آمد رمضان 

نازش ہماقاسمی

عنقریب ماہ مقدس مسلمانوں کے مابین جلوہ فگن ہونے والا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جنہیں رمضان المبارک کی مقدس راتیں اور منور صبح نصیب ہوں گی۔ آمد رمضان کی وجہ سے مسلمانوں میں خوشی ومسرت ہے اور ر مسلمان مضان کے استقبال کیلیے پہلے سے ہی تیاری کررہے ہیں ،بلکہ بعض تو وہ ہے جنہوں نے ہمیشہ کی خاطر اس بار بھی رمضان کیلیے کمر کس لیا ہے،اس مبارک و مقدس مہینہ میں اللہ تعالى کا خاص کرم اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے،اس مبارک مہینہ میں ایک نیک کام اور نیکی کا ثواب ستر گنا سے سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جنہیں اللہ نے مال و ثروت سے نوازا ہے اسی مقدس مہینہ میں اپنی زکوۃ ادا کرتے ہیں تاکہ زکوۃ کی ادائیگی کے ساتھ رمضان کا فیض بھی میسر ہوجائے ۔

 رمضان المبارک کا مہینہ ہر اعتبار سے باعث خیر و برکت ہے، اسی مبارک مہینہ میں اللہ تعالى نے اپنی تمام مقدس کتابوں کو نازل فرمایا ہے، چنانچہ قرآن میں واضح الفاظ میں اللہ تعالى نے ارشاد فرمایا کہ (رمضان کا مہینہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں قرآن کو نازل کیا گیا ہے)چنانچہ نبی کریم صلى اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا (اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان نصيب فرما) خود جناب رسول اكرم صلى اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی ترغیب دی ہے اور اپنے لیے بھی یہ دعا فرمائی رمضان المبارک کی اتنی زیادہ اہمیت کے دو مہینہ پہلے سے ہی رمضان کی حصولیابی کیلیے دعاء مانگنے کی ترغیب دی جارہی ہے،اس سے ایک بات اور سمجھ میں آتی ہے کہ اگر کوئی شخص بھلائی اور نیکی کے کام کیلیے درازئ عمر کی دعائیں کرتا ہے تو یہ بالکل مناسب ہے اور اس حديث سے اسے ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن جو لوگ حالات اور زندگی سے مایوس ہوکر موت کی تمنا کرتے ہیں وہ گناہ کا کام کرتے ہیں موت کی تمنا کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اگر آدمی دنیا کے حالات سے گھبرا کر موت کی تمنا یا آرزو کرتا ہے تو کیا گیارنٹی ہے کہ بعد از مرگ وہ سکون سے رہے گا،اس گھر کیلیے کیا تیاری ہوچکی ہے جو اس وہاں جانے کی تمنا کی جارہی ہے ۔

رمضان المبارک کی عبادتوں کا ماحصل صرف یہ نہیں ہے کہ اس میں آدمی روزہ رکھ لے اور رات میں تراویح پڑھ لے بلکہ رمضان کے متعلق فرمایا گیا کہ رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ جب یہ مہینہ پورا اللہ نے اپنے لیے مختص کرلیا ہے تو پھر بندہ کیلیے بھی ضروری ہے کہ وہ بقیہ گیارہ مہینوں سے الگ اپنا نظام الاوقات رمضان کیلیے تیار کرے اور زیادہ سے زیادہ وقت عبادت الہی میں گزارے۔

اس مہینہ کے ایام کو غنیمت سمجھتے ہوئے ایک ایک لمحہ کو رضائے الہی کیلیے فارغ رکھے، جس طرح احاديث میں اس مہینہ کے تین عشروں کو تین حصوں میں تقسيم کیا گیا ہے اسی طرح ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اسے اسی طرح استعمال کریں ، رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کیلیے مختص ہے اس عشرہ میں جو افراد نیک ہے اللہ کے ولی ہے ان کے لیے ابتدا سے ہی رحمت کا معاملہ شروع ہوجاتا ہے لیکن جو لوگ اللہ سے دور ہیں اور اپنا وقت لہو و لعب میں گزار چکے ہیں  ان کیلیے ابتدا میں اللہ کی رحمت کھل جاتی ہے تاکہ بندہ توبہ کرکے اور اپنے گناہوں سے نادم ہوکر اللہ کے دروازہ پر آجائے.

دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جس میں اللہ اپنے بندوں کی بخشش فرماتا ہے اور تیسرا اور آخری عشرہ آگ سے خلاصی کا ہے جس میں ایک مہینہ تک روزہ رکھنے اور نماز کی پابندی کی بنا پر تمام مسلمانوں کے دل اللہ کی جانب مائل ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تو اپنی رحمت کے دروازہ کھول دیتا ہے اب باری ہماری ہے کہ ہم اس رحمت کا کتنا حصہ اپنے دامن میں بھر تے ہیں ۔

رمضان کے اس مقدس مہینہ میں ایک بہت اہم کام جس کو ادا کرنا ہر صاحب نصاب مسلمان کیلیے ضروری ہے،وہ یہ ہے کہ ہمارے بعض ایسے مسلمان بھائی بھی اس ملک میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جو نان شبینہ کے محتاج ہوتے ہیں ، جو رمضان کا چاند دیکھ کر اس فکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اب سحری و افطاری کا نظم کیسے ہوگا، ان میں کچھ اللہ کے ایسے خود دار بندہ بھی ہیں جو زندگی سے جنگ ہارنا اور بھوک برداشت کرلیتے ہیں لیکن دست سوال دراز کرنے کی جسارت نہیں کرتے ہیں ،ان کا ضمير اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی اور سے سوال کیا جائے، دوسری طرف ایسے خوشحال اور صاحب ثروت مسلمان بھی ہے جنہیں اللہ نے ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا ہے،اب ایسی صورت میں ہمارے غریب بھائی کی مدد کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ بھی رمضان کی خوشیاں سمیٹ سکے اور أن کے ننھے ننھے معصوم بچوں کو کلکاریاں نصيب ہوجائے۔اللہ اس مہینہ میں ہر چیز کا ثواب بڑھا کر دیتا ہے پھر جب ہم اپنے مسلمان بھائی کی مدد کریں گے تو یقینا اللہ ہمیں اس کا اچھا بدلہ عنايت فرمائے گا۔

تبصرے بند ہیں۔