عقل اور وحی

ڈاکٹر فہد انوار

جس طرح کھانے کے صحیح انتخاب کے لیے انسان ایک ایسی قوت کا محتاج ہےجو اسے میٹھے یا نمکین میں فرق کرا سکے، ایسے ہی شاہراہ حیات پر چلتے ہوئے انسان ایک ایسی قوت کا محتاج ہے جو اسے منزل مقصود کا صحیح تعین کرا سکے۔ اس کے لیے خالق ارض وسماء نے  خارج میں انبیائے کرام کے مقدس سلسلے کو جاری فرمایا اور خود انسان کے اندر ایک ایسی قوت رکھی جو اس کو رب تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود تک روک سکے۔ یہ قوّت  عقل ہے جو انسان کے لیے صحیح اور غلط کے فرق میں مددگار بنتی ہے اور جو شاہراہ حیات پر راستے کا چراغ بن کر آگے بڑھتے رہنے میں تعاون کرتی ہے۔

خرد سے راہرو روشن بصر ہے

خرد کیا ہے چراغِ راہگزر ہے

درون ِخانہ ہنگامےہیں کیا کیا

چراغ ِراہگزرکو کیا  خبر  ہے

 (اقبال)

عقل عربی زبان کا لفظ ہے۔ عربی میں اونٹ کی رسی کو  عِقال کہتے ہیں، کیونکہ اس رسی کے ذریعے اونٹ کو بھاگنے سے روک کر رکھا جاتا ہے۔ عقل  ایک حس ہے جو انسان کو غلط راستے پر جانے سے روکتی ہے۔

عقل کی ماہیت پر کلام کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ ؒ لکھتے ہیں کہ عقل وہ چیز ہے جس کے ذریعے انسان اس بات کو پا سکتا ہے جو بات حواس کے ذریعے نہیں پا سکتا۔

مزید لکھتے ہیں کہ عقل کے کاموں میں یقین، شک اور وہم کرنا ہے۔ ہر پیش آمدہ واقعے کے اسباب طلب کرنا اور منافع کے حصول اور ضرر کو دور کرنا شامل ہے۔ (حجۃ اللہ البالغۃ، المقامات والاحوال)

عقل کے وظائف پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین کر لینی  ضروری ہے کہ عقل منزل تک پہنچنے میں معاون ومددگار تو ضرور ہے، لیکن منزل کی تعیین اور پھر اس کے لیے یقینی راستے کے انتخاب میں اکیلی عقل کافی نہیں۔ یہ باتیں عقل کے دائرہ کار سے باہر ہیں، لہذا اس کے لیے وحی کی ضرورت ہے۔

        اس کی تشریح کے  لیے آنکھ کی مثال مفید رہے گی۔ آنکھ اور اس میں عطاکردہ قوت بینائی ایک حد تک تو  مفید ہیں، لیکن پھر اس کے بعد ان کا دائرہ کار ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اس سے آگے کے احوال جاننے کے لیے کسی واقف کار کی خبر پرہی اعتماد  کرنا ہوگا۔ چنانچہ کسی کہنے والے نے عقل کی اس محدود کارفرمائی کو دیکھ کر کہا:

آزمودم  عقل دوراندیش را

بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را

        یعنی میں دور تک کے معاملات پر نظر رکھنے والی عقل کو آزما چکا، لیکن اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہاں تو دیوانہ بن کر(تعلیمات وحی کو مِنْ وعَنْ) مان لینے سے ہی کام چلے گا۔

        علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ  نے اپنے مقدمے مین  عقل کی افادیت کا اعتراف کرتے ہوئے  اس کی لاچارگی اورمحدود ہونے کی  دل چسپ مثال دی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ عقل کے ذریعے توحید، نبوت، امور آخرت وغیرہ کو پرکھنے کی لالچ کرنا  محال ہے،جیسے کوئی شخص سونا تولنے کا وزن دیکھ کر اس کے ذریعے پہاڑ کا وزن کرنا چاہے تو یہ ناممکن ہے(مقدمہ ابن خلدون،بحث علم الکلام، ص 582)۔

        عقل کا دائرہ کار محدود ماننے اور عقل کی نفی میں بڑا فرق ہے۔ عقل کو شتر بے مہار کیطرح آزاد چھوڑ دینا ایک انتہاء ہے اور سرے سے عقل کی نفی کر دینا دوسری انتہاء ہے۔ تعلیماتِ وحی کو مکمل مان لینا عقل کی پختگی کی دلیل بھی ہے اور سبب بھی ہے۔ قرآن کریم میں پختہ اہل عقل کے بارے میں فرمایا:

        یقیناً آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش  میں اور رات اور دن کے اختلاف میں البتہ نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے۔ (یہ وہ لوگ ہیں ) جواللہ تعالی کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (یعنی ہر حالت میں) یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور وفکر کر تے ہیں۔ (اور پھر اس غور وفکر کے بعد یہ کہتے ہیں) اے ہمارے رب! آپ نے یہ سب کچھ بیکار پیدا نہیں کیا۔ تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ (آل عمران)

        معلوم ہوا کہ جو لوگ ہر حال میں اللہ تعالی کو یاد رکھتے ہیں انہی کی عقل پختہ ہوتی ہے۔ اور جتنا انسان عقیدہ توحید میں راسخ  ہوتا جائے گا، اتنا ہی اس  کی عقل میں نکھار پیدا ہوتا جائے گا۔

        یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عقلی دلائل کا شریعت میں کیا مقام ہے؟ احکامات کے ثبوت اور پھر ان پر عمل کرنے میں عقلی دلائل کا کس حد تک اعتبارہے۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ عقل اللہ تعالی کی طرف سے عطاکردہ ایک مفید آلہ ہے، جس کے ذریعے  انسان اپنے کاموں کو درست طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے۔ لیکن عقل کا ایک دائرہ کار ہے، اس سے باہر کی چیزوں کو محسوس کرنے اور ان کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے سے عقل قاصر ہے۔ تما م احکام ِشرعیہ حکیمِ مطلق یعنی اللہ تعالی کی طرف سے اتارے گئے ہیں، جن کی بجاآوری کی ذمہ داری بندے پر عائد کی گئی ہے اور جن کی تکمیل میں اس کی کامیابی ہے۔ ان احکامات کو اللہ تعالی کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ عقل کے ذریعے کوئی حکم متعین کرکے اپنے آپ کو اس کا پابند کرنا ممکن نہیں۔ ان احکامات کی کچھ تو علتیں ہیں اور کچھ ان کے اسرار اور حکمتیں ہیں۔ عقل کے ذریعے حکم کی حکمت تو معلوم کی جاسکتی ہے، لیکن حکم کی علت جس کی بنیاد پر وہ حکم دیا گیا ہے، نہیں معلوم کی جا سکتی۔ مثلا حج کی فرضیت کی علت خانۂ کعبہ کا وجود ہے۔ خانہ کعبہ کے وجود کی وجہ سے زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض کیا گیا۔ جبکہ حج کی حکمتوں میں عالم اسلام کا اجتماع، اللہ تعالی کے لیے قربانی کی صفات پیدا کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

        نصوص یعنی قرآن وحدیث کی عبارات کچھ تو وہ ہیں جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہیں۔ یعنی وہ اپنے ثبوت میں بھی حتمی ہیں اور اپنے معنی پر دلالت کرنے میں بھی حتمی ہیں، ان میں کسی اور معنی کے گنجائش نہیں۔ جبکہ کچھ نصوص وہ ہیں جو قطعی الثبوت  تو ہیں، لیکن قطعی الدلالۃ نہیں ہیں بلکہ ظنی الدلالۃ ہیں۔ یعنی ان میں دیگر معانی کا احتمال بھی ہے۔ ان مختلف معانی میں سے ایک کو ترجیح دینے کے لیے اصولیین نے جو اصول وضوابط مقرر فرمائے ہیں وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں عقل خداداد کے استعمال سے ہی مقرر کیے ہیں۔ شرعی ماخد میں سے ایک قیاس ہے۔ قیاس میں عقل کا استعمال کرکے ہی ایک سابقہ حکم کی مثال کو سامنے رکھ کر نیا حکم معلوم کیا جاتا ہے۔ یہ قیاس اور اجتہاد کا ہی نتیجہ ہے کہ آج کی دنیا میں بھی اسلام کو ایک قابل عمل ضابطۂ حیات بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ فقہ ِ اسلامی سے لے کر تفسیر ِ قرآن تک عقل سے مدد حاصل کی گئی ہے اور دلائل عقلیہ کے ذریعے شریعت کے احکامت کی حقانیت کو ثابت کیا گیا ہے۔ اکابر مفسرین جیسے امام رازی ؒ کی تفسیر منطقی دلائل سے بھرپور ہے اور منطق کی سوجھ بوجھ کے بغیر اس سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔ منطق کا اہم مقصد ذہنی بیداری ہے جسے عقل سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ فقہی کتب میں ہدایہ کی مثال دی جا سکتی ہے جس کے مصنف منطقی استدلال کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ علمائے اسلام عقل کا بھر پور استعمال کرتے  ہیں۔ تاہم حکم کے ثبوت اور اس پر عمل کے لیے وہ عقل کو فیصل اور حاکم نہیں مانتے۔ لہذا اگر کوئی حکم یا عقیدہ بظاہر عقل کے خلاف نظر آرہا ہو تو وہ اسے تسلیم کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کا سفر بہرحال جاری رہتا ہے اور وہ اس سلسلے میں کسی عقلی توجیہ کے منتظر نہیں رہتے۔

عشق فرموۂ قاصد سے سبک گام عمل

عقل سمجھی ہی نہیں معنئ پیغام ابھی

 (اقبالؒ)

        اس کی ایک اور معروف مثال حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ اثر ہے جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر دین عقل کا نام ہوتا تو موزوں   کےظاہری  (اوپر والے)حصےپر مسح کرنے سے بہتر ہوتا کہ  باطنی(نیچے والے) حصے پر مسح کیا جاتا(کیونکہ پیر زمین پر رکھتے ہیں تو پاؤں کا نچلا حصہ لگتا ہے، لیکن اس کے برعکس مسح اوپر کی طرف کیا جاتا ہے) میں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں کے ظاہری حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے(سنن ابی داود کتاب الطہارہ باب کیف المسح )۔اس اثر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکم شرعی کا مدار عقل پر نہیں ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ حکیمِ مطلق اللہ تعالی شانہ کی طرف سےہے جس میں یقینا بندوں کی مصلحتوں کی رعایت کی گئی ہے۔

        کتب حدیث میں نقل وعقل کا حسین امتزاج امام طحاویؒ کی   معانی الآثار میں ملتا ہے۔ امام طحاویؒ ایک ہی مسئلے میں مختلف آثار ایک جگہ لاتے ہیں اور پھر نقلی وعقلی دلائل سے ایک کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثلاً امام طحاوی ؒ ایک باب قائم کرتے ہیں : )باب اکل ما غیّرت النار ھل یوجب الوضوء ام لا( : اب اس میں وہ ا حادیث لاتے ہیں جن میں آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضوء ٹوٹنے کا معلوم ہو رہا ہے۔ پھر وہ احادیث  لاتے ہیں  جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس کے بعد امام طحاوی ؒ طریق نظر کے عنوان سے عقلی دلیل سے وضوء نہ ٹوٹنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ جب آگ پر گرم کیے ہوئے پانی کو نجس نہیں سمجھا جاتا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے انسان کی طہارت زائل سمجھی جائے۔

        عقل اگرچہ ان اشیاء کا ادراک کرلیتی ہے جنہیں حواس خمسہ (دیکھنا، چکھنا، سونگھنا، چھونا، سننا) کے ذریعے معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن عقل اس کے صحیح یا ٖغلط ہونے کے لیے معیار نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ عقل ِانسانی مختلف ہوسکتی ہے۔ ایک انسان  اپنی عقل سے جس بات کو درست قرار دے رہا ہے دوسرا انسان اپنی عقل سے اسے غلط قرار دے رہا  ہوتا ہے۔ مثلا سرمایہ دارانہ  نظام (capitalism ) ایک طبقہ انسانی کی نظر میں بہترین نظام معیشت  اور نظام سیاست ہے۔ دولت کو ہر فرد کی ملکیت قرار دے کر اسے ہر قسم کی معاشی سرگرمی کی کھلی چھوٹ دیتا ہے۔ دوسری طرف ایک طبقہ ہے جو اس نظام کو معیشت اور نظام ِحکومت کے لیے تباہ کن قرار دیتا ہے۔ یہ طبقہ دولت کو ذاتی ملکیت قرار دینے کے خلاف ہے۔ اس کی نظر  میں ملک کی تمام املاک حکومت کی ہوتی ہیں اور افرادِ معاشرہ اپنی سرگرمیوں   میں حکومت کے پابند ہوں گے۔ اب ان دو متضاد انداز فکر کے اوپر ایک تیسری فیصلہ کن قوت درکار ہے اور وہ وحی ہے۔ وحی  جو حکیم ِمطلق جل شانہ کی طرف سے نازل کردہ تعلیم ہے وہ بتلائے گی کہ ایک انسان اپنی معاشی سرگرمیوں میں کتنا آزاد ہے اور کتنا پابند ہے۔ وحی ِالہی  مال کمانے کیلیئے بھی ایک لائحہ عمل فراہم کرتی ہے اور پھر اس مال کو خرچ کرتے ہوئے بھی رہنمائی دیتی ہے جس کے نتیجے میں ایک فرد سے لے کر معاشرے تک متوازن نظامِ حیات وجود پاتا ہے۔ِ

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا