تزکیۂ نفس کے قرآنی اصول (د وسری قسط)

محمد عبد اللہ جاوید

(1)حقیقی فلاح کا ضامن

دنیا میں آنے والے ہر انسان کی حقیقی کامیابی صرف اور صرف اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر برائیوں سے اجتناب کرتے ہوئے اچھائیاں اختیار کیا؟کس طرح زندگی کے مختلف مسائل اور معاملات میں رب کی رضا او ر خوشنودی پیش نظر رکھا؟ اللہ کے احکامات پر چلنے کے لیے کس قدر اپنے نفس سے مجاہدہ کیا اور کیسے دوسروں کی محبتیں نچھاور کیا؟ کامیابی حاصل کرنے کی صورت اللہ رب العزت کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتی۔اس طرز زندگی میں تزکیہ ہی کا کلیدی رول ہے۔چنانچہ دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے یہی ایک معیار ٹہرا:

قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّٮٰهَا O وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّٮٰهَا(الشمس:9-10)

یقیناًفلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا

جس امر پر انسان کی کامیابی کا دارومدار ہو‘ اسکی اہمیت سب سے بڑھ کر ہوگی۔ اگر انسانوں کے سامنے کوئی اہم سوال ہوگا تو یہی کہ وہ اپنے نفس کا تزکیہ کس طرح ‘ کن اصولوں کے تحت کریں ؟ یہ عمل ان سے کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے؟ اس کے لیے اللہ رب العزت نے انہیں کیا خاص قوتیں اور صلاحیتیں عنایت فرمائی ہیں ؟ان سب کا جواب ‘ تزکیہ کے عمل کو قابل فہم اور آسان بنادے گا۔

تمام نیکیوں کا سرچشمہ  اللہ تبارک وتعالیٰ کی معرفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایسی فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی رب کو بخو بی جان سکتے ہیں :

‌ۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡہَا‌ۚ (الروم:31)

….قائم ہوجاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں بنایا ہے

اللہ کے رسولؐ فرماتے ہیں :

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُّوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ – ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔

انسان ‘ایک خدا کو ماننے کے مزاج کے ساتھ پیدا ہوا ہے ۔حدیث قدسی ہے: اِنِیّ خَلَقْتُ عِبَادِی حُنَفَاء کُلُّھُم- میں نے اپنے بندوں کو حنیف بنا کر پیدا کیا ہے (عیاضؓ بن حمار- مسلم)۔یعنی ہر انسان فطرتاً ایک رب کو ماننے کا مزاج اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کے علاوہ انسان کے اندر اس رب کی عظیم اور جلیل القدر صفات کا پرتو دیکھا جاسکتا ہے۔ بنی اکرم ؐ فرماتے ہیں : انَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ – بے شک اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو اپنی صورت پر پیدا کیاہے ‘ اگر و ہ شعوری کوشش کرے تو یقیناًوہ ایک اعلی اخلاق و کردار کی حامل زندگی بسر کرسکتا ہے۔

جو بندہ اپنے حقیقی رب کو ‘ اس کی دی ہوئی صلاحیتوں سے پہچان لے تو پھر نیکی کی راہ پر چلنا اور برائی کے راستے سے دور رہنا اس کے لیے نہایت آسان ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی معرفت کے حقیقی ذریعہ-تزکیہ- کو فلاح و کامرانی کا معیار بتایا ہے۔ قرآن مجید میں اسی بات کی جانب جگہ جگہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرنے والے بندے کون ہیں ‘وہ کن چیزوں پر غور کرتے ہیں اور کس طرح کی زندگی بسر کرتے ہیں :

وَٱللَّهُ أَخۡرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَـٰتِكُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ شَيۡـًٔ۬ا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَـٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَ‌ۙ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ(النحل:78)

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔اس نے تمہیں سننے کو کان‘ دیکھنے کو آنکھیں اور سمجھنے کو دل دےئے تا کہ تم شکر ادا کرو

جب کوئی شخص اپنی خوبیاں جان کر نیکی کی راہ اپنانا چاہتا ہے تو اس کے سامنے رب کی ہدایات پر مشتمل ایک قابل عمل نقشہ آتا ہے۔ اس لیے انسانوں کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرنے والا یہ دین آسان (الدین یسر) ہے۔

(2)فطری عمل

اس لیے تزکیہ کا عمل ایک فطری عمل ہے۔اس میں کامیاب ہونے کے لیے کسی کو کوئی ایسی چیز اپنے اندر پیداکرنے کی ضرورت نہیں جو اللہ رب العزت نے نہ دی ہویا جس کے نشوونما پانے کی صلاحیت نہ رکھدی ہو۔ لہذا تزکیہ‘ ہر شخص کے لیے قابل عمل ہے۔علاوہ ازیں ہر انسان کے اندر بھلے اور برے کی تمیز رکھدی گئی ہے اس لیے خیر کو اپنانا آسان ہوجاتا ہے۔ اس فطری صلاحیت کی بنیاد پر ہر شخص اپنے نیک یا بد ہونا بخوبی جان سکتا ہے ۔یعنی اس معرفت خودی کے ساتھ معرفت رب بھی حاصل کرسکتا ہے ۔اس سلسلہ میں ایک صحابی رسولؐ کا سوال بڑا موثر معلوم ہوتا ہے ۔حضرت زید الخیرؓ عرض کرتے ہیں :

 اے اللہ کے رسولؐ مجھے بتلائیے کہ اس شخص میں اللہ تعالیٰ کی وہ کونسی نشانی ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اوراس میں وہ کونسی خامی ہے جس کواللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا؟
اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا:کَیفَ اَصْبَحْتَ یا زَیدُ؟- اے زید تم نے کس حال میں صبح کی؟

اُحِبّ الْخَیرَ وَاَھْلَہٗ وَاِنْ قَدَرْتُ عَلَیہِ بَادَرْتُ اِلَیہِ وَاِنْ فَاتَنِیْ حَزِنْتُ عَلَیہِ وَحَنَنْتُ اِلَیہِ

(انہوں نے عرض کیا )اس حال میں صبح کرتا ہوں کہ نیکی کرنے والوں سے مجھے محبت ہوتی ہے اور اگر میں نیک کام کرنے پر قدرت رکھتا ہوں تو اسے جلدکرڈالتا ہوں اور اگر نیکی کرنے سے رہ جاؤں تو غم گین ہوجاتا ہوں اور رو پڑتا ہوں -آپ ؐنے فرمایا:

فَتِلْکَ عَلاَ مَۃُ اللّٰہِ تَعَالیٰ فِیمَنْ یُّرِیدُہٗ وَلَوْ اَرَادَکَ لِغَیرِھَا لَھَیَّأَکَ لَھَا (ترمذی)

یہی اللہ تعالیٰ کی نشانی اس شخص میں ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے اور اگر وہ تمہارے لیے کسی چیز کا ارادہ فرمالیتا ہے تو تمہیں اس کو کرنے کی استعداد بخشتا ہے۔

بس یہ انسان کے اپنے اختیار کی بات ہے کہ اس فطری صلاحیت کا شعور حاصل کرے اور اسے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی کامیابی کا سامان کرے۔

(3) اللہ کافضل ا و راس کا رحم و کرم

متذکرہ دو بنیادی اصولوں سے واضح ہوجاتاہے کہ کسی بھی انسان کے لیے اپنا تز کیہ کرنا زیادہ دشوار نہیں ۔اس کے لیے مناسب ہدایات اور انہیں سمجھنے کے لیے تمام ضروری چیزیں فراہم کردی گئی ہیں ۔لیکن ان دو بنیادی اصولوں کے درمیان قرآن مجید ایک اور انتہائی اہم بات کی وضاحت کرتا ہے وہ یہ کہ اللہ کا فضل اور اسکی رحمت ہی سے تزکیہ نفس ممکن ہے۔ یہی وہ محرکات ہیں جن کے سبب انسان اپنی اصلاح و تربیت میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

اللہ کا فضل اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان کے پیچھے شیطان لگا ہوا ہے۔اور اس نے ہر طرح سے بہکانے کی ٹھان بھی لی ہے۔ اللہ رب العزت نے تاکید فرمائی کہ شیطان کی پیروی نہ کی جائے۔شیطان کی چالوں سے محفوظ رہتے ہوئے وہی شخص پاکیزگی اختیار کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے جس کے ساتھ رب کا فضل شامل حال رہا:

يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٲتِ ٱلشَّيۡطَـٰنِ‌ۚ وَمَن يَتَّبِعۡ خُطُوَٲتِ ٱلشَّيۡطَـٰنِ فَإِنَّهُ ۥ يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ‌ۚ وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُ ۥ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ أَبَدً۬ا وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ‌ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۬

اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہو تو تم میں سے کوئی شخص پاک و صاف نہیں ہوسکتا (النور:21)

نفس کی شرارتوں سے محفوظ رہنا بڑا دشوار کام ہے۔ اس کی شدت واضح کرنے کے لیے قرآن مجید ایک اعلیٰ ترین مثال دیتا ہے کہ جس سے بڑھ کر کوئی اور مثال نہیں ہوسکتی ۔ اللہ کے جلیل القدر پیغمبر حضرت یوسفؑ فرماتے ہیں :

وَمَآ أُبَرِّئُ نَفۡسِىٓ‌ۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ‌ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌ۬ رَّحِيمٌ۬(یوسف:53)

میں اپنے نفس کو (بالذات ) بری نہیں بتلاتاکیونکہ نفس تو بدی پر اکساتا ہی رہتا ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو‘ بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے

تزکیہ کے اس فطری عمل کے لیے اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم ‘بنیادی عنصرکی حیثیت رکھتا ہے ۔چنانچہ رسول اکرمؐ تزکیہ نفس سے متعلق کوششوں کی صراحت کے ساتھ‘اللہ تبارک وتعالیٰ سے خاص دعاؤں کے اہتمام کی تلقین بھی فرمائی ہے:

رَبِّ اَعْطِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَ زَکِّھَا اَنْتَ خَیرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلاَھا

اے میرے رب میرے نفس کو اس کا تقوی عنایت فرما‘ اسکا تزکیہ فرما‘ تو ہی بہتر پاکیزگی عطا کرنے والا ہے ‘ تو ہی اس کا نگہبان اور مالک و مولی ہے۔(عائشہؓ- مسند احمد)

(4)قلب پر اللہ کی حکمرانی

قلب – انسانی جسم کا ایک اہم حصہ ہے ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے عطا کیا تاکہ بندہ‘ جذبۂ شکر سے سرشار ‘ ساری زندگی اپنے مہربان خالق و مالک کی عبادت میں گزارے۔بھلی باتیں سننیں کے بعد پیدا ہونے والے جذبہء عمل کا تعلق دل سے ہے۔ دل ہی سے عزم و حوصلہ‘ جذبہ سمع وطاعت اور ایثار و قربانی کے چشمے پھوٹتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالی نے دل کو اپنے لیے مخصوص فرمایا ہے اور کہا کہ ایمان لانے والوں کی یہ پہچان ہے کہ ان کے دلوں پراللہ کی حکمرانی ہوگی اس لیے سب سے بڑھ کر وہ اللہ سے محبت کرتے ہوں گے۔جس دل میں اللہ اور اسکی یاد بسی ہو وہ خیر کے راستے پر آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ہر طرح کی محبتوں سے دل محفوظ رکھتا ہے جس کی اصلاح نفس کے لیے بڑی اہمیت ہے۔اس سلسلہ میں اہم چیز جس کی محبت میں انسان کے گرفتار ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں اسی کو خاص طور پر تزکیہ کا ذریعہ بتایا گیا‘یعنی مال۔

خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٲلِهِمۡ صَدَقَةً۬ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيہِم بِہَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡ‌ۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌ۬ لَّهُمۡ‌ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ(التوبہ:103)

اے بنیؐ‘ تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر ان کا تزکیہ کرو اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو‘ کیو ں کہ تمہاری دعا ان کے لیے اطمینان کی موجب ہوگی۔اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

سچ ہے اگر کسی کے دل میں مال کمانے کی حرص اور اسکو زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کا لالچ پیدا ہو تو اس کے ایمان کو تباہ ہونے سے بچایا نہیں جاسکتا ۔اللہ کے رسولؐ نے اس سلسلہ میں مثال دی کہ ایسے شخص کے ایمان میں تباہی ویسے ہوگی جیسے کسی بکریوں کے ریوڑ میں بھوکے بھیڑیے کے حملے سے ہوتی ہے۔

ذاتی اصلاح و تربیت کے لیے صدقات و خیرات کا نہایت اہم مقام ہے۔زکوۃ کے معنی و مفہوم میں پاکی و صفائی اور نشوونما‘دونوں شامل ہیں ۔ زکوۃ کے ادا کرنے والے کا ذہن و قلب حرص و لالچ سے پاک ہوجاتا ہے اور اس کا مال نشوونما پاتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیک بندوں کی پہچان بتائی کہ وہ کھلے اور چھپے ‘ہر حال میں خرچ کرتے ہیں ۔ کامیاب ہونے والے شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا:

وَسَيُجَنَّبُہَا ٱلۡأَتۡقَى O ٱلَّذِى يُؤۡتِى مَالَهُ ۥ يَتَزَكَّىٰ(اللیل:17-18)

اس ( جہنم )سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیزگار جو تزکیہ نفس کی خاطر اپنا مال دیتا ہے

مال کی محبت اور اس سے قلب کی تطہیر کے ضمن میں ایک اصولی بات یہاں ارشاد فرمائی گئی۔ اس کے پیش نظر دیگر محبتوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ فی الواقعی ان کا دل میں کیا مقام ہے؟اگر یہ محبتیں بڑھ جائیں تو تزکیہ کے برعکس رویہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔ کسی کوخدا کی راہ میں سرگرم عمل رکھنے کی لاکھ کوششیں بھی ہوں تو اس کے پیر زمین ہی سے چمٹے رہیں گے۔ اللہ رب العزت نے ایسے لوگوں کے دلوں کی تشخیص فرمائی ہے:

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَا لَكُمۡ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ٱنفِرُواْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱثَّاقَلۡتُمۡ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ‌ۚ أَرَضِيتُم بِٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا مِنَ ٱلۡأَخِرَةِ‌ۚ…(التوبہ:38(

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب اللہ کی راہ میں نکلنے کو کہا گیا تو تمہارے پیر زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟کیا تم نے آخرت کے مقابلہ دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا؟….

تزکیہ قلب کا ظاہری پہلو یہی ہے کہ یہ اعمال صالح کا محرک بن جائے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ بندۂ مومن بار بار اپنے پہلو میں موجود قلب کا جائزہ لیتا رہے۔اور اگر قلب کا احساس نہ ہو تواللہ کے رسولؐ نے ہدایت فرمائی ہے کہ اللہ رب العزت سے اسے طلب کیا جائے۔

وہ قلب جس پر اللہ کی حکمرانی ہو‘ پاکیزہ اور تقوی کا مسکن ہوتا ہے۔گناہوں میں ملوث نہیں رہتا‘ کسی سے حسد نہیں کرتا‘ اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کی پابندی کرتا ہے اور ہر ایک کے تعلق سے حسن ظن رکھتا ہے۔اللہ کے رسولؐ نے ایسے پاکیزہ دل (مخموم القلب) والے انسان کو سب سے بہتر قراردیا اور فرمایا :

یدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَقْوَامٌ اَفْءِدَ تُھُمْ مِثْلُ اَفْءِدَۃِ الطَّیرِ

جنت میں بعض ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل‘ پرندوں کے دلوں کی مانند ہوں گے (ابوہریرہؓ – مسلم)

بلاشبہ پاکباز دل کا مقام جنت ہے اور تزکیہ نفس جنت کی راہ ہموار کرتا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔