قرآن کیوں پڑھیں؟

مولانا عبد البر اثری فلاحی

’’الم  ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ھُدیً لِّلْمُتَّقِیْنَ ‘‘(البقرہ:۱۔۲)
’’الف ، لام ، میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کوئی شک نہیں، ہدایت نامہ پرہیز گار وں کیلیے ‘‘۔
یہ قرآن مجید کا پہلا تعارف ہے جو خود قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کرایا ہے۔ یہ صرف تعارف ہی نہیں بلکہ اس بات کا جواب بھی ہے کہ صرف قرآن ہی کیوں پڑھناچاہیے؟
الم کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ یعنی ایسے حروف جو کاٹ کاٹ کر پڑھے جاتے ہیں۔ اس کے مختلف مفہوم علماء و مفسرین نے بیان کئے ہیں۔ ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ الم حروف ہجاء میں سے ہیں۔ انہیں سے تم الفاظ اور جملے بناتے ہو اور انہیں سے اللہ نے بھی بنایا ہے لیکن اس کے باوجود تم اللہ جیسا کلام نہیں بنا سکتے۔ گویا اللہ کا کلام ہرلحاظ سے بے مثل ہے اس جیسا کلام پیش نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے حروف مقطعات عموماً ان سورتوں کے آغاز میں آتے ہیں جن میں قرآن کا تذکرہ ہے اور اس طرح کی تحدی (چیلنج ) کی گئی ہے گویا حروف مقطعات قرآن کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے اور قرآن کا بے مثل ہونا ہی اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ اسے ضرور پڑھا جاناچاہیے ۔
قرآن میں قرآن مجید کی بہت سی صفات کا تذکرہ ہے جن کی تعداد بعض نے ۵۵، بعض نے سو اور بعض نے سو سے بھی زائد بیان کی ہے ۔ لیکن ان میں سے سب سے پہلے جو صفت بیان ہوئی ہے وہ ’’الکتاب‘‘ہے قرآن کو’’الکتاب‘‘ قرار دینے کا تین مطلب ہے۔ اول یہ کہ وہ لکھی ہوئی ہے یعنی ہرطرح سے محفوظ ہے۔ اس لیے بلا تردد اور شک و شبہہ کے اسے ضرور پڑھنا چاہیے۔ دوم یہ کہ وہ لکھی ہوئی ہے یعنی قانونی چیز ہے ۔ اس لیے اس کی پاسداری لازمی ہے ۔ تیسرے یہ کہ وہ ’’الکتاب‘‘ ہے اس لیے ہمیشہ اس کے لکھنے کا اہتمام ہونا چاہیے اور دیکھ کر پڑھنا چاہیے۔ صرف سماع (سننے ) پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ صرف سماع میں خلط ملط ہونے اور ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ ’’الکتاب‘‘ کے مفہوم کے یہ تینوں پہلو بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ قرآن کیوں پڑھیں؟
قرآن مجید کی جو دوسری صفت بیان کی گئی ہے وہ ’’لاریب فیہ‘‘ ہے یعنی اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ صفت بھی بڑی ہمہ گیر ہے۔ یہ جہاں قرآن کی محفوظیت کو یقینی بناتی ہے وہیں قرآن سے استفادے کی طرف بھی تشویق دلاتی ہے یعنی جب اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں،نہ محفوظ ہونے میں او رنہ تعلیمات کے معیاری اور مستند ہونے میں تو پھر اس کتاب کو لامحالہ پڑھنا چاہیے۔ تعلیمات کے لحاظ سے معیاری اور مستند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کہیں اختلاف ہے ، نہ اس میں کہیں تضاد ہے ، نہ اس میں کہیں ابہام ہے ، نہ اس میں کہیں جھول ہے ۔ نہ اس میں کہیں نقص ہے، نہ ٹیڑھ ہے، ہر بات اعلیٰ و ارفع اور جامع و مانع ہے ۔ پھر آخر اسے کیوں نہ پڑھا جائے ۔
قرآن مجید کی جو تیسری صفت بیان کی گئی ہے وہ ہے ’’ھدی‘‘ ہدایت نامہ۔ لفظ ’’ھدی‘‘ سے جہاں قرآن کے نزول کی غرض وغایت پر روشنی پڑتی ہے وہیں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ قرآن کے نزول سے (نعوذ باﷲ) اللہ کی کوئی غرض وابستہ نہیں،بلکہ یہ ہماری ضرورت ہے کہ زندگی گذارنے کا راستہ ہمیں کوئی بتائے اور اللہ نے بطور احسان قرآن کی شکل میں ہمیں بتادیا۔ چنانچہ سورہ فاتحہ میں ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ ہمیں سیدھا راستہ دکھا ۔ کے ذریعہ اپنی احتیاج کا اظہار کیا ہے۔ تبھی اللہ تعالیٰ نے جواب میں پورا قرآن نازل فرمایا اور اسے ’’ھدی‘‘ ہدایت نامہ قرار دے کر اس کی حیثیت واضح کردیا۔ قرآن مجید کی یہ حیثیت بھی اس بات کاتقاضا کرتی ہے کہ اپنی اس ضرورت کی تکمیل کیلیے اسے ضرور پڑھنا چاہیے ۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن صرف رہنماکتاب نہیں ہے بلکہ سب سے بہتر رہنما کتاب ہے کیونکہ سب سے بہتر راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ‘‘ (الاسراء:۹) بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتاہے جو سب سے بہتر ہے ۔
ظاہر ہے کہ قرآن جب سب سے بہتر راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو وہ اس کا حق دار ہے کہ اسے ضرور پڑھا جائے۔ جواسے نہیں پڑھے گا وہ کبھی سب سے بہتر راستہ نہیں پاسکتا۔
لفظ ’’ھدی‘‘ اس بات کی طرف بھی نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن کریم کوہدایت کی غرض سے ہی پڑھاجانا چاہیے ۔ دکھانے، عالم قرآن یا ماہر قرآن کہلانے اور خود ساختہ نظریات کو مدلل کرنے کیلیے پڑھنا قرآن کے مقصدنزول سے کسی طرح میل نہیں کھاتا۔
یہاں ’’ھدی‘‘ کے ساتھ ’’لِلْمُتَّقِیْنَ‘‘ (پرہیز گاروں کیلیے) کا لاحقہ لگاہوا ہے جبکہ دوسرے مقامات پر ’’ھدی‘‘ کے ساتھ ’’لِلنَّاسِ‘‘ (لوگوں کیلیے ) کا لاحقہ لگا ہے۔ آخراس فرق کی وجہ کیا ہے جبکہ ’’المتقین‘‘ کا اطلاق ’’خواص‘‘ پر ہوتا ہے اور ’’الناس‘‘ کا اطلاق ’’عوام‘‘ پر ہوتا ہے ۔ دراصل یہ موقع و محل کی رعایت کا فرق ہے۔ جہاں اصولی اور قانونی حیثیت واضح کرنی تھی وہاں ’’ھدی للناس‘‘ فرما یا گیا تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اصولی اور قانونی طور پر یہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت نامہ ہے ۔ البتہ جہاں فائدہ او رنفع بخشی (انتفاع) کی طرف اشارہ کرنا تھا وہاں ’’للمتقین‘‘ فرمایا گیا تاکہ یہ واضح کیا جاسکے کہ حقیقی معنوں میں اس کا فائدہ وہی اٹھائیں گے یا انہیں کو پہنچے گا جو تقویٰ شعار اور پرہیزگار ہوں۔ ظاہر ہے واقعی پرہیزگار صاحب ایمان ہوتے ہیں اس لیے صاحب ایمان ہونے کے بعد انہیں اس کتاب سے بے نیاز نہیں ہوجانا چاہیے بلکہ اصل نفع انہیں کو پہنچنے والا ہے اس لیے انہیںیہ کتاب ضرور پڑھنا چاہیے اور پڑھتے رہنا چاہیے ’’ھدی للمتقین‘‘ میں یہ پیغام بھی مضمر ہے۔

تبصرے بند ہیں۔