اعتکاف : فضائل ومسائل

 محمد ندیم الدین قاسمی

اعتکاف ؛ ایک عاشقانہ عبادت ،  اور انابت الی اللہ کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے جو قرب اور  رحمتِ خداوندی کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے ، جس میں ایک بندۂ مومن ہر ماسوا اور  علائقِ دنیا سے کٹ کر ،صرف اللہ سے لَو لگالیتا ہے ، جس کی مثال حضرت عطاء خراسانیؒ نے یوں بیان فرمائی ہے :

معتکف کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اللہ کے در پہ آپڑا ہو،اور یہ کہہ رہا ہو: یا اللہ ! جب تک آپ میری مغفرت نہیں فرمائیں گے ،میں یہاں سے نہیں ٹلوں گا۔ ( بدائع الصنائع )

فضائل

اعتکاف کی فضیلت واہمیت کے لیے یہ بات کافی ہے کہ آپﷺ  نے ہمیشہ اس کی پابندی فرمائی۔

*احادیث :*

۱۔حضرت ابن عباسؓ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں:

جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کی رضا کے واسطے کرتا ہے تو حق تعالیٰ شانہٗ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرمادیتے ہیں جن کی مسافت آسمان اور زمین کی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔(بدائع الصنائع  2/ 108)

۲۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیاکرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی۔(صحيح البخاري 3/ 51)

۳۔ حضرت حسن ابن علیؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص رمضان میں دس روز کا اعتکاف کرے اس کا یہ عمل دو حج اور دو عمروں جیسا ہوگا۔(  الدر المنثور،۱/۲۰۲)

۴۔ حضرت ابن عباسؓ  سے روایت ہے کہ آپﷺ  نے ارشاد فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ ہوجاتا ہے ،اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ خود ان کو کرتا ہو۔( مشکوۃ المصابیح)

*اعتکاف کا مقصد*

 اعتکاف کا اصل مقصد ،جہاں "شبِ قدر ” کی تلاش ہے وہیں یہ بھی ہے کہ بندہ صرف اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرے ، ساری مصروفیات ترک کرکے اللہ کے ساتھ مشغول ہوجائے ،مخلوق کی بجائے اللہ سے محبت پیدا ہو جائے، تو ان شاء اللہ ، یہ محبت اس دن کام آئے گی جس دن اللہ کے سوا کوئی محبت کرنے والا نہ ہوگا۔

*اعتکاف کی قسمیں*

اعتکاف کی تین قسمیں ہیں :

۱۔ واجب اعتکاف : نذر اور منت کا اعتکاف واجب ہے ؛ خواہ نذر کسی شرط پر موقوف ہو یا نہ ہو۔

۲۔ مسنون اعتکاف:رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا "سنت مؤکدہ علی الکفایہ ” ہے جس کی ابتداء بیسویں روزے کے دن غروبِ آفتاب سے عید کے چاند تک ہے۔

نفل اعتکاف:اس کے لیے کسی خاص وقت کی تعیین نہیں ہے، آدمی جس وقت بھی مسجد میں داخل ہو اور اعتکاف کی نیت کرلے تو جتنی دیر مسجد میں رہے گا ،اسے اعتکاف کا ثواب حاصل ہوگا۔(بدائع الصنائع 4 / 298)

*اعتکاف کا رکن*

دروانِ اعتکاف ایک لمحہ کے لیے بھی بلا ضرورتِ شرعیہ حدودِ مسجد ( جہاں نماز پڑھنے کے سوا کچھ اور مقصود نہ ہو ، جہاں جنبی کا داخل ہونا جائز نہ ہو )  سے باہر نہ نکلے ؛ اسی لیے جب کسی شخص کا کسی مسجد میں  اعتکاف کا ارادہ ہو ، تو اسے چاہیے کہ مسجد کے بانی یا اس کے متولی سے حدودِ مسجد معلوم کرلے، اور مسجد والوں کو چاہیے کہ ایک نقشہ لٹکاکر حدودِ مسجد واضح کردیں۔(احکامِ اعتکاف  صفحہ  ۳۴)

اعتکاف کو فاسد کرنے والی چیزیں

درج ذیل امور سے  واجب اور مسنون اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے:

١۔ کسی  طبعی  یا شرعی عذر کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا۔

٢-روزہ نہ رکھنا یا توڑدینا۔

٣۔ حالتِ اعتکاف میں مباشرت کرنا۔

٤۔ عورت اعتکاف میں ہو تو حیض و نفاس کا جاری ہو جانا۔

٥۔ کسی عذر کے باعث اعتکاف گاہ سے باہر نکل کر ضرورت سے زیادہ ٹھہرنا۔

(عمدۃ الفقہ جلد: 3  ص:402-412)

  *کن صورتوں میں اعتکاف کو توڑنا جائز ہے؟*

درج ذیل صورتوں میں اعتکاف توڑنا جائز ہے :

۱۔ سخت بیمار ہو جس کا علاج مسجد سے نکلے بغیر ممکن نہ ہو ۔

۲۔ والدین ،بیوی اور  بچوں میں سے کوئی سخت بیمار ہوجائے۔

۳۔کوئی شخص مثلا حکومت زبردستی باہر نکال دے۔

۴۔ کوئی جنازہ آجائے اور نماز پڑھانے والا کوئی نہ ہو۔ ( ماخوذ از : احکامِ رمضان،۴۷)

*مکروہاتِ اعتکاف*

۱۔ بالکل خاموش رہنا ، اور اسی کو عبادت سمجھنا۔

۲۔فضول اور بلاضرورت باتیں کرنا، واٹسپ، فیسبک وغیرہ کا استعمال۔

۳۔سامانِ تجارت مسجد میں لاکر بیچنا ۔

۴۔اعتکاف کے لیے اتنی جگہ گھیرلینا  جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔

۵۔لڑائی ،جھگڑا ، بیہودہ باتیں کرنا، فحش یا بیکار اور جھوٹے قصے  یا اسلام کے خلاف مضامین پر مشتمل لٹریچر ،تصویر دار اخبارات و رسائل یا اخبارات کی جھوٹی خبریں مسجد میں لانا،رکھنا،پڑھنا،سننا۔( مسائل اعتکاف، ۱۸)

*کچھ اہم مسائل*

۱۔کسی شخص کو اجرت دے کر اعتکاف میں بٹھانا  یا اجرت لے کر  بیٹھنا دونوں جائز نہیں ؛کیوں کہ عبادت کے لیے اجرت دینا اور لینا جائز نہیں ( شامی)

۲۔ مسنون اعتکاف کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہے کہ دل میں یہ نیت کرے کہ  میں اللہ کی رضا کے لیے رمضان کے اخیر عشرہ کا اعتکاف کرتا ہوں۔

۳۔ دورانِ اعتکاف، کوئی خاص عبادت متعین نہیں ،تلاوت ،ذکر ، نفلی عبادات، قضا نمازیں، اور دعاؤں کا خاص اہتمام کریں۔

۳۔ اعتکاف کی حالت میں غسلِ جنابت کے علاوہ جو غسل صفائی ، یاٹھنڈک کے لیے ہو ، یا جمعہ کا مسنون غسل ہو تو اس کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں ؛ کیوں کہ اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؛ البتہ قضائے حاجت کے لیے جب جائے تو ساتھ میں جلدی سے غسل بھی کرلے تو اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا ۔( احکامِ اعتکاف)

۴۔ عورت  گھر کے مخصوص حصہ میں اعتکاف کرسکتی ہے ،البتہ شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے۔(ہندیہ)

تبصرے بند ہیں۔