رمضان: ماہِ قرآن

سراج الدین ندویؔ

ہم جان چکے ہیں کہ رمضان المبارک کی عظمت کا راز یہ ہے کہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا۔قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ اس کا کلام ہے۔اس کے ہم پر چھ حقوق ہیں۔

۱۔ایمان لایا جائے:

قرآن مجید کا ہم پر پہلا حق یہ ہے کہ اس پر ایمان لائیں۔ یعنی اپنے دل سے اور زبان سے یہ مان لیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس طرف سے ہمارے ذہن و دل و دماغ کے کسی گوشے میں ذرہ برابربھی یہ خیال نہ آئے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔اسی کے ساتھ یہ بھی تسلیم کیجیے کہ اللہ نے یہ کلام اور یہ کتاب اپنے رسول کے ذریعے ہم تک پہنچائی ہے۔ا س کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی کتاب قرآن پر ایمان کے ساتھ اللہ کے رسول پر بھی ایمان لایا جائے۔ نہ صرف آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر بلکہ ان سے پہلے کے تمام رسولوں پر ایمان لایا جائے۔سورہ البقرہ میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:

رسول  ایمان لایا جو کچھ اس پر اس کے رب کی طرف سے اترا ہے اور مسلمان بھی ایمان لائے، سب نے اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو مان لیا ہے، (کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور مان لیا، اے ہمارے رب تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(البقرہ285)

۲۔ہر کلام پر قرآن کوترجیح دی جائے:

قرآن کا دوسرا حق یہ ہے کہ کسی بھی دوسری کتاب اور کلام کو اس پر ترجیح نہ دی جائے۔یہ بات صرف زبانی جمع خرچ تک نہ ہو بلکہ عمل سے اس کی گواہی دی جائے کہ ہمارے نزدیک قرآن سے زیادہ اہم کوئی کتاب نہیں ہے۔ تمام کتابوں کا درجہ قرآن کے بعد ہے۔یہ اللہ کی کتاب ہے۔ یہ سید الانبیاء، خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوئی ہے،یہ حضرت جبرئیل روح الامین کے ذریعے اتاری گئی ہے، اس کتاب کے ہر حرف پر دس نیکیاں ہیں، اس کو دیکھنا بھی ثواب ہے،یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، یہ تمام کتابوں سے افضل اور راجح ہے۔ اس لیے اس کتاب پر کسی دوسری کتاب کو رکھنا، فوقیت دینا، کسی کتاب کو بہتر سمجھنا، اس کو چھوڑ کر دوسری کتابوں کو ہی پڑھتے رہنا قرآن پر ایمان کے منافی ہے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مساجد میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کے بجائے بعض دوسری کتابوں کو پڑھا جاتا ہے۔ انھیں بھی پڑھیے مگر ایسا نہ ہو کہ یہ قرآن ان کتابوں سے پیچھے رہ جائے، اس کا حق مارا جائے، اگر ایسا ہوا تو اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

۳۔ترتیل کے ساتھ پڑھاجائے:

قرآن کا تیسرا حق یہ ہے کہ اسے صحت ِ لفظی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔ اس کے ہرحرف کی واضح ادائیگی ہونی چاہیے۔بعض اوقات تلفظ کی غلطی سے بھی معانی اور مفہوم بدل جاتاہے۔ مثلاً ’ج ‘ کی ض  کا تلفظ ہوجائے تو معانی کچھ کے کچھ ہوجاتے ہیں۔ ذوالجلال والاکرام کو اگر کوئی شخص ’’ذوالضلال‘‘ پڑھ دے تو اللہ کی توہین کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ یا لیلۃ القدر کو لیلۃ الکدر پڑھے تو غلط مفہوم ہوجاتا ہے۔ لیلۃ القدر کا مطلب ہے قدر اور عزت والی رات جب کہ لیلۃ الکدر کے معنیٰ ہیں کدورت اور گندگی والی رات۔یہاں تک زیر زبر اور پیش کا بھی خیال رکھنا چاہیے، انعمتَ  کا مطلب ہے تو نے انعام کیا اور انعمتُ کا مطلب ہے میں نے انعام کیا۔

قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم خود قرآن مجید میں دیا گیا۔ارشاد باری ہے۔

ورتل القرآن ترتیلا ا(مزمل ۳۲)ور قرآن کو ترتیل کے ساتھ تلاوت کرو۔اسی طرح اہل ایمان کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت اس طرح کرتے ہیں جیسا کہ اس کا حق ہے۔

’’وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب(قرآن) کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے،ایسے لوگ ہی اس پر (صحیح معنوں میں ) ایمان لاتے ہیں ‘‘(البقرہ)

ترتیل کے معانی ہیں خوب ٹھہر ٹھہر کر واضح الفاظ و صحت تلفظ کے ساتھ پڑھنا۔اللہ کے نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ  اس کا خیال رکھتے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی خوش الحانی کا تو یہ حال تھا کہ آپ کے دشمن بھی آپ کی تلاوت اور قرآت کو سننے کے لیے رک جاتے تھے۔اسی طرح بعض صحابہ سے حضور قرآن سنانے کی فرمائش کرتے تھے۔ایک بار کا واقعہ ہے کہ اللہ کے رسول کی قرأت  فرمارہے تھے، آپ کے دشمن جن میں عتبہ، شیبہ اور ابوجہل بھی شامل تھا چھپ کر سن رہے تھے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں کہ ہم دوسروں کو تو قرآن سننے سے روکیں اور خود سنیں، اگر کسی نے دیکھ لیا تو کیا ہوگا۔سب نے قسم کھائی کہ کل سے کوئی نہیں آئے گا۔لیکن دیکھا تو کل پھر سب حاضر تھے سب نے یہ سوچا کہ آج کوئی نہیں آئے گا  اس لیے میں جا سکتا ہوں یہی سوچ کر سارے دشمن پھر اکٹھا ہوگئے اور تین دن تک روز قسمیں کھاتے اور روز چلے آتے۔

۴۔سمجھا جائے:

قرآن مجید کا چوتھا حق یہ ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھاجائے۔قرآن کتاب ہدایت ہے۔ اس میں انسانوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا گیاہے۔اس میں وہ ہدایات ہیں جن پر عمل کرکے انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے،اس میں معاملات کی باتیں، اس میں اخلاق کی قدریں ہیں، اس میں احباب، رشتے داروں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں، اس میں جرائم کی نشاندھی اور اس پر سزائیں طے کی گئی ہیں۔ اگر آپ اسے سمجھ کر نہیں پڑھیں گے تو کس طرح اس پر عمل کریں گے۔ اس لیے قرآن کو سمجھ کر پڑھئے، اگر آپ سے عربی زبان نہیں آتی اور آپ اسے سیکھنے کا وقت بھی نہیں پاتے تو اپنی زبان میں ترجمہ پڑھیے۔قرآن پاک میں غورو فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ یتفکرون،یتدبرون کے الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے۔ اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ لوگ غور فکر کریں، اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ لوگ اس میں غورو فکر کیوں نہیں کرتے۔

کیا وہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے؟یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ (سورہ محمد۲۴)

 وہ لوگ کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے۔(الفرقان۳۷)

اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:

’’(ایک قوم ایسی ہوگی)وہ اللہ کی کتاب کو بڑی خوبصورت آواز میں پڑھے گے لیکن وہ(قرآن) ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔وہ دین سے ا س طرح نکل جائیں جس طرح تیر کمان سے۔‘‘ (بخاری)

 قرآن کو سمجھ کر پڑھیے تاکہ آپ اللہ کے احکام، اس کی پسند و ناپسند کو جان سکیں۔ قرآن پاک کایہ اعجاز ہے کہ یہ علم کے خزانے بھی عطا کرتا ہے اور ان خزانوں کو حاصل کرنے کی راہیں بھی بتاتا ہے۔یہ عقائد کی تعلیم دیتا ہے،یہ اللہ کی بندگی کے گُرسکھاتا ہے،یہ ہمارے دلوں کو گندگی سے دور کرکے ہمارا تزکیہ کرتا ہے،یہ دعوت و تبلیغ کا طریقہ بتاتا ہے۔ یہ اچھے اخلاق سے آپ کو آراستا کرتا ہے۔مگر یہ تبھی ممکن ہے جب اسے سمجھ کر پڑھیں اور اس کی آیات پر غور و فکر کریں۔

۵۔عمل کیا جائے:

قرآن کا پانچواں حق یہ ہے کہ اس پر عمل کیجیے۔ اللہ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر بار بار کیا ہے، یہ عمل صالح کیا ہے؟یہ قرآن پر عمل ہے۔قرآن مجید میں کامیاب انسانوں کی چار صفات کا تذکرہ سورہ والعصر میں کیا گیا ہے۔ اس میں ایک صفت اگر یہ  ہے کہ وہ لوگ ایمان لائے اور دوسری صفت یہ ہے کہ انھوں نے عمل صالح سے اپنی زندگی کو آراستا کیا۔ یعنی ایمان کے مطابق عمل کیا۔

زمانہ کی قسم ہے۔بے شک تمام انسان گھاٹے میں ہے۔مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے۔( العصر)

قرآن پر اس طرح عمل کیجیے کہ آپ چلتا پھرتا قرآن بن جائیں، آج بہت سے غیر مسلم جب قرآن پڑھتے ہیں اور ہمارا عمل دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ وہ قرآن نہیں جس پر مسلمان عمل کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ چلتا پھرتا قرآن تھے، حضرت عائشہ ؓ سے جب پوچھا گیا کہ حضور کے اخلاق کیسے تھے تو انھوں نے فرمایا: کان خلقہٗ القرآن۔حضور سراپا قرآن تھے۔

۶۔تبلیغ کی جائے:

قرآن مجید کا چھٹا حق یہ ہے کہ اس کی تبلیغ کی جائے، اسے دوسروں تک پہنچایا جائے، یہ وہ روشنی ہے جو دل کے اندھیاروں کو دور کردیتی ہے۔ آپ اللہ کی کتاب کے امین ہیں، آپ آخری رسول کی امت ہیں، آپ کا فرض منصبی ہے کہ اللہ کا دین دوسروں تک پہنچائیں، اگر آپ نے اللہ کا دین دوسروں تک نہیں پہنچایا تو اللہ کے یہاں باز پرس ہوگی۔ اللہ کے رسول آپ کے خلاف مدعی ہوں گے اور کہیں گے

اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب میری قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔(الفرقان۳۰)

حضور اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں حاضرین سے کہا کہ میرا پیغام ان لوگوں تک پہنچانا اب تمہاری ذمہ داری ہے جو لوگ یہاں حاضر نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ صحابہ کرام کی بڑی تعداد قرآن کا پیغام لے کر دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیل گئی اور آج روئے زمین کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں قرآن کے جاننے والے موجود نہ ہوں، مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے آس پڑوس میں صدیوں سے غیر مسلم بھائی رہتے ہیں مگر ہم نے انھیں قرآن کا تعارف تک نہیں کرایا۔جب کہ نبی ﷺ کا حکم ہے کہ بلغو عنی ولو آیۃ  اگر ایک آیت بھی تمہارے پاس ہے تو وہی دوسروں تک پہنچا دو۔آج دنیا پیاسی ہے، مختلف مسائل کا شکار ہے اور ہمارے پاس نسخہ ٔ کیمیا موجود ہے، مگر افسوس نہ ہم اسے خود استعمال کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو دیتے ہیں، اسی لیے ہم بھی مسائل کا شکار ہیں، ذلت و نکبت میں مبتلا ہیں اور انسانیت بھی درد سے کراہ رہی ہے۔

تبصرے بند ہیں۔