تزکیۂ نفس کے قرآنی اصول (تیسری قسط)

محمد عبد اللہ جاوید

(5)تعلق باللہ

قرآن مجید میں تزکیہ قلب و عمل کے مختلف ذرائع کا بڑے جامع انداز سے ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ الاعلیٰ کے اختتام سے قبل اس سلسلہ کی بڑی موثر ہدایات دی گئیں ہیں ۔جس میں اللہ کا ذکر ‘ نماز کی ادائیگی‘ دنیا سے متعلق مومن کا نقطۂ نظر اور فکر آخرت جیسے اہم امور شامل ہیں ۔جو اللہ تعالیٰ سے ایک بندہ کے تعلق کی اصل بنیادیں ہیں ۔ان امور پر غور و خوص تزکیہ نفس کے لیے درکار آمادگی کا محرک بن سکتا ہے۔

ذکر اللہ- ذکر میں کافی وسعت پائی جاتی ہے۔ اللہ کی حمد و ثنا اور اسکی کبریائی و عظمت کا اظہار کرنے والی تسبیحات کے علاوہ‘ اس کے معنی و مفہوم میں ہر وہ عمل شامل ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق ‘ اسکی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔ذکرکے اس وسیع تصورکامطالبہ ہے کہ زندگی اس طرح بسرکی جائے کہ ذہن میں ہمیشہ اللہ کی علیم و خبیر ہستی کا استحضار رہے۔ اسکی یاد‘ اسکا خوف اور اسکی محبت دامن گیر رہے۔ایسا طرز عمل ہرحال میں اللہ کے ذکر کو معمول بنانے ہی سے ممکن ہے۔

اللہ کے رسولؐ کا اسوہ ایسا ہی نمونہ پیش کرتا ہے۔زندگی کے تمام ہی معاملات میں اورروز مرہ انجام دےئے جانے والے سارے ہی کاموں میں آپؐ نے اللہ کو یاد رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔حتی کہ آپؐ جب کسی بلندی کی جانب پیش قدمی فرماتے تو اللہ اکبر کہتے اور کسی ڈھلان راستے سے گزرہو تو سبحان اللہ فرماتے۔یہ تسبیحات ‘ اپنے کہنے والے پر بڑا گہرا نفسیاتی اثرڈالتی ہیں ۔ اونچائی حاصل ہونے پر اللہ کا ذکر کرنا‘ اسکے حقیقی معنوں میں اکبر ہونے کا شعوری احساس ہے ۔ اسی پختہ شعور سے کامیابی اور خوشی کے موقع پر اللہ کی یاد تازہ ہوگی اور شکر کا جذبات سے دل معمور ہوگا۔ پستی یا ڈھلان کے موقع سے اللہ رب العزت کی یاد‘اس کے ہر طرح کے نقص سے پاک ہونا ذہن نشین کراتی ہے کہ اس کی ذات سبوح و قدوس ہے۔رب کے تعلق سے ایسا احساس‘ ہر ناکامی اور رنج و غم کے موقع پر ‘ سہارا محسوس ہوگا۔اور ایک بندہ رب کی رفاقت کو تمام تکالیف پر ترجیح دیتے ہوئے صبر و ثبات کا پیکر بنا رہے گا۔

جو لوگ دین حق کی سربلندی کے لیے جد و جہد کررہے ہیں ان کے سامنے تسبیحات سے متعلق اسوۂ رسولؐ کا یہ عملی پہلو رہنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے اعلیٰ جذبات ‘محرکات اور راستوں کی آسانی‘ آپؐ کی اتباع ہی سے ممکن ہے۔

دعا- یہ ذکر کی ایک احسن شکل ہے۔ جو لوگ اللہ کی یاد کو اپنا معمول بناتے ہیں ‘ انہیں اپنے مقصد میں سرگرم عمل رہتے ہوئے اسی سے استعانت طلب کرنے کی بڑی فکر رہتی ہے۔ وہ اپنے رب کریم سے مقصد و نصب العین میں کامیاب ہونے کی امید رکھتے ہیں ‘ اس سے حسن ظن قائم رکھتے ہیں ‘ عزت و سربلندی اور غلبہ کی توقعات بھی اسی سے وابستہ رکھتے ہیں ۔ان کے لبوں پر خوف اور امید کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دعاجاری ہوجاتی ہے:

اَللّٰھُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا اے اللہ!ہمارا اضافہ فرما ‘ اور ہمیں کمیوں سے دوچار نہ کرافرادی قوت میں اضافہ ہو‘ وابستہ افراد کی وابستگی بامعنی ہو‘ انکے فہم و شعور اور قوت فکر میں اضافہ ہو‘ نئے نئے اور باصلاحیت افراد تحریک سے وابستہ ہوں اور ان تمام امور میں سے کسی میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہو۔

وَ اَکْرِمْنَا وَ لَا تُھِنَّااور ہمیں عزت و سربلندی عطا کر‘اور ہمیں ذلیل نہ فرما.جس مقصد اور منصوبہ کو لیکر اٹھے ہیں ‘ ان کے نفاذ میں آسانی ہو۔اس کے ذریعہ معاشرے میں عزت ووقار کا مقام نصیب ہو۔اور یہ عزت و اکرام ‘ جذبۂ عمل میں زیادتی کا باعث بنے۔ایسا نہ ہو کہ فہم و شعور کی کمی کے سبب عظیم الشان مقصد اور اعلیٰ منصوبہ رکھنے کے باوجود ذلت و پستی حصہ میں آجائے۔

وَ اَعْطِنَا وَ لَا تُحْرِمْنَااورہمیں اپنی تمام نعمتیں عنایت فرما‘اور ہمیں ان سے محروم نہ کر.اے اللہ اچھی اچھی صلاحتیں اور وسائل عنایت فرما‘ کام کے نئے نئے امکانات پیدا فرما‘درپیش مسائل کاصحیح فہم عنایت فرما‘طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے کاموں میں جدت و ندرت پیدا فرما‘ لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے کے لیے حکمت و دانائی عطا فرما۔ان تمام نعمتوں سے ہرگز محروم نہ فرما۔

وَ ٰاثِرْنَا وَلَا تُوْ ثِرْ عَلَینَااورہمیں اپنالے‘ ہمارے مقابلے دوسروں کو ترجیح نہ دے. ہمیں غلبہ عطا فرما ۔ افکار و نظریات کی صداقت کو واضح کرنے اور مسائل کے حل کے لیے جن جن میدانوں میں کوشش ہو‘ انہیں تابع فرمادے۔ایسا ہرگز نہ ہو کہ ان کوششوں کے باوجود کوئی ہم پر غالب آجائے۔

وَ اَرْضِنَا وَ اَرْضَ عَنَّاہم سے راضی ہوجا اور ہمیں خوش کردے ۔ (عن عمر بن الخطابؓ – رواہ احمد و الترمذی)

اے اللہ تیرے دین کے غلبہ کے لیے کی جانے والی ان تمام کوششوں کی بدولت تو راضی ہوجا‘اورہم کو خوش رکھ کہ مزید سرعت عمل کا مظاہر ہ کرسکیں ۔یہ دعا کا اصل ہے۔ جوشخص اپنے تزکیہ کی جانب متوجہ رہتاہے اس کی زبان سے ایسے کلمات ادا ہوتے ہیں ‘ جو اس کی پاکیزگی کی ترجمانی کرتے ہیں ۔

توبہ و استغفار -یہ بھی ذکر کا حصہ ہیں ۔ اللہ کے رسولؐ دن میں ستر ستر مرتبہ اور سوسو مرتبہ اللہ سے استغفار فرمایا کرتے تھے ۔توبہ و انابت کی یہ کیفیت دراصل اس احساس پر مبنی ہے کہ اللہ رب العزت کی نعمتوں اور اسکے بے پایاں احسانات کے شایان شان بندگی نہیں ہے۔تزکیہ نفس کے لیے یہ احساس اور اسکے تیں اختیار کیا جانے والا رویہ شخصیت پربڑے غیر معمولی اثرات مرتب کرتا ہے۔ رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ جو بندہ استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے :

جَعْلَ اللّٰہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ضِیقٍ مَّخْرَجاً۔وَّمِنْ کُلِّ ھَمٍّ فَرَجًا۔وَّرَزَقَہُ مِنْ حَیثُ لَا یحْتَسِبُ۔اللہ تعالیٰ اس کے لیے تنگی و مصیبت سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکالتا ہے‘ہرغم سے نجات دیتا ہے اور ایسے راستوں سے رزق کی فراہمی کا انتظام فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہیں جاتا ۔ (ابوداؤد- ابن ماجہ)-

ضیق بڑا جامع لفظ ہے۔ جس کے معنی مصیبت‘ تنگی‘ تنگ نظری‘ محدودیت‘ پریشانی و غم‘مجبوری ‘ قلت ‘ غربت ‘ تھکان وغیرہ کے ہیں ۔یعنی اللہ تعالیٰ استغفار کی بدولت بری خصلتوں اور تزکیہ کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور فرمادیتا ہے۔ توبہ و استغفار کا التزام ایک بندہ کواللہ کی رحمت کا بھی مستحق بناتا ہے۔خوشخبری سنائی گئی اس شخص کو جس کے نامہ اعمال میں کثرت سے استغفار کے سبب بے شمار نیکیاں درج کی جاتی ہیں ۔ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے:
طُوْبٰی لِمَنْ وَجَدَ فِیْ صَحِیفَتِہٖ اِسْتِغْفَارًا کَثِیرًا – مبارکباد ہے اس شخص کے لیے جو اپنے نامہ اعمال میں بہت زیادہ استغفار پائے۔(عبد اللہ بن بسرؓ- نسائی – ابن ماجہ)

تبصرے بند ہیں۔