روحانیت کے مروجہ تصورات

ڈاکٹرغلام قادرلون

 آج کے دور کے انسان کو مسائل نے ہر طرف سے گھیر رکھاہے۔ مادیت، لالچ، خودغرضی، رقابت، سیاسی افراتفری، سماجی نظام کی ابتری، اخلاقی اقدار کی تباہی اور خاندانی رشتوں کی کمزوری نے اس کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ فکری طور ڈارونؔ کے فلسفے نے اسے کمزوروں کے وسائل کی بندربانٹ سکھائی، فرایڈؔنے اسے جنسی آوارگی کی تعلیم دی اورمارکسؔ نے اسے پیٹ کاپجاری اورخدابیزاربنادیا۔

  اخلاقی انارکی کے اس ہمہ گیر ماحو ل میں انسان اپنی روح کی تسکین کے لئے امیدبھری نگاہوں سے مذہبی پیشواؤں کی طرف دیکھتاہے مگروہ خوداندرسے کھوکھلے ہیں اور ’’خواجہ درنقشبند ایوان است‘‘ کے مصداق ساری توجہ ظاہر داری پرمرکوز کئے ہوئے ہیں۔ پوپ، ربی اورسوامی سب کایہی حال ہے۔

روحانی انحطاط کے اس بھنور سے انسان کوجودین نکال سکتاتھا، اس کے پیروکار اپنی بداعمالیوں سے پوری دنیاکے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں طعن وتشنیع اورمذاق واستہزا کاہدف بنے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ نہ ہوتی تودنیا کے ذرائع ابلاغ خسارے میں ہوتے، نیوزبلیٹن مختصرہوتے اورتبصروں، تجزیوں کابازار بھی ٹھنڈاہوتا۔ فلسطین، شام، عراق، لیبیا، یمن اوردوسرے عرب ملکوں کے حالات دیکھ کرکوئی بھی کہہ سکتاہے کہ اسلام اپنے ہی گھرمیں پردیسی بناہواہے۔ ع

دیارِ خودغریب افتادہ است

مصر، بنگلہ دیش، سعودی عرب اورمالدیپ میں مسلمان قیدوبند اوردارورسن کی آزمائشوں سے گزرتے ہوئے اصحاب الاخدودکی تاریخ یاددلارہاہے۔ تاجکستان میں اسلام کوملک بدری کاسامناہے۔ چین، ہندوستان، سری لنکامیں اس کی بقا پرسوالیہ نشان لگ گیاہے۔ میانامار کے ملک بدرکئے گئے مسلمانوں کے کتنے سفینے اورشام سے نکالے گئے مسلمانوں کی کتنی کشتیاں سمندرمیں غرق ہوگئیں   ؎

ڈبوئے ہیں نہ جانے کیاسفینے

ہمارے عہد کی دریادلی نے

امریکہ اور یورپ نے افغانستان، عراق، لیبیا پرجویلغار کی، وہ یورش تاتارسے کسی طرح کم نہ تھی۔ اس پرمستزاد یہ کہ جن قوموں کواسلام نے تہذیب وتمدن، باہمی رواداری اوراحترام کادرس دیا تھا، آج وہ اس کے شعائر کی علی الاعلان بے حرمتی کررہے ہیں، اسے صفحہ ہستی سے مٹانے پرتلی ہوئی ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پوری دنیامیں اس کے پیروکاروں کو دہشت گرداورشرپسند کہہ کرمطعون اوربدنام کیاجارہاہے۔

 انسان جب دنیا کے سنگین حقائق زاروں کاسامنا کرنے کی قوت اورحوصلہ کھودیتاہے توخوف اورگھبراہٹ میں اندرون کی طرف دیکھتاہے۔ قوموں کے ساتھ بھی ایساہی معاملہ پیش آتاہے۔ مسلمانوں کے ساتھ متعدد بارایساہواہے۔ صلیبیوں کی یلغار اورتاتاریوں کی یورش کے زمانوں میں مسلماں اسی صورت حال سے دوچارہوئے۔ ان کے بہترین دماغ دنیاکی بے ثباتی اورناپائیداری سے متاثرہوئے اورروحانیت کی تلاش میں تصوف کی طرف مائل ہوگئے۔ تصوف کے بعض بہترین شاہکار اسی دورمیں (ساتویں صدی ہجری کے دوراں )وجودمیں آئے۔ شیخ فریدالدین عطار کی تصنیفات، نجم الدین دایہ کی مرصادالعباد، شیخ اکبر ابن عربی کی فتوحات مکیہ اورفصوص الحکم، شیخ شہاب الدین سہروردی کی عوارف المعارف، شیخ عمر ابن لفارض کادیوان سقوط بغداد (۶۵۶ھ/۱۲۵۸ء) سے پہلے اس زمانے میں منصہ شہورپرآئے جب تاتاری یورش کا آغازہوچکاتھا۔ مثنوی مولانا رومی سقوط بغداد سے دس بارہ سال پہلے شروع ہوچکی تھی۔ عراقی کی ’’لمعات‘‘ بھی اسی زمانے کی پیداوار ہے۔ سعدی شیرازی کی بوستان اورگلستاں سقوط بغداد سے ایک یادوسال پہلے لکھی گئی ہیں۔ شیخ کاوطن شیرازاگرچہ تاتاریوں کی یورش سے محفوظ رہامگرعالم اسلام کے بڑے بڑے شہراورعلاقے ویراں ہوچکے تھے۔ شیخ نے آخری عباسی خلیفہ مستعصم کاجو مرثیہ لکھاہے وہ آج بھی قاری کورلادیتاہے۔ بڑے بڑے صوفیہ اورشیوخ زمانے کی شورشوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ تاریخ پرنظردوڑائیے۔ تاتاریوں کی یورش کے زمانے میں سلسلہ کبرویہ کے پیشوا حضرت نجم الدین کبریٰ ۶۱۸ھ میں تاتاریوں کامقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ شیخ نجم الدین دایہ کواپنا شہرچھوڑناپڑا۔ شیخ فریدالدین عطار ۶۲۷ھ میں تاتاریوں کے ہاتھوں شہیدہوئے۔ شیخ سعدی شیرازی کو صلیبیوں نے بھی قیدی بنالیا اورتاتاریوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تباہی بھی دیکھنی پڑی۔

ساتویں صدی ہجری کی صورت حال اورآج کے حالات میں کئی طرح مماثلتیں موجودہیں۔ مسلمان حکمراں اس وقت بھی آپس میں برسرپیکارتھے۔ بغدادکے عباسی خلیفہ نے خوارزم شاہ سے مصالحت کے لئے سلسلہ سہروردیہ کے بانی حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی جیسی بلندپایہ شخصیت کوسفیر بناکربھیجا مگرخوارزم شاہ بغداد پرقبضہ کرناچاہتاتھا۔ مصالحت ردکردی اورسفارت ناکام ہوئی۔ خوارزم شاہ باجبروت بادشاہ تھا۔ چنگیز خان تک اس سے ڈرتاتھا۔ غرورکاسرنیچاچنگیز خان نے خروج کیا اوریکے بعددیگرے اس کی مملکت کے شہروں کوفتح کرتاگیا۔ تاتاریوں کی یورش کے نتیجے میں خوارزم شاہ کی سلطنت اورعباسی خلافت دونوں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔

  تاتاریوں کے ہاتھوں قتل وغارت، تباہی وبربادی تقریباً اسی سال تک جاری رہی۔ طویل مدت تک جاری آگ اورخون کی ہولی نے مسلمانوں کے دل ودماغ پرمایوسی طاری کردی اوروہ میدان عمل میں متحرک رہنے کے بجائے تصوف کی طرف مائل ہوگئے۔ آج پوری دنیامیں مسلمانوں کی حالت حددرجہ خراب ہے۔ عالم اسلام کے سیاسی حالات کی ابتری، اپنوں اورغیروں کے ہاتھوں مسلمانوں کی قتل وغارت، ہجرت اورجلاوطنی دنیامیں مسلمانوں کی بے بسی، شعائراسلام کی علی الاعلان بے حرمتی، مسلم ملکوں میں لادین حکمرانوں کے ہاتھوں دینی اوراصلاحی تحریکوں سے وابستہ مسلمانوں کی اسیری اورآئے دن دارورسن کی آزمائشیں دیکھ کرمسلماں پریشاں ہوجاتاہے، وہ ان تمام ہولناک مناظر کوناپسند کرتاہے۔ جب ان حالات کوبدلنے کی ہمت اپنے اندرنہیں پاتا توذہنی اورفکری پریشانی سے بھاگ کر ایسی دنیا میں پناہ تلاش کرتاہے جہاں اس کی روح کوتسکین ملے۔ جسے وہ روحانیت کانام دیتاہے۔ مگرروحانیت کی تلاش کاراستہ کٹھن ہوتاہے۔ یہاں قدم قدم پراس کے سب سے بڑے دشمن شیطان کے ہاتھوں اغواہونے کاخدشہ ہوتاہے جوروحانیت کے بارے میں مسلمان کے دماغ میں پہلے تو غلط تصورات ڈال دیتاہے پھرانھیں تصورات کی روشنی میں اسے اغواکرتاہے۔ انسان سمجھتاہے کہ وہ روحانیت سے بہرہ مند ہوگیاہے اورعملاً وہ شیطان کے ہاتھوں کھلونابناہوتاہے۔ شیطان کے ان مغالطوں اوردھوکوں کے بارے میں امام غزالی، حافظ ابن جوزی، حضرت نجم الدین کبریٰ اورحضرت سیدعلی ہمدانی نے بڑی مفید بحثیں کی ہیں۔

 روحانیت کے بارے میں عام تصوریہ ہے کہ انسان دنیاسے قطع تعلق کرکے صرف خداکی عبادت میں مصروف رہے۔ دنیاومافیہا سے کوئی مطلب نہ ہو، لوگ فتوح لے کر آئیں، منہ مانگی مرادیں پائیں، واپس جاکربزرگ سے محیرالعقول واقعات منسوب کرکے اس کی شہرت کابازارگرم کریں اورعقیدت مندوں کی تعدادمیں اضافے کاباعث بنیں۔

 جن بزرگوں کے یہاں روحانیت کایہ تصور موجودہے، وہ خودکوئی کام نہیں کرتے۔ ان کاساراسرمایہ کشف وکرامات ہوتاہے جواصلی کم اورنقلی زیادہ ہوتی ہیں۔ کرامات کی کہانیاں زیادہ ترمریدوں کی اڑائی ہوتی ہیں۔ روحانی بزرگ کے بعض ہمراز اس میں خاصے ماہرہوتے ہیں۔ فارسی میں کہتے ہیں  ؎

’’پیراں نمی پرند ولے مریداں می پرانند‘‘

ترجمہ:۔ پیرنہیں اڑے مگرمریداڑاتے ہیں۔

 کرامات کاخاصااثر ہوتاہے۔ حکمراں طبقہ، امراء، دولتمند، عورتیں اورعام لوگ ان کاشکارہوتے ہیں۔ روحانی بزرگ کی خدمت میں نذرونیاز اورفتوح کے انبار لگ جاتے ہیں جن میں حلال وحرام کی تمیزبھی نہیں رہتی۔ آنے والوں میں ظالم اور مظلوم دونوں ہوتے ہیں۔ ظالم اکثرطاقتور ہوتاہے۔ بعض اوقات روحانی بزرگ بھری مجلس میں اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کی دستاربندی کرتے ہیں۔ مظلوم کو صبرورضا کی تلقین کی جاتی ہے۔ سماج کے دوسرے ناپسندیدہ افراد، چور، جواری، فاجر، شرابی وغیرہ اکثر روحانی مجلسوں کے معتقد ہوتے ہیں اورروحانی بزرگ بھی ایسے افراد کودعائیں دیتے رہتے ہیں۔

  روحانیت کایہ تصوراسلام کے منافی ہے۔ قرآن حکیم میں آیاہے:

 ’’اورمیں نے جنوں اورانسانوں کواسی واسطے پیداکیاہے کہ وہ میری عبادت کریں ‘‘۔ (الذاریات:۵۶)

عبادت گزار بندے کسب حلال سے بے نیاز نہیں ہوتے۔ سب سے بہترین اورعبادت گزاربندوں کواللہ نے حکم دیا:

  ’’اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اورنیک عمل کرو‘‘۔ (المومنون:ـ۵۱)

 حضرت یحییٰ بن معین اسماء الرجال کے ماہرہیں۔ حضرت امام احمدبن حنبل کے ہم سفر تھے مگرحضرت امام موصوف ان کے ساتھ کھانانہیں کھاتے تھے کیوں کہ انھیں حضرت یحییٰ بن معین کایہ قول پہنچاتھا کہ ہم کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے، ہاں اگرہمیں شیطان بھی خوددے توکھالیں گے۔ جب حضرت امام نے ان سے قطع تعلق کرلیا تو انھوں نے معذرت کرتے ہوئے کہاکہ میں نے تومذاق کیاتھا۔ اس پرحضرت امام احمد بن حنبل نے کہا:

 ’’تم دین کے ساتھ مذاق کرتے ہو، جانتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عمل پراکل حلال کو مقدم فرمایا ہے:اے پیغمبر و!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اورنیک عمل کرو‘‘۔

روحانیت کا یہ تصور اسلام کے منافی ہے۔ اس میں روحانی بزرگ اپنی عبادت کواپنی آمدنی اورجاہ وحشمت کاوسیلہ بناتاہے۔ دین دے کردنیاخریدتاہے۔ شیخ سعدی نے کہا تھا کہ ہمارے اسلاف اس لئے روزی کماتے تھے کہ وہ اس کی فکر سے فارغ ہوکر یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں، وہ کونے میں عبادت کرکے روٹی نہیں حاصل نہیں کرتے تھے۔ دوسروں کی کمائی پرپلنے والے عبادت گزاروں کوشیخ نے زریں مشورہ دیا تھا   ؎

بہ دیں اے خردمند دنیامخر

جو خربہ انجیل عیسیٰ مخر

’’اے عقلمند، دیں کے بدلے دنیامت خریدو، حضرت عیسیٰ کی انجیل بیچ کرگدھے کے لئے جومت خریدو‘‘۔

 اسلام میں رہبانیت اورترک دنیاکی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی حلال روزی کمانا دنیاداری ہے۔ دنیا داری یہ ہے کہ انسان خداسے غافل ہوکر صرف دنیاکمانے میں لگ جائے۔ مولانارومی نے یہی نکتہ بیاں کیاہے   ؎

چیست دنیا ازخداغافل بُدن

نے قماش ونقرہ وفرزندوزن

’’دنیاکیاہے؟خداسے غافل ہونا، سامان، چاند، بیوی بچے رکھنادنیاداری نہیں ہے۔‘‘

 روحانیت کایہ تصور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے خلاف ہے۔ صحابہ کرام کی زندگیوں میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ زراعت، تجارت اورصنعت وحرفت سے حلال روزی کھاتے تھے۔

 روحانیت کے بارے میں بعض لوگوں کا تصورظاہری اعمال سے وابستہ ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کاایک طبقہ ظاہری وضع وقطع کاخاص خیال رکھتاہے۔ نماز روزے کا پابند ہے جواسلام کے ارکان خمسہ میں سے دواہم ارکان ہیں۔ مسلمانوں کی مذہبی شناخت کا علمبردار یہی طبقہ ہے مگر اس طبقے سے وابستہ افراد بھی بعض اوقات مغالطوں کاشکار ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ جب بازار میں چلتے ہیں توہونٹ ہلاہلاکرذکرکرتے ہیں، ہاتھوں میں تسبیح ہوتی ہے، عام لوگ ان کی شکل وصورت اوروضع وقطع دیکھ کرمرعوب ہوجاتے ہیں اور ادب واحترام کے ساتھ ان کے ہاتھ چومتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ظاہری وضع وقطع کی بھی بڑی اہمیت ہے مگراسی کومنتہائے مقصود سمجھنا اورریااورشہرت کے اندیشے سے بے خبر رہنا بھی ایک مغالطہ ہے۔ نماز روزے کے اثرات مسلمان کے کردار پرہونے چاہئیں۔ حضرت عمرکاقول ہے کہ لوگوں کے مسجدمیں بیٹھنے سے میں نے دھوکہ کھایا۔ مشاہدہ ان کے قول کی تصدیق کرتاہے۔

   اکثردیکھا گیا ہے کہ ظاہری وضع وقطع پرزوردینے والے قلب کی حالت پربہت کم توجہ دیتے ہیں اور ان شیطانی چالوں میں بآسانی گرفتارہوجاتے ہیں جنہیں عام لوگ بھی سمجھتے ہیں، ان میں سے بعض حضرات کے معاملات گڑبڑہوتے ہیں۔ بچوں کاداخلہ کراتے وقت تاریخ پیدائش غلط لکھوانا، ریل میں بغیرٹکٹ کے سفرکرنا، پانی اوربجلی کے بِل ادا نہ کرنا اورسماجی معاملات میں بے رخی برتنا، ان کے متعلق عام شکایات ہیں۔ ان میں بعض حضرات سرکاری ملازم ہیں مگرشاذ ونادرہی ڈیوٹی دیتے ہیں۔ اگر ڈیوٹی کبھی دیتے بھی ہیں تو کام نہیں کرتے۔ ان کی تنخواہ کی کمائی توحرام ہوتی ہی ہے، مگر ان کے کردار سے پوری ملت بدنام ہوجاتی ہے۔ نماز، روزہ اوردوسری تمام عبادات کامقصد تقویٰ اورتزکیۂ نفس ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ ایک غیر مسلم یہ سوال کرسکتاہے کہ یہ کیسی عبادت اورروحانیت ہے کہ جس پانی سے آپ وضو کرکے فرائض ونوافل اداکرتے ہیں، اس کابل ہی ادانہیں کرتے، جس روشنی میں آپ رات کواللہ کی عبادت کرتے ہیں وہ جوری کی روشنی ہے۔ آپ کے نام سرکاری کاغذات میں بجلی کاکنکشن درج ہی نہیں ہے۔ اگر یہ سوال کیاجائے کہ آپ مسجد کے اندربیٹھ کراپنے موبائل فون کی بیٹری چارج کرتے ہیں جس کی اسلام توکیا دنیاکاکوئی نظام اخلاق بھی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسلام کی ہدایات توایسے معاملات میں سخت ہیں توکیاجواب ہوگا؟ کیاآ پ نے ظاہری وضع وقطع کے ساتھ ساتھ کبھی اپنے معاملات پربھی توجہ دی ہے؟

 جب بھی مسلمانوں پرزوال کی گھٹاچھائی ہے، دین اورروحانیت کے بارے میں غلط تصورات رائج تھے۔ سقوط بغداد کے زمانے میں بھی یہی تصورات تھے۔ سالہاسال تک صوم وصلوٰۃ کے پابند رہ کربھی مسلماں ترکِ معاصی کی طرف کم توجہ دیتے تھے۔ رومیؔ نے ایسے مسلمان کوجوبرسہابرس تک عبادت کرکے بھی اپناکردار نہیں بدلتا تھا، کہا ہے   ؎

ہمچوپرکارے ہمیشہ درذہاب

لیک یک جاماندۂ بے انقلاب

ہمیشہ پرکار کی طرح چلتے رہتے ہومگربغیرکسی تبدیلی کے ایک ہی جگہ پڑے رہتے ہو۔

سالہاکردی نمازوروزہ را

نورآں صوم وصلوۃ توکجا

تم نے سالہاسال تک نمازپڑھی، روزہ رکھامگراس نماز اوروزے کانورتم میں کہاں ہے؟

                شیخ سعدی نے تزکیۂ نفس سے غافل تسبیح خواں اورعابد کو ’’تیلی کابیل‘‘ کہاہے جوصبح سے شام تک چلتا رہتا ہے لیکن رہتا ایک ہی جگہ ہے۔ بے روح نمازوں کاعادی بھی ایک ہی حال میں پڑا رہتاہے۔ نمازبھی پڑھتارہتاہے، اوراد ووظائف کاپابندبھی ہے۔ لباس اورظاہری وضع وقطع کا بھی خیال رکھتاہے مگر ریلوے کاسفربغیر ٹکٹ کے کرتاہے۔ اگر کبھی ٹکٹ لیتابھی ہے تواس لئے کہ ٹی سی پکڑ نہ لے گویاخداکاخوف نہیں ٹی سی کاڈرہے۔ آخراپنی کلائی کے گردتسبیح لپیٹنے سے لوگوں کو متاثرکرناکیامعنی رکھتا ہے؟ کیایہ روحانیت کاغلط تصورنہیں ہے   ؎

روئے طمع از خلق بہ پیچ ارمردی

تسبیح ہزاردانہ بردست ہیچ

’’اگرتم مرد ہوتولالچ کاچہرہ لوگوں سے پھیرلو، ہاتھ پرتسبیح ہزاردانہ مت لپیٹو‘‘۔

                روحانیت کے بارے میں ایک تصور یہ ہے کہ صوفیانہ اسرارورموز کی باتیں لوگوں کے سامنے اس طریقے سے کی جائیں کہ سننے والے مبہوت ہوجائیں۔ اس قسم کی باتیں کرنے والے عام طورسے صوفیانہ شاعری میں ایسے معانی ومفاہیم تلاش کرتے ہیں جوعام لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ سننے والے انھیں جنیدؒوشبلیؒ جیسے پاکبازوں کاہم مشرب خیال کرتے ہیں مگرحقیقت یہ ہے کہ ان روحانی ماہروں کوپاکانِ امت سے دور کی بھی نسبت نہیں ہوتی۔ ان کاسارامبلغ علم سطحی ہوتاہے۔ یہ لوگ ایسی اونچی باتیں کرنااپنی شان سمجھتے ہیں جن کوسن کرعقلاء کواپنی عقول اورعلماء کواپنے علوم پرشرمندگی ہو۔ داڑھی اورمونچھ سے صفاچٹ اورصوم وصلوٰۃ سے بے نیازروحانی ماہروں کی مجلسوں میں موسیقی اور گانے بجانے کاخاص مقام ہوتاہے۔ روحانی مرشداکثربرمحل اشعارمیں علماء وفقہاء کامذاق اڑاتاہے۔ عبادات، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اوردوسرے اعمال صالحہ کوخاطرمیں نہیں لاتا بلکہ ان تمام ارکان واعمال کوبے ثمرظاہری اعمال کہہ کران کی تحقیر کرتاہے۔ ان روحانی ماہروں کے دلوں میں شعائر اسلامی کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ نقال ہوتے ہیں۔ صوفیہ کی چندباتیں یادکرتے ہیں، پھرانھیں کواپنی مجلسوں میں دہراکرلوگوں کواپنے دام میں پھانس لیتے ہیں۔ مولانارومی نے مسلمانوں کوخبردارکیاہے کہ یہ ’’آدم روئے ابلیس ‘‘ہوتے ہیں۔ یعنی یہ انسان کی شکل میں شیطاں ہوتے ہیں اس لئے ان کی بیعت نہیں کرنی چاہیے۔ مولاناکے بقول جس طرح شکاری پرندوں کوپکڑنے کے لئے ان کی آوازوں کی نقل کرتاہے، پرندے اسے اپنے ہم جنس کی آوازسمجھ کرجال کے پاس گرتے ہیں اورگرفتار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح روحانیت کے ان دعوے داروں کاحال ہے جودرویشیوں کے کلام کی نقل کرکے لوگوں کوپھانس لیتے ہیں اور لوگ بھی ان کے بچھائے ’’دام ہمرنگ زمیں ‘‘ میں گرفتار ہوجاتے ہیں    ؎

حرف درویشاں بدزددمرددوں 

تابخواندبرسلیمے زاں فسوں

  ’’کمینہ آدمی درویشوں کی باتیں چرالیتاہے، تاکہ ان باتوں سے بھولے بھالوں پرمنترپڑھے‘‘۔

روحانیت کے بارے میں ایک تصورتنگ دھڑنگ فقیروں سے وابستہ ہے۔ جوچرس، گانجے اوردوسری ممنوعہ چیزیں علی الاعلاں استعمال کرتے ہیں۔ اناپ شناپ باتیں کرتے ہیں جن سے لوگ اپنے مرادوں کے مطابق مفاہیم اخذکرتے ہیں۔ چوں کہ یہ لوگ اپنے آپ سے بے خبر ہوتے ہیں اس لئے ان پرتنقید کرنابے سود ہے۔ گدی نشیں اورمجاورحضرات کے یہاں روحانیت کاتصورمختلف ہے۔ ان لوگوں نے سجادوں اور مقبروں کے روحانی طاقتوں کے نام پر اثرورسوخ کے وسیع حلقے بنائے ہیں۔ قطع نظراس کے کہ گدی نشیں اورمجاور کی حیثیت کیاہے، یہ لوگ کافر ومومن، ظالم ومظلوم، فجاروابرارسب کوایک نظرسے دیکھتے ہیں۔ ان کے حلقہ اثرمیں طوائفیں، فلمی اداکار، سمگلر، سیاستدان، چور، جواری، غنڈے اورمجرم ہوتے ہیں۔ عام طورپرسمجھا جاتاہے کہ ان تمام طبقوں کے پیشے اور کاروبارگدی نشینوں اورمجاوروں کی دعاؤں اورتعویذوں سے کامیاب ہوتے ہیں۔

 اکثردیکھا گیاہے کہ اسلام کے خطرناک دشمن بھی گدی نشینوں کے ارادت مندہوتے ہیں۔ چنانچہ بڑے بڑے بزرگوں کی طرف سے ان مجرموں کے بازؤں پر’’سلامتی جاں ‘‘ کے تعویذباندھے گئے جو اسلام دشمن طاقتوں کی فوجوں میں شامل ہوکراپنی ترقیوں کے لئے مسلمانوں کاخوں بے دریغ بہاتے تھے۔ کتنے ہی معاندین اسلام ہیں جن کے ہاتھ ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کے خوں سے رنگیں ہیں اورمجاوروں نے مشہور زیارت گاہوں پران کی دستاربندی کرکے دل کھول کے انھیں ’’کامیابی ‘‘اور ’’درازیٔ عمر‘‘ کی دعائیں دیں۔ بدلے میں نذرانے اورپھولوں کی چادریں ملتی ہیں۔ صاحبزادوں اورصاحبزادیوں کوبنااستحقاق کے سرکاری نوکریاں اورترقیاں ملتی ہیں۔

  ان گدی نشینوں اورمجاوروں کاموازنہ سلطاں محمدفاتح کے مرشدسے کیجئے جو قسطنطنیہ پرحملے کے وقت لشکر اسلام کے ساتھ تھے اورچھولداری میں مسلمانوں کی فتح کے لئے سربسجود ہوکردعاوگریہ زاری میں مصروف تھے۔ ۲۹مئی ۱۴۵۳ء؁ کو اسی پاکبازنے سلطان کے قاصد کوسب سے پہلے خوش خبری سنائی کہ قسطنطنیہ فتح ہوگیا جس وقت یہ مردخدا اپنی دعا کی قبولیت سے مطمئن ہوکرخوشخبری سنارہاتھا، اسی وقت فصیل شہرکاایک حصہ خودبخود منہدم ہوگیا۔ سلطاں فاتح وہیں موجودتھا۔ قاصد واپس آیا توفصیل پرسلطانی علم لہرارہاتھا۔ اسی لئے کہاجاتاہے کہ قسطنطنیہ کی فتح دعاسے ہوئی ہے۔ کہاں آج کے یہ گدی نشیں اور کہاں سلطان محمدفاتح کے بلندپایہ مرشد۔  ع   چہ نسبت خاک را باعالم پاک

آج کے گدی نشینوں کودیکھ کراقبال ؔ نے کہاتھا   ؎

میراث میں آئی ہے انھیں مسند ارشاد

زاغون کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

روحانیت کے بارے میں سب سے مضرت رساں اورغلط تصور علماء سوء کاہے۔ چوں کہ ان لوگوں کی وضع وقطع بظاہر شرعی ہوتی ہے، اس لئے بھولے بھالے عوام کی نظروں میں یہ لوگ دین کے حقیقی علمبردارہوتے ہیں۔ مگرعملاً ان لوگوں نے ملت اسلامیہ کوبہت نقصان پہنچایاہے۔ وعظ وتبلیغ میں یہ لوگ جنیدؒ وبایزیدؒ کے ہم نوانظرآتے ہیں مگرجب آزمائش کی گھڑی آتی ہے توزبان وقلم کے ساتھ دشمنان اسلام کے ہمدوش ہوتے ہیں۔ مراعات، انعام واکرام اورنذرانوں کی لالچ میں ملت اسلامیہ کے حصے بکھرے کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے۔ استعماری عزائم کی تکمیل میں علماء سوء مغربی طاقتوں کے لئے مفید اورکارگر ہتھیارثابت ہوئے ہیں۔ یہ دین کی وہی تعبیر وتشریح کرتے ہیں جواستعماری طاقتوں اورجابرحکمرانوں کے مفید مطلب ہوتی ہے۔ ان کی تمام علمی صلاحیتیں، جملہ تقریریں اورساری تحریریں اسلام دشمنوں کے لئے باعث تقویت ہوتی ہیں۔ انھیں لوگوں نے اپنی تحریروں میں فرانسیسی استعمار کی خوبیوں، برطانوی استعمار کی برکات اوردوسری مغربی طاقتوں کی ’’صفات محمودہ‘‘ کے راگ الاپ کرملت اسلامیہ کومغرب کی غلامی کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کیں۔

۱۹۳۵ء میں اقبال نے ملت اسلامیہ کے انھیں شیوخ کے بارے میں کہاتھا   ؎

شیخ ملت باحدیث دل نشیں

برمراداوکندتجدیددیں

 ’’ملت اسلامیہ کاعالم دیں پیاری پیاری باتوں سے اب حکمرانوں کی مرضی کے مطابق دین کی تجدیدکا کام کرتاہے، کیونکہ یہ وہ عالم ہے جس کے بارے میں شاعر مشرق کی رائے ہے   ؎

شیخ اورمُرد فرنگی رامرید

گرچہ گویدازمقامِ بایزید

  ’’مسلمانوں کامذہبی رہنما انگریز لارڈکامرید ہے۔ اگرچہ باتیں حضرت بایزید بسطامی کے مقام کی کرتاہے‘‘۔

 آج انھیں علماء سوء کے باوجود نامسعودسے ملت مسلکی منافرتوں اوراختلافات کاشکار ہوکرپارہ پارہ ہوچکی ہے۔ انھیں کے فتاویٰ سے آج اسرائیل، امریکہ اوردوسرے معاندین شاداں وفرحاں ہیں۔ انھیں کے کرتوتوں سے ملت اسلامیہ ہردورمیں پریشاں رہی ہے۔ ایک مثال کافی ہے۔ ۱۹۱۳ء؁ میں کانپورمیں مسجد شہیدکردی گئی۔ مسلمانوں نے ہنگامہ کیا۔ گولی چلی اوربہت سے مسلماں شہیدہوگئے۔ انگریز حکام نے علماء سوء کی خدمات حاصل کیں۔ انھوں نے فتوے دئے کہ مسجد کاجوحصہ گرایاگیا ہے وہ وضوخانہ ہے، اسے مسجد کہناغلط ہے۔ اس وقت مولاناشبلی نعمانی نے علماء کی روش پرطنزکرتے ہوئے کہاتھا  ؎

ہمیں جس چیز نے کھویا وہ تفریق وتجزی تھا

یہی وہ شئے ہے جوبربادیٔ مسلم کے درپے ہے

مگراب تو درودیوارتک اس کااثرپہنچا

وضو خانہ الگ اک چیزہے، مسجد الگ شے ہے

                دورکیوں جائیے؟ کیاانھیں حاملین جبہ ودستارنے غزہ کے مسلمانوں کی ناکہ بندی کرنے کے لئے زیرزمیں سٹیل دیواریں تعمیر کرنے کے فتوے نہیں دئے۔ کیا بلعم بن باعورکے انھیں جانشینوں نے غزہ کے محصور مسلمانوں کوادویات پہنچانے والی سرنگوں میں پانی ڈلوانے کے فتوے صادرنہیں کئے۔ کیایہی وہ نام نہادمذہبی ٹھیکہ دارنہیں ہیں جنہوں نے ۲۰۱۳ء میں مصرکے شیطاں صفت فوجی آمرعبدالفتاح السیسی اورعیسائی صدر عدلی منصورکومبارکباددی۔ روحانیت کے انھیں علمبرداروں نے حماس اوراخوان المسلمون کے خلاف فتوے دے کریہودونصاریٰ کے دلوں کوراحت پہنچائی۔ انھیں کے فتوؤں سے مصر میں اخوان المسلمون کے پاکبازوں کاخون بے دردی سے بہایاگیا۔ یہی وہ شکم پرست دین فروش ہیں جن کی تائید سے مصر کے پہلے منتخب صدرمرسی کوجیل میں ڈال دیاگیا۔ روحانیت کے انھیں دعوے داروں نے میانمارکے مسلمانوں کے مصائب سے چشم پوشی اختیار کی یہی وہ طبقہ ہے جس نے بنگلہ دیش میں اسلام کی سربلندی چاہنے والوں کوپھانسی دئے جانے کے وقت چپ سادھ لی اورمنافقانہ وطیرہ اپنایا۔ کیادین کاصحیح تصوررکھنے والے عالم سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ عیاش بادشاہوں، لادیں آمرون اورجاہلیت کے علمبرداروں کودعائیں دے۔ مظلوم ملت کواغیارکے قہروعتاب کامستحق قراردے کرمسلمانوں کے زخموں پرنمک پاشی کرے۔ ظالم حکمرانوں کے اسلام مخالف اقدامات کی تائیدکرکے ان کامعاون اورمددگاربنے؟….نہیں ہرگزنہیں !!!

                دین اورروحانیت کاصحیح تصورامام اعظم ابوحنیفہ، امام دارالہجرۃ مالک بن انس، امام احمد بن حنبل جیسے ائمہ کرام پرواضح تھا، جنہوں نے قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں، کوڑے کھائے مگر حکمرانوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔ روحانیت کاصحیح تصور حضرت سفیان ثوری کا تھاجنہوں نے خلیفہ منصورعباسی جیسے جبروت والے حکمراں سے کہا تھا کہ اللہ سے ڈرو، زمیں ظلم وجبرسے بھرگئی ہے۔ دین کے صحیح تصورسے امام ابن تیمیہ آگاہ تھے جنہوں نے تاتاریوں کے خلاف خودجنگ میں شرکت کی اورحق پرستی کی پاداش میں جیل بھی گئے۔ ان کاانتقال جیل ہی میں ہوا۔

                روحانیت کے جوتصورات اس وقت مسلمانوں میں عام ہیں، وہ حددرجہ اصلاح طلب ہیں۔ اگر ملت کی تعمیر نومقصود ہے توہمیں ذہنی اورفکری انقلاب لاناہوگا۔ عالم اسلام کے موجودہ حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ خداکے فضل وکرم سے آزمائش وابتلاء کادورجلد ہی ختم ہوگا۔ مغرب اوردوسرے معاندین اسلام کے چہروں سے انسانیت، جمہوریت، احترام ورواداری اورحقوق انسانی کے تمام نقاب 9/11کے بعدیکے بعددیگر اترچکے ہیں۔ نئی نسل کواسلام کی طرف راغب کرنے کی جوخدمت تقریروتحریرسے ناممکن تھی، وہ خود افغانستان عراق اورفلسطین میں مغرب اورامریکہ کے شیطانی کردار نے انجام دی ہے۔ نئی نسل کے سامنے مغرب کااصل چہرہ آگیاہے، وہ بڑی تیزی سے دین کی طرف راغب ہورہی ہے، صرف رہنمائی کی ضرورت ہے۔ رہنمائی کے تین اہم مراکز گھر، مدرسہ اورمسجد ہیں۔ صالح افراد اورمثالی معاشرہ تیار کرنے میں تینوں کاکرداربنیادی اہمیت کاحامل ہے، اس لئے ان تینوں پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملت کی تعمیر نو کے لئے راہ ہموارہوسکے۔

                مسلمانوں کی زبوں حالی اورتعلیمی پسماندگی کودورکرنے کے لئے گھر کاتربیتی ماحول بدلناضروری ہے۔ مسلمانوں کاعائلی نظام اگرچہ مغربی اثرات تیزی سے قبول کررہاہے مگراس میں ابھی بہت دم خم باقی ہے۔ نفسانفسی کے عالم میں بھی بزرگوں کے احترام اورکمزوروں کی خبرگیری کی روایات قائم ہیں۔ مختلف ملکوں میں مسلمان اقلیتوں کی حالت تقریباً وہی ہے جوفرعونی مصرمیں بنی اسرائیل کی حالت تھی۔ اس وقت بنی اسرائیل کوحکم دیاگیا کہ اپنے گھروں کوتوجہ اورسرگرمی کامرکزبناؤ اورنمازقائم کرو۔ ایک انسان کی کردارسازی میں گھر کارول اہم ہوتاہے۔ ماضی قریب تک مسلمان عورتیں بچوں کودودھ پلاتے وقت لاالہ الا اللہ پڑھاکرتی تھیں۔ بزرگ خواتین انھیں اخلاقی کہانیاں سناتی تھیں۔ آج حالات مختلف ہیں۔ ٹی۔ وی اورانٹرنیٹ کاچلن عام ہوگیاہے جس سے گھروں کاماحول تبدیل ہورہاہے۔ اس لئے گھروں میں دینی ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کوعصرحاضر کے تقاضوں کے لئے تیارکرنے کے لئے ان کی ذہنی اورفکری تربیت ہونی چاہیے۔ بنیادی چیزبچے کواسلام کے مبادیات سے آگاہ کرنا اوراسلام کی تعلیمات کے مطابق اس کے عادات واطوارڈھالناہے۔ یہ چیزمسلمان ماں ہی انجام دے سکتی ہے۔ والد کی ذمہ داری ہے کہ بچے کونئے چیلنجوں کے لئے تیار کرے۔ تن آسانی، بزدلی، کاہلی اوربے غیرتی جیسے رذائل اخلاق سے اسے متنفر کرے اوراسے اولوالعزمی، بلندہمتی، صبروثبات، محنت وشفقت کی تعلیم دے اورحلال وحرام کافرق ذہن نشین کرے۔ گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی تعلیم پرخاص توجہ دے، اسے ہنرسکھائے تاکہ آگے جاکروہ اپنے پیروں پرکھڑاہوسکے۔ یہودیوں نے اپنے مضبوط گھریلونظام کی بنیادپردوہزارسال تک اپنے قومی خصائل کوبرقراررکھا اور وہ پوری دنیامیں مقہورومعتوب ہوکربھی اپنے آپ سے غافل نہ رہے۔ مسلمان اقلیتوں کوبھی گھرکے ماحول پہ توجہ دینالازمی ہے۔

  مدرسہ گھرکے بعددوسرا اہم ادارہ ہے جوفردکی فکری تربیت کرکے معاشرہ تعمیرکرتاہے۔ فارسی کے ایک شاعرکاکہناہے کہ مدرسہ ہی سے کسی شخص کی شخصیت تعمیرہوتی ہے۔ مدرسہ سے بھی کوئی تباہ ہوجائے توبربادہوکررہ جاتاہے۔

ازمدرسہ ہرشخص پذیرفتہ عمارت

غارت شدہ گرگشتہ ہم ازمدرسہ غارت

ملت کی بدنصیبی یہ ہے کہ ہماراتعلیمی نظام، اگراسے نظام کہابھی جائے، خانوں میں بانٹ دیاگیاہے۔ مدارس میں قدیم اوراسکولوں میں جدیدتعلیم رائج ہے مگرمدارس کے فارغین اوراسکولوں کے طلبہ دونوں ادھورے ہیں۔ ایک دنیاکے لئے ناکارہ اوردوسراآخرت کے لئے ناموزوں ہے۔ ایک کے پاس اگردین ہے تودنیانہیں۔ دوسرے کے پاس دنیاوی سازوساماں ہے مگروہ توشہ آخرت سے محروم ہے۔ نصاب تعلیم نے دونوں کوبری طرح متاثرکیاہے۔ مسلم مجلس مشاورت اوردوسری بڑی ملّی تنظیمیں اگرسرجوڑ کے بیٹھیں اورپوری تیاری کے ساتھ علماء کرام اورجدیدتعلیم کے ماہرین کے مشوروں سے ایسا نصاب تعلیم تیارکریں جودینی اوردنیاوی تقاضوں کوپوراکرے توبہت بڑی خدمت ہوگی۔ نیز اگربرصغیر کے مدارس صرف دس سال تک مسلکی اورفروعی اختلافات بھلاکر رواداری اوروسیع القلبی کامظاہرہ کریں توملت کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ تعلیمی پسماندگی کی ایک وجہ یہ ہے کہ مسلمان معاشی لحاظ سے مستحکم نہیں ہے۔ غریب مسلمان کابچہ مزدوری میں لگ جاتاہے۔ اگر قریب کے مسلم اداروں کومسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی سے دورکرنے سے دلچسپی ہوتووہ اپنے ہاں زیرتعلیم طلبہ کے لئے یہ بات لازمی قراردے سکتے ہیں کہ وہ کسی غریب بچہ کوپڑھاکراس قابل بنائیں کہ وہ اپنے گھر کاحساب کتاب رکھ سکے اوربآسانی عبارت پڑھ سکے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، دارالعلوم دیوبند، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اوردوسرے بڑے ادارے یہ کام بآسانی انجام دے سکتے ہیں۔ اگرمسلمانوں کے پڑھے لکھے گھرانے صرف ایک غریب بچے کوتعلیم دلوائیں توتعلیمی پسماندگی چندسالوں میں دورہوسکتی ہے۔

 مسجد ملت کی تعمیر کاتیسرامگرسب سے اہم مرکزہے۔ معاندین اسلام مسجدکے مقام سے بخوبی واقف ہیں، انھوں نے مسلمانوں میں مسلکی اورگروہی اختلافات کوہوادینے کے لئے کہیں شیعہ سنی کامسٔلہ کھڑاکردیا اورکہیں حنفی، شافعی اوراہل حدیث کے جھگڑے پیداکرکے باہمی منافرت کے بیج بودئے۔ جومسجداللہ کاگھر تھی آج وہ کہیں تبلیغیوں کے زیرتسلط ہے، کہیں اس پراہل حدیث کاقبضہ ہے۔ کہیں اس پر کسی دوسرے طبقے کاغلبہ ہے۔ بعض خودغرض اورحق شناس مسلمانوں کی بدولت اب ایک ہی مسلک اورمکتب فکربھی متعددگروہوں میں بٹ گیاہے۔ جن ملکوں میں مسلما ن اقلیت میں ہیں وہاں مسلمانوں کوان علاقوں کے مسلمانوں کی مثال سامنے رکھنی چاہیے جوطویل مدت تک کیمونسٹ روس کے زیرتسلط رہے۔ آذربائجان میں ایک ہی مسجدمیں شیعہ سنی طلبہ ایک ہی استادسے درس لیتے تھے۔ صرف فقہ کے استاد الگ الگ تھے۔ یہاں بھی مختلف مکاتب فکرکے علماء ایسی یاا س سے بہترمثال قائم کرسکتے ہیں۔ متفقہ طورپرخطبات جمعہ اورمواعظ حسنہ کاکوئی مستند مجموعہ مرتب کرکے اتحاد واخوت کی راہ ہموارکرسکتے ہیں۔ یہ بھی ناممکن ہوتو کم ازکم تمام مدارس اپنے فارغین کوتلقین کریں کہ امت میں اختلافی مسائل سے انتشارپیداہوتاہے، اس لئے بہترہے کہ ایسے مسائل کونہ چھیڑاجائے۔

مسجدمسلمانوں کامرکزہے جہاں وہ روزانہ پانچ وقت نمازاداکرتے ہیں، ہفتہ میں ایک بارجمعہ کوبڑااجتماع ہوتاہے۔ اگرائمہ مساجد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مصلیوں کی توجہ سماجی اوراخلاقی مسائل کی طرف پھیرلیں۔ سماجی برائیوں کے خلاف مسلمانوں کوبیدارکریں اورایک باوقارمتحرک زندگی گزارنے کی تلقین کریں تومسلمان اپنوں کے لئے ہی نہیں بلکہ اغیارکے لئے بھی رحمت کاباعث بن سکتے ہیں۔

  روحانیت کے جن مروجہ تصورات کاذکراوپرکیاگیا ہے وہ ناقص ہیں۔ بہترین کتاب قرآن حکیم ہے اوربہترین ہدایت رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ مروجہ تصورات کے بارے میں یہی کہاجاسکتاہے   ؎

یہ معاملے ہیں نازک جوتری رضاہوتوکر

کہ مجھے توخوش نہ آیایہ طریق خانقاہی

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا