قرآنی بیانیے میں لفظ ’قل‘ کا توارُد

 ابوفہد

قرآن میں ’’قل‘‘ بروایت حفص۳۳۲مرتبہ آیاہے۔اورپانچ سورتیں، معوذتین، اخلاص، الکافرون اورالجن، کلمۂ ’قل‘ کے ساتھ شروع ہوتی ہیں۔ قرآن میں ’قل‘ جہاں جہاں بھی آیا ہے، اس کے پہلے مخاطب نبی ﷺ ہیں، ثانوی درجے میں مسلم امۃ مخاطب ہے۔البتہ چار جگہوں پر دیگر انبیاء کرام اس کے مخاطب ہیں۔ وہ آیات درج ذیل ہیں :

فَإِذَا اسْتَوَيْتَ أَنْتَ وَمَنْ مَعَكَ عَلَى الْفُلْكِ ’’فَقُلِ‘‘ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۔ [المؤمنون: 28]

’’وَقُل‘‘ رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ [المؤمنون: 29]

ان دونوں آیتوں میں حضرت نوح علیہ السلام سے خطاب ہے۔

اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى ’’فَقُلْ‘‘هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ تَزَكَّى [النازعات: 17، 18]

اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خطاب ہے۔

فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا ’’وَقُل‘‘لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا [الإسراء: 23]

اس آیت کے خطاب میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا روئے سخن گرچہ حضرت محمد ﷺ کی طرف ہی ہے، مگر رسول اللہﷺ کے والد آپﷺ کی پیدائش سے  چھ ماہ قبل اور والدہ پیدائش کے چھ سال بعد وفات پاگئی تھیں، اس آیت کے نزول کے وقت آپﷺ کے والدین میں سے  کوئی بھی حیات نہیں تھا، اس لیے لازما اس کی مخاطب امت محمدﷺ ہے۔

 اگر قرآن کے ظاہر کو دیکھیں تو قرآن میں بہت کچھ ہے مگرخود محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ِ والاصفات کے تذکرے سے قرآن بظاہر خالی نظر آتا ہے، شایدیہ اس بات کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے ہے کہ قرآن محمد ﷺ کی تصنیف نہیں ہےجیسا کہ بعض باطل پرست خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر قرآن آپؐ کی تصنیف ہوتی تو اس میں لازما آپؐ کا اور آپؐ کے خاندان کا تذکرہ ہوتا۔اور بہت ساری پرسنل چیزیں بھی قرآنی متن میں شامل ہوجاتیں، جیسا کہ احادیث شریف کے ذخیرے میں بعض پرسنل چیزیں بھی آگئی ہیں۔ احادیث میں تو آپؐ کے حلیۂ مبارک اور قد کاٹھ کا بھی تذکرہ ہے اور تفصیلی تذکرہ ہے، حتی کہ آپؐ کی ایک ایک ادا، ایک ایک بات اور ایک ایک عمل حدیث کے ذخیرے میں محفوظ کردیا گیا ہے، لیکن قرآن کے صفحات رسول اللہ ﷺ کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ بھی بیان نہیں کرتے۔قرآن میں جہاں جہاں بھی آپؐ کا تذکرہ ہے وہ دین ودعوت، نبوت اورشانِ نبوت کے حوالے سے ہے۔ قرآن میں آپ ﷺ کا ایک نام ’’محمد ‘‘ چارمرتبہ آیا ہے اور ایک سورت کا نام بھی ’محمد‘ ہے، مگر یہ نام کہیں بھی ذاتی حوالے سے نہیں آیا ہے۔لیکن اگر قرآن کے باطن پر نظر کریں تو قرآن کی ہر آیت آپ ﷺ کی شان وعظمت کو بیان کرتی نظر آتی ہے۔

قرآن کی آیتوں میں آپ ﷺاسی طرح موجود ہیں جس طرح ہوا میں آکسیجن موجود ہے۔چنانچہ قرآن میں کہیں پر لفظ’قل ‘ ہے، کہیں ضمیر متصل اور منفصل ہے، کہیں واحد حاضر اور جمع حاضرکے صیغے ہیں، کہیں اَمر ونہی کے صیغے ہیں اور کہیں تائے مخاطب اور کاف خطابی ہے۔ان سب ضمیروں اورصیغوں کے ذریعے راست طورپر رسول اللہﷺ کو خطاب کیا گیا ہے۔چند مثالیں دیکھیں :

أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ‎﴿الماعون:1﴾‏

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ‎﴿الفیل:1﴾‏

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ‎﴿العلق:1﴾‏

أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ‎﴿الشرح:1﴾‏

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ‎﴿الکوثر:1﴾‏

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا ‎﴿الکہف: 23﴾‏

كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ‎﴿الاعراف1﴾‏

فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ‎﴿یونس:94﴾‏

مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ ‎﴿طہ:2﴾‏

 سورۂ بقرہ، آیت 142’’  سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ ‘‘میں گرچہ کوئی ضمیر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا صیغہ ہے جو براہ راست آپؐ سے تخاطب کو بتائے، مگر سیاق کلام سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں بھی براہ راست آپؐ سے خطاب ہے اور اس کا قرینہ آگے والے جملے ’’ قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ‘‘میں وارد لفظ ’’قل‘‘ ہے۔ اور گرچہ سورۂ بقرہ ’’الم‎، ‏ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَارَيْبَ فِيهِ‘‘ ‎‏کا آغاز ذرا مختلف ہے۔ مگر یہاں بھی ایسا نہیں ہے کہ یہاں ڈائریکٹ کوئی چیز لوگوں کو بتائی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ  اس میں بھی آپﷺ ہی مخاطب ہیں، اور آپ ﷺ ہی سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کتاب میں شبہات والی کوئی بات نہیں ہے۔ پھر آپؐ کے توسط سے لوگوں تک میسیج  پہنچایاجارہا ہے۔

اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ ’قل ‘  قرآن کی کئی سورتوں اور آیتوں کی ابتداء میں اسی طرح برمحل  قرار پا سکتا ہے جس طرح سورۂ اخلاص کے شروع میں ہے اور برمحل ہے۔ سورۂ بقرہ میں ’الم ‘ کی جگہ ’قل‘ رکھ کر دیکھ لیں، معانی میں کچھ بھی فرق نہیں پڑے گا۔اسی طرح سورۂ فاتحہ میں ’’الحمد‘‘ سے پہلےبھی ’قل ‘کا محل ہے۔اور شاید برمحل بھی۔کیونکہ سورۂ فاتحہ کی کم از کم پہلی تین آیات کا بیانیہ بھی سورۂ اخلاص کی طرح کا ہی بیانیہ ہے۔ مگر اللہ نے اپنی خاص حکمت کے سبب’’قل‘‘ کو محذوف رکھا ہے۔

جب کوئی شخص سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتا ہے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی نسبت سے ’قل‘زائد ہے اوراصل بیا نیے سے خارج کا لفظ ہے۔ مگر یہ احساس بے معنیٰ ہے کیونکہ جوحکم نبی ﷺ کے لیے ہے یا تھا، وہی حکم ہر مؤمن اور قرآن کے ہر قاری کے لیے بھی ہے۔ قرآن کے ہر قاری کو تلاوت کے وقت یہ خیال مستحضر رہنا ضروری ہے کہ اللہ ثانوی درجے میں ہی سہی خود اس سے بھی مخاطب ہے اور براہ راست اسی کو حکم دے رہا ہے اورفرمارہا ہے کہ میری تعریف اس طرح بیان کرو، مجھ سے ایسے دعا مانگو اور مجھ پر اور قرآن پر اعتراض کرنے والوں کو یہ جواب دو۔ اگر کوئی قیامت کے دن کے بارے میں شک کرے اور قیامت کے آنے پر متعجب ہو تو اسے سورۂ نباء کی یہ ابتدائی آیات پڑھ کر سناؤ:

’’کیا ہم نے زمین کو گہوارہ (اور پہاڑوں کو میخیں ) نہیں بنایا؟ کیا تم کو جوڑے جوڑے پیدا نہیں کیا؟ کیا تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ نہیں بنایا؟ کیارات کو تمہارے لیے پردہ (اور دن کو وقت ِمعاش) نہیں بنایا؟ کیاتمہارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے؟اور اس کے اندر ایک روشن چراغ نہیں رکھا؟ اور کیا ہم نے پانی سے لبریز بدلیوں سے موسلا دھار پانی نہیں برسایا؟‘‘

ان سے کہو کہ جب ہم یہ سب کرنے پر قادر ہیں تو کیا ہم ان سب کو ختم کرکے قیامت برپا کرنے پر قادر نہیں ہیں ؟ جب ہم تمہیں زندگی دینے پر قادر ہیں تو کیا تم سے حساب وکتاب لینے پر قادر نہیں ہیں ؟

ڈاکٹر بکری ابوالہدی الحلاق کی ایک مختصر ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے، یہ ویڈیو 17؍اکتوبر 2015 کو اپلوڈ کی گئی ہے۔ اس میں ڈاکٹر صاحب ’’قل‘‘ کے تعلق سے بیان کررہے ہیں۔ اور قرآن میں اس کی ضرورت واہمیت واضح کررہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ لیبیا کے حاکم کے حوالے سے یہ بیان بھی دے رہے ہیں کہ لیبیا کے حاکم نے کہا ہے کہ اسے لفظ ’قل‘ کی ضرورت نہیں۔ اس نے سورۂ اخلاص میں لفظ ’قل‘ پرلال سیاہی سے مارک کرنا چاہا۔ اس کا استدلال یہ تھا کہ یہ لفظ رسول اللہﷺ سے خطاب کے لیے تھا۔ لہذا نبیﷺ کی وفات کے بعد قرآن میں اس لفظ کو باقی رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ حاکم کوجواب دیا ہے، گرچہ اس کا نام نہیں لیا۔ لنک یہ ہے: https://www.youtube.com/watch?v=ZBEDz1ZvFas

 اس کے بالکل برعکس قرآن پر ایک اعتراض ہندوستان میں آریہ سماج کے ایک رہنما کی طرف سے کیا گیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے:

’’ستیارتھ پرکاش ‘‘ ہندؤوں کی ایک معروف کتاب ہے، اس کتاب کے مصنف سوامی دیانند سرسوتی جی مہاراج (1883-1824)ہیں، اس کتاب کا اردو ترجمہ 1899 میں شائع کیا گیا۔ سوامی جی مہاراج نے اپنے علم اورسمجھ کےمطابق تقریبا سبھی مذاہب پر اعتراضات کیے ہیں، یہودیت، عیسائیت، بدھ ازم، حتیٰ کہ اسلام پر بھی بہت سارے اعتراضات ہیں۔

اس کتاب کے چودھویں سمولاس میں سوامی جی نے قرآن پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ’’ بسم اللہ الرحمان الرحیم ‘‘ ایشور کا کلام کیسے ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ’’ میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ‘‘ یہ تو بندہ کہہ رہا ہے، ایشور تو نہیں کہہ رہا ہے، یہ تو پہلی آیت ہی غلط ہوگئی۔ڈاکٹرسید عبد اللہ طارق صاحب نے اپنے ایک بیان میں سوامی جی کے اشکال کا جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ رگ وید کا بھی یہی انداز ہے۔رگ وید کا پہلا منتر  (اگنی میلے I glorify Agni) بھی اسی طرح شروع ہوتاہے۔یہ بھی وید کےپڑھنے والاہی کہہ رہا ہے، ایشور تو نہیں کہہ رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب آگے بتاتے ہیں کہ جب رگ وید پر یہ سوال کیا گیا تو سوامی جی نے اس کا جواب یوں دیا کہ اس کے سامنے بریکٹ لگالواور اسے یوں سمجھو کہ ’ ایشور نے کہا ہےکہ تم یوں کہو‘۔

سوامی جی کا یہ جواب ایسا ہی ہے جیسے ہم ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘کے خلاف سوامی جی کے اعتراض کا جواب دیں اور کہیں کہ بسم اللہ سے پہلے ’قل‘ کو محذوف مان لو۔ تو یہ سوال باقی نہیں رہے گا۔ یعنی اللہ نے جب یہ آیت ’بسم اللہ الرحمان الرحیم ‘ نازل کی تو گویا اللہ نے کسی بھی نیک کام کے شروع کرنے کے لیے ایک دعا بتائی۔ اور اس میں پڑھنے والے کے مطلب کے الفاظ اسے سکھائے، وضاحتی الفاظ’تم یوں کہو‘ یا لفظ ’’ قل ‘‘ وغیرہ، جس میں سکھانے یا حکم کرنے کے معنیٰ ہوں، بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔البتہ سورۂ نحل آیت نمبر 98 میں اللہ نے اس کی وضاحت فرمادی، فرمایا: فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ ’’جب تم  قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو‘‘

 اس لفظ ’قل‘ کی وجہ سے قرآنی بیانیے کی ہیئت پوری طرح بدل جاتی ہے۔ایسے ہی جیسے انگلش گرامر کے حساب سےکسی جملے کو ’ڈائریکٹ اسپیچ ‘ سے ا’ِن ڈائریکٹ اسپیچ‘ میں تبدیل کردیا جائے۔ قرآنی بیانیے میں اس ایک  لفظ کے توارد سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل اور مسئول، مخاطِب اور مخاطَب، حاکم اور محکوم کے درمیان ایک واسطہ ہے۔ یہ واسطہ اللہ نے خودہی رکھا ہے اور ہر زمانے میں اپنے اپنے وقت کے انبیاء کرام کو اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان ذریعہ یا واسطہ بنایا ہے۔اس واسطے کی ضرورت یہ ہےکہ اللہ انسانوں سے براہ راست مخاطب نہیں ہوسکتا۔کیونکہ انسان کے اندر اتنی جسمانی، روحانی اور نورانی قوت نہیں ہے کہ وہ اللہ کے کلام کے انوار یا اس کی تجلیات کو برداشت کرسکے۔ اللہ انسان سے اور وہ بھی محض اپنے منتخب و پسندیدہ بندوں سے یعنی نبیوں اور رسولوں سے صرف پانچ طریقوں سے کلام کرتاہے۔ اس کی وضاحت اللہ نے قرآن میں اس طرح بیان فرمائی ہے:

 وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ‎﴿الشوریٰ:51﴾‏

’’ اور کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے بات کرے، مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا کوئی فرشتہ بھیج کر، تو وہ فرشتہ اللہ کے حکم سے (نبی کے قلب پر)وہ بات القا کرے جواللہ چاہے۔ بےشک اللہ بڑاہی عالی مرتبہ (اور) حکمت والا ہے ‘‘

جس طرح انسان کی آنکھیں اور کان وغیرہ روشنی اور آواز کو ایک حدتک ہی برداشت کرسکتے ہیں، حد سے زیادہ روشنی اور حد سے بڑھی ہوئی آواز انسان کے کان اور آنکھ دونوں کو نقصان پہنچاسکتی ہے، اسی طرح اللہ کے کلام کی جو قوت یا تاثیر ہے یا جو انوار وتجلیات ہیں، انسان اسے برداشت کرنے سے عاجز ہے، یہاں تک کہ نبی بھی۔ اس لیے اللہ نے بتایا کہ اللہ انسان سےصرف پانچ طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پر ہی بات کرسکتا ہے اور وہ بھی ہرکس وناکس سے نہیں بلکہ صرف اپنے منتخب بندوں سے، یعنی انبیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے۔ (واضح رہے کہ اس ’واسطے‘ کا  معروف ’توسل اور وسیلے‘کا کچھ تعلق نہیں)

قرآن میں اللہ کی تعریف جہاں جہاں بھی آئی ہے، بیشتر مقامات پر متکلم کے صیغے کے بجائے غائب کے صیغے کے ساتھ آئی ہے۔یعنی ایسا نہیں ہے کہ ’’میں اللہ ہوں، تمام جہانوں کا رب اور تمام تعریفیں صرف میرے لیے ہیں ‘‘ بلکہ یوں ہے’’ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام  جہانوں کا رب ہے۔‘‘ سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص، آیت الکرسی اور سورہ حشر کی آخری تین آیات، نیز ان کے علاوہ بہت سی آیات، جن میں اللہ کی قدرت، ذات اور صفات کا بیان ہے، اسی اسلوب میں ہیں، قرآن کا یہ اسلوب اس کے متن میں ’’قل‘‘ کے توارد کو لازم کرتا ہے، تاکہ پتہ چل سکے کہ حکم دینے والا کوئی اور ہے۔ اور قرآن پڑھنے والا محض اپنی سوچ اور فکر سے ہی ’ھواللہ ‘ اور’’الحمدللہ‘‘ نہیں کہہ رہا ہے بلکہ اس وجہ سے کہہ رہا ہے کہ اسے ایساسکھایا گیا ہے۔

قل کہیں پر لوگوں کو بتلانے اور جواب دینے کے معنیٰ میں ہے اور کہیں پر یہ بذات خود نبیﷺ کے لیےہے اور کہیں دعااور کہیں اقرارکرنے کے معنیٰ میں ہے۔ قل کی اس مختلف النوع حیثیت کودرج ذیل تفصیل سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے:

تعلیم دینے کے معنیٰ میں :

 ’’قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ..‘‘(الانعام:151)

منکرین حق کے سامنے دوٹوک فیصلہ سنادینے اور اپنا عقیدہ واضح طوپر بیان کردینے کے معنیٰ میں :

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‎(الکافرون:1)‏

اے نبی!تم خود بھی گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اور ایسی ایسی صفات والا ہے اور لوگوں کو بھی بتاؤ:

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‎(الاخلاص:1)

اے نبی ! رب ذوالجلال کی بارگاہ میں یوں دعا کیا کرو اور لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دو:

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ( ‎الفلق:1)  قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس( ‎الناس:1)

’’قل ‘‘کے ذکر اور حذف دونوں کی ہی کی اپنی اپنی حکمتیں اور سیاق کلام کے حساب سے اپنی اپنی ضرورتیں ہیں۔ معوذتین میں قل کا اظہار ضروری معلوم ہوتاہے، کیونکہ قل کے حذف کی صورت میں أَعُوذُ کا فاعل اللہ کو سمجھے جانے کا امکان ہے۔ اور یہ بات بعید ازقیاس ہے کہ خود اللہ ہی پناہ چاہے۔

´يَسْأَلُونَكَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا (البقرۃ: 219)

’’ اے پیغمبر! لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان زیادہ ہے، البتہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں مگر نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ۔‘‘

اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا جواب ’’فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ ‘‘سے شروع ہوتا ہے، مگر اللہ نے جواب سے پہلے کے الفاظ ’’ ´يَسْأَلُونَكَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ‘‘بھی محفوظ کرائے ہیں۔ قرآن میں اور کئی مقامات پر بھی ’’ يَسْأَلُونَكَ ‘‘ آیا ہے۔ اس سے آیت کایہ پس منظر معلوم ہوجاتا ہے، کہ کوئی سوال کیا جارہا ہے اور پھر اس کاجواب دیا جارہا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو قرآن کا بڑا حصہ جوابی بیانیے پر مشتمل ہے۔لیکن اگر قرآن رسول اللہﷺ اور لوگوں کے سوالات کو بھی اپنے متن کا حصہ بنا لیتا تو قرآن کا بیانیہ کنورسیشن کی طرح ہوجاتا۔ جبکہ موجودہ صورت میں حکمیہ بیانیہ ہے، یعنی وہ اوامر ونواہی پر مشتمل ہے۔

قرآنی متن میں اپنے توارد کے اعتبار سے’’قل ‘‘ہی کی طرح کاایک لفظ’ ’ اذْكُر‘ ‘ بھی ہے، قرآنی متن میں اس کے توارد کی نوعیت بھی یہی ہے کہ وہ کہیں آیا ہے اور کہیں نہیں آیا ہے۔درج ذیل آیا ت پر غور کریں :

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (مريم: ١٦)

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا (مريم: ٤١)

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَىٰ إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا (مريم: ٥١)

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا (مريم: ٥٤)

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا (مريم: ٥٦)

ان آیات میں ’ اذْكُرْ ‘ ہے مگر ذیل کی آیات میں نہیں ہے۔ حالانکہ ذیل کی آیات میں بھی ’اذْكُرْ ‘  کا محل ہے۔

وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ..(الانبیاء 83)

وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ (الانبیاء 85)

وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا(الانبیاء : 87)

اوپر مذکورآیات کا آغاز ایک طرح کے تخاطب کے ساتھ ہورہا ہے۔ مگر بعض جگہ ’ اذْكُرْ ‘    کا لفظ آیا ہے اور بعض جگہ نہیں آیا۔

رسول اللہ ﷺ سے اہل مکہ بطور خاص یہود ونصاریٰ کے علماء سوال کیا کرتے تھے، ان میں سے کچھ سوال آپ کی صلی ﷺ کی نبوت کا امتحان لینے کی غرض سے ہوتے تھے، یہ سوال کبھی فقہی نوعیت کے بھی ہوتے تھے اور کبھی تاریخی اور کبھی سائنسی نوعیت کے بھی۔ بعض طویل  سورتیں اور قصص وواقعات بھی کسی نہ کسی سوال کے جواب میں ہی ناز ل ہوئے ہیں۔

 يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا(الاعراف:187)

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ (الاسراء: 85)

يَسْأَلُونَكَ عَن ذِي الْقَرْنَيْنِ  (الکہف:83)

قرآن میں کم وبیش 13 مقامات پر’’ يَسْأَلُونَكَ‘‘ کا آیا ہے۔ اس سے قرآنی بیانیے کے سوالیہ پس منظر کا پتہ چلتاہے، مگر کئی ایسے مقامات پر جو واضح طورپر سوالیہ پس منظر میں ہیں وہاں یہ لفظ نہیں آیا جیسے سورۂ یوسف کی ابتداء میں یہ لفظ نہیں آیا مگر سورہ ٔیوسف بھی جواب کے طورپر ہی نازل ہوئی ہے۔

ان سب شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کے بیانیے کا بیشتر حصہ جوابی بیانیے پر مشتمل ہے، تاہم اللہ تعالیٰ نے اس جوابی بیانیے کو تخلیقی اور عمومی بناکر پیش کیا ہے۔ اسی لیے سوال کرنے والوں کے نام قرآن میں نہیں آسکے ہیں اور جو واقعات بیان ہوئے ہیں، ان کی بعض ایسی تفصیلات قرآن میں نہیں آئی ہیں جو تاریخی دستاویز کے لیے یا قانونی چارہ جوئی کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ قرآن چونکہ محض تاریخی دستاویز نہیں ہے، نہ ہی وہ محض قانون کی کتاب ہے اور نہ ہی محض ادب اور قصے کہانیوں کی کتاب ہے، اس لیے قرآن میں تفصیلی چیزیں شامل نہیں کی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن میں احکامات کی تفصیلات بھی درج نہیں ہیں۔

ذرا سوچیے اگر قرآن میں موجودتمام احکامات یعنی اوامر ونواہی، واقعات اورتمثیلات کا تفصیلی ذکر بھی ہوتا، جواب کے ساتھ ساتھ سوال بھی متن کا حصہ ہوتے، پھر سائل کے نام بھی ہوتے، واقعات میں شخصیات کا تعارف اورایام ومقامات کی وضاحت اورشہادتیں بھی ہوتیں تو قرآن کئی ہزار صفحات پر مشتمل کتاب بن جاتی، پھراسے حفظ یاد کرنا، اس میں موجود مسائل کا استحضار رکھنا  اورباربار بالاستیعاب مطالعہ کرنا مشکل ہوجاتا۔ پھر شاید چند ہی طالع آزما قسم کے لوگ اس سے پوری طرح استفادہ کرپاتے، زیادہ تر لوگ اس کی سعادتوں اور برکتوں سے محروم ہی رہ جاتے۔اور بہت سے سوال تو پھر بھی باقی ہی رہ جاتےکہ فلاں اور فلاں چیز کا حکم یا ذکر قرآن میں کیوں نہیں ہے؟ کائنات تو بہت وسیع ہے اور وہ بدستور پھیل رہی، وہ رات دن گردش میں ہےاور زمانہ نت نئے انقلابات سے دوچار ہوتا رہتا ہے۔ یہ کتنی انقلاب انگیز بات ہے کہ مختصر ضحامت پر مبنی کتاب یعنی قرآن ایسی وسیع اور ہر لحظہ بدلتی اور پھیلتی ہوئی کائنات اور ہرلحظہ دگرگوں ہوتے ہوئے سماج کا ساتھ دے پارہا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔