پروردگار عالم کا مختصر ترین مطالبہ

عظمت علی

                ہرمذہب میں ایک مقدس کتاب کا وجود رہا ہے جس سے مذہبی تعلیمات منسوب ہوتی ہیں۔ادیان آسمان کی بات کریں تو عیسائی کے بائبل اوریہودی کے یہاں توریت ہے۔ اسی طرح ہمارے یہاں قرآن مجید ہے۔ قرآن کا معنی ہےجسے پڑھائے جائے۔ کتاب الٰہی کا پہلا جملہ ’اقرا‘کا بھی یہی مطلب ہے کہ ’تم پڑھو‘مگرہم پڑھتے ہی نہیں۔ کتاب الٰہی کو نازل ہوئے چودہ صدی گزرگئی ،وہی کتاب کوئی تبدیلی نہیں۔ دور میں ایک عام انسان کی عمر 50 سال کے اوسط پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس پوری عمر میں ہم اپنی کتاب کو صر ف مقدس مانتے ہیں پڑھتے نہیں۔ یہ تقدس کا مثبت انداز فکر کہیں نہ کہیں لوگوں کے ذہن و خیال میںمنفی اثرات پیدا کرنے لگا ہے۔ کسی سے کہوکہ ذرا قرآن اٹھا لاؤ، کچھ آیات کی تلاوت کرلو۔ انسان ڈر سا جاتا ہے۔ وضو ہی تو کرنا ہے۔ اب تو وضو کا مسئلہ بھی تقریباً ختم۔ قرآن کے حروف پر پلاسٹک لیمی نیشن۔ موبائل فون میں تو اس سے زیادہ آسانی۔ پڑھنا بھی نہیں ،بس سن لینا۔اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی راز حیات کو کھولنے کے دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔

                ایک وجہ تو لوگ یہ بتاتے ہیں قرآن کی تلاوت نہ کرنے کی جو کہ غیر معقول ثابت ہوئی۔ دوسری وجہ پڑھناہی نہیں جانتے۔ یہ تو خیر ہمارا المیہ ہے۔ اس سے نجات حاصل کرنا چاہیے۔ کم سے کم قرآن کو پڑھ لینا چاہیے۔ ہمارے بہت سے مذہبی تنازعات ختم ہوجائیں گے۔ آپسی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔مشکلات کا حل مل جائے گا۔ اب اگر ہم نے زندگی بھر قرآن پڑھا ہی نہیں تو پھر کیا پڑھا۔ جس مذہب کے نام پر ہماری شناخت ہے ، اس کے ساتھ ہی غیر مناسب رویہ۔ یہ ہمیں دنیا و آخرت میں رسو اکرکے چھوڑے گا۔

                آج بڑے بڑے مفتی ، مولوی اور مولانا کی باتوں پر خوب کان دھرتے ہیں مگر ذرا ایک لمحہ ادھر بھی۔ دیکھو تو سہی کہیں اللہ بھی کچھ حرف بیان رکھتا ہے۔ کہیں مولوی گمراہ تو نہیں کررہا ہے۔ کہیں مقررنے قرآن کے خلاف عقائد تو نہیں بیان کردیئے۔ اللہ نے ہمیشہ اس بات کی تاکید کی ہے کہ اپنے آباؤ اجداد کی پیروی نہ کرو۔ حق کی پیروی کرو۔ اس کا مطلب چیزوں کو خود سمجھنے کی کوشش کرو۔ نہ سمجھ میں آئے تو اہل ذکر سے پوچھو۔ اہل علم سے رابطہ کرو۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر نہیں معلوم تو اہل ذکر سے پوچھو۔اس کا مطلب ہے کہ پہلے معلوم کرو۔ پھر بھی کوئی عقدہ حل نہیں ہوپا تا تو اہل علم سے پوچھو۔ سوال کرنا اور علمی مباحثہ نہایت ضروری ہواکرتا ہے۔ کیوں کہ ہم نے کیا سمجھا ،اس کا سچ اور غلط ہونے کا معیار دوسرے کے درمیان مباحثہ کے ذریعہ ہی پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

                لیکن اب کہاں …!ہم نے کئی ایک حافظ قرآن سے ملاقات کی۔ انہیں اللہ کا کلام تو نہایت شاندار انداز میں حفظ ہے مگر اللہ ان سے کیا فرمارہا ہے ، یہ انہیں سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہر انسان قرآن کی آیات کو مکمل طور پر سمجھتا ہے ، کوئی نہیں مگر ایک مکمل حافظ قرآن سے ایسی توقع ہوتی ہے۔ ایک عالم دین سے ایسی توقع ہوتی ہے۔ سامنے سامنے کی آیات کا ترجمہ و مفہوم تو معلوم ہی ہوناچاہیے۔ بقیہ آج ہمارے معاشرہ میں وہی گھوم پھر کے 10 فیصدہی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے۔ جلسہ عام ، جشن ہو، محفل میلادیا پھر مجالس۔ سب کا تقریباً یہی حال ہے۔

                قرآن کو فی الوقت پڑھنے، پڑھانے کی ضرورت ہے۔ سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات کسی سے مخصوص نہیں ، سب کے لیے ہے۔ جسے تلاوت کرنا آتی ہے، اسے سمجھنے کی جانب قدم بڑھانا چاہیے اور جسے مفاہیم قرآن سے آشنائی ہے، اسے قرآن کے مطابق زندگی کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کا بالکل مختصر سامطالبہ ہے فاقرؤا ماتیسر من القرآن، جتنا بھی ممکن ہوقرآن کی تلاوت کرو۔

تبصرے بند ہیں۔