رحمت و انوار میں نہائی ہوئی ایک رات 

شیخ جمیل اختر شفیق تیمی

ہم اس وقت رمضان کے جس عشرے سے گزر رہے ہیں وہ انتہائی قیمتی ہے، اس کا ایک ایک لمحہ رحمت و انوار میں ڈوبا ہوا ہے ، اِن ساعتوں میں رب کے فضل و عنایات کی بارشیں مومنوں کے اذہان و قلوب کی زمین کو سرسبز و شاداب کرنے کے لیے بے چین رہتی ہیں، اس عشرے میں بندوں پر اللہ جل شانہ کا خاص انعام و اکرام ہوتا ہے۔ آسمان دنیا کو مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک ہر طرف سے الرٹ کردیا جاتا ہے، فرشتوں کی گشت بڑھا دی جاتی ہے، پوری کائنات اللہ کی تسبیح و تحمید کا ورد کرتی ہے اور ہو بھی کیوں نہیں ، اس لیے کہ اس عشرے کی ایک ایسی رات ہے جو ہزار راتوں سے بہتر ہے، جس رات کا اللہ کا ہر برگزیدہ بندہ شدت سے منتظر  رہتا ہے، سب کے قلوب میں اس رات کو پاکر رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر ، اپنے گناہوں پر نادم ہو کر خوب آنسو بہانے کی تمنا انگڑائیاں لیتی رہتی ہیں کیونکہ ایک اطاعت شعاربندہ کو آنسو بہانے میں اپنے خالق کے سامنے جتنی روحانی تسکین کا احساس ہوتا ہے اُتنا کہیں نہیں- کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں کی لاج رکھتا ہے ، اشک ندامت کا بھرم رکھ لیتا ہے ، بندہ کی انکساری پر اسے رحم آجاتا ہے، اس کے کپکپائے ہوئے ہونٹ اور خوف سے لرزتے جسم پر پیار آجاتا ہے، خالق کائنات کو بندے کی اس ادا پر بے حد رشک آتا ہے اور اللہ کہتا ہے:عجزو انکساری تو دیکھو میرا بندہ کس قدر میری ذات پر یقین رکھتا ہے، میرے ڈر سے اس کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں،رکوع و سجود میں وہ میرے سامنے گِرگِراتا ہے، مجھ سے ہی مدد مانگتا ہے ،ایسے میں بندے کی فریاد کو ٹھکراتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان صفات کے حامل بندوں کی پکار کو کبھی رد نہیں کرتا۔

اس لیے ایک مومن اور موحد مسلمان کے قلوب میں آخری عشرے کی اس رات کو پانے کے لیے ویسی ہی تڑپ ہونی چاہیے جیسے دنیا کے اندر اگر کوئی کمپنی کسی موقع پر خوصی آفر نکالتی ہے تو خریداروں میں اس خصوصی آفر کو پانے کی حد درجہ تمنا ہوتی ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اسے پانا چاہتا ہے ۔ مجھے یاد آتا ہے بچپن میں ایک بار اس بات کی کافی شہرت ہوئی کہ پیپسی میں انعام بڑا سے بڑا نکلتا ہے بلکہ بعض جگہوں پر چند لوگوں نے موٹر سائیکل بھی انعام کی شکل میں حاصل کرلیا اور یہ خبر میڈیا کی بھی زینت بنی جس کی بنا پر اس کی خریداری میں بے حد اضافہ ہوگیا ۔ ٹھنڈ کے موسم میں بھی لوگ جبراً و قہراً اُسے اس امید پر حلق سے نیچے اتارتے تھے کہ شاید ان کی قسمت میں بھی موٹر سائیکل نکل آئے، آج بھی اگر کوئی موبائل کی کمپنی کم قیمت میں بہت ساری سہولیات دستیاب کراتی ہے تو لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے دیوانہ وار مارکیٹ کی جانب دوڑ پڑتے ہیں ، بالخصوص نئی نسل تو اسی میں تباہ ہے۔ یہ تو دنیا کے اندر ملنی والی اشیاء کے حصول کی ادنیٰ سے جھلک ہے اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے ،اسی طرح رب تعالیٰ رمضان کے اس عشرے میں بندے کے لیے ’’شب قدر‘‘ کی شکل میں خصوصی آفر نکالتا ہے تاکہ بندہ اس سے خوب سے خوب تر استفادہ کرے ،دنیا کے اندر لاٹری وغیرہ کی شکل میں جو چیز بھی وجود میں آتی ہے اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی ہے کہ وہ ہر شخص کو حاصل ہو ہی جائے گا۔جبکہ اللہ کے اس خصوصی آفر کو اس لیے بھی امتیاز حاصل ہے کہ بندہ اگر اس رات کو پانے کا اہتمام کرے تو اسے حاصل ہو کرہی رہتی ہے، اس رات کی فضیلت کا اندازہ س بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اہمیت کو بتلانے کے لیے باضابطہ اسی نام سے ایک سورت کو نازل فرما دیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ہم نے اس کو اتارا شب قدر میں اور تم کیا جانو شب قدر کیا ہے، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں ہر حکم لے کر ، وہ رات سراسر سلامتی ہے صبح نکلتے تک ‘‘(سورہ القدر)

ان آیتوں کے اندر رب تعالیٰ نے سب سے پہلی بات یہ بتائی ہے کہ قرآن حکیم کا نزول شب قدر میں ہوا ہے، دوسری بات یہ کہ اس رات کی فضیلت کا یہ عالم ہے کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے،تیسری بات یہ کہ اس رات میں فرشتوں کے سردار جبرئیل امین ملائکہ کی جماعت لے کر زمین کا رخ کرتے ہیں تاکہ انسانوں کی عبادت و ریاضت کا ریکارڈ تیار کرکے رب کے سامنے پیش کریں ۔اس لیے ایک مومن کا فریضہ ہے کہ جس طرح وہ مادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے دنیاوی کمپنیوں کے آفر کوحاصل کرنے میں بھر پور دلچسپی کا مظاہرہ کرتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر اس خدائی آفر کے حصول میں بے چین رہے، اپنے آرام و راحت کو ترک کرکے اس رات کی رحمتوں سے اپنا دامنِ مراد بھر لے، رب کے حضور آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرکے توبہ و استغفار کرے، کیونکہ پھر موقع نکل جانے کے بعد اس آفر کا فائدہ اٹھانے کے لیے مکمل ایک سال کا انتظار کرنا پڑے گا،اس وقت تک کون بقیدِحیات رہے گا اور کون اِس دارِ فانی سے کوچ کرجائے گا اس کا علم اللہ کے علاوہ دنیا کے بڑے سے بڑے صاحبِ اقتدارولیاقت کو بھی نہیں ،ویسے بھی اس عشرے میں اگر آپ اپنی جاگتی آنکھوں سے آسمان کے رنگ و روپ کا مشاہدہ کیا کریں تو تجربہ بتاتا ہے کہ اس عشرے میں آسمان کا منظر ہی بدلا بدلا سا ہوتاہے، پورا آسمان جگمگاتے ستاروں سے مزین نظر آتا ہے، چاند کی روشنی سے پوری کائنات منور نظر آتی ہے ،ایسا لگتا ہے جیسے پورا آسمان نور و نکہت میں ڈوبا ہوا ہو، اس پر کیف منظر اور قدرت کی اس سجاوٹ سے لمحہ بھر کے لیے بھی نظر نہیں ہٹتی ہے ، رب تعالیٰ کی اس کاری گری اور آسمان دنیا کی زیبائش کا مشاہدہ آپ بھی کبھی حصولِ شبِ قدر کی تڑپ اور طاق راتوں کی جستجو کے بیچ آدھی شب کے قریب کرسکتے ہیں اور اذھان و قلوب کی تطہیر کی سبیل نکال سکتے ہیں ،ویسے بھی ایک سچا مومن نیکیوں کا حریص ہوتا ہے، وہ اللہ کے اس خصوصی آفر کو حاصل کرنے سے نہیں چوکتا ہے،اس لیے ان عشروں میں زیادہ سے زیادہ عبادات ومناجات کا اہتمام کریں تاکہ رب کی بارگاہ میں سرخروئی حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔

تبصرے بند ہیں۔