تزکیۂ نفس کے قرآنی اصول (آخری قسط)

محمد عبد اللہ جاوید

یہ اعمال ‘ جنہیں ذکر اللہ کہا جاتا ہے ‘تزکیہ نفس کے عمل کو بامعنی بنادیتے ہیں ۔

نماز- اس کی فضیلت اور انسانی زندگی پر اسکے اثرات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ اصلاح نفس کا نہایت ہی موثر طریقہ ہے:

إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ‌ۗ (العنکبوت: 45)

…بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی رہتی ہے

یعنی منکرات اور فحش کاموں سے ہر وہ شخص محفوظ رہے گا جو نماز کا خشوع و خضوع کے ساتھ اہتمام کرتا ہے۔نماز ان تمام محرکات کو ختم کردیتی ہے جن کے سبب ‘ بدی کی طرف میلان پایا جاتا ہے ۔نماز‘ خوف اور محبت کے ملے جلے جذبات کے فروغ کے ذریعہ ایک بندۂمومنکوہمیشہنیکیکیطرفمتوجہرکھتیہے۔نمازاپنیانخصوصیاتکیبناتزکیہنفسکیایکعملیشکلہے۔لہذافرائضکےساتھنوافلکابھیاہتمامہوناچاہیے۔اللہکےرسولؐنےمختلفاوقاتمیں ادا کی جانے والی نوافل کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔صلاۃ الضحی‘ اوبین ‘چاشت ‘اشراق وغیرہ کے اہتمام سے شخصیت پر نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

 تہجد کی نماز تو انتہائی موثر ہے۔ رسول اکرمؐ فرماتے ہیں :

اَفْضَلُ الصّلَاۃِ نِصْفُ اللَّیلِ- افضل نماز آدھی رات میں ادا کی جانے والی نماز ہے۔

رات کی تنہائی میں اللہ کے حضور کھڑے ہونے ‘یکسوئی اور خشوع و خضوع حاصل کرنے کے لحاظ سے یہ وقت انتہائی موزوں ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر بندہ ہوتا ہے اور اس کا رب‘اور رب کی بے پایاں رحمت۔ اگر کوئی بندہ رات کی تنہائی میں اپنے رب سے لو لگائے اور دعائیں مانگے‘ تو پھر ایسا کونسا کام ہوگا جو اس سے نہیں ہوپائے گا؟ ایسا کونسا مسئلہ ہوگا‘ جس کا حل اس سے ممکن نہ ہوگا؟ ایسا کونسا میدان ہوگا ‘ جو اس سے سر نہ ہوگا؟اور ایسا کونسا دل ہوگا‘ جس کو وہ مسخر نہ کرسکتا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق اور اس کے حضور دعاؤں کے ذریعہ ہی سے ان مرادوں اور تمناؤں کے مطابق نتائج دیکھے جاسکتے ہیں ۔ان اوصاف کو زیادہ سے زیادہ پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے اس مرحلے میں اس جانب توجہ‘ ساری زندگی عمل صالح کی انجام دہی آسان بنادے گی۔

دنیا کی محبت -اس سورۃ الاعلی میں تزکیہ نفس کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ – حب دنیا- بتایا گیا۔ دل میں اللہ کی محبت کی بجائے دنیا کی محبت ہو تو بندہ پستی ہی کی طرف مائل ہوگا۔ اس لیے دنیا سے متعلق بندۂ مومن کا نقطۂ نظر واضح کیا گیا کہ وہ اپنا تعلق اس دنیا سے ویسا ہی رکھے جیسے ایک مسافر ‘ سفر سے رکھتا ہے۔یا جیسے ایک راہ گذر‘ راستہ سے رکھتا ہے۔وہ اس دنیا کو عارضی سمجھے اوراس کی متاع کو نہایت قلیل جانے۔

آج کی دنیا بڑی ترقی یافتہ ہے۔ مختلف میدانوں میں انسانوں کی ترقی نے اس کو نہایت ہی پرکشش اور دلکش بنا دیاہے۔ ایسے میں دنیا کی بے ثباتی واضح کرنا‘داعیان حق کے انفرادی و اجتماعی تزکیہ کے لیے ایک بڑے امکان کی حیثیت رکھتا ہے۔موجودہ ترقی نے دنیا کو بہت مختصرکردیا ہے۔اس کی اسی ترقی کو ‘ اسکی بے ثباتی واضح کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ تزکیہ نفس کے لیے اس پہلو سے بھی کوشش ہوکہ ایک طرف دنیاکی دلکشی سے حسب ضرورت استفادہ کیا جائے اور دوسری طرف اس کے عارضی پن کو اجاگر کرنے اور اسکو آخرت کی تیاری کے گھر کی حیثیت سے واضح کرنے کے لیے‘ مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی جائے۔اچھی اچھی صلاحیتوں کی نشوونما پر توجہ دی جائے۔احسن تدبیریں اور پر اثر حکمت عملیاں وضع کی جائیں ۔

دنیا سے بے رغبتی(زہد)بہترین اوصاف کی نشو و نما کا ذریعہ بنتی ہے۔جو شخص زاہد ہے اللہ تبارک و تعالی اس کے قلب کو زرخیز بنادیتاہے کہ وہ ہمیشہ خیر کا طالب رہے گا۔جب بھی حکمت و دانائی کی بات سنے گا‘ اسے تسلیم کرے گا اور اسکے مطابق اپنی زندگی سنوانے کی کوشش کرے گا۔جس طرح زرخیز زمین‘ پانی اور بیج کے مہیا ہونے پر اپنی خاصیت ظاہر کرنے لگتی ہے۔ زاہد بندے کی کچھ ایسی ہی خصوصیات رسول اکرمؐ بیان فرماتے ہیں :

مَا زَھدَ عَبْدٌ فِیْ الدُّنْیا اِلَّا اَنْبَتَ اللّٰہُ الْحِکْمَۃَ فِیْ قَلْبِہِ

کوئی بندہ دنیا میں زہد اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کے دل میں حکمت پیدا فرماتا ہے
وَانْطَقَ بِھَا لِسَانَہٗ- اوراس کے زبان پر حکمت کے کلمات جاری کردیتا ہے
یعنی حق کے اظہار کے لیے وہ دلائل کی بنیاد پر گفتگو کرے گا۔لوگوں کی اسکی باتیں بھلی معلوم ہوں گی۔اور وہ ان کے پیش نظراپنی اصلاح کے لیے آمادہ ہوں گے۔

وَبَصَّرَہٗ عَیبَ الدُّنْیاَ وَدَاءَھا وَدَوَاءَھا….دنیا کے عیب اس پر واضح کردتیا ہے ان کی بیماریاں بھی اور ان کا علاج بھی ۔ (ابوذر غفاریؓ- بیہقی)

یعنی دنیا کی حقیقت اس پر واضح ہوجائے گی۔اسکی خوبیاں اور خامیوں سے واقفیت ہوگی۔دنیا کے مسائل ور انکی حقیقت معلوم ہو جائیگی۔اورایسا زاہد بندہ ان کے حل کے لیے قابل عمل لائحہ عمل تیار کرلے گا۔

فکر آخرت- تزکیہ نفس ‘دنیا سے مسافرانہ تعلق کا تقاضہ کرتا ہے۔ اس کے لیے محرک فکر آخرت ہے۔ چنانچہ اللہ رب العزت نے متذکرہ آیت میں اسی کا ذکر فرمایااور کہا کہ یہ باقی رہنے والی اور دنیا سے کہیں بہتر ہے۔فکر آخرت کے مطالبات ہیں کہ بندہ اس طرح زندگی بسر کرے کہ اس کا ہردن اللہ سے ملاقات کے شوق میں گذرے۔جنت کی ابدی نعمتوں کو حاصل کرنے کی چاہت اور جہنم کے ہولناک عذاب سے بچنے کی فکر میں گذرے۔اللہ کے رسولؐ فرماتے ہیں کہ جو بندہ اللہ سے ملاقات کا شوقین ہوگا‘ اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کرنا پسند فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق بندۂ مومن کے دل میں دنیا کی محبت کی وہی مقدار برقرار رکھتا ہے جتنی کی ضروری ہے۔ بس وہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب اپنے رحیم و کریم رب سے ملاقات کا وقت آئے گا؟اس سلسلہ میں رسول اکرمؐ کا اسوۂ حسنہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کی حاجتوں اور ضرورتوں کو بہت زیادہ اہمیت نہ دی جائے ۔یعنی ملنے پر جذبہ شکر بیدار ہو اور نہ ملنے پر صبر۔ یہی وہ کیفیت ہے جو ایک بندہ کو ہمیشہ اپنے نفس کی اصلاح کی جانب متوجہ رکھتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے اس ضمن میں بڑی موثر دعا کی تلقین فرمائی ہے:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبّکَ اَحَبَّ الْاَشْیاءِ اِلیَّ کُلِّھَا

اے اللہ ایسا کردے کہ مجھے تیری محبت ساری چیزوں سے بڑھ کر ہوجائے

وَاجْعَلْ خَشْیتَکَ اَخْوَفَ الْاَشْیاءِ عِنْدِیْ

اور میرے نزدیک تیرا خوف سب چیزوں سے بڑھ کر ہوجائے

وَاقْطَعْ عَنِّی حَاجَاتِ الدُّنْیا بِالشَّوْقِ اِلٰی لِقَاءِکَ

تجھ سے ملاقات کا شوق مجھے اس قدر ہو کہ جس کی وجہ سے دنیا کی حاجتوں اور ضرورتوں کا احساس تک میرے اندر باقی نہ رہے

وَاِذَا اَقْرَرْتَ اَعْینَ اَھْلَ الدُّنْیا مِنْ دُنْیاھمْ

اورجب تو دنیا والوں کو انکی پسندیدہ چیزیں دیکر انکی آنکھوں کو قرار نصیب فرماتا ہے

فَاَقْرِرْ عَینِیْ مِنْ عِبَادَتِکَ

میری آنکھیں ٹھنڈی کر اور انہیں قرار نصیب فرما اپنی عبادت کے ذریعہ

(6)اطاعت اور بلاتاخیر عمل

کسی شخص کے تزکیہ کی جانچ کا ایک پیمانہ اس کا جذبۂاطاعتہے۔قلباگرخیرکامرکزہےتو‘عملبھیباعثخیرہوگا۔چنانچہبلاچوں وچراں اطاعتاوربلاتاخیرعملکیانجامدہی‘تزکیہنفسکاذریعہبتائیگئی۔

وَإِن قِيلَ لَكُمُ ٱرۡجِعُواْ فَٱرۡجِعُواْ‌ۖ هُوَ أَزۡكَىٰ لَكُمۡ‌ۚ(النور:28)

….اور جب تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو۔یہی تمہارے لیے پاکیزہ طریقہ ہے

اسلام نے اس لیے سمع وطاعت کو بڑانمایاں مقام عطا کیاہے۔نظم وڈسپلن‘ تحریک سے وابستہ افراد کی سرگرمیاں ‘ خوشگوار باہمی تعلقات‘ مقصد و نصب العین کا شعور اور اس سے وابستگی‘ ایثار وقربانی انہیں اوصاف کے عکس ہیں ۔ مامورین ‘ اپنے امیر کی اطاعت کرکے اس کے حوصلے اور اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں ۔اس طرح امیر اور مامور کے درمیان سمع و طاعت کا رشتہ ‘ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے انفرادی و اجتماعی کوششوں کا محرک بنتا ہے۔اور اعمال خیر انجام دینے کے لیے درکار جذبات اور امنگیں فراہم کرتا ہے۔اس لیے کسی مقصد سے وابستہ افراد کے لیے بغیر کسی تردد اور عدم دلچسپی کے احکامات سننااور ان پر بلاتاخیر عمل کرنا نہایت ضروری ہوجاتا ہے۔

يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَكُمۡ تَفَسَّحُواْ فِى ٱلۡمَجَـٰلِسِ فَٱفۡسَحُواْ يَفۡسَحِ ٱللَّهُ لَكُمۡ‌ۖ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُواْ فَٱنشُزُواْ يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَـٰتٍ۬‌ۚ ( المجادلہ:11)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو توجگہ کشادہ کردیا کرو‘ اللہ تعالیٰ تمہیں وسعت عطا کریگا۔اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھجایا کرو۔

تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے ‘اللہ تعالیٰ ان کوبلند درجے عطا فرمائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سرعت عمل کا جذبہ بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔ جب جس بات کا حکم دیا جاتا‘ اس پر بغیرکسی تاخیر کے عمل کرتے اور ساری زندگی اسی پر کاربند رہتے۔ایک دفعہ حضرت ابو مسعودؓ اپنے غلام کو مار رہے تھے۔پیچھے سے آواز سنی۔ کہ اے ابو مسعود جان رکھو جتنا اختیار تمہارا اپنے اس غلام پر ہے اس سے کہیں زیادہ تم پر اس کا ہے جس کے تم غلام ہو۔پلٹ کر دیکھا تو معلوم ہوا اللہ کے رسولؐ ہیں ۔فوری کہہ دیا کہ اے اللہ کے رسولؐ ھوَ حُرٌّ لِّوَجْہِ اللّٰہِ – کہ یہ اللہ کے لیے آزاد ہے ۔(مسلم)-

قرآن مجید‘تزکیہ نفس کے ا ن طریقوں کی وضاحت کے ساتھ ساتھ احسا س ذمہ داری‘ایمان بالغیب‘ اقامت صلاۃ(الفاطر:18)اور نگاہوں اور شرمگاہوں کی حفاظت (النور:30)کواصلاح نفس کے ذرائع بتاتا ہے۔

 اختتامیہ – اللہ کے دین کی اقامت کا کام ‘ ہر قدم پر تزکیہ نفس کا مطالبہ کرتا ہے۔اسلام سے شعوری اور بامعنی وابستگی کا تقاضہ کرتا ہے۔رسول اکرمؐ ارشاد فرماتے ہیں :

مَنْ خَافَ اَدْلَجَ وَمَنْ اَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ۔اَلاَاِنَّ سِلْعَۃَ اللّٰہِ الْغَالِیۃِ۔اَلاَ اِنَّ سِلْعَۃَ اللّٰہِ الْجَنَّۃِ(ابوہریرہؓ- تر مذی)

جس نے اللہ کے خوف کے ساتھ سفر شروع کیا وہی اسے جاری رکھ سکے گا۔جس نے اس خوف کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا ‘ اس نے منزل کو پالیا۔ جان جاؤ اللہ سے کیا ہوا سودہ بڑا مہنگا ہے۔واقف ہوجاؤ اللہ سے کئے ہوئے سودہ کابدلہ جنت ہے۔

اس حدیث میں ایک اہم حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے خوف کے ساتھ جس نے سفر کا آغاز کیا ‘ وہی اپنا سفر جاری رکھ سکے گا۔ اللہ کاخوف ‘ اعمال خیر کا محرک ہوتا ہے اور برے اعمال سے اجتناب کا ذریعہ بنتا ہے۔ یعنی وہ اللہ کا سپاہی جو خوف خدا سے سرشار ‘ اپنے نفس کے تزکیہ سے متعلق حساس‘ سفر کا آغاز کرتا ہے وہی سفرکے نشیب و فرازکا مقابلہ کرسکے گا۔ چاہے حالات کیسے ہی کیو ں نہ ہوں وہ سفر کی رفتارمیں کمی نہیں آنے دے گااوربالآخر اپنی منزل مقصود کوپالے گا۔

اگر اس کیفیت کے ساتھ تحریک سے وابستگی نہ ہو ‘دوسروں کی اصلاح کی تو فکر رہے لیکن ذاتی اصلاح سے بے خبر‘ تو ایسا فرد تحریک کے ساتھ زیادہ سفرطے نہیں کرسکے گا۔ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو چھپانے کی خاطر‘سطحی قسم کے مسائل‘ بے بنیاد باتوں کو ٹھوس دلائل سمجھتے ہوئے ‘ دوسروں کی کم عقلی اور نادانی کا رونا روتے ہوئے یا تو سرد مہری کا شکار ہوگا یا پھر برائے نام تحریک سے وابستہ رہے گا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ کیا ہوا سودہ نہایت مہنگا اور بڑا بھاری ہے۔ اس کا حق ادا کرنے کے لیے بظاہر بڑی دشواریاں ‘ مشکلات اور مسائل درپیش ہوں گے۔ لیکن ان سے نبرد آزما ہوتے ہوئے جو بندہ دین اسلام کی سربلندی کے لیے پیہم جدوجہد کرتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گی ۔اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ا یسے شخص کا ٹھکانہ ابدی نعمتوں والی جنت ہوگی۔ تزکیہ نفس کے یہی خوشگوار اثرات ہیں ۔رمضان المبارک‘اسی تزکیہ کی تجدید اور احیا کا موسم بہار ہے۔

تبصرے بند ہیں۔