقامات ہوں گے جہاں اگلے چند دنوں میں شتابدی ٹرین اور جنگی جہاز سے بھی تیز پڑھنے والے تراویح میں قرآن پورا کرلیں گے۔ چند راتوں میں قرآن پورا کرنے والوں کی خوشی کی شدت کا اندازہ پڑھنے اور سننے والوں کے انداز بیان سے لگایا جاسکتا ہے، وہ فخر سے کہتے پھرتے ہیں کہ ہم نے تو اتنے دن میں قرآن سن لیا ہے، اب اس کے بعد نہ انہیں تراویح کی فکر اور نہ قرآن کی، ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں فی الواقع کوئی عذر درپیش ہے اور انہیں جلد قرآن سن کر سفر پر جانا ہے، لیکن زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں نہ کوئی عذر ہے اور نہ ہی کوئی سفر در پیش ہے، اس موقع پر مجھے اللہ کے رسول ﷺ کا ایک فرمان مبارک یاد آتا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے ”بہت سے قرآن کے پڑھنے والے ایسے ہیں کہ جن پر خود قرآن لعنت کرتا ہے” قرآن کے پڑھنے والے یہ کون لوگ ہیں جن پر خود قرآن لعنت کرتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو اس طرح نہیں پڑھتے جس طرح اس کا حق ہے، جو سال بھر قرآن کو کھول کر نہیں دیکھتے اور رمضان میں ان سے زیادہ تیز پڑھنے والا کوئی نہیں ہوتا، جنہیں نا تجوید و قواعد کی خبر ہے اور نا ہی مخارج وتلفظ کی، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ تلفظ بگڑنے سے ترجمہ بھی بدل جاتا ہے اور اس طرح وہ بجائے ثواب کے گناہ کے مستحق ہو رہے ہیں ، انہیں لوگوں پر قرآن لعنت کرتا ہے، اور جس پر قرآن لعنت کرے اس کی بدبختی میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے، قرآن کی لعنت دراصل اللہ کی لعنت ہے کیونکہ قرآن براہ راست اللہ کا کلام ہے، حضرت امام مالک کا ایک واقعہ منقول ہے کسی نے ان سے شکایت کی کہ آپ کا فلاں شاگرد عشاء کے بعد نوافل میں کھڑا ہوتا ہے اور فجر سے پہلے تک ایک قرآن پورا کرلیتا ہے، امام مالک اس شاگرد کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا تم ایسا کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ ہاں امام میں ایسا کرتا ہوں ، امام مالک نے کہا کہ آج جب تم قرآن پڑھنے کھڑے ہوتو یہ تصور کرکے پڑھنا کہ تم مجھے سنا رہے ہو، اگلی صبح امام مالک نے اس سے پوچھا کہ کہو کیا رہا؟ اس نے کہا کہ امام آج تو میں صرف دس پارے ہی پڑھ سکا، امام نے کہا کہ آج جب کھڑے ہوتو یہ تصور کرکے قرآن پڑھنا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو سنارہے ہو، اگلی صبح امام مالک نے اس سے پوچھا کہ کہو کیا رہا؟اس نے کہا کہ امام آج تو میں صرف ایک پارہ ہی پڑھ سکا، امام نے کہا کہ آج جب کھڑے ہوتو یہ تصور کرکے قرآن پڑھنا کہ تم اللہ کو سنارہے ہو، اگلی صبح امام مالک نے اس سے پوچھا کہ کہو کیا رہا؟ اس نے کہا کہ امام آج تو میں سورہ فاتحہ بھی پوری نہ پڑھ سکا۔

قرآن کا حق کیا ہے؟ ادنی درجہ میں قرآن کا حق یہ ہے کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر، صاف صاف، اطمینان و آرام، خشوع وخضوع اور تجوید و قواعد کے ساتھ پڑھا جائے، کیا ہم قرآن کا ادنی حق بھی پورا کر رہے ہیں ؟ جن حفاظ کو ایک شب میں کم سے کم پانچ پارے پڑھنے ہوں ، اور وہ بھی تراویح کی آٹھ یا بیس رکعات میں پڑھنے ہوں تو اندازہ لگائیے کہ اس کیلیے کتنا وقت درکار ہوگا، اگر درمیانے درجے کے خشوع کے ساتھ تراویح پڑھی جائے تو کم سے کم 60 منٹ تو محض بیس رکعات کیلیے درکار ہیں ، پانچ پارے درمیانی رفتار سے پڑھے جائیں تواس کیلیے 100منٹ مطلوب ہیں ، یعنی کم و بیش تین گھنٹے، اب ہو یہ رہا ہے کہ 9 بجے عشاء کی نماز کیلیے کھڑے ہوتے ہیں اور پونے گیارہ بجے تک باہر نظر آتے ہیں اب اندازہ کیجئے کہ پڑھنے والے نے کیا پڑھا ہوگا اور سننے والوں نے کیا سنا ہوگا۔

قرآن جیسا کہ معلوم ہے کہ براہ راست خالق کائنات کا اپنا کلام ہے جو اس کے آخری رسول، تاجدار مدینہ حضور اکرم ﷺ پر بتدریج نازل ہوا، وہ براہ راست نبی آخر الزماں کو اللہ کا خطاب ہے، اللہ سے زیادہ بلیغ وفصیح کون ہوسکتا ہے؟ اور روئے زمین پر اس کی انسانی مخلوق میں سب سے زیادہ بلیغ وفصیح نبی آخرالزماں ﷺکے سوا اور کون ہوسکتا ہے؟ گویا قرآن 2 بلغاء و فصحاء کے درمیان ہونے والی مراسلت اور خطابت ہے، ایک بلیغ قادر مطلق کا کلام دوسرے بلیغ نبی پر نازل ہورہا ہے، قرآن کو بتدریج اور حسب ضرورت لانے والے اللہ کے سب سے مقرب فرشتے جبریل ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ کیا اللہ نے اسی طرح اپنا کلام جبریل کی زبانی اپنے نبی پر بھیجا جس طرح آج ہم پڑھتے اور سنتے ہیں ؟اگر خدا نے اپنے کلام کے ساتھ یہ تیزی اختیار نہیں کی تو ہم کون ہیں اس کے کلام کے ساتھ یہ تیزی اختیار کرنے والے، اب آئیے دیکھتے ہیں کہ خود اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کو کس انداز سے پڑھا، اس کی اطلاع خود قرآن ہی دے رہا ہے۔جبریل علیہ السلام جب قرآن پاک لے کر نازل ہوتے اور آپ کو پڑھاتے تو آپ اسے محفوظ کرنے کی خاطرجلدی جلدی پڑھتے۔لیکن اس پر اللہ کا حکم نازل ہوا۔ سورہ قیامہ میں ارشاد ہے ”لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ، ان علینا جمعہ وقرآنہ، فاذا قرأناہ فاتبع قرآنہ، ثم ان علینابیانہ”

ترجمہ: اے نبی آپ قرآن کوجلدی(یاد کرنے کی خاطر)اپنی زبان کو حرکت نہ دیں ، اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے، ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں ، پھر اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے، اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہے ”ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ” یعنی آپ قرآن پڑھنے میں جلدی مت کیجئے اس سے پہلے کہ وہ آپ پر(پوری طرح) نازل کردیا جائے، سورہ مزمل میں اس کو اور واضح کردیا گیاجب قرآن کو پڑھنے کا صحیح طریقہ بتایا گیا ”ورتل القرآن ترتیلا” اور اے اللہ کے رسول قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف)پڑھاکیجئے۔

سوال یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اور صاف صاف پڑھنے کا حکم کیوں دیا جارہا ہے؟ کیا عربی زبان کے معاملہ میں تاجدار مدینہ سے زیادہ کوئی فصیح انسان ہوگا؟مگر اس کے باوجود آپ کو ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھنے کا عمومی حکم دیا جارہا ہے۔ترتیل کے معنی ہیں ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا۔ صاف صاف پڑھنا۔یعنی ایسا پڑھنا کہ جو نہ صرف خود پڑھنے والے کی بلکہ سننے والے کی سمجھ میں بھی آئے۔ایسا پڑھنا کہ جو خود صاحب کلام کو پسند ہو۔معلوم ہوا کہ غیر ترتیل کے ساتھ جو پڑھا جائے گا وہ خدا کو پسند نہیں ہوگا۔اور جب خدا اس کو ناپسند کرکے واپس ہمارے منہ پر ماردے گا تو پھر ایسے پڑھنے کا فائدہ اور ایسے پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔قرآن کے ایک لفظ پر دس نیکیوں کا وعدہ ہے۔پڑھنے والے کو جس طرح ہر لفظ پر دس نیکیوں کا اجر ملتا ہے اسی طرح سننے والے کو بھی ملتا ہے۔لہذا جب پڑھنے والا غلط پڑھے گا اور قرآن اس پر لعنت کرے گا تو کیا سننے والے اس لعنت سے محفوظ رہیں گے؟

سورہ فرقان میں ایک جگہ ذکر ہے ”وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ھذا القرآن مھجوراً” اور رسول (ﷺ) کہیں گے کہ اے میرے پروردگار بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا، مفسرین نے اس چھوڑنے میں غور وفکر نہ کرنے کو بھی شامل کیا ہے۔اور جب ہم قرآن کو ٹھہر کر‘صاف صاف‘سمجھ کر پڑھتے ہی نہیں تو کیا غور وفکر کریں گے۔لہذا ہم اللہ کے رسول کی اس شکایت کے شکار ہوجائیں گے۔اسی سورت میں اللہ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا: ورتلناہ ترتیلا۔یعنی ہم نے اس قرآن کو (آپ کے سامنے)ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ کر سنایا ہے۔معلوم ہوا کہ اللہ کو یہی مطلوب ہے کہ اس کا قرآن ہر حال میں ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ کر پڑھاجائے۔قرآن میں اس مفہوم کی آیات متعدد مقامات پر آئی ہیں ‘افلا یتدبرون القرآن۔کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟اسی طرح ایک جگہ ایمان والوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔واذا تلیت علیہم آیاتہ زادتہم ایماناًوعلی ربہم یتوکلون۔اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ ایک جگہ حکم دیا گیا ہے۔واذا قرئی القرآن فاستمعو ا لہ وانصتوالعلکم ترحمون۔اور جب قرآن پڑھاجائے تو اس کو (غورسے)سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔اب ذرا بتائیے کہ آج کل تراویح میں قرآن پاک کو جس طرح پڑھنے کا رواج ہوگیا ہے کیا اس صورت میں کچھ سمجھ میں آئے گا؟خود ان کی بھی سمجھ میں نہیں آئے گا جو عربی زبان سے واقفیت رکھتے ہیں۔

اس روئے زمین پر کوئی حافظ ایسا نہیں ہوگا جس نے قرآن پاک کے نسخے کے آخر میں قرآن کے رموز و نکات اور اصول لکھے ہوئے نہ دیکھے ہوں۔ اس کی ابتدا یہاں سے ہوتی ہے:ہر زبان کے اہل زبان جب گفتگو کرتے ہیں تو کہیں ٹھہر جاتے ہیں اور کہیں نہیں ٹھہرتے۔کہیں کم ٹھہرتے ہیں اور کہیں زیادہ۔ یہی حال قرآن کا بھی ہے۔اس ٹھہرنے کم ٹھہرنے، زیادہ ٹھہرنے اور نہ ٹھہرنے کا بات کو صحیح سمجھنے میں بڑا دخل ہے، قرآن کی آیات کے اواخر میں بہت سی علامتیں بنی ہوتی ہیں۔ جن کی رو سے کہیں ٹھہرنا حرام ہوتا ہے اور کہیں ٹھہرنا واجب ہوتا ہے۔کہیں ایک جملہ کو دوسرے سے ملاکر پڑھنا حرام ہوتا ہے اور کہیں ملاکر پڑھنا واجب ہوتا ہے۔حفظ کرانے کے دوران ہر طالب علم کو اس کا استاذ لازمی طورپر یہ بات بتاتا ہے۔جہری نمازوں میں امام اس کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ لیکن کیا تراویح کے دوران ان امور کا خیال رکھا جاتا ہے؟جواب نفی میں ہے۔ایسے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہمارے یہ قرآن سنانے والے حافظ ریل اور حافظ ہوائی جہاز کس طرح کا قرآن سنا رہے ہیں اوراس سے ہمیں کیا حاصل ہورہا ہے۔پھر بھی ہمیں شکایت ہے کہ ظالموں کے مقابلہ میں ہمارے دفاع کے لیے اللہ کی نصرت نہیں آتی۔

تبصرے بند ہیں۔